اسرائیلی انتخابات میں فلسطین مخالف نعروں کی سیاست
غزہ میں خونریزی بدستور جاری ہے۔ اٹھارہ اکتوبر کو اسرائیلی فوج نے صبح سویرے المغزی کے علاقے میں ایک سات سالہ لڑکی مسک الدالو کو گولی ماردی اور کچھ ہی دیر بعد بیت لاہیہ میں ایک بچہ تعمر صبوح ان درندوں کا نشانہ بنا۔گویا ایک ہی دن میں دو معصوم بچوں کا خون بہہ گیا۔عینی شاہدین کے مطابق، دونوں بچوں کو قریب سے گولی ماری گئی۔ اس کے دو دن بعد نصیرات خیمہ بستی پر بمباری میں ایک، 21 اکتوبر کو غزہ شہر میں ایک اور پھر 25 اکتوبر کو مزید ایک فلسطینی اپنی جان سے گیا۔نام نہاد جنگ بندی کے باوجود غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام جاری ہے ۔
الخلیل میں فائرنگ کے بعد پورے غربِ اردن کی ناکہ بندی
غربِ اردن کے شہر الخلیل (ہبرون) میں 23 اکتوبر کو ایک فوجی چیک پوسٹ پر فائرنگ سے دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔ فوجی اعلامیے کے مطابق دونوں مبینہ حملہ آور مار دیے گئے لیکن تحقیق و تلاش کے نام پر سارا غرب اردن تادم تحریر محصور ہے اور اس ناکہ بندی یا لاک ڈاون کا حکم براہ راست وزیراعظم نیتن یاہو نے جاری کیا ہے۔ سڑکیں بند اور غیر اعلانیہ کرفیو لگاکر الخلیل میں فلسطینیوں کے مکانات کو منہدم کرنے کی مہم بھی جاری ہے۔
بھوک کا پھیلتا بحران اور اقوامِ متحدہ کے وسائل میں کمی
الجزیرہ کے مطابق، اقوامِ متحدہ کے عالمی غذائی پروگرام (WFP) نے فنڈز کی قلت کے باعث ستمبر سے غربِ اردن میں امداد حاصل کرنے والوں کی تعداد چار لاکھ سے گھٹا کر دو لاکھ کردی، جبکہ تقریباً نو لاکھ فلسطینی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ مسئلہ صرف خوراک کی کمی نہیں۔ گھر، روزگار اور معاش کے ذرائع سے محرومی نے بھی زندگی دشوار کردی ہے۔ اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے خاندان بے گھر ہوئے، آبادکاروں کے حملوں سے کھیتوں اور زیتون کے باغات کو نقصان پہنچا اور نقل و حرکت کی پابندیوں نے ہزاروں فلسطینی مزدوروں کے روزگار کو متاثر کیا۔
غزہ میں بھوک سے نڈھال بچوں کی تصویریں دیکھنے کی دنیا عادی ہوچکی ہے اور اب غربِ اردن میں بھی غذائی بحران سنگین صورت اختیار کررہا ہے۔ نقل و حرکت اور امدادی تنظیموں کے کام میں رکاوٹوں کی اطلاعات اپنی جگہ لیکن WFP نے حالیہ امدادی کٹوتی کی براہِ راست وجہ فنڈز کی کمی بتائی ہے۔ سوال یہ ہے کہ خطے کے مال دار عرب اور اسلامی ممالک ہنگامی بنیادوں پر آگے کیوں نہیں آتے؟ کیا وہ عالمی غذائی پروگرام اور دوسری امدادی تنظیموں کو اضافی وسائل فراہم کرکے امداد بحال نہیں کرواسکتے؟ فلسطینیوں کی حمایت کے اعلانات کرنے والی حکومتوں سے یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے۔ جب بے گھر خاندان روٹی خریدنے سے بھی محروم ہوں تو محض بیانات دینے کا کیا فائدہ؟
چار مسلم ممالک کا مشترکہ مؤقف اور عملی اقدامات کی ضرورت
اسی دوران استنبول میں سعودی عرب، ترکیہ، مصر اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ اسرائیلی قبضہ مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے عدم استحکام کا بنیادی سبب ہے۔ چاروں ممالک نے 1967ء سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور مشرقی بیت المقدس کو اس کا دارالحکومت بنانے کے مؤقف کا اعادہ کیا۔وزرائے خارجہ نے غربِ اردن اور مشرقی بیت المقدس میں اسرائیلی قبضہ بستیوں کی توسیع روکنے، آبادکاروں کے حملے بند کروانے، غزہ میں انسانی امداد کی بلاتعطل فراہمی اور تعمیرِ نو تیز کرنے پر بھی زور دیا۔ یہ مطالبات اہم اور قابل تحسین ہیں لیکن فلسطینیوں کو صرف ہمدردی کے الفاظ نہیں، خوراک، علاج، محفوظ پناہ گاہ اور اپنے گھروں کو واپس جانے کا حق بھی درکار ہے۔ عرب اور اسلامی ممالک کی سفارت کاری اسی وقت مؤثر ثابت ہوگی جب اس کے ساتھ انسانی امداد اور شہریوں کے تحفظ کے لئے ٹھوس اقدامات بھی دنیا کو نظر آئیں۔
زیتون کے بعد صبّار کے باغات بھی نشانے پر
غرب اردن اور جنوبی لبنان میں زیتون کے درخت اور باغات انتہاپسندوں کا خاص نشانہ ہیں۔ لیکن اب کانٹے دار صحرائی پودا ناگ پھنی (عربی نام صبّار) بھی ان فسادیوں سے محفوظ نہیں۔ فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق قبضہ گردوں نے الخلیل کے قصبے خِربۃ صوبا میں صبّار کے باغات پر کام کرنے والے فلسطینی مزدوروں کو حملہ کرکے زخمی کردیا۔اسرائیلی فوج نے ایمبولینس کو زخمیوں تک پہنچنے سے بھی روکا۔
صبّار محض ایک کانٹے دار پودا نہیں ہے، اس کے پھل خوراک اور تجارتی مصنوعات میں استعمال ہوتے ہیں، جبکہ اس کے بعض حصے مویشیوں کے چارے کے کام آتے ہیں۔ اس کی کاشت دیہی آبادی کے لیے آمدنی اور روزگار کا اہم ذریعہ ہے۔
صبّار: آبائی زمین اور فلسطینی شناخت کی علامت
فلسطینی معاشرے میں صبّار کی اہمیت معاشی فوائد سے کہیں آگے ہے۔ یہ دیہی زندگی، آبائی زمین اور ثابت قدمی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ گھروں اور کھیتوں کی حدبندی کے لیے صبّار کی کانٹے دار باڑھیں لگائی جاتی ہیں۔ بعض مقامات پر آج بھی یہ پودے ان زمینوں کی یاد دلاتے ہیں جن سے فلسطینی خاندان بے دخل ہوئے یا جن سے ان کا روایتی تعلق چھن گیا۔ اسی تاریخی پس منظر میں صبّار فلسطینیوں کی اپنے وطن سے وابستگی اور واپسی کی امید کی علامت بھی بن گیا ہے۔ زیتون ہو یا صبّار، فلسطینیوں کی زمین اور اس سے وابستہ معاش ان کی زندگی اور شناخت کا حصہ ہیں جنہیں مٹانے کی منظم کوششیں کی جارہی ہیں۔
اسرائیلی انتخابات: ’’یمین یا فلسطین‘‘ کا نعرہ
جب قارئین یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے تو ممکن ہے اس وقت تک اسرائیلی انتخابات کے نتائج سامنے آچکے ہوں۔ ان انتخابات میں فلسطین، حکم راں و حزب اختلاف دونوں کا انتخابی نکتہ بنا ہوا ہے۔ غزہ اور غربِ اردن کی مکمل تباہی کے باوجود فلسطینی ریاست اسرائیلی رہنماوں کے سر پر سوار ہے اور اسے سیاسی خوف اور مخالفت کے تناظر میں پیش کیا جارہا ہے۔
نیتن یاہو کی انتخابی مہم کا نمایاں نعرہ ’’یمین یا فلسطین‘‘، یعنی ’’دائیں بازو یا فلسطین‘‘ ہے۔ عربی کی طرح عبرانی میں بھی دائیں کو یمین کہتے ہیں۔اس نعرے کے ذریعے فلسطینی ریاست کے قیام کو دائیں بازو کے اقتدار کے مقابل ایک خطرے کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ انتخابی جائزوں کے مطابق، فلسطین کا سوال ووٹروں کو متحرک کرنے اور سیاسی مخالفین کو گھیرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ بن چکا ہے۔
نوجوان نسل اور فلسطین مخالف سیاست
دنیا بھر نوجوان نسل جسے عموماً جنریشن-زی (Gen-Z) کہا جاتا ہے، انتہاپسندی کے بجائے انصاف، مساوات، شہری حقوق اور مذہبی رواداری کے لیے آواز اٹھا رہی ہے لیکن حالیہ جائزے کے مطابق اسرائیلیGen-Z فلسطینیوں سے شدید نفرت میں مبتلا ہیں۔ چنانچہ نیتن یاہو اور ان کے مذہبی اتحادیوں نے آنے والے انتخابات میں ساری توقعات اپنے نوجوانوں سے باندھ رکھی ہیں۔ اسی لیے 'یمین یمین نہ کہ فلسطین' اسرائیل میں مقبول انتخابی نعرہ ہے
ٹرمپ کی حمایت اور مذہبی شناخت کا سوال
اسرائیلی انتخابات سے چند روز پہلے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کی کھل کر حمایت کی۔ اپنے بیان میں انہوں نے ان کو ’’عظیم جنگجو وزیراعظم‘‘ اور ایران کے خلاف جنگ میں ’’امن کا اس سے بھی بڑا شراکت دار‘‘ قرار دیا۔ ٹرمپ نے یہ تاثر بھی دیا کہ نیتن یاہو کے سوا کوئی اور رہنما اسرائیل کی قیادت کرے تو ایران کے خلاف کارروائی کی ذمہ داری امریکہ کو خود اٹھانی پڑسکتی ہے۔ قطع نظر اس بات سے کہ دوسرے ملک کے انتخابات میں امریکی صدر کی جانب سے کسی امیدوار کی حمائت کو ذاتی دوستی کا اظہار سمجھا جائے یا انتخابی عمل میں بیرونی مداخلت، بیان میں ٹرمپ کی زبان کا پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ ایران کے خلاف بات کرتے ہوئے وہ بار بار اسے 'اسلامک' ریپبلک آف ایران کہتے ہیں حالانکہ عام گفتگو میں اکثر ممالک کو ان کے معروف مختصر ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ جب یہ نام ایران کو فوجی دشمن کے طور پر پیش کرنے، اسلامی شناخت کو نمایاں کرنے اور مسلمانوں سے متعلق تضحیک آمیز بیانات کے ساتھ استعمال ہو تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ ایرانی حکومت پر تنقید کے ساتھ مذہبی شناخت کو بھی عوامی ردعمل بھڑکانے کے لیے نمایاں کیا جارہا ہے۔ مشی گن میں سینیٹ کے لیے مسلمان امیدوار عبدالسید کے معاملے میں ٹرمپ کا رویہ اس بحث کو مزید اہم بناتا ہے۔ انہوں نے عبدل کو بار بار ’’محمد‘‘ کہہ کر پکارا، حالانکہ وہ عبدالسید کے نام سے معروف ہیں اور کہا کہ وہ انہیں اپنی مرضی سے پکار سکتے ہیں۔یہ دراصل مسلمان شناخت کا مذاق اڑانے اور مذہبی تعصب کو سیاسی مہم میں استعمال کرنے کے مترادف ہے۔
غزہ کے بچوں کی ہلاکتیں، غربِ اردن میں بھوک اور بے گھری، زیتون اور صبّار کے باغات پر حملے اور انتخابی مہم میں فلسطینی ریاست کی مخالفت کو محض علاقائی کشیدگی کا شاخسانہ قرار دے کر نظر اندز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر مسلم حکومتیں فلسطینیوں کی پشت پناہ ہیں تو انہیں مذمتی بیانات سے آگے بڑھ کر ان کے تحفظ، انسانی امداد کی فراہمی، قبضے کے خاتمے اور منصفانہ سیاسی حل کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ تل ابیب کو بھی یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ فلسطینیوں کی زمین اور شناخت مٹانے کی کوششوں سے اسرائیل مضبوط ومحفوظ نہیں ہوگا۔ استحکام اور اطمینان و خوشحالی کا راستہ انصاف اور حقوق کے احترام سے ہی نکل سکتا ہے
(مسعود ابدالی سینئر کالم نگار ہیں۔ عالم اسلام اور بالخصوص مشرق وسطیٰ کی صورت حال کا تجزیہ آپ کا خصوصی میدان ہے)
masood_abdali@hotmail.com