معاشی سرگرمیاں دین کا ہی حصہ
’’قرونِ وسطیٰ کے ہندوستان میں اقتصادی ترقی اور پالیسیاں‘‘ کے موضوع پر جماعتِ اسلامی ہند اور آئی ایس آر ڈی کے زیرِ اہتمام منعقدہ ویبینار میں مقررین نے ہندوستان کی قرونِ وسطیٰ کی معاشی تاریخ، زراعت، صنعت، تجارت، آب پاشی اور محصولات کے نظام پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے کہا کہ زراعت، تجارت اور صنعت اس دور کی معیشت کے بنیادی ستون تھے اور انہی شعبوں کی مضبوطی نے ہندوستان کو ایک بڑی عالمی معاشی طاقت بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے پروفیسر پرویز نذیر نے کہا کہ ہندوستان کو ’’سونے کی چڑیا‘‘ کہنے کی بنیادی وجہ اس کی مضبوط معیشت تھی۔ انہوں نے کہا کہ قرونِ وسطیٰ میں ’’زراعت، تجارت اور صنعت‘‘ معیشت کے تین بنیادی ستون تھے۔ زراعت نہ صرف ریاست کی آمدنی کا اہم ذریعہ تھی بلکہ تجارت اور صنعت کو بھی خام مال فراہم کرتی تھی۔ انہوں نے مغلیہ دور کی معاشی طاقت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اورنگ زیب کے دور میں ہندوستانی معیشت دنیا کی مجموعی GDP کا تقریباً 25 فیصد حصہ رکھتی تھی۔ انہوں نے ٹیپو سلطان کی معاشی پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹیپو سلطان نے زراعت، تجارت اور صنعت کو سائنسی بنیادوں پر فروغ دیا، خصوصاً میسور میں ریشم کی صنعت اور بیرونِ ملک تجارت کو ترقی دی۔
پروفیسر پرویز نذیر نے دادا بھائی نوروجی کے نظریہ ’’دولت کی نکاسی‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ برطانوی دور میں بھارت کی دولت کے مسلسل اخراج نے اس کی معاشی حالت کو کمزور کیا۔
جماعتِ اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے کہا کہ قرونِ وسطیٰ کی معیشت میں ’’سب سے اہم چیز زراعت ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں اناج، کپاس اور گنے سمیت مختلف اجناس کی پیداوار اتنی زیادہ تھی کہ ملکی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ دیگر علاقوں کی ضروریات بھی پوری کی جاسکتی تھیں۔ نہروں، تالابوں اور دیگر آبی وسائل کے استعمال نے زرعی پیداوار میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے ٹیکسٹائل، دستکاری اور دھات سازی کو بھی اہم معاشی شعبے قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’سڑکوں کی تعمیر ہو یا مارکیٹ کی، زراعت کے اچھے طریقے ہوں یا اریگیشن... ان سب کو اسلام دین کا ہی حصہ قرار دیتا ہے۔‘ ملک معتصم خان نے موجودہ دور کے حکم رانوں کو تاریخ سے سبق لینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ماضی کے اختلافات کو آج کے مسلمانوں سے انتقام کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔ ان کے بقول ’’ماضی سے تعلق جوڑ کر اصل مستقبل کو بنانا ہے‘‘ انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ معاشی طور پر مضبوط ہوں، دولت پیدا کریں اور اسے معاشرے کے کمزور طبقات کی مدد اور ملک کی ترقی کے لیے استعمال کریں۔
ویبینار کی صدارت کرتے ہوئے ملک معتصم خان نے یہ بھی کہا کہ آج ہندوستان میں ہم صرف رعایا نہیں بلکہ شہری اور حکم رانی میں حصہ دار ہیں اس لیے ملک کی معاشی تعمیر میں تمام شہریوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
جماعتِ اسلامی ہند کے دہلی کے امیر جناب سلیم اللہ خان نے کہا کہ تاریخ میں بگاڑ پیدا کرنے والوں کے بجائے تعمیر و تشکیل میں کردار ادا کرنے والوں کو زیادہ اہمیت دینی چاہیے۔ انہوں نے پروفیسر پرویز نذیر کی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج بھی زراعت لوگوں کے لیے روزگار کا بہت بڑا ذریعہ ہے لیکن جی ڈی پی میں اس کا حصہ اس کے تناسب سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہماری صورت حال یہ ہے کہ اگریکلچر جو کہ 46 فی صد لوگوں کے روزگار کا ذریعہ ہے لیکن ہمارے مجموعی قدرِ اضافہ (Gross Value Added) میں صرف 18 فیصد حصہ ادا کرتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ایک ایسا سیکٹر جو تقریباً نصف کے قریب آبادی کو روزگار دے رہا ہو، اگر GVA میں اس کی حصہ داری صرف تقریباً 18 فیصد ہو تو یہ خود بہت زیادہ سوچنے والی بات ہے اور اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
آئی ایس آر ڈی کے سکریٹری اور ویبینار کے کنوینر آصف اقبال نے کہا کہ آٹھویں سے اٹھارہویں صدی تک ہندوستان کی معاشی تاریخ کا مطالعہ زرعی نظام، تجارتی نیٹ ورکس، دستکاری اور مالیاتی پالیسیوں کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ انہوں نے دہلی سلطنت اور مغلیہ دور میں محصولات کے نظام، شاہی سرپرستی اور تجارت کی توسیع کو معاشی ترقی کے اہم عوامل قرار دیا۔
ویبینار میں طلبا، تاریخ و معاشیات کے اسکالروں اور دیگر شرکا نے شرکت کی۔ مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ ہندوستان کی معاشی تاریخ کا مطالعہ صرف ماضی کو سمجھنے کے لیے نہیں بلکہ موجودہ دور میں معاشی خود کفالت، سماجی خوش حالی اور ملک کی مجموعی ترقی کے لیے بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
معاشی تعمیر میں تمام شہریوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے

قرون وسطیٰ میں مسلم حکم رانوں کے دور میں بھارت دنیا کا مضبوط ترین معاشی طاقت تھا: ماہرین

