روس اور سعودی عرب کی سپلائی متاثر، بھارت کی توانائی سلامتی پر دباؤ
تیل کی سپلائی سے زیادہ اب ریفائنریوں اور جہازوں کی دستیابی مسئلہ بن گئی
عالمی توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے رکاوٹوں سے پاک سپلائی چین ضروری
مشرقِ وسطیٰ میں تناؤ کے واقعات میں کسی طرح کی کمی کے آثار نہیں ہیں۔ 8؍ اپریل کو ہونے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی کے بعد چھوٹے پیمانے پر بیچ بیچ میں جھڑپیں جاری رہیں مگر اب حال یہ ہے کہ خام تیل کی قیمتیں سو ڈالر فی بیرل کی سطح کو پار کر گئی ہیں جس کا اثر عالمی معیشت پر پڑنا یقینی ہے۔
امریکی خفیہ ذرائع سے واضح ہوتا ہے کہ ایران مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور اس کے حمایتی ممالک کے ٹھکانوں پر حملہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اور جنگ کی طوالت کے باوجود اس کے ارادوں میں نرمی نظر نہیں آ رہی ہے۔ ایران ہر حال میں آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مضبوط بنائے رکھ رہا ہے۔ یہ بھی صحیح ہے کہ امریکی نیوی کی ناکہ بندی کی وجہ سے اس کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ایران کے ذریعے امریکی بیڑوں کو نشانہ بنائے جانے میں روس اور چین سے امداد ملنے کی قیاس آرائیاں بھی ہو رہی ہیں۔
اپریل کی جنگ بندی کے بعد جے ڈی وانس اور ایرانی ذمہ داروں کے درمیان پاکستان کی وساطت سے اعلیٰ سطحی گفتگو ہوئی مگر اختلافات دور نہیں ہو سکے اور پھر 13؍ اپریل کو صدر ٹرمپ نے ایران کی ناکہ بندی کا اعلان کیا جس کے تحت ایرانی بندرگاہوں سے آمدورفت کرنے والے سبھی جہازوں کو نشانہ بنایا جانا تھا۔ پھر ٹرمپ نے جنگ بندی کو یک طرفہ طور پر غیر متعینہ مدت کے لیے بڑھا دیا۔ یہاں تک کہ جون کے وسط میں طرفین نئی جنگ بندی کی شرائط پر راضی ہوئے۔ مگر امریکہ نے دوبارہ ایران پر حملہ کر دیا۔ جواباً ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے جہازوں کو نشانہ بنایا جس سے خلیجِ فارس میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا جس کا خمیازہ عالمی معیشت کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
جنگ میں امریکہ کا کافی نقصان ہوا ہے۔ ٹرمپ نے ’کھسیانی بلی کھمبا نوچے‘ کے مترادف ایران پر آپریشن ’اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ شروع کیا جس کا مقصد ایران کے باقی ماندہ مالی سہاروں اور آمدنی کے وسائل کو کاٹ دینا ہے۔ بحری ناکہ بندی کے ساتھ ساتھ اس مہم میں ان بین الاقوامی کمپنیوں، مالیاتی اداروں اور ممالک پر پابندی اور تجارتی سزا دینے کی دھمکی بھی دی گئی ہے جو ایران کے ساتھ کاروبار جاری رکھتے ہیں۔ اس کا خاص نشانہ شپنگ، ایئر لائنز، ڈیجیٹل ایسیٹس ٹیکنالوجی اور سونے تک ایران کی رسائی ہے۔ امریکہ نے بھارت کو بھی دھمکی دی ہے کہ وہ ایرانیوں کی کسی طرح مدد نہ کرے، جن کے ذریعے وہ اپنے مال کی خرید و فروخت کر سکے۔ یہ دھمکی ایس سی او کی اعلیٰ سطحی کانفرنس میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور مودی کے درمیان ہونے والی گفتگو کے بعد امریکہ کی جانب سے دی گئی ہے۔ مگر امریکہ چین کے ساتھ کسی طرح کے ٹکراؤ سے بچتا ہے کیونکہ چین ایران کے تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ امریکہ کو معلوم ہے کہ چین، بھارت نہیں ہے۔ وہ امریکہ کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینا جانتا ہے۔ گزشتہ دنوں نایاب ارضی معدنیات (Rare Earth Minerals) کی برآمدات پر چین سختی سے پیش آیا تھا۔
ایک طرف آبنائے ہرمز پر ایران نے اپنی گرفت مضبوط بنا کر امریکہ کو ناک میں دم کر رکھا ہے۔ کبھی ٹرمپ اسے امریکی ٹیریٹریز کہتے ہیں اور کبھی کہتے ہیں کہ آبنائے ہرمز پر مکمل قبضہ ہے۔ دوسری طرف ایران کا حمایت یافتہ انصار اللہ (حوثی ملیشیا) امریکہ کے سائے میں جینے والے سعودی عرب کو نشانہ بناتے ہوئے باب المندب کے آس پاس کے علاقوں پر قبضہ جما لے تو اس کے اثرات خام تیل کی قیمتوں میں تیزی کی شکل میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس سے واضح ہے کہ بھارت سمیت ساری دنیا پر معاشی مار پڑنے والی ہے۔
اپریل کے بعد جب سے ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے تب سے سعودی عرب نے اپنے زیادہ تر خام تیل کو ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے بحیرۂ احمر تک پہنچانا شروع کیا ہے۔ اس سے عالمی تیل کی قیمتوں پر بھی کسی حد تک قابو رہا، مگر حوثی ملیشیا کے ذریعے سعودی عرب کے شہروں، ریفائنریوں اور تیل کی پائپ لائن کو نشانہ بنائے جانے کے بعد سعودی عرب نے تیل کی پیداوار کم کر دی ہے۔
مغربی ایشیا میں جنگ کے آغاز سے ہی سعودی عرب بھارت کے خام تیل کا سب سے بڑا سپلائر رہا ہے۔ اب وہاں سے بھی خام تیل کی سپلائی میں کمی ہونے سے خام تیل کے ساتھ ریفائنڈ تیل، یعنی پٹرول اور ڈیزل کی آمد و رفت متاثر ہونا یقینی ہے۔ اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں طویل عرصے تک بند رہتے ہیں تو حکومت کا سبسیڈی بل حد سے تجاوز کر جائے گا جس سے اسے سخت فیصلے لینے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ یاد رہے کہ ان دونوں بحری شاہراہوں سے تقریباً 34 فیصد خام تیل کی سپلائی ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں گھریلو ایندھن کی قیمتوں، سرکاری مالیات اور مہنگائی کے درمیان توازن برقرار رکھنا بڑا چیلنج رہے گا۔
2024-25 میں یورپی یونین کے ساتھ بھارتی اشیا کی تجارت 36.54 ارب ڈالر تھی جس میں بھارت کی برآمدات 75.85 ارب ڈالر رہی تھیں۔ بحیرۂ احمر کا راستہ چونکہ ایشیائی بازاروں کو یورپ اور مغربی ایشیا سے جوڑتا ہے اسی وجہ سے بحیرۂ احمر میں طویل عرصے تک رکاوٹ اور عدمِ سلامتی کی صورتِ حال برقرار رہنے سے بھارت کی تجارت اور توانائی کے مفادات پر بے حد اثر پڑے گا۔ اس کے علاوہ خام تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں اچھال کا اثر ملک کے چالو کھاتے کے خسارے (Current Account Deficit) افراطِ زر اور روپے کی شرحِ مبادلہ پر پڑنا یقینی ہے۔ اگست میں خوردہ افراطِ زر 4.82 فیصد رہی جو گزشتہ آٹھ ماہ کی سب سے اونچی سطح ہے۔
اگر ایسٹ ویسٹ پائپ لائن چند دنوں میں دوبارہ شروع نہیں ہوئی تو ملک کے پاس برآمدات کے لیے رکھا ہوا تیل ختم ہو سکتا ہے۔ اس سے عالمی تیل کی سپلائی میں چار فیصد تک کمی ہونے کا خطرہ ہے۔ سعودی تیل کے خریداروں اور کاروباریوں نے اس حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حوثی حملے کے بعد اس اہم پائپ لائن کو بند کر دیا گیا تھا۔ ذرائع نے پائپ لائن کی بحالی کے حوالے سے مختلف اندازے پیش کیے ہیں۔ توقع ہے کہ چند ہفتوں میں مرمت کا کام مکمل کر لیا جائے گا۔
روس اور سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ساتھ ریفائنریوں پر ہونے والے حملوں نے بھارت کے خام تیل کی سپلائی پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں بھارت نے دونوں ممالک سے مشترکہ طور پر اپنی تیل کی درآمدات کا 45.50 فیصد سے زائد خام تیل خریدا ہے۔ آبنائے ہرمز بند ہونے کے بعد سعودی عرب ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے ہی تیل کی فروخت کر رہا تھا۔ پائپ لائن پر حملے کے بعد سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو نے بھارتی ریفائنریوں کو ٹرم سپلائی فی الحال روک دی ہے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد سعودی عرب بھارت کی کل ضرورت کا تقریباً نو فیصد تیل سپلائی کر رہا تھا۔
اسی طرح روس کی ریفائننگ صلاحیت کم ہوئی اور برآمدی صورتِ حال پر بھی اثر پڑا۔ جاری ماہ میں بھارت کی روسی تیل کی درآمدات اگست کے مقابلے میں کم رہنے کا اندازہ ہے۔ روس اب بھی بھارت کا سب سے بڑا سپلائر ہے۔ ریفائنریاں اب دستیابی کو قیمت سے زیادہ اہم تشویش قرار دے رہی ہیں۔ متبادل سپلائی متحدہ عرب امارات، مغربی افریقہ، عراق اور وینزویلا جیسے ذرائع سے دستیاب ہے لیکن یہ زیادہ مہنگی ہے۔
ساتھ ہی مغربی ایشیا میں بگڑتے ہوئے حالات کی وجہ سے تیل درآمد کرنے والی کمپنیوں کو ڈھلائی کے لیے جہاز دستیاب نہیں ہیں اور جہازوں کا بیمہ پریمیم اور بھاڑا بھی بڑھ گیا ہے۔ سعودی عرب کی راس تنورہ بندرگاہ سے کرایہ اگست میں 4.34 ڈالر فی بیرل رہا جو فروری میں 0.85 ڈالر تھا۔ روس سے تیل کی ڈھلائی کا کرایہ بھی حالیہ ماہ میں دس تا پندرہ فیصد تک بڑھا ہے اور اب یہ 4.50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکا ہے۔
توانائی کا بحران اب تیل کے ذخائر سے ریفائنریوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اب معاملہ محض تیل کی قلت کا نہیں ہے۔ برینٹ کی قیمتیں ایک سو دو ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہیں، جو ایک سال قبل کی قیمت کے مقابلے میں پچپن فیصد زیادہ ہے، مگر یہ مارچ 2022 اور جولائی 2008 کی بلند ترین سطحوں سے کم ہے، جب قیمتیں بالترتیب 139.1 ڈالر اور 147.5 ڈالر فی بیرل رہی تھیں۔
اب طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز، خواہ یوکرین سے ہوں، ایران سے یا حوثیوں کی جانب سے، امریکی ریفائنریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جس سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں خام تیل کی قیمت کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھ گئی ہیں۔ امریکہ میں ڈیزل کی قیمت 6.5 ڈالر فی گیلن ہو گئی ہے جو سال بہ سال کی بنیاد پر 76.2 فیصد زیادہ ہے۔
اسی طرح سلفر اور قدرتی گیس (نیچرل گیس) جسے ہمارا ملک عام حالات میں بڑی مقدار میں بائی پروڈکٹ کے طور پر خریدتا ہے، اس وقت دو سو ڈالر فی ٹن کے حساب سے خریدا جاتا تھا، اب اس کی قیمت ایک ہزار ڈالر سے زائد ہو گئی ہے۔ تیل سے نکالے جانے والے سلفر کو سلفیورک ایسڈ میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ یہ ایک ضروری کیمیکل ہے جس سے فاسفیٹک فرٹیلائزر تیار کیا جاتا ہے۔ ابھی بھارت کسی طرح یوریا اور مائع قدرتی گیس بھی دوسرے ملکوں سے درآمد کر رہا ہے تاکہ اس سے اہم نائٹروجن پر مبنی فرٹیلائزر تیار کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ ڈیزل، جیٹ فیول اور سلفر کی قلت کا بحران مزید گہرا ہونے کا اندیشہ ہے۔ خام پٹرولیم تو کسی نہ کسی طرح دستیاب ہو رہا ہے۔
ادھر بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ توانائی سلامتی ترقی کے مرکز میں ہے اور سیاسی مقاصد کے لیے توانائی (تیل) کی دستیابی اور قیمتوں میں ردوبدل نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بات انہوں نے 81ویں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر یکساں فکر رکھنے والے ممالک اور حمایتیوں کی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہی۔ جے شنکر نے کہا کہ عالمی مشکلات کا سب سے زیادہ اثر گلوبل ساؤتھ پر پڑ رہا ہے جبکہ فیصلہ سازی کے عمل میں وہ پیچھے ہے۔ انہوں نے ممالک سے سپلائی چین، مالیات اور کنیکٹیویٹی میں رکاوٹوں کو یکسر مسترد کرنے کی اپیل کی۔


