خوش رہنا انسان کا خاصا ہے۔ انسان کی فطرت میں شامل ہے کہ وہ خوش رہنا چاہتا ہے۔ انسان کی دوڑ دھوپ کا ایک اہم مقصد خوشی اور سکون حاصل کرنا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آج کے مادی دور میں وسائل کی بہتات کے باوجود انسان سکون اور خوشی کے لیے تڑپ رہا ہے۔ خوش رہنے کے لیے مختلف افراد الگ الگ انداز میں لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ اسی سلسلے میں عالمِ اسلام کی مشہور شخصیت ڈاکٹر عائض القرنی نے ایک کتاب لکھی ہے، جس کا اردو ترجمہ زینب شمس نے ’’خوش رہنے کے تیس اصول‘‘ کے نام سے کیا ہے۔ اس سے پہلے عائض القرنی کی مشہور کتاب ’’غم نہ کریں‘‘ کی لاکھوں کاپیاں شائع ہو چکی ہیں اور اردو میں بھی اس کے کئی ایڈیشن نکل چکے ہیں۔
کتاب کا پیش لفظ ڈاکٹر محمود مرزا نے لکھا ہے۔ اپنے پیش لفظ میں انہوں نے کتاب کی اہمیت بیان کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’یہ کتاب اپنے اختصار کے باوجود فکری گہرائی اور روحانی تاثیر رکھتی ہے۔ اس کے مطالعے سے یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ اگر انسان اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کو مضبوط کر لے تو وہ ذہنی و قلبی اطمینان حاصل کر سکتا ہے۔ قرآن کریم کی یہ آیت اسی حقیقت کی ترجمان ہے: أَلَا بِذِكْرِ اللہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (یاد رکھو! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔‘‘
عرضِ مترجم کے تحت محترمہ زینب شمس لکھتی ہیں: ’’آج کا انسان ظاہری آسائشوں اور مادی ترقی کے باوجود بے چینی، اضطراب اور ذہنی پریشانیوں کا شکار ہے۔ ایسے پُرفتن اور پُرآشوب دور میں یہ کتاب امید، حوصلے اور روحانی سکون کا ایک خوب صورت پیغام پیش کرتی ہے۔ شیخ عائض القرنی نے اپنے مخصوص، مؤثر اور پُرخلوص تحریری اسلوب میں اُن عملی اصول و اسباب کو بیان کیا ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ سے جوڑتے، اس کے دل میں اطمینان پیدا کرتے اور زندگی کو مثبت فکر و عمل کی طرف رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔‘‘ (صفحہ (9)
خوش رہنے کے تیس اصولوں کے تحت پہلے اصول میں مصنف بیان کرتے ہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کے بارے میں غور و فکر کرے۔ جب انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر غور کرتا ہے تو اسے خوشی اور سکون حاصل ہوتا ہے۔ اللہ رب العزت نے انسان کو اتنی نعمتیں عطا کی ہیں کہ وہ ان کا شمار نہیں کر سکتا۔
دوسرے اصول میں مصنف بتاتے ہیں کہ ماضی میں نہ جئیں۔ ماضی میں جینا اور اس کے غموں پر رنج کرنا بے وقوفی اور حماقت ہے۔ ماضی میں جینے سے انسان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔
تیسرے اصول میں مصنف بتاتے ہیں کہ آج کے دن کو اپنا دن سمجھیے اور یہ احساس رکھیے کہ مجھے آج ہی کا دن عطا کیا گیا ہے۔ اس طرزِ فکر سے انسان کی زندگی خوش گوار ہو گی اور وہ موجودہ وقت کو بہتر انداز میں گزار سکے گا۔
چوتھا اصول یہ ہے کہ زمانے سے آگے دوڑنے کی کوشش نہ کریں۔ آنے والا کل ایک نامعلوم حقیقت ہے۔ مصنف لکھتے ہیں : ’’مستقبل کے بارے میں ذہنی لڑائی لڑنا، غیب کی کتاب کھول کر اس میں متوقع پریشانیوں پر گھبرانا شرعاً اس لیے ناپسندیدہ ہے کیونکہ اس کا سبب لمبی لمبی امیدیں ہیں اور عقلاً اس لیے مذموم ہے کیونکہ وہ ایک سائے سے کشتی لڑنے کے مترادف ہے۔‘‘ صفحہ (20)
پانچویں اصول میں مصنف بتاتے ہیں کہ انسان بے جا تنقید کا سامنا کیسے کرے۔ بے جا تنقید سے انسان کو غم ہوتا ہے۔ اس غم سے نجات حاصل کرنے کے لیے مصنف اس اصول میں سمجھاتے ہیں کہ: ’’جو زمین پر بیٹھا ہوتا ہے، وہ گرتا نہیں ہے، اور لوگوں کے بارے میں یہ بات معروف ہے کہ وہ مرے ہوئے کتے کو لات نہیں مارتے۔ لوگ آپ پر اس لیے غصہ کرتے ہیں کیونکہ آپ ان سے علم، صلاحیت، ادب اور مال میں فوقیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا آپ ان کے نزدیک ایک ایسے گناہ گار ہیں جس کی کوئی معافی نہیں، یہاں تک کہ آپ اپنی صلاحیتوں کو چھوڑ دیں، اللہ تعالیٰ کی نعمتیں آپ سے چھن جائیں، تمام تعریفوں سے آپ عاری ہو جائیں اور کامیابی کے سارے راستے آپ پر بند ہو جائیں اور آپ پلید و کند ذہن، بے کار اور صفر ہو کر رہ جائیں، وہ بس یہی چاہتے ہیں۔‘‘ صفحہ (22)
چھٹے اصول میں مصنف بتاتے ہیں کہ آپ کسی کے شکریے کا انتظار نہ کیجیے۔ کم ظرف لوگ آپ کا شکریہ ادا نہیں کریں گے۔ آپ لوگوں کے کام اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کریں، وہی آپ کو اجر دے گا۔ جب آپ اس اصول کو اپنائیں گے تو آپ کو خوشی حاصل ہو گی اور آپ دوسروں کے رویّوں سے غم زدہ نہیں ہوں گے۔
ساتواں اصول یہ ہے کہ دوسروں پر مہربانی کریں۔ لوگوں پر احسان کرنے والا سب سے پہلے خود اس احسان سے مستفید ہوتا ہے۔ اس نیکی کا پھل بہت جلد اسے ملتا ہے اور اس کے دل و ضمیر کو سکون و اطمینان اور انشراح و انبساط حاصل ہوتا ہے۔
آٹھواں اصول یہ ہے کہ آپ بیکار نہ بیٹھیں۔ آدمی کا بے کار بیٹھنا نہایت خطرناک ہے۔ مصنف لکھتے ہیں: ’’جس دن آپ خالی بیٹھیں، اس دن خود کو رنج و غم اور گھبراہٹ سے دوچار ہونے کے لیے تیار کر لیں، کیونکہ یہ فارغ اوقات آپ کے ماضی، حال اور مستقبل کے تمام رجسٹر کھول کر رکھ دیں گے اور آپ مشکل میں پڑ جائیں گے۔‘‘
نواں اصول یہ ہے کہ آپ نقال نہ بنیں۔ آپ ہر ایک سے الگ ہیں، لہٰذا دوسروں کی تقلید اور نقالی کرنے کی کوشش نہ کریں۔
دسواں اصول یہ ہے کہ تقدیر پر راضی رہیں۔ تقدیر لکھی جا چکی ہے اور ہمیں وہی پہنچتا ہے جو ہمارے لیے لکھا جا چکا ہے۔ مصنف لکھتے ہیں: ’’جب یہ عقیدہ آپ کے دل میں اچھی طرح بیٹھ جائے تو آزمائشیں عطیہ، تکلیفیں تحفہ اور تمام مصیبتیں انعام اور ایوارڈ بن جائیں گی۔‘‘
گیارہویں اصول میں مصنف بتاتے ہیں کہ بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ کوئی بھی مشکل پیش آئے تو وہ ٹل جائے گی اور اس کے بعد آسانی آئے گی۔ مصنف زمانۂ جاہلیت کا ایک شعر بھی نقل کرتے ہیں، جس کا مفہوم ہے: ’’پہلے مصیبتیں گھیر لیتی ہیں، پھر ہٹ جاتی ہیں، پھر یوں غائب ہو جاتی ہیں جیسے کبھی تھیں ہی نہیں۔ آخرکار ان کا کوئی مستقل اثر باقی نہیں رہتا۔‘‘
بارہویں اصول کو پیش کرتے ہوئے مصنف لکھتے ہیں: ’’ذہین و ہوشیار شخص نقصان کو فائدے میں تبدیل کر لیتا ہے اور جاہل و بے وقوف ایک مصیبت کو دوسری مصیبت بنا دیتا ہے۔‘‘ اس سلسلے میں وہ سیرت سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ہمارے اسلاف کے واقعات بیان کرتے ہیں۔ وہ مزید لکھتے ہیں: ’’جب آپ کو کوئی مصیبت و آزمائش درپیش ہو تو آپ اس کے روشن پہلو کو دیکھیں۔ کوئی آپ کو لیموں کی پیالی دے تو اس میں تھوڑی سی شکر ملا کر شربت بنا لیجیے۔‘‘
تیرہویں اصول کے تحت مصنف لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد کیجیے۔ وہی ہے جو بے قرار و بے کس کی فریاد سنتا ہے۔ اس سے خوب مانگیے، ہر بار مانگیے اور بار بار مانگیے۔ مصنف لکھتے ہیں کہ جب کوئی مصیبت آئے اور حوادثِ زمانہ گھیر لیں تو کثرت سے اس کا ذکر کیجیے، اسے اس کے نام سے پکاریے، اس سے مدد طلب کیجیے اور اس سے کشادگی و کامیابی کی دعا کیجیے۔
چودہویں اصول، یعنی ’’اپنے گھر کو اپنے لیے کافی سمجھیے‘‘، میں مصنف لکھتے ہیں کہ آپ شر، اہلِ شر، فضول اور آوارہ لوگوں سے دور رہیں تو آپ کو سکون ملے گا اور قلبی سکون و روحانی اطمینان نصیب ہو گا۔
پندرہواں اصول یہ ہے کہ یاد رکھیے، اللہ تعالیٰ آپ سے جو بھی چیز لے گا، اس سے بہتر عطا کرے گا، بشرطیکہ آپ صبر کریں۔
سولہویں اصول، ’’ایمان ہی زندگی ہے‘‘، میں مصنف لکھتے ہیں: ’’اللہ رب العزت پر ایمان کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے جو نفس کو سعادت بخشے، اس کا تزکیہ و تطہیر کرے، اسے خوش رکھے اور رنج و غم اور بے چینی کو اس سے دور کرے۔‘‘
سترہواں اصول ہے: ’’شہد حاصل کیجیے، لیکن چھتے کو نہ توڑیے۔‘‘ اس میں مصنف لکھتے ہیں کہ نرمی اور لطافت جس چیز میں ہو گی، اسے زینت بخشے گی اور جس چیز سے بھی نکال دی جائے گی، وہ عیب دار بن جائے گی۔
اٹھارہواں اصول یہ ہے کہ اللہ ہی کی یاد سے اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ آپ جتنا اللہ تعالیٰ کو یاد کریں گے، اتنا ہی آپ کو سکون ملے گا اور آپ خوش رہیں گے۔
انیسواں اصول یہ ہے کہ لوگوں کی ان نعمتوں پر حسد نہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انہیں عطا کی ہیں، کیونکہ حسد سب سے پہلے حاسد کو ختم کر دیتا ہے۔
بیسواں اصول یہ ہے کہ دنیا کی فطرت غموں اور کدورتوں پر قائم ہے، لہٰذا زندگی جیسی بھی ملے، اسے قبول کریں۔
اکیسواں اصول یہ ہے کہ اپنے آس پاس دیکھیے۔ ہر طرف مصیبت زدہ اور غم کے مارے لوگ دکھائی دیں گے۔ ان مصیبت زدہ لوگوں سے حوصلہ پائیے۔
بائیسویں اصول، یعنی نماز، کے تحت مصنف لکھتے ہیں کہ جب آپ پر خوف طاری ہو، غم گھیر لے اور فکری پریشانیاں محاصرہ کر لیں تو فوراً نماز کے لیے کھڑے ہو جائیں۔ یہ آپ کو سکون دے گی۔ رسولِ رحمتؐ کو جب کوئی سخت معاملہ پیش آتا تو آپ حضرت بلالؓ سے فرماتے: ’’اے بلال! ہمیں نماز کے ذریعے آرام پہنچاؤ۔‘‘
تئیسویں اصول میں مصنف بتاتے ہیں کہ اپنے معاملات اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا سیکھیے۔ جب بندہ حسنِ عاقبت سے مطمئن ہو جاتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں اپنے رب پر اعتماد کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی مدد و حمایت اور تائید و نصرت کا مستحق ہو جاتا ہے۔ یہ چیز انسان کو سکون پہنچاتی ہے۔
چوبیسواں اصول یہ ہے کہ زمین میں گھوما پھرا کیجیے۔ سیر و تفریح، گھومنے پھرنے اور سفر و سیاحت سے دلی خوشی حاصل ہوتی ہے۔
پچیسواں اصول یہ ہے کہ صبرِ جمیل اختیار کریں۔ یہ صبر ہی ہے جو انسان کو بڑا انسان بناتا ہے۔
چھبیسواں اصول ہے: ’’ساری دنیا کا بوجھ اپنے سر پر نہ اٹھائیں۔‘‘ اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے مصنف لکھتے ہیں: ’’سارے جہاں کا درد اپنے سر نہ لیں، حادثات کو زمین پر ہی چھوڑ دیں، ان کا اثر اپنی آنتوں پر نہ لیں۔‘‘
ستائیسواں اصول یہ ہے کہ بے جا باتوں کو دل پر نہ لیں۔ کتنے ہی غم زدہ لوگ ایسے ہیں جو حقیر اور معمولی باتوں کی بنا پر غم میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
اٹھائیسویں اصول، ’’رضا ہی میں بے نیازی ہے‘‘ کے عنوان کے تحت مصنف لکھتے ہیں: ’’تاریخ میں ایسے لوگوں کی ایک طویل فہرست ہے جو کم پر راضی رہے اور انہیں بے پناہ عزت و شہرت حاصل ہوئی۔‘‘
انتیسواں اصول ہے: ’’اپنے آپ کو اس جنت کی یاد دلاتے رہیے جس کی چوڑائی زمین و آسمان ہے۔‘‘ مصنف لکھتے ہیں کہ دنیا میں اگر آپ پر کوئی مصیبت آئے تو جنت کی نعمت و راحت، کیف و سرور اور سکون سے بھرپور ہمیشہ رہنے والی زندگی کو یاد کریں۔ اس طرح آپ کو سکون اور راحت ملے گی۔
تیسواں اصول یہ ہے کہ جو شخص خوش رہنا چاہتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں اعتدال لائے، کیونکہ حالات سے نمٹنے میں مبالغہ اور کوتاہی نفس پر ظلم کے مترادف ہیں۔ میانہ روی ہی سب سے بہتر ہے۔
صحیح معنوں میں اس کتاب سے بھرپور فائدہ اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب ہم بار بار اس کا مطالعہ کریں اور اس کے اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ کتاب کا اردو ترجمہ اس قدر رواں ہے کہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ اصل کتاب کسی دوسری زبان میں لکھی گئی تھی۔
کتاب کو ہدایت پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرز، اوکھلا، نئی دہلی نے حسبِ سابق عمدہ طباعت کے ساتھ شائع کیا ہے۔ کتاب کی قیمت سو روپے بھی مناسب ہے۔ کتاب حاصل کرنے کے لیے واٹس ایپ نمبر 9891051676 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
(مبصر سے رابط: 9906653927 )