کارپوریٹ طاقت، مودی حکومت اور ہندوستانی جمہوریت کا بدلتا ہوا منظرنامہ
آیا ملک میں عوامی حکومت ہے یا حکومت کے فیصلوں پر بڑے کارپوریٹ گھرانوں کا اثر ہے؟ کیا ملک کی معاشی ترقی اور قومی مفادات کے نام پر چند بڑے صنعت کاروں کو ایسی مراعات حاصل ہو رہی ہیں جن کا تصور ایک جمہوری نظام میں نہیں کیا جانا چاہیے؟ اور کیا غیر ملکی طاقتیں بھی اب ہندوستان کے ساتھ اپنے تعلقات میں حکومت کے بجائے مخصوص کاروباری اداروں کو زیادہ اہمیت دینے لگی ہیں؟
یہ سوالات محض سیاسی مخالفین کے الزامات یا سوشل میڈیا کی بحثوں تک محدود نہیں رہے۔ اکتوبر 2026 میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ہندوستانی دورے نے ان سوالات کو ایک مرتبہ پھر موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔ مارکو روبیو نے نئی دہلی کے بجائے ممبئی اور گجرات کے شہر جام نگر کا رخ کیا، جہاں مکیش امبانی کی ریلائنس انڈسٹریز کی عظیم الشان آئل ریفائنری اور دیگر کاروباری یونٹس واقع ہیں، وہاں امبانی خاندان نے ان کا استقبال کیا اور توانائی، سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون پر گفتگو کی، اس دورے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی کہ اس سے کچھ عرصہ پہلے ایلون مسک نے ہندوستانی ٹیلی کام مارکیٹ میں اپنی کمپنی اسٹارلنک کو درپیش مشکلات کے پس منظر میں مکیش امبانی کو طنزیہ انداز میں مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا: ’’مسٹر امبانی، پرائم منسٹر آف انڈیا!‘‘
بظاہر یہ سوشل میڈیا پر کیا گیا ایک طنزیہ جملہ تھا لیکن اس کے اندر ایک پورا سیاسی اور معاشی سوال پوشیدہ ہے: کیا ہندوستان میں اقتدار کے رسمی مراکز اور معاشی طاقت کے حقیقی مراکز کے درمیان فاصلہ کم ہوتا جارہا ہے؟ کیا امبانی جیسے ارب پتی صنعت کاروں کا اثر و رسوخ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ غیر ملکی طاقتیں بھی انہیں ہندوستان کے معاشی مستقبل کے ایک اہم دروازے کے طور پر دیکھنے لگی ہیں؟
ان سوالات کا جواب محض طنز، جذبات یا سیاسی وابستگی کی بنیاد پر نہیں دیا جاسکتا بلکہ اس کے لیے واقعات، معاشی مفادات، حکومتی پالیسیوں اور جمہوری اداروں کے کردار کا سنجیدہ جائزہ لینا ضروری ہے۔
ایلون مسک دنیا کے امیر ترین کاروباری شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، ان کی کمپنی اسپیس ایکس کی ذیلی سروس اسٹارلنک سیٹلائٹ کے ذریعے انٹرنیٹ فراہم کرتی ہے، ہندوستان کی وسیع ٹیلی کام مارکیٹ میں داخل ہونا اس کمپنی کے لیے ایک بڑی تجارتی ترجیح ہے، دوسری جانب مکیش امبانی کی ریلائنس جیو پہلے ہی ہندوستانی ٹیلی کام مارکیٹ میں ایک مضبوط مقام رکھتی ہے، اکتوبر 2026 کے اوائل میں اسٹارلنک کی ہندوستان میں تجارتی خدمات شروع ہونے سے متعلق منظوریوں اور ضابطوں کے معاملے پر ایلون مسک اور ہندوستانی حکومت کے درمیان اختلافات سامنے آئے۔ ایلون مسک نے الزام لگایا کہ بعض بااثر کاروباری حلقے اپنی اجارہ داری برقرار رکھنے کے لیے اسٹارلنک کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔ انہوں نے بالخصوص امبانی کو نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا کہ کیا وہ ہندوستان کے حقیقی سربراہ ہیں؟ بعد ازاں انہوں نے طنزیہ انداز میں امبانی کو ’’پرائم منسٹر امبانی‘‘ کہہ کر مخاطب کیا۔
یہاں ایک اہم پہلو قابلِ غور ہے کہ ایلون مسک کی تنقید کو مکمل طور پر غیر جانب دارانہ بیان سمجھنا بھی درست نہیں ہوگا، کیوں کہ وہ خود ایک ایسے کاروباری ادارے کے سربراہ ہیں جو ہندوستان کی اربوں ڈالر کی ٹیلی کام مارکیٹ میں داخل ہونا چاہتا ہے، اگر اسٹارلنک کو ہندوستان میں کاروبار کرنے کی اجازت ملتی ہے تو اس سے ایلون مسک کے تجارتی مفادات کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، چنانچہ ان کے الزامات کو بھی اسی کاروباری پس منظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب، کسی الزام کو اس بنیاد پر مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ اسے ایک حریف صنعت کار نے اٹھایا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستانی حکومت کا ضابطہ جاتی نظام تمام کمپنیوں کے ساتھ یکساں سلوک کرتا ہے؟ کیا لائسنس، اسپیکٹرم اور حفاظتی منظوریوں کے معاملات میں فیصلے شفاف ہیں؟ اور کیا کسی کمپنی کو اس کے سیاسی روابط کی بنیاد پر دوسری کمپنیوں پر برتری حاصل ہوتی ہے؟ ان سوالات کے جوابات دستاویزات، حکومتی فیصلوں اور آزادانہ جانچ سے ہی سامنے آ سکتے ہیں۔
حکومت نے ایلون مسک کے الزامات کے جواب میں کہا کہ ہندوستان میں کسی شعبے میں اجارہ داری کی اجازت نہیں ہے، وزارتِ مواصلات نے یہ موقف بھی اختیار کیا کہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ خدمات کے لیے ضابطے منصفانہ اور غیر امتیازی ہیں اور تمام متعلقہ کمپنیوں کو حفاظتی شرائط پوری کرنا ضروری ہے، اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں حکومت نے یہ بھی کہا تھا کہ متعلقہ کمپنیوں کی درخواستیں حتمی حفاظتی منظوریوں کے مراحل سے گزر رہی ہیں، لہٰذا ایلون مسک کے طنز کو حقیقت قرار دینے کے بجائے اسے ایک ایسے سوال کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے جس کا جواب حکومت کو شفافیت، منصفانہ مسابقت اور قابلِ تصدیق شواہد کے ذریعے دینا چاہیے، لیکن معاملہ صرف اسٹارلنک اور جیو کا نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک بڑا سوال ہے: ہندوستان جیسی جمہوریت میں معاشی طاقت رکھنے والے افراد اور سیاسی اقتدار کے درمیان تعلقات کس نوعیت کے ہونے چاہئیں؟
مکیش امبانی کی سربراہی میں کام کرنے والا ریلائنس گروپ محض ایک آئیل ریفائنری ہی نہیں ہے، اس کے کاروباری مفادات توانائی، ٹیلی مواصلات، فوڈ اور ڈیجیٹل خدمات سمیت کئی اہم شعبوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ جام نگر کی ریفائنری اس گروپ کی عالمی معاشی اہمیت کی نمایاں مثال ہے، اس کمپلیکس کی یومیہ خام تیل صاف کرنے کی صلاحیت تقریباً 14 لاکھ بیرل بتائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے یہ دنیا کے سب سے بڑے ایک ہی مقام پر قائم ریفائننگ کمپلیکس میں شمار ہوتا ہے، اس کی پیداوار اور برآمدات عالمی توانائی کی منڈی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
ریلائنس جیو نے ہندوستان میں موبائل انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل خدمات کی مارکیٹ کو بھی نمایاں طور پر تبدیل کیا ہے، کم قیمت ڈیٹا اور وسیع صارفین کی بنیاد نے اسے ملک کے بڑے ٹیلی کام اداروں میں شامل کر دیا ہے جس کے نتیجے میں امبانی گروپ کا اثر و رسوخ صرف صنعت تک محدود نہیں رہا بلکہ عام شہریوں کی روزمرہ زندگی سے بھی جڑ گیا ہے۔
جب کوئی کاروباری گروپ توانائی، مواصلات، تجارت اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے جیسے شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کرلیتا ہے تو اس کے فیصلوں کے اثرات قومی معیشت تک پہنچتے ہیں، اس کے لیے حکومت کے ساتھ رابطہ رکھنا بھی ناگزیر ہوجاتا ہے، کیونکہ ان شعبوں کا تعلق لائسنس، ٹیکس، درآمدات، برآمدات، زمین، بنیادی ڈھانچے اور حکومتی ضابطوں سے ہوتا ہے۔ یہ رابطہ بذاتِ خود غیر قانونی یا غیر جمہوری نہیں ہے لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب حکومت اور کاروبار کے درمیان تعلقات میں شفافیت کم ہو جائے، پالیسی سازی پر چند مخصوص اداروں کا اثر غیر معمولی ہوجائے یا مسابقت کے اصول سب کے لیے یکساں طور پر نافذ نہ ہوں۔
جمہوریت میں کاروباری کامیابی کا حق تسلیم کیا جاتا ہے لیکن کسی کاروباری ادارے کو محض اس کی معاشی طاقت کی بنیاد پر ریاستی فیصلوں پر غیر معمولی اختیار حاصل نہیں ہونا چاہیے، اسی طرح حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ چھوٹے کاروباروں، صارفین اور نئے سرمایہ کاروں کے حقوق کا بھی تحفظ کرے۔
مارکو روبیو کا جام نگر دورہ: کاروبار یا سفارت کاری؟
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا اکتوبر 2026 کا ہندوستانی دورہ اس بحث کا سب سے نمایاں واقعہ بن کر سامنے آیا۔ روبیو 20 اکتوبر کو ہندوستان پہنچے، ان کے پروگرام میں ممبئی میں ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات اور اس کے بعد گجرات کے شہر جام نگر میں ریلائنس کے توانائی اور دیگر منصوبوں کا دورہ شامل تھا۔ 21 اکتوبر کو انہوں نے جام نگر میں مکیش امبانی اور ان کے خاندان سے ملاقات کی، اس دورے میں ریلائنس کی ریفائنری کے علاوہ ونتارا اور گرین انرجی سے متعلق منصوبے بھی شامل تھے۔
روبیو کے اس دورے کے دوران نئی دہلی کے بجائے ممبئی اور جام نگر کو مرکزیت کیوں حاصل ہوئی؟ ہندوستانی وزیر خارجہ کو ممبئی میں ملاقات کے لیے جانا پڑا تو کیا یہ محض ایک انتظامی فیصلہ تھا، یا اس کے پیچھے دورے کی کاروباری نوعیت بھی اہم تھی؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک خانگی صنعتی گروپ کے منصوبے امریکی توانائی پالیسی کے لیے اتنی اہمیت کیوں رکھتے ہیں؟
ان سوالات کے جوابات دورے کے پس منظر میں موجود معاشی مفادات سے ملتے ہیں، امریکہ کے لیے ریلائنس کی اہمیت محض ایک ہندوستانی کمپنی ہونے کی وجہ سے نہیں ہے، جام نگر کی ریفائنری عالمی توانائی کی تجارت میں ایک اہم مقام رکھتی ہے، امریکی حکومت چاہتی ہے کہ ہندوستان مغربی نصف کرے سے آنے والے خام تیل، بالخصوص وینزویلا کے تیل کی زیادہ مقدار صاف کرے، روبیو نے بھی ہندوستان کی ریفائننگ صلاحیت کی تعریف کرتے ہوئے ریلائنس کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔
اس کے علاوہ ریلائنس امریکہ میں بھی سرمایہ کاری کے منصوبوں سے وابستہ ہے، یہ وہی سرمایہ کاری منصوبہ ہے جس کا ذکر ڈونالڈ ٹرمپ کرتے رہتے ہیں، ٹیکساس میں ایک نئی آئل ریفائنری کے منصوبے میں اس کی شمولیت امریکی توانائی کی پیداوار اور روزگار کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے، یوں دونوں ملکوں کے درمیان توانائی کی تجارت دو طرفہ مفادات سے جڑی ہوئی ہے لیکن یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ اس دورے نے ایک خانگی کمپنی کو عالمی توانائی کی سفارت کاری کے مرکز میں نمایاں کر دیا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کاروباری کامیابی اور سیاسی اثر و رسوخ کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہو جاتا ہے۔
کسی صنعت کار کے پاس ایسی سہولت، ٹیکنالوجی یا پیداواری صلاحیت ہو جس کی کسی ملک کو ضرورت ہو تو اس صنعت کار کی اہمیت بڑھنا فطری ہے لیکن اگر اسی اہمیت کو حکومتی پالیسیوں پر اثرانداز ہونے کی غیر معمولی صلاحیت حاصل ہو جائے تو معاملہ صرف کاروبار کا نہیں رہتا بلکہ جمہوری جواب دہی کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
اس سوال کا جواب دینے کے لیے دو الگ معاملات کو سمجھنا ضروری ہے۔ پہلا معاملہ سفارتی پروٹوکول کا ہے، کسی غیر ملکی وزیر کا دہلی کے بجائے ممبئی میں ملاقاتیں کرنا بذاتِ خود حکومت کی توہین یا قومی خود مختاری کی خلاف ورزی نہیں ہے، مختلف شہروں میں کاروباری اور سرکاری ملاقاتوں کا انعقاد ایک معمول کا سفارتی طریقہ ہے۔ دوسرا معاملہ یہ ہے کہ کیا کسی خانگی کمپنی کی معاشی اہمیت اسے حکومت کے برابر سیاسی حیثیت دے رہی ہے؟
روبیو کے دورے نے اس سوال کو نمایاں کیا ہے کہ امریکہ نے ہندوستانی حکومت کو نظرانداز کرکے امبانی کو اپنا اصل مذاکراتی فریق نہیں بنالیا ہے؟ بلکہ ہندوستان نے امبانی اور امریکہ کے درمیان ایک بروکر کا کام کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات اس کا بات کا ثبوت ہے، مارکو روبیو نے دونوں ملکوں کے درمیان توانائی، تجارت اور سرمایہ کاری کے معاملات پر گفتگو کی اور ریلائنس کے ساتھ گفتگو کا تعلق کمپنی کی تجارتی صلاحیت اور امریکی توانائی کی ضروریات سے تھا۔ تاہم ایک بنیادی سوال باقی رہتا ہے کہ اگر کسی خانگی کمپنی کی صلاحیت کسی ملک کی توانائی پالیسی کو متاثر کرنے لگے تو اس عمل میں عوامی مفاد کی نگرانی کون کرے گا؟
مثال کے طور پر اگر امریکہ کسی مخصوص خام تیل کی خریداری یا ریفائننگ میں اضافے کی خواہش ظاہر کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف ریلائنس کے کاروبار تک محدود نہیں رہتے، اس سے ہندوستان کی توانائی درآمدات، تجارتی ترجیحات، عالمی منڈیوں کے ساتھ تعلقات اور ممکنہ طور پر صارفین کے مفادات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، یہاں ہندوستانی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی ایک کمپنی کے تجارتی مفادات اور ملک کے وسیع تر مفادات کے درمیان توازن برقرار رکھے۔
کاروباری ادارے اپنے حصص یافتگان کے مفادات کے لیے کام کرتے ہیں، حکومت کا کام پورے ملک کے عوام کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے، دونوں کے مفادات بعض اوقات ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوسکتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ ہر معاملے میں ایسا ہی ہو، اسی لیے قومی پالیسی کا فیصلہ کسی ایک صنعت کار کی تجارتی ترجیحات کو سامنے رکھ کر نہیں بلکہ قومی مفادات کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
ہندوستان میں بڑے صنعت کاروں اور حکومت کے تعلقات پر بحث صرف ایلون مسک کے بیان سے شروع نہیں ہوئی۔ گزشتہ کئی برسوں سے اپوزیشن جماعتیں وزیراعظم نریندر مودی اور امبانی سمیت بعض بڑے کاروباری گروپوں کے تعلقات پر سوال اٹھاتی رہی ہیں۔ اپوزیشن کی تنقید کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ کیا موجودہ معاشی پالیسیوں سے بڑے کارپوریٹ گھرانوں کو چھوٹے کاروباروں کے مقابلے میں زیادہ فائدہ پہنچ رہا ہے؟ کیا حکومت کے اہم فیصلوں میں بڑے سرمایہ کاروں کی ترجیحات کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے؟ اور کیا کاروبار کے لیے مساوی مواقع یقینی بنانے والے ادارے سیاسی اور معاشی دباؤ سے آزاد ہوکر کام کر رہے ہیں؟ ان سوالات کا جائزہ لینے کے لیے صرف سیاسی بیانات کافی نہیں ہیں بلکہ ہر معاملے میں متعلقہ پالیسی، حکومتی فیصلوں، ٹیکس اور مراعات کے ضابطوں، مسابقتی قوانین اور سرکاری معاہدوں کو الگ الگ دیکھنا ہوگا۔ مثلاً اگر کسی کمپنی کو سرکاری زمین دی جاتی ہے تو اس کی شرائط کیا تھیں؟ اگر ٹیکس میں رعایت ملتی ہے تو کیا وہ رعایت دوسرے کاروباری اداروں کے لیے بھی دستیاب ہے؟ اگر کسی شعبے میں لائسنس جاری کیا جاتا ہے تو کیا درخواستوں پر یکساں اصول لاگو کیے جاتے ہیں؟ اور اگر کوئی فیصلہ قومی سلامتی کے نام پر کیا جاتا ہے تو کیا اس کی وجوہات اور طریقہ کار مناسب حد تک شفاف ہیں؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ریاستی طاقت اور خانگی کاروبار کے درمیان تعلقات کس نوعیت کے ہیں۔ ایک جمہوری نظام میں حکومت کو ان سوالات کا جواب دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے، عوامی مفاد کے معاملات میں محض یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ سب کچھ ضابطوں کے مطابق ہو رہا ہے؛ جہاں ضروری ہو، وہاں ان ضابطوں کے یکساں اطلاق کے شواہد بھی سامنے آنے چاہئیں۔
یہاں ایک اصطلاح سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کارپوریٹ قبضہ یا Corporate Capture۔ اس سے مراد ایسی صورتِ حال ہے جس میں بڑے کاروباری ادارے پالیسی سازی، ضابطہ سازی یا حکومتی فیصلوں پر اس حد تک اثر انداز ہونے لگیں کہ عوامی مفاد کے مقابلے میں ان کے مخصوص تجارتی مفادات کو ترجیح ملنے لگے، اس کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا کاروباری مفادات سرکاری فیصلوں کو غیر متناسب طور پر متاثر کر رہے ہیں، کیا ضابطوں کا نفاذ غیر جانب دار ہے، کیا مفادات کے ٹکراؤ کو ظاہر کیا جاتا ہے اور کیا حکومتی ادارے عوام کے سامنے جواب دہ ہیں۔
ہندوستان کے معاملے میں امبانی، اڈانی اور دوسرے بڑے صنعتی گروپوں کے بڑھتے ہوئے معاشی اثر و رسوخ پر بحث ہوتی رہی ہے، اس بحث کو صرف اس بنیاد پر رد کرنا مناسب نہیں کہ یہ صنعت کار روزگار پیدا کرتے ہیں یا ملک میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ اصل توجہ ان ادارہ جاتی اصولوں پر ہونی چاہیے جو حکومت اور کاروبار کے درمیان تعلقات کو منصفانہ بناتے ہیں۔
کیا پارلیمنٹ بڑے معاشی فیصلوں پر مؤثر نگرانی کرتی ہے؟ کیا مسابقتی کمیشن اور دوسرے ریگولیٹری ادارے آزادانہ طور پر کام کرتے ہیں؟ کیا سرکاری پالیسیوں سے فائدہ اٹھانے والوں کی تفصیلات عوام کے سامنے آتی ہیں؟ کیا میڈیا اور سول سوسائٹی حکومتی فیصلوں پر آزادانہ سوال اٹھا سکتے ہیں؟ اور کیا عدالتیں ضرورت پڑنے پر ان معاملات کا جائزہ لے سکتی ہیں؟ ان سوالات کے جوابات سے ہی معلوم ہوگا کہ ہندوستان میں کارپوریٹ طاقت اور عوامی اقتدار کے درمیان توازن کس سمت جا رہا ہے۔
مارکو روبیو کے دورے کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ غیر ملکی وفود اب محض دارالحکومتوں، وزارتوں اور سرکاری عمارتوں تک محدود نہیں رہتے، وہ بندرگاہوں، ریفائنریوں، صنعتی مراکز، ٹیکنالوجی پارکوں اور بڑے کاروباری اداروں کا دورہ بھی کرتے ہیں۔
لیکن یہاں ایک خطرہ ضرور موجود ہے، اگر معاشی طاقت چند بڑے اداروں میں سمٹ جائے تو غیر ملکی حکومتوں کے لیے بھی ان اداروں کے ساتھ براہِ راست تعلقات قائم کرنا زیادہ فائدہ مند محسوس ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں چھوٹے کاروباروں، مقامی صنعتوں، مزدوروں اور عام شہریوں کے مفادات پس منظر میں جا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خانگی کمپنیوں کے ساتھ سفارتی تعاون کے باوجود ریاستی اداروں کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے، معاہدوں کی شرائط، توانائی کی درآمدات، تجارتی پالیسی اور قومی سلامتی سے متعلق فیصلوں کی ذمہ داری منتخب حکومت اور متعلقہ سرکاری اداروں پر ہی رہنی چاہیے۔ ہندوستان کے معاملے میں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ روبیو کا دورہ ایک مخصوص تجارتی اور توانائی ایجنڈے کے تحت تھا۔ اس کے باوجود یہ بحث جائز ہے کہ عالمی سفارت کاری میں بڑی کمپنیوں کا بڑھتا ہوا کردار کس طرح قومی خود مختاری، جمہوری جواب دہی اور عوامی مفاد سے ہم آہنگ رکھا جائے۔
مارکو روبیو کے جام نگر دورے اور ایلون مسک کے طنز کو ایک ہی واقعے کے دو الگ پہلوؤں کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
مسک کا معاملہ ٹیلی کام مارکیٹ میں مسابقت، لائسنس اور ضابطہ جاتی منظوریوں سے متعلق ہے۔ روبیو کا دورہ عالمی توانائی، سرمایہ کاری اور تجارتی مفادات سے جڑا ہوا ہے۔ دونوں واقعات کے محرکات مختلف ہیں، لیکن دونوں نے ایک مشترک سوال کو نمایاں کیا ہے وہ یہ کہ ہندوستان میں بڑے کاروباری اداروں کی بڑھتی ہوئی معاشی طاقت اور ریاستی پالیسیوں پر ان کے اثرات کو کس طرح سمجھا جائے؟
ااگر کسی کمپنی کی صنعتی صلاحیت ملک کے لیے اہم ہے تو اس کے ساتھ تعاون کرنا حکومت کی معاشی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے لیکن اس تعاون کی بنیاد شفاف اور یکساں اصول ہونے چاہئیں، اگر کسی کمپنی کو سرمایہ کاری، روزگار یا ٹیکنالوجی کی فراہمی کے لیے مراعات دی جاتی ہیں تو ان کے معاشی فوائد عوام تک پہنچنا چاہئیں۔ یہاں عوام کا کردار بھی اہم ہے، جمہوریت میں شہریوں کو یہ سوال کرنے کا حق ہے کہ سرکاری پالیسیوں سے کس کو فائدہ پہنچ رہا ہے، سرکاری وسائل کیسے استعمال ہو رہے ہیں اور بڑے کاروباری اداروں کے مفادات کو عوامی مفادات کے ساتھ کس طرح متوازن کیا جا رہا ہے۔
حکومت کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ کسی صنعت کار کی کامیابی کو قومی کامیابی قرار دینے کے لیے صرف اس کی دولت، کاروبار یا عالمی رسائی کافی نہیں ہے، بلکہ قومی کامیابی کا پیمانہ یہ بھی ہے کہ اس سرمایہ کاری سے روزگار کے کتنے مواقع پیدا ہوئے، صارفین کو کتنا فائدہ پہنچا، چھوٹے کاروباروں کے لیے کتنے مواقع کھلے اور ملک کے عوام کی زندگیوں میں کیا بہتری آئی۔ اسی طرح کسی حکومت کی کامیابی کا پیمانہ صرف یہ نہیں کہ دنیا کے بڑے صنعت کار اس کے ساتھ کتنے قریب ہیں یا غیر ملکی وفود کتنی بار ان کے منصوبوں کا دورہ کرتے ہیں، بلکہ اصل پیمانہ یہ ہے کہ حکومت قومی وسائل اور معاشی پالیسیوں کو کتنی شفافیت کے ساتھ استعمال کرتی ہے اور عوام کے سامنے کس حد تک جواب دہ ہے۔
’’مسٹر امبانی، پرائم منسٹر آف انڈیا!‘‘ ایلون مسک کا یہ جملہ اپنی جگہ ایک طنزیہ سیاسی تبصرہ ہے، لیکن یہ جملہ ایک ایسے سوال کی طرف توجہ دلاتا ہے جسے کسی جمہوریت میں نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے: کیا معاشی طاقت رکھنے والے اداروں کو ریاستی پالیسی پر اثرانداز ہونے کے یکساں مواقع حاصل ہیں، یا چند اداروں کا اثر و رسوخ دوسروں کے مقابلے میں غیر معمولی ہے؟
جمہوریت میں حکومت کی ذمہ داری کسی صنعت کار کی مخالفت یا سرپرستی نہیں بلکہ تمام شہریوں کے حقوق اور مفادات کا تحفظ ہے۔ سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی ضروری ہیں مگر ان کی بنیاد قانون، مساوی مسابقت، روزگار اور عوامی مفاد پر ہونی چاہیے۔ اگر حکومت کے دروازے عام شہریوں کے لیے بند اور چند کاروباری گھرانوں کے لیے کھلے دکھائی دیں تو اس تاثر کو دور کرنا بھی حکومت ہی کی ذمہ داری ہے، کیونکہ جمہوریت کی اصل طاقت دولت نہیں، عوام ہیں۔ امبانی کی ریفائنری میں غیر ملکی وزیر کا دورہ محض ایک خبر نہیں بلکہ یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا معاشی ترقی کے ثمرات پورے معاشرے تک پہنچیں گے اور کیا ریاستی طاقت عوام کے سامنے جواب دہ رہے گی؟
مسٹر امبانی، پرائم منسٹر آف انڈیا؟

مارکو روبیو، وزیر خارجہ امریکہ کا جام نگر کا دورہ: کاروبار یا سفارت کاری؟

