اسلامی فقہ کی تاریخ میں خواتین کی علمی خدمات کا جائزہ
اسلامی تاریخ میں خواتین کی علمی خدمات سے متعلق مستند اور قابلِ رسائی لٹریچر کی کمی ہے۔ اسی کمی نے یہ غلط فہمی پیدا کی ہے کہ اسلام خواتین کے لیے تعلیم، بالخصوص دینی تعلیم کے مواقع محدود کرتا ہے۔ حالانکہ اسلام کی ابتدائی صدیوں میں مسلمان خواتین دینی اور دنیاوی علوم کے مختلف شعبوں میں سرگرم تھیں۔ انہیں اسلامی علوم حاصل کرنے اور اپنا علم دوسروں تک پہنچانے کی آزادی حاصل تھی۔ مرد بھی خواتین عالمات سے علم حاصل کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے تھے۔
کیا ایک مسلمان خاتون شرعی مسائل پر فتویٰ دے سکتی ہیں، مسلمانوں کی دینی رہنمائی کرسکتی ہیں اور اسلامی فقہ و قانون کی تحقیق و تدریس میں حصہ لے سکتی ہیں؟ کیا انہیں ایسے علمی اجتماعات سے خطاب کرنے کی اجازت ہے جن میں مرد اور خواتین دونوں شریک ہوں؟ یہ سوالات بعض مسلم اور اکثر غیر مسلموں کے ذہنوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ معروف عالم دین، جماعت اسلامی ہند کے قومی سکریٹری اور شریعہ کونسل کے سکریٹری ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی نے اپنی تازہ کتاب ’’تذکرۂ فقیہات‘‘ میں انہی سوالات کا تفصیلی جواب دیا ہے۔680 صفحات پر مشتمل اس کتاب میں تاریخی حوالوں، قرآنی تعلیمات اور احادیث کی روشنی میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اسلام نے خواتین کو دینی اور عصری علوم حاصل کرنے سے روکا نہیں ہے بلکہ درس و تدریس، علمی اجتماعات اور جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے اپنا علم دوسروں تک پہنچانے کی اجازت بھی دی ہے۔ ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی کے مطابق کتاب کا بنیادی مقصد خواتین کو اسلامی فقہ و قانون کی تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دینا اور انہیں اس شعبے میں تحقیق اور علمی خدمات انجام دینے کے لیے ضروری بنیاد فراہم کرنا ہے، بشرطیکہ اس میں کوئی شرعی رکاوٹ نہ ہو۔
علم کے حصول میں مرد و عورت کی یکساں حیثیت:
ڈاکٹر ندوی کا مؤقف ہے کہ اسلام علم حاصل کرنے کے معاملے میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی امتیاز نہیں کرتا۔ ’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔‘‘ ان کے مطابق حدیث میں لفظ ’’مسلمان‘‘ عمومی معنوں میں استعمال ہوا ہے، جس میں مرد اور خواتین دونوں شامل ہیں۔ اس لیے علم حاصل کرنے کا حکم دونوں کے لیے یکساں ہے۔نبی کریم ﷺ خواتین کی درخواست پر ان کے لیے الگ علمی نشستیں بھی منعقد فرمایا کرتے تھے۔ ان نشستوں میں خواتین اپنے مخصوص مسائل سمیت ایسے موضوعات پر بھی بلاجھجک سوال کرسکتی تھیں جنہیں مخلوط اجتماعات میں اٹھانے سے وہ ہچکچاتی تھیں۔ اس حوصلہ افزائی نے خواتین میں تعلیم حاصل کرنے کا شوق پیدا کیا اور ان کے درمیان ایک علمی تحریک کو فروغ ملا۔ بہت سی خواتین نے پڑھنا لکھنا سیکھا، خطاطی میں مہارت حاصل کی اور قرآن حفظ کیا۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی زوجہ حضرت حفصہ بنت عمرؓ کو صحابیہ حضرت شفاؓ بنت عبداللہ سے لکھنا سیکھنے کی ترغیب دی۔ رفتہ رفتہ خواتین نے قرأتِ قرآن، تفسیر، ادب، شاعری اور اس دور کے طبی علوم سمیت مختلف شعبوں میں مہارت حاصل کی۔
ابتدائی دور کی بائیس خواتین مفتیات:
کتاب کا ایک اہم پہلو اسلام کے ابتدائی دور کی ان خواتین عالمات کا تذکرہ ہے جو فقہی مسائل پر فتاویٰ دیا کرتی تھیں۔ڈاکٹر ندوی، علامہ ابن قیم کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ اسلامی تاریخ کی کتابوں میں ایک سو تیس صحابہ کے فتاویٰ محفوظ ہیں۔ ان میں بائیس خواتین بھی شامل تھیں۔ ان خواتین کے فتاویٰ اور علمی خدمات کو یکجا کیا جائے تو کئی کتابیں مرتب ہوسکتی ہیں۔ یہ اس دور کی ایک غیر معمولی علمی کامیابی تھی جب یورپ تاریک دور سے گزر رہا تھا اور مسلم دنیا میں علم و تحقیق کو فروغ حاصل ہو رہا تھا۔ تاہم سوال یہ ہے کہ مسلمان مؤرخین اور سوانح نگاروں نے خواتین کی ان خدمات کو وہ اہمیت کیوں نہیں دی جس کی وہ مستحق تھیں؟ ڈاکٹر ندوی نے اسلام کے ابتدائی دور سے آج تک کی فقیہ خواتین کے حالات اور علمی خدمات جمع کر کے اس نظر انداز شدہ تاریخ کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔ ان کی یہ تصنیف بالخصوص اسلامی فقہ و قانون میں خواتین کے کردار پر تحقیق کرنے والوں کے لیے ایک اہم علمی سرمایہ ہے۔
حضرت عائشہؓ کا غیر معمولی علمی مقام:
علامہ ابن قیم کے مطابق ام المؤمنین حضرت عائشہؓ اور حضرت ام سلمہؓ کا شمار اسلامی فقہ و قانون کے ممتاز ترین خواتین علماء میں ہوتا تھا۔ اس علمی مرتبے میں وہ اپنے دور کے مرد علماء کے ہم پلہ تھیں۔ کتاب میں دیگر ممتاز خواتین فقیہات کا بھی ذکر ہے جن میں حضرت فاطمہؓ، حفصہ بنت عمرؓ، حضرت ام حبیبہؓ بنت ابی سفیان، حضرت لیلیٰؓ بنت قنیف ثقفیہ، حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ، حضرت ام شریکؓ، حضرت خولہؓ بنت تویت اسدیہ، حضرت ام درداءؓ الکبریٰ، حضرت عاتکہؓ بنت زید، حضرت سہلہؓ بنت سہیل، ام المؤمنین حضرت جویریہؓ بنت حارث، ام المؤمنین حضرت میمونہؓ بنت حارث، حضرت فاطمہؓ بنت قیس، حضرت ام سلیمؓ، حضرت زینبؓ بنت ابی سلمہ، حضرت ام ایمنؓ حبشیہ، حضرت ام یوسفؓ حبشیہ اور حضرت غامدیہؓ شامل ہیں۔حضرت عائشہؓ سے 2,210 سے زائد احادیث روایت کی گئی ہیں۔ انہیں قرآن و حدیث کا غیر معمولی علم حاصل تھا۔ بہت سے صحابہ حتیٰ کہ خلیفہ حضرت عمرؓ بھی، بعض قرآنی آیات کی تشریح سمجھنے کے لیے ان سے رجوع کرتے تھے۔ان کے شاگردوں میں بڑی تعداد مردوں کی بھی تھی، جو ان سے قرآن و حدیث کی تفسیر اور تشریح سیکھتے تھے۔ حضرت عائشہؓ کی علمی زندگی اس بات کی نمایاں مثال ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور میں خواتین نے نہ صرف علم حاصل کیا بلکہ اسے عام کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
خواتین کی علمی تاریخ کیوں نظر انداز ہوئی؟
اتنی وسیع علمی خدمات کے باوجود اسلامی تاریخ اور سوانح کی کتابوں میں خواتین فقیہات کے کردار کو خاطر خواہ جگہ نہیں مل سکی۔ ان کی خدمات پر کئی جلدیں مرتب کی جاسکتی تھیں لیکن بیشتر مؤرخین اور سوانح نگاروں نے اس جانب مناسب توجہ نہیں دی۔یہ سوال اہم ہے کہ کیا خواتین کی علمی خدمات کو قلم بند کرنا ضروری نہیں سمجھا گیا یا اس نظر اندازی کے پیچھے دوسرے اسباب تھے؟ اس غفلت کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ اسلام کے بارے میں یہ تأثر پیدا ہوا کہ وہ خواتین کو اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور علمی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دیتا۔ موجودہ دور کے محققین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس موضوع پر تحقیق کریں اور مسلمان خواتین کی علمی تاریخ کو درست تناظر میں پیش کریں۔ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران بعض مسلم علماء نے اس کمی کو دور کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اس موضوع پر زیادہ تر تصانیف عربی زبان میں دستیاب ہیں۔ حافظ ابن حجر کی ’’الاصابہ‘‘ بھی اس سلسلے کا ایک اہم حوالہ ہے۔ حال ہی میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز کے سابق ریسرچ فیلو ڈاکٹر محمد اکرم ندوی نے اپنی اہم تصنیف ’’الوفاء بأسماء النساء‘‘ میں خواتین محدثات کی علمی خدمات کو تفصیل سے پیش کیا ہے۔ یہ کتاب بالخصوص حدیث کی روایت اور اس کے فروغ میں خواتین کے کردار کو اجاگر کرتی ہے۔ ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی کی ’’تذکرۂ فقیہات‘‘ اسی علمی سلسلے کی ایک منفرد کڑی ہے جس میں توجہ کا مرکز اسلامی فقہ و قانون میں خواتین کی خدمات ہیں۔ عہدِ نبوی سے موجودہ دور تک ’’تذکرۂ فقیہات‘‘ میں عہدِ نبوی سے لے کر موجودہ زمانے تک کی ممتاز خواتین فقیہات کے حالات اور علمی خدمات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ مصنف نے ان کی خدمات کو بے ترتیب انداز میں پیش کرنے کے بجائے صدی وار ترتیب دی ہے۔ ہر صدی کی نمایاں خواتین عالمات کا انتخاب کرکے ان کے علمی کارناموں کو یکجا کیا ہے۔اگرچہ ایک ہی جلد میں اسلامی تاریخ کی تمام خواتین فقیہات کا احاطہ ممکن نہیں ہے تاہم اس منظم طریقہ کار نے کتاب کو محققین کے ساتھ ساتھ عام قارئین کے لیے بھی ایک مفید علمی حوالہ بنا دیا ہے۔ کتاب میں موجودہ دور کی جن خواتین اسلامی اسکالروں کا ذکر ہے ان میں ہندوستان کی ڈاکٹر فریدہ خانم اور زینت کوثر، جبکہ پاکستان کی ڈاکٹر فرحت ہاشمی اور جمیلہ شوکت شامل ہیں۔
خود مطالعے سے علم حاصل کرنے والی خواتین کا تذکرہ بھی ضروری:
انڈیا ٹومارو نیوز پورٹل کے چیف ایڈیٹر خلیق احمد صاحب نے اپنے تبصرے میں مشورہ دیا ہے کہ ڈاکٹر ندوی کو بر صغیر ہند و پاک کی ان خواتین کو بھی اپنی کتاب میں شامل کرلینا چاہیے تھا جنہوں نے کسی اسلامی مدرسے سے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی اور نہ ہی اپنے تعلیمی نصاب میں اسلامی علوم پڑھے لیکن ذاتی مطالعے اور تحقیق کے ذریعے دینی علوم میں نمایاں مہارت حاصل کی ہے۔ ان میں سے کئی خواتین اسلامی تحقیق اور علمی سرگرمیوں میں قابلِ قدر بلکہ بعض معاملات میں غیر معمولی خدمات انجام دے رہی ہیں۔
ایسا کرنے سے اس کتاب کی افادیت مزید بڑھ جاتی۔ اس سے خود مطالعے کے ذریعے علم حاصل کرنے والی خواتین کی خدمات کو اعتراف ملتا اور دوسری مسلمان خواتین کو بھی علمی میدان میں آگے بڑھنے کی ترغیب حاصل ہوتی۔ ممکن ہے کہ کتاب کی ضخامت اور جگہ کی محدودیت کے باعث مصنف اس وسیع تر علمی دائرے کا احاطہ نہ کرسکے ہوں۔ پھر بھی ’’تذکرۂ فقیہات‘‘ ایک اہم معلوماتی اور حوصلہ افزا تصنیف ہے جو اسلامی فقہ میں خواتین کی فراموش کردہ علمی خدمات کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ کتاب علماء، محققین اور عام قارئین، بالخصوص
اسلامی علوم میں دلچسپی رکھنے والی خواتین کے لیے یکساں طور پر مفید ہے۔
ڈاکٹر مبشرہ خان نے مولانا رضی الاسلام کی کتاب ’’تذکرۂ فقیہات‘‘ کے بارے میں ہادیہ ای میگزین میں لکھا کہ ’’یہ صدی ان شاء اللہ خواتین کے اعترافِ خدمات سے منسوب کی جائے گی۔ قرآنِ مجید پر کام کرنے والی خواتین مفسرات پر لکھی گئی کتاب کے بعد، علمِ حدیث اور حدیث کی تدوین میں معاون خواتین کی خدمات پر مبنی کتاب المحدثات اور اب فقیہات کے تذکرے، یعنی خواتین کی خدماتِ فقہ پر مبنی کتاب منظرِ عام پر آئی ہے۔‘‘
وہ مزید لکھتی ہیں:
’’دینی علوم میں خواتین کی خدمات کا اعتراف، ان کے لیے دینی تعلیم کی سہولتیں اور ایسے علمی، تحقیقی اور تصنیفی ادارے جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو اعتماد کے ساتھ برت سکیں، اگر میسر ہوں تو دینی علوم میں آگے بڑھنے کا رجحان خواتین میں بڑھے گا۔ اس کے بر عکس ان کی عدم دست یابی خواتین کو دینی و علمی خدمت کے جذبے سے محدود کر دے گی۔ اس لیے خواتین کی علمی و دینی خدمات کے اعتراف کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ مولانا کی یہ کتاب اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ خواتین کی دینی خدمات کے اظہار کا رجحان ہی کم رہا ہے یا پھر کوتاہ ذہنی کے سبب کہیں مستورات کو منظرِ عام پر نہ لانے کی وجہ سے ان کا ذکر نہیں کیا گیا۔ مولانا نے لکھا ہے کہ دینی سرگرمیوں میں اسلام کے نزدیک صنف کی کوئی تفریق نہیں ہے۔ اللہ رب العالمین مولانا رضی صاحب کو جزائے خیر سے نوازے اور اس کاوش پر انہیں خوب اجر عطا کرے۔ قارئین اس کتاب کو پڑھ کر نہ صرف اپنی بچیوں اور نئی نسل کو دینی خدمات پر ہمت افزائی کرسکتی ہیں بلکہ دین میں اختصاص کی اہمیت کو سمجھ سکتی ہیں اور خود بھی تحریک پا سکتی ہیں۔‘‘
بھارت میں کتاب کی قیمت 800 روپے ہے۔ اسے درج ذیل اداروں سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
Hidayat Publishers and Distributors, New Delhi, India
Mobile: +91-98910 51676
Idara-e-Tahqeeq wa Tasneef Islami, Aligarh, India
Mobile: +91-90274 45919
Idara-e-Fikr Islami, Lahore, Pakistan
Mobile: +92-333 3585426