طلبا اور نوجوانوں کی حالیہ بے چینی نے ایک بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے: متعدد مثبت معاشی اشاریوں کے باوجود بھارت اس رفتار، شمولیت اور مساوات کے ساتھ ترقی کیوں نہیں کر رہا ہے جس کے امکانات اور ضرورت دونوں موجود ہیں؟ اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ ملک اپنے شہریوں کے لیے کم از کم ایک بنیادی معیارِ زندگی یقینی بنانے میں کیوں ناکام ہے، وہ بالخصوص اپنی نوجوان نسل کو مستقبل کے بارے میں ایک قابلِ اعتماد امید کیوں نہیں دے پا رہا ہے؟
ان سوالات کا جائزہ لینے کا ایک مفید طریقہ معروف ماہرینِ معاشیات ڈیرن ایسی موگلو اور جیمز اے رابنسن کی با اثر کتاب ’’Why Nations Fail: The Origins of Power, Prosperity, and Poverty‘‘ کے ذریعے سامنے آتا ہے۔ اگرچہ یہ کتاب کئی برس قبل شائع ہوئی تھی لیکن اس کا بنیادی استدلال آج بھی بھارت کو درپیش ترقیاتی چیلنجوں کے تناظر میں خاصی معنویت رکھتا ہے۔
مصنفین کے مطابق کسی ملک کی خوش حالی کا انحصار محض اس کے قدرتی وسائل، جغرافیہ، ٹیکنالوجی یا معیشت کے حجم پر نہیں ہوتا بلکہ اس امر پر ہوتا ہے کہ سیاسی اور معاشی قوت کس طرح منظم کی جاتی ہے اور اسے کس انداز میں استعمال کیا جاتا ہے۔
ادارے مواقع کی تقسیم کا تعین کرتے ہیں
ایسی موگلو اور رابنسن شمولیتی (Inclusive) اور استحصالی (Extractive) اداروں کے درمیان فرق کرتے ہیں۔ شمولیتی سیاسی ادارے اقتدار کو نسبتاً وسیع حلقے میں تقسیم کرتے ہیں، قانون کی حکم رانی کو یقینی بناتے ہیں اور شہریوں کو اجتماعی و عوامی زندگی میں بامعنی شرکت کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ان کے معاشی متبادل ایسے ادارے ہوتے ہیں جو ملکیت کے حقوق کا تحفظ کرتے ہیں، مسابقت کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، تعلیم تک رسائی وسیع کر کے ایسے حالات پیدا کرتے ہیں جن میں لوگ ہنر حاصل کرسکیں، کاروبار قائم کرسکیں، سرمایہ کاری کرسکیں اور جدت و اختراع کو فروغ دے سکیں۔
اس کے برعکس استحصالی ادارے بالکل مختلف سمت میں کام کرتے ہیں۔ سیاسی اور معاشی طاقت نسبتاً ایک محدود گروہ کے ہاتھوں میں مرتکز ہوجاتی ہے اور یہ گروہ اپنے اثر و رسوخ کو وسیع تر معاشرے کی قیمت پر دولت اور مراعات حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ایسے نظام ایک خاص مدت تک قابلِ ذکر معاشی ترقی بھی پیدا کرسکتے ہیں، لیکن جب نئے خیالات یا نئی معاشی قوتیں مفادِ مستحکم کے لیے خطرہ بننے لگیں تو مسابقت اور جدت کے راستے محدود کر دیے جاتے ہیں۔ لہٰذا سیاسی اور معاشی طاقت ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ سیاسی ادارے ان قواعد و ضوابط کی تشکیل کرتے ہیں جن کے تحت معاشی سرگرمیاں انجام پاتی ہیں جبکہ جمع شدہ دولت سیاسی اثر و رسوخ کو مزید مضبوط کرسکتی ہے۔ یوں ایک ایسا دائرہ شر وجود میں آسکتا ہے جس میں مرتکز سیاسی طاقت، معاشی دولت کو بھی چند ہاتھوں میں مرکوز کرتی ہے اور یہی معاشی ارتکاز دوبارہ سیاسی غلبے کو تقویت پہنچاتا ہے۔
بھارت کے لیے اس بحث کا سبق خاصا اہم ہے۔ ملک کے ترقیاتی مسائل کی تشریح محض غربت، وسائل کی کمی، جغرافیائی حالات یا تاریخی محرومیوں کی بنیاد پر نہیں کی جاسکتی۔ یہ عوامل یقیناً اہم ہیں لیکن کسی قوم کی تقدیر کا فیصلہ صرف انہی سے نہیں ہوتا۔ ادارے اور طاقت کی تقسیم کا طریقہ کار بھی اتنا ہی فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔
تخلیقی انہدام کا چیلنج
مصنفین کی بحث کا شاید سب سے اہم پہلو تکنیکی تبدیلی اور اس تصور سے متعلق ہے جسے ماہرینِ معاشیات ’’تخلیقی انہدام‘‘ (Creative Destruction) کہتے ہیں۔
معاشی ترقی کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ نئی ٹیکنالوجیاں، نئے کاروبار، نئی صنعتیں اور نئے خیالات پرانے طریقوں اور نظاموں کی جگہ لیں۔ اس تبدیلی سے پورا معاشرہ فائدہ اٹھا سکتا ہے لیکن اس کے نتیجے میں پہلے سے قائم معاشی اور سیاسی مفادات رکھنے والے حلقے اپنی دولت، اثر و رسوخ یا سماجی حیثیت سے محروم بھی ہوسکتے ہیں۔
یہ صورتِ حال جدت اور مضبوط جڑیں پکڑ چکے مفادات کے درمیان ایک کشمکش پیدا کرتی ہے۔ موجودہ نظام سے فائدہ اٹھانے والے لوگ عموماً ایسی بتدریج تبدیلیوں کو ترجیح دے سکتے ہیں جو ان کی موجودہ حیثیت کو برقرار رکھیں، بجائے اس کے کہ ایسی بنیادی تبدیلیاں قبول کریں جو معاشی اور سیاسی طاقت کے نئے مراکز کو جنم دیں۔
یہ نقطہ نظر بھارت جیسے نوجوان ملک کے لیے خاص طور پر اہم ہے۔ بھارت کے پاس بے پناہ انسانی صلاحیت، کاروباری استعداد، تکنیکی مہارت اور ایک وسیع داخلی منڈی موجود ہے۔ لیکن یہ قوتیں ازخود وسیع البنیاد خوش حالی میں تبدیل نہیں ہوجاتیں۔ مسئلہ بعض اوقات صلاحیت یا مواقع کی کمی نہیں ہوتا، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ آیا ادارے ان مواقع تک وسیع اور منصفانہ رسائی کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں۔
بھارت کی اپنی تاریخ امید اور تشویش، دونوں کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہے۔ آزادی کے وقت ملک انتہائی غریب تھا، وسائل شدید محدود تھے اور اسے بے شمار ترقیاتی مسائل ورثے میں ملے تھے۔ اس کے باوجود اس نے جمہوری ادارے قائم کیے اور کئی دہائیوں کے دوران نمایاں معاشی پیش رفت کی۔
چین اس کے مقابلے میں ایک مختلف مثال پیش کرتا ہے۔ اس کی غیر معمولی معاشی تبدیلی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک آمرانہ سیاسی نظام کے تحت بھی تیز رفتار معاشی ترقی ممکن ہے۔ تاہم چین کا تجربہ ایک وسیع تر سوال بھی اٹھاتا ہے: کیا ادارہ جاتی جواب دہی، وسیع تر عوامی شرکت اور آزادانہ جدت و اختراع کے لیے سازگار ماحول کے بغیر طویل مدت تک تیز رفتار ترقی کو پائیدار بنایا جاسکتا ہے؟
چنانچہ بھارت جیسے ممالک کے لیے اصل مسئلہ محض یہ نہیں کہ معیشت کتنی تیزی سے ترقی کرسکتی ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس ترقی کو سہارا دینے والے ادارے کس حد تک کھلے، مسابقتی اور سب کے لیے قابلِ رسائی رہتے ہیں۔
جی ڈی پی کی شرحِ نمو ہی پوری کہانی نہیں
جی ڈی پی کے نمایاں اعداد و شمار صرف کہانی کا ایک حصہ بیان کرتے ہیں۔ کوئی ملک متاثر کن معاشی ترقی حاصل کرسکتا ہے، لیکن اس کے باوجود اس کی آبادی کے بڑے حصے کو روزگار کے ناکافی مواقع، تعلیم اور صحت کی سہولتوں تک غیر مساوی رسائی، محدود سماجی نقل و حرکت اور معاشی عدم تحفظ کا سامنا ہو سکتا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ معاشی ترقی کا فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟
بھارت کی ترقی کا اندازہ صرف معیشت کے حجم، بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں یا بلند شرحِ نمو سے نہیں لگایا جاسکتا۔ اداروں کی مضبوطی اور خود مختاری، قانون کی حکم رانی، سیاسی جواب دہی، مسابقت، بدعنوانی کی صورتِ حال، تعلیم تک رسائی، سماجی نقل و حرکت اور معاشی طاقت کا ارتکاز بھی قومی ترقی کے اتنے ہی اہم پیمانے ہیں۔
ایک صحت مند جمہوریت کے لیے صرف وقتاً فوقتاً انتخابات کا انعقاد کافی نہیں۔ اس کے لیے ایسے ادارے بھی ضروری ہیں جو شہریوں کے حقوق کا تحفظ کریں، طاقت کے حد سے بڑھے ہوئے ارتکاز کو روکیں اور لوگوں کو معاشی و سیاسی زندگی میں بامعنی شرکت کے حقیقی مواقع فراہم کریں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں نوجوانوں کے حالیہ احتجاج محض ان فوری مسائل سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کرلیتے ہیں جنہوں نے شاید انہیں جنم دیا ہو۔ یہ احتجاج روزگار، مواقع، سماجی نقل و حرکت اور معاشی نظام کی منصفانہ ساخت سے متعلق وسیع تر خدشات کی عکاسی کرتے ہیں۔
جب نوجوانوں کو یہ محسوس ہونے لگے کہ تعلیم مواقع کی اور محنت معاشی تحفظ کی ضمانت نہیں دیتی اور معاشی ترقی لازماً معیارِ زندگی میں بہتری کا باعث نہیں بنتی تو مسئلہ محض بے روزگاری یا کسی ایک حکومتی پالیسی تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ ایک ادارہ جاتی مسئلہ بن جاتا ہے۔
بھارت کی ترقی کا اصل امتحان
بھارت کے لیے بنیادی سوال یہ نہیں کہ معیشت ترقی کر رہی ہے یا نہیں۔ بلاشبہ ترقی کر رہی ہے۔ اصل اور زیادہ گہرا سوال یہ ہے کہ اس ترقی کو منظم کرنے والے ادارے کیا وسیع تر عوام کے لیے مواقع پیدا کر رہے ہیں یا غیر متناسب طور پر چند لوگوں کے مفادات اور مراعات کا تحفظ کر رہے ہیں؟
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ترقی کی تشکیل میں ادارے ہی واحد عامل ہیں۔ جغرافیہ، ثقافت، تعلیم، ٹیکنالوجی، قدرتی وسائل اور عالمی حالات، سب اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ نہ ہی ان اداروں کو تبدیل کرنا آسان ہوتا ہے جو طویل عرصے میں معاشرے میں گہری جڑیں پکڑ چکے ہوں۔
بھارت میں صلاحیت، عزم، کاروباری توانائی اور تکنیکی استعداد کی کوئی کمی نہیں ہے۔ چیلنج یہ ہے کہ اس کے ادارے ان وسائل کو ان کی مکمل صلاحیت کے مطابق بروئے کار لانے کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔
نوجوانوں کے حالیہ احتجاج نے اس چیلنج کو خاص طور پر فوری اور اہم بنا دیا ہے۔ انہیں محض وقتی یا الگ تھلگ بے اطمینانی کے اظہار کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ روزگار، سماجی نقل و حرکت، معاشی تحفظ اور مواقع کی منصفانہ تقسیم سے متعلق گہرے خدشات کی نشان دہی کرتے ہیں۔
بالآخر ترقی کا حقیقی پیمانہ صرف یہ نہیں کہ معیشت کتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس ترقی سے پیدا ہونے والے مواقع کتنے وسیع پیمانے پر اور کتنی منصفانہ طور پر تقسیم ہو رہے ہیں۔
اگر بھارت اپنی بے پناہ صلاحیتوں کو حقیقت میں بدلنا چاہتا ہے تو معاشی پیش رفت کے ساتھ ایسے اداروں کا ہونا بھی ضروری ہے جو مسابقت، جواب دہی، سماجی نقل و حرکت اور بامعنی عوامی شرکت کو فروغ دیں۔ نوجوان نسل کی امنگیں شاید اس بات کا سب سے واضح پیمانہ ہیں کہ یہ تبدیلی حقیقتاً رونما ہو رہی ہے یا نہیں۔
(مضمون نگار پیشے کے اعتبار سے انجینئر ہیں۔ وہ مرکزی آبی کمیشن کے چیئرمین اور متعدد تکنیکی کمیٹیوں کے رکن رہے ہیں۔ دنیاکے کئی ممالک کا سفر کرچکے ہیں اور کبھی کبھار ترقی سے متعلق موضوعات پر تحریر کرتے ہیں۔ بشکریہ: انڈیا ٹومارو ڈاٹ نیٹ)
ملک نوجوانوں کو امید کیوں نہیں دے پا رہا ہے؟

نئی نسل کے احتجاج سے معاشی ترقی میں موجود گہری خلیج کی نشان دہی

