دلت، آدیواسی، سکھ، عیسائی اور دیگر کمزور طبقات بھی اس بیانیے کا شکار؛
قانون کی حکم رانی ہی موب قتل کو روک سکتی ہے؛انصاف کے اصول اور حق کو سمجھنے کی ضرورت؛
ڈاکٹر ظفرالاسلام خان سے اشرف علی بستوی کی خصوصی گفتگو
ہندوستان میں موب لنچنگ کے واقعات گزشتہ ایک دہائی کے دوران ایک سنگین سماجی اور قانونی مسئلے کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ان واقعات کی تاریخ، نوعیت اور اثرات کو دستاویزی شکل دینے کی ایک اہم کوشش ڈاکٹر ظفرالاسلام خان صاحب کی کتاب “Mob Lynching in India” ہے، جس میں 746 صفحات پر مشتمل تحقیق کے دوران 2014 سے 2024 تک کے 1,743 واقعات کو جمع کیا گیا ہے۔
اس کتاب کے پس منظر، تحقیق کے محرکات، میڈیا اور ریاست کے کردار، موب لنچنگ کے بدلتے رجحانات اور اس کے ممکنہ سدباب پر اشرف علی بستوی کے ساتھ اس خصوصی انٹرویو میں ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے تفصیل سے گفتگو کی ہے۔
سوال: ڈاکٹر صاحب، آپ کی کتاب Mob Lynching in India 746 صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں 1,743 واقعات درج ہیں۔ اس تحقیق کے پیچھے بنیادی محرک کیا تھا؟
جواب :
میں کافی دنوں سے ایک صحافی کی حیثیت سے ایسی چیزیں کور کرتا رہا ہوں۔ میں نے دیکھا ہے کہ بڑے بڑے واقعات ہوتے ہیں، پھر وہ آہستہ آہستہ غائب ہو جاتے ہیں۔ تاریخ کے حاشیے میں بھی ان کا ذکر نہیں رہتا۔ گجرات 2002، ملیانہ، ہاشم پورہ، بھاگلپور اور اس طرح کے کئی بڑے واقعات ہوئے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ لوگوں کی یادداشت سے نکل جاتے ہیں۔ میرا مقصد یہ تھا کہ اگر ہم ان واقعات کو آج دستاویزی شکل میں محفوظ کر دیں تو دس، بیس یا تیس سال بعد بھی کوئی یہ انکار نہیں کر سکے گا کہ یہ واقعات ہوئے تھے۔
سوال: کیا اس تحقیق کا مقصد صرف ہندوستان کے اندر ریکارڈ محفوظ کرنا تھا؟
جواب :
نہیں، ایک مقصد یہ بھی تھا کہ ہندوستان اور ہندوستان سے باہر دنیا کو معلوم ہو کہ یہاں کیا ہوا۔ ایک خبر ایک دن آتی ہے اور ختم ہو جاتی ہے، لیکن ایک جامع دستاویز لوگوں کو موقع دیتی ہے کہ وہ بیٹھ کر پورے معاملے کا جائزہ لیں۔ ہم نے 2014 سے 2024 تک اخبارات، ویب سائٹس اور دیگر دستیاب ذرائع کو کھنگالا۔ بہت بڑی تعداد میں اخباری تراشے اور آن لائن مواد جمع کیا گیا۔
سوال: آپ نے میڈیا کے کردار کو بھی اس کتاب میں اہمیت دی ہے۔ آپ کے نزدیک سب سے بڑی کمی کیا رہی؟
جواب :
میڈیا کو ہم جمہوریت کا چوتھا ستون اور واچ ڈاگ کہتے ہیں۔ اس کا کام یہ ہے کہ معاشرے میں ہونے والے ظلم کو سامنے لائے اور حکومت اور عوام تک پہنچائے۔ کچھ صحافیوں اور میڈیا اداروں نے یقیناً کام کیا ہے لیکن اکثر واقعات میں مسئلہ یہ رہا کہ ایک دن خبر آئی اور پھر فالو اَپ نہیں ہوا۔ محمد اخلاق، پہلو خان، رکبر اور مظلوم انصاری جیسے معاملات میں بار بار یہ سوال ہونا چاہیے تھا کہ مقدمہ کہاں تک پہنچا، متاثرہ خاندان کا کیا ہوا، بچوں کی تعلیم کا کیا انتظام ہوا اور ریاست نے کیا کیا؟
سوال: کیا آپ کے نزدیک ایسے واقعات ریاست کی ناکامی بھی ہیں؟
جواب :
جب کسی انسان کو اس طرح ظلم کا شکار بنایا جاتا ہے تو ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اسے تحفظ دے اور انصاف فراہم کرے۔ اگر ایک خاندان کا واحد کمانے والا شخص مارا جاتا ہے تو اس کے بعد اس کے بچوں اور خاندان کا کیا ہوگا؟ یہ سوال بھی ریاستی ذمہ داری کا حصہ ہے۔
سوال: آپ کی تحقیق میں 2014 کے بعد کے واقعات کو خاص طور پر دیکھا گیا ہے۔ اس دور میں کیا تبدیلی نظر آتی ہے؟
جواب :
2014 اور 2015 میں واقعات بہت کم نظر آتے ہیں لیکن 2016 کے بعد تعداد بڑھتی ہوئی دکھائی دیتی ہے اور 2017، 2018، 2019 اور اس کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ اس دور میں گائے کے گوشت، گائے ذبح کرنے یا مویشیوں سے متعلق الزامات کی بنیاد پر بھی کئی واقعات سامنے آئے۔ بعض معاملات میں محض الزام یا افواہ ہی کسی شخص کے خلاف تشدد کے لیے کافی بن گئی۔
سوال: آپ کے نزدیک موب لنچنگ کی بنیادی تعریف کیا ہے؟
جواب :
اگر ایک بھیڑ کسی شخص کو محض افواہ، الزام یا شبہ کی بنیاد پر خود سزا دینے لگے تو یہ موب لنچنگ ہے۔ قانون کا طریقہ یہ ہے کہ کسی شخص پر الزام ہو تو پولیس کو اطلاع دی جائے، پولیس اسے گرفتار کرے اور معاملہ عدالت میں جائے۔ بھیڑ کو خود فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
سوال: آپ کی کتاب میں صرف مسلمانوں کے واقعات شامل ہیں یا دیگر طبقات بھی؟
جواب :
ہم نے صرف مسلمانوں کو نہیں دیکھا۔ دلت، آدیواسی، سکھ، عیسائی اور دیگر کمزور طبقات بھی اس تحقیق میں شامل ہیں۔ جہاں شناخت معلوم ہوئی، اسے الگ سے درج کیا گیا ہے۔ مثلاً بعض واقعات میں ہندو بھی موب لنچنگ کا شکار ہوئے۔ ان واقعات کی وجوہات مختلف تھیں، جیسے جادوگرنی ہونے کا الزام، مویشی چوری کا الزام، بچوں کے اغوا کا شبہ یا دیگر افواہیں۔
سوال: کتاب میں آپ نے مسلمانوں کے خلاف تشدد میں گائے کے معاملے کو بھی نمایاں کیا ہے۔ اس کی نوعیت کیا رہی؟
جواب :
گائے کے گوشت، گائے ذبح کرنے یا فریج میں گوشت رکھنے کے الزام پر کئی حملے ہوئے۔ بعض واقعات میں بعد میں یہ بھی سامنے آیا کہ الزام درست نہیں تھا لیکن تب تک انسان کی جان جا چکی تھی۔ اصل خطرہ صرف مرنے والوں کی تعداد نہیں بلکہ وہ بیانیہ بھی ہے جو اس عمل کے ذریعے معاشرے میں پھیلتا ہے۔
سوال: کیا موب لنچنگ کا بڑھنا معاشرے میں ’’خود انصاف‘‘ کرنے کے رجحان کو بھی بڑھاتا ہے؟
جواب :
بالکل۔ جب لوگ یہ سمجھنے لگیں کہ پولیس کے پاس جانے کے بجائے خود فیصلہ کیا جا سکتا ہے تو یہ پورے معاشرے کے لیے خطرناک ہے۔ روڈ ریز کے واقعات میں بھی بعض اوقات معمولی جھگڑا تشدد میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہ تصور کہ ’’ہم خود فیصلہ کر لیں گے‘‘ قانون کی حکم رانی کے لیے خطرناک ہے۔
سوال: آپ کی کتاب میں اعداد و شمار کے مطابق مسلمانوں کے علاوہ دیگر طبقات کے لوگ بھی بڑی تعداد میں متاثر ہوئے ہیں۔ اس سے کیا نتیجہ نکلتا ہے؟
جواب :
اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ موب لنچنگ صرف ایک کمیونٹی کا مسئلہ نہیں ہے۔ مسلمانوں کے خلاف بعض واقعات میں مذہبی نفرت کا عنصر واضح نظر آتا ہے لیکن دوسرے واقعات میں مختلف وجوہات سامنے آتی ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ معاشرے میں قانون کے بجائے بھیڑ کے فیصلے کا رجحان پیدا ہو رہا ہے۔
سوال: آپ نے کتاب میں ریاست وار اعداد و شمار بھی دیے ہیں۔ آپ کی تحقیق میں کن علاقوں میں زیادہ واقعات سامنے آئے؟
جواب :
ہماری جمع کی گئی دستاویزات میں اتر پردیش میں 422، دہلی میں 296، بہار میں 173 اور ہریانہ میں 100 واقعات درج ہیں۔ لیکن یہ مکمل ملک گیر تعداد کا دعویٰ نہیں ہے، کیونکہ بہت سے واقعات مقامی یا علاقائی میڈیا میں رپورٹ ہوئے اور ہمارے دستیاب ذرائع تک نہیں پہنچ سکے۔
سوال: آپ نے کہا کہ کتاب میں درج 1,743 واقعات بھی مکمل تعداد نہیں ہیں۔ کیوں؟
جواب :
ہم نے بنیادی طور پر دہلی کے پریس میں دستیاب مواد کو دیکھا۔ ہمارے پاس ممبئی، حیدرآباد، احمد آباد اور دوسرے شہروں کے تمام اخبارات دستیاب نہیں تھے۔ اگر وہ سب شامل ہوتے تو رپورٹ کہیں زیادہ ضخیم ہوتی۔ اس لیے جو کچھ ہم نے جمع کیا ہے، وہ دستیاب اور قابلِ تصدیق مواد پر مبنی ہے۔
سوال: اس تحقیق میں آپ نے میڈیا کے ساتھ ساتھ عدلیہ، پولیس اور حکومت کے کردار پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ کیوں؟
جواب :
کیونکہ معاشرے میں قانون کی بالادستی کے لیے سب اداروں کا کردار ہے۔ اگر پولیس، انتظامیہ یا کوئی دوسرا ادارہ قانون کے مطابق اپنا کام نہیں کرتا تو اس کا اثر پورے معاشرے پر پڑتا ہے۔ ہم نے کوشش کی ہے کہ ہر بات حوالوں کے ساتھ دستاویزی شکل میں سامنے آئے، تاکہ متعلقہ ادارے اس سے انکار نہ کر سکیں۔
سوال: کتاب میں آپ نے بین الاقوامی برادری کے لیے بھی سفارشات دی ہیں۔ اس کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟
جواب :
آج دنیا ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ انسانی حقوق کی کئی بین الاقوامی تنظیمیں اسی مقصد کے لیے کام کرتی ہیں کہ دنیا میں کہیں بھی بڑے پیمانے پر ظلم ہو تو اس پر توجہ دی جانی چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہندوستان میں ہونے والے ایسے واقعات کا بھی نوٹس لیں اور ہندوستانی حکومت سے بات کرتے ہوئے انسانی حقوق اور قانون کی حکم رانی کے حوالے سے سوال اٹھائیں۔
سوال: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بین الاقوامی دباؤ سے حالات پر اثر پڑ سکتا ہے؟
جواب :
دنیا اب گلوبل ولیج ہے۔ ایک ملک میں ہونے والے واقعات کا اثر دوسرے ممالک تک پہنچتا ہے۔ اگر بین الاقوامی میڈیا اور تنظیمیں کسی مسئلے کی طرف توجہ دلاتی ہیں تو اس سے متعلقہ اداروں پر اخلاقی دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔
سوال: آپ نے کتاب کے آغاز میں ایک نظم بھی شامل کی ہے۔ اس کا پیغام کیا ہے؟
جواب :
وہ ایک عام نوجوان کی آواز ہے۔ اس کے ذریعے یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ عام آدمی نفرت اور تشدد کو کس طرح دیکھتا ہے اور اس کے خلاف اس کے اندر کیا احساس پیدا ہوتا ہے۔
کتاب میں بعض اہم اقتباسات اور اخباری اداریے بھی شامل کیے گئے ہیں تاکہ اس دور میں معاشرے اور میڈیا کے مختلف حصوں میں پیدا ہونے والے ردعمل کو محفوظ کیا جا سکے۔
سوال: کیا یہ کتاب عدالتوں اور وکلا کے لیے بھی مفید دستاویز بن سکتی ہے؟
جواب :
ایک سینئر وکیل نے مجھے لکھ کر کہا کہ یہ وکلا کے لیے ایک اہم دستاویز ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے واقعات کو حوالوں اور دستیاب مواد کے ساتھ جمع کیا ہے۔ اگر کوئی وکیل اسے عدالت میں پیش کرے تو عدالت اسے دیکھ سکتی ہے اور متعلقہ حقائق کا جائزہ لے سکتی ہے۔
سوال: آپ نے کتاب میں جذباتی زبان سے گریز کیا ہے۔ کیا یہ شعوری فیصلہ تھا؟
جواب :
بالکل۔ ہم نے کوشش کی کہ جذباتی انداز کے بجائے حقائق، دستاویزات اور حوالوں کے ساتھ بات کی جائے۔ ہر ممکن حد تک مواد کی تصدیق کی گئی ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ایسی رپورٹ معتبر سمجھی جائے تو اس میں مبالغہ نہیں ہونا چاہیے۔
سوال : کیا Mob Lynching in India کا دوسرا ایڈیشن بھی آئے گا؟
جواب :
جی، دوسرا ایڈیشن جلد آنے کی امید ہے۔ مئی 2024 کے بعد کے واقعات پر کام جاری ہے۔ اخبارات کی کٹنگز آج بھی آ رہی ہیں اور میں روزانہ ان واقعات کو دیکھ رہا ہوں۔
سوال: آخر میں، آپ کے خیال میں موب لنچنگ جیسے واقعات کو روکنے کے لیے سب سے بنیادی چیز کیا ہے؟
جواب :
سب سے بنیادی چیز قانون کی حکم رانی ہے۔ کسی شخص کو یہ حق نہیں ہونا چاہیے کہ وہ خود فیصلہ کرے کہ کون مجرم ہے اور اسے کیا سزا ملنی چاہیے۔ ہمیں ایک ایسے معاشرے کی ضرورت ہے جہاں انسان اپنے غصے پر قابو رکھے، انصاف کے اصول کو سمجھے اور یہ تسلیم کرے کہ اگر مجھے انصاف کا حق حاصل ہے تو دوسرے انسان کو بھی وہی حق حاصل ہے۔
رابطہ :ashrafbastavi@gmail.com
موبائل 9891568632