جون 2026 میں مہنگائی آر بی آئی کے ہدف سے اوپر، 17 ماہ کی بلند ترین سطح پر
امسال جون میں تھوک مہنگائی (ڈبلیو پی آئی) بڑھ کر 9.87 فیصد ہوگئی، جو گزشتہ ماہ 9.68 فیصد تھی۔ جون میں مہنگائی 44 ماہ کی بلند ترین سطح پر رہی۔ اس سے قبل ستمبر 2022 میں یہ 10.70 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ کامرس منسٹری نے 14 جولائی کو تھوک مہنگائی کا ڈیٹا شائع کیا۔ مہنگائی بڑھنے کی وجہ روزمرہ ضرورت کی اشیا کا مہنگا ہونا ہے۔ 28 فروری سے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں اگر کمی نہیں آئی تو قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل خردہ مہنگائی کا ڈیٹا جاری ہوا تھا جو مسلسل چھٹے ماہ بڑھ کر 4.38 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔ روزمرہ کی ضروری اشیا (پرائمری آرٹیکلس) کی مہنگائی 4.99 فیصد سے بڑھ کر 7.0 فیصد ہوگئی ہے۔ غذائی اشیا (فوڈ انڈیکس) کی مہنگائی 4.49 فیصد سے بڑھ کر 6.14 فیصد ہوگئی ہے۔ سب سے زیادہ تبدیلی فیول اور پاور کی تھوک شرح میں ہوئی جو 30.33 فیصد سے کم ہو کر 27.41 فیصد ہوگئی جبکہ مینوفیکچرنگ پروڈکٹس کی تھوک مہنگائی 7.48 فیصد کے ساتھ مستحکم رہی۔
یاد رہے کہ تھوک مہنگائی کے طویل عرصے تک بلند رہنے سے پیداواری شعبے (پروڈکٹیو سیکٹر) پر منفی اثر پڑتا ہے، کیونکہ جب تھوک قیمتیں زیادہ عرصے تک بلند سطح پر رہتی ہیں تو پروڈیوسر اس کا بوجھ صارفین پر منتقل کر دیتے ہیں۔ حکومت محض ٹیکس کے ذریعے ڈبلیو پی آئی کو قابو میں رکھ سکتی ہے جیسا کہ خام تیل کی قیمتوں میں تیزی کے دوران حکومت نے ایندھن پر ایکسائز ڈیوٹی میں کٹوتی کی تھی۔ تاہم، حکومت ٹیکس میں کٹوتی ایک حد تک ہی کر سکتی ہے۔
ڈبلیو پی آئی میں زیادہ وزن دھات، کیمیکل، ربر، پلاسٹک اور دیگر فیکٹری سے منسلک اشیا کا ہوتا ہے۔ ملک میں ادرک، آلو اور دیگر غذائی اشیا کی قیمتیں دوبارہ بڑھنے سے خردہ مہنگائی مسلسل چھٹے ماہ بڑھی ہے۔ جون میں یہ 4.38 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ جنوری میں یہ 4.74 فیصد تھی۔ ایک ماہ قبل یہ 3.93 فیصد تھی۔
ویسے ہول سیل مہنگائی کے چار حصے ہوتے ہیں۔ پرائمری آرٹیکلس جس کا ویٹیج 22.62 فیصد ہے، فیول اینڈ پاور جس کا ویٹیج 13.15 فیصد ہے اور مینوفیکچرڈ پروڈکٹس جن کا ویٹیج 64.23 فیصد ہے۔ جبکہ پرائمری آرٹیکلس کے بھی چار حصے ہوتے ہیں: فوڈ آرٹیکلس جس میں اناج اور سبزیاں شامل ہیں، نان فوڈ آرٹیکلس جس میں آئل سیڈ شامل ہیں، منرلز اور کروڈ پٹرولیم۔
تھوک مہنگائی کی طرح خردہ مہنگائی میں بھی فوڈ پروڈکٹس کی شراکت 45.86 فیصد، ہاؤسنگ کی 10.07 فیصد جبکہ فیول اور دیگر اشیا کی بھی نمایاں حصہ داری ہوتی ہے۔
ملک کی معیشت کے لیے اہم مانی جانے والی مہنگائی کے جون 2026 کے اعداد و شمار نے عوام الناس کو زبردست جھٹکا دیا ہے۔ مہنگائی کا جو ڈیٹا منظرِ عام پر آیا ہے اس سے عام شہریوں کی تشویش بڑھ گئی ہے۔ حکومت کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق صارف قیمت اشاریے (کنزیومر پرائس انڈیکس، سی پی آئی) پر مبنی خردہ مہنگائی جون میں بڑھ کر 4.38 فیصد ہوگئی جو آر بی آئی کے چار فیصد کے ہدف سے اوپر ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ گزشتہ 17 ماہ میں پہلی مرتبہ یہ اپنے ہدف سے تجاوز کر گئی ہے۔ ٹماٹر اور ادرک جیسی سبزیوں اور دیگر غذائی اشیا کی قیمتوں میں تیزی کے باعث غذائی مہنگائی 5.32 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں آنے والا اچھال اسے 98 ڈالر فی بیرل سے اوپر لے گیا ہے۔ دوسری طرف ڈالر کے مقابلے بھارتی کرنسی کی کمزوری بھی موجودہ مہنگائی کے اہم عوامل میں شامل ہے۔ انہی وجوہات کی بنا پر ایندھن، نقل و حمل اور پیداوار کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔
ملک میں مہنگائی بڑھنے کی کئی اہم وجوہات ہیں جن میں موسم کا معمول سے ہٹ کر ہونا، شدید گرمی اور زرعی سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہے۔ بھارت دنیا کی سب سے بڑی آبادی کا حامل ہے جہاں شہریوں کی قوتِ خرید میں اضافے کے باعث اشیا کی طلب بھی بڑھ رہی ہے۔ جب پیداوار یا درآمدات اسی رفتار سے نہیں بڑھ پاتیں تو قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث نہ صرف گھریلو بجٹ متاثر ہوا ہے بلکہ صنعتوں کے لیے سرمایہ حاصل کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ گزشتہ سال یہ امید تھی کہ مہنگائی پر قابو پا لیا جائے گا مگر نئے عوامل نے اس امید پر پانی پھیر دیا۔ جنوری میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکر کرسٹالینا جارجیوا نے بھی اعتراف کیا کہ ہم مہنگائی کو قابو میں کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
ملک میں صارف قیمت اشاریے (سی پی آئی) میں سب سے بڑا حصہ غذا اور مشروبات کا ہے جس کا ویٹیج 45.86 فیصد ہے۔ اس میں اناج اور اس کی مصنوعات (9.67 فیصد) دودھ اور دودھ سے تیار ہونے والی اشیا (6.61 فیصد) سبزیاں (6.04 فیصد) تیار شدہ کھانے، ناشتہ، مٹھائیاں وغیرہ (5.55 فیصد) گوشت و مچھلی (3.61 فیصد) اور تیل و چربی (3.56 فیصد) شامل ہیں۔ مختلف مدات کا مجموعی ویٹیج 28.32 فیصد ہے جس میں حمل و نقل (8.21 فیصد) صحتِ عامہ (5.89 فیصد) اور تعلیم (4.46 فیصد) شامل ہیں۔ رہائش کا ویٹیج 10.07 فیصد، ایندھن اور روشنی کا 6.84 فیصد جبکہ لباس اور جوتوں کا ویٹیج 6.53 فیصد ہے۔
توانائی کی درآمدات پر انحصار، بڑے زرعی خطوں میں مانسون کی بارشوں کی غیر یقینی صورتِ حال، خراب سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کے باعث غذائی اشیا کو بازار تک پہنچانے میں پیش آنے والی مشکلات اور مالیاتی خسارے (فسکل ڈیفیسٹ) کی وجہ سے سی پی آئی انڈیکس میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جون میں سب سے زیادہ مہنگائی چاندی، سونا، ہیرا اور پلاٹینیم کے زیورات، نیز کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں درج کی گئی ہے۔
قومی شماریاتی دفتر (این ایس او) کے اعداد و شمار کے مطابق ریاستوں میں تلنگانہ میں سب سے زیادہ 6.36 فیصد، جبکہ میزورم میں سب سے کم 1.63 فیصد مہنگائی درج کی گئی۔ حکومت نے آر بی آئی کو خردہ مہنگائی کو چار فیصد پر برقرار رکھنے کا ہدف دیا ہے۔ ادھر مرکزی بینک نے گزشتہ مانیٹری پالیسی اجلاس میں شرحِ سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی مگر 2026-27 کے لیے افراطِ زر کا تخمینہ بڑھا کر 5.1 فیصد کر دیا تھا۔
این ایس او افراطِ زر کا حساب لگانے کے لیے ملک بھر کے 1407 شہری بازاروں اور 1465 دیہات سے قیمتوں سے متعلق اعداد و شمار جمع کرتا ہے۔ انہی اعداد و شمار کی بنیاد پر 2024 کو بنیادی سال مانتے ہوئے جون 2025 کے مقابلے جون 2026 میں سی پی آئی پر مبنی سال بہ سال مہنگائی کی شرح 4.38 فیصد رہی۔ اسی مدت کے دوران دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شرح 4.74 فیصد، جبکہ شہری علاقوں میں 3.92 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
مغربی ایشیا میں جاری جنگ اور دوسرے مرحلے میں آبنائے ہرمز کو لے کر ایران اور امریکہ کے درمیان نوک جھونک کا اثر اب بھارتی معیشت پر صاف نظر آنے لگا ہے۔ خام تیل، گیس اور دیگر توانائی کی مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی کے باعث بھارتی صنعت کی پیداواری لاگت میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اسٹیل، پلاسٹک، فرٹیلائزر، سنتھیٹک ربر اور دھاتوں کی صنعتوں کی پیداوار مہنگی ہوگئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے جلد ٹیکس میں راحت اور درآمدات کو قابو میں رکھنے کے لیے اقدامات نہیں کیے تو آئندہ مہنگائی کی مزید مار عام شہریوں پر پڑے گی۔ صنعتوں میں استعمال ہونے والا خام مال مسلسل مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تانبے کی قیمت میں 17.3 فیصد اور المونیم کی قیمت میں 20.6 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ خام مصنوعات کی قیمتیں 49.3 فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔ کریسیل ریٹنگ ایجنسی کی رپورٹ نے حکومت اور عام شہریوں کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر مغربی ایشیا میں تناؤ کم بھی ہو جائے تب بھی خام مال کی قیمتوں میں جلد کمی آنے کا امکان نہیں ہے۔ تھنک چینج فورم نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ صنعتوں کو ٹیکس میں راحت دی جائے اور غیر ضروری درآمدات کو قابو میں لایا جائے۔ گزشتہ ہفتے درآمدات میں 29 فیصد اضافہ درج کیا گیا۔ ساتھ ہی انورٹیڈ ڈیوٹی اسٹرکچر ختم کرکے ٹیرف سسٹم کو آسان بنانے کی ضرورت ہے۔ اس سے صنعتوں کو راحت ملے گی اور روپے پر دباؤ بھی کم ہوگا۔ اب حکومت کے سامنے چیلنج یہ ہے کہ مہنگائی بھی قابو میں رہے اور صنعتیں بھی مستحکم انداز میں چلتی رہیں۔ کریسیل کے مطابق اِن پٹ۔آؤٹ پٹ تناسب مسلسل 44 ماہ تک نیچے رہنے کے بعد دوبارہ 1.0 سے تجاوز کر گیا ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق قطر انرجی وسط اکتوبر تک لیکویفائیڈ نیچرل گیس (ایل این جی) کی سپلائی پر فورس میجور کی مدت میں توسیع کرنے کی تیاری میں ہے۔ قطر نے جون ہی میں ایشیا اور یورپ کے خریداروں کو آگاہ کر دیا تھا کہ اگست اور ستمبر کے کارگو منسوخ رہیں گے۔ ٹرمپ کی جانب سے دوبارہ جنگ شروع کیے جانے کے باعث پہلے سے موجود عالمی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ مئی میں آئی او سی، بی پی سی ایل اور ایچ پی سی ایل نے بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی مہنگی قیمتوں کا حوالہ دیتے ہوئے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 7.50 روپے کا اضافہ کر دیا تھا۔ اب تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ملک میں مہنگائی اور توانائی کے بحران (انرجی شاک) کے خطرے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے سے بھارت کی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کے ریٹیل فیول مارجن پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے۔ بینک آف بڑودہ نے بھی اپنی رپورٹ میں متنبہ کیا ہے کہ خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث عالمی سطح پر مہنگائی کے حوالے سے تشویش دوبارہ ابھر آئی ہے۔ اس جاری جنگ کے دوران جہاں برطانوی پاؤنڈ میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی، وہیں روپیہ بھی دیگر ایشیائی کرنسیوں کی طرح غیر معمولی حد تک کمزور ہوا ہے۔
مہنگائی کی مار سب سے زیادہ غریب اور نادار طبقے پر پڑتی ہے۔ بعض اوقات وہ نانِ شبینہ کے بھی محتاج ہو جاتے ہیں۔ مہنگائی صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی چیلنج بھی ہے۔ حکومت، نجی شعبے اور عوام الناس کو مل کر ایسی پالیسیاں اور اقدامات اختیار کرنے ہوں گے جن سے قیمتوں میں استحکام آئے اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو۔ ایک مضبوط، منصفانہ اور مستحکم معیشت ہی مہنگائی کی دہشت سے ملک کو نجات دلا سکتی ہے۔
ملک میں مہنگائی کی دہشت، ایک سنگین مسئلہ

افراطِ زر کا بڑھتا ہوا سیلاب: معیشت، صنعت اور عوام تینوں بحران کی زد میں

