E1 منصوبہ: فلسطینی علاقوں کا جغرافیائی ربط توڑنے کی اسرائیلی کوشش

مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں جنگ کے محاذ، سفارتی کشمکش، انسانی بحران اور عالمی سیاست ایک دوسرے میں گتھم گتھا ہوچکے ہیں۔ اسرائیل کی عسکری کارروائیوں نے نہ صرف جغرافیائی دائرہ وسیع کیا ہے بلکہ خطے کی سیاسی بساط پر بھی نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ شام سے غزہ، غربِ اردن سے امریکی سیاست تک، ہر جگہ اس جنگ کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔
اسرائیل نے اس ہفتے جنگ کے دائرے کو لبنان، غزہ و غربِ اردن سے بڑھا کر شام تک توسیع دے دی اور 18 اگست کو شمالی شام میں ادلب کے ابوالظہور فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ترکیہ وہاں اپنی افواج تعینات کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔ وزیراعظم نیتن یاہو نے ترک صدر کو ڈکٹیٹر قرار دیتے ہوئے کہا کہ شام میں ترک فوج کی موجودگی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ تاہم اس جواز کو خود امریکہ نے بھی مسترد کردیا۔ شام و عراق کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی ٹام باراک نے اسے ’’غیر ضروری اشتعال انگیزی‘‘ قرار دیا۔ بطور آزاد ریاست، شام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے کسی بھی ملک سے دفاعی تعاون کرے۔ اگر ترکیہ اور شام کے درمیان فوجی تعاون پر اعتراض ہے بھی تو شامی سرزمین پر حملے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں۔ شام برسوں کی خانہ جنگی اور بیرونی مداخلت کے بعد استحکام کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان حالات میں اس کے خلاف جارحیت نہ صرف شام بلکہ پورے خطے کو مزید غیر مستحکم کرسکتی ہے۔ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ شام اب اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان نئی کشمکش کا ممکنہ میدان بنتا نظر آ رہا ہے۔
غزہ — بمباری، ڈرون حملے اور شہری نظم کا انہدام
بورڈ آف پیس کے اجلاس اور امریکی داماد اول جیرڈ کشنر کی اسرائیل و حماس قیادت سے ملاقاتوں کے باوجود غزہ پر بمباری اور ڈرون حملے جاری رہے۔ نصیرات خیمہ بستی اور غزہ شہر پر حملوں میں 10 فلسطینی جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔ غزہ کے ساحل پر خیمے میں بنے ریستوران کو ڈرون نے نشانہ بنایا جس میں 6 افراد جان سے گئے۔اس ہفتے اسرائیل نے پولیس چوکیاں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار، اسرائیل کا خاص ہدف رہے، جس سے واضح ہے کہ اسرائیل غزہ کے شہری نظم و نسق کو جان بوجھ کر مفلوج کر رہا ہے۔
غزہ کی روزمرہ زندگی — ایک لائٹر کی قیمت
غزہ کے لوگوں کی مشکلات کا اندازہ 46 سالہ رباب کے بیان سے ہوتا ہے۔ اس نے الجزیرہ کو بتایا کہ یہاں آگ جلانا بھی ایک ’’بڑا کام‘‘ ہے۔ درخت کاٹ کر لکڑیاں جمع کی جاتی ہیں، انہی پر کھانا بنتا ہے۔ مگر آگ جلانے کے لیے لائٹر چاہیے کیونکہ ماچس بھی ممنوعہ اشیا میں شامل ہے۔ کبھی ایک ڈالر میں تین لائٹر مل جاتے تھے، اب ایک لائٹر 30 ڈالر کا ہے۔ رباب نے اپنا پرانا لائٹر 12 ڈالر میں مرمت کروایا کیونکہ نیا خریدنے کی استطاعت نہیں تھی۔ اہلِ غزہ کی زندگی کی قیمت اور محرومی کی شدت سمجھنے کے لیے شاید یہ ایک لائٹر ہی کافی ہے۔
غزہ جنگ کے اثرات امریکی سیاست تک پہنچ گئے ہیں
غزہ میں جاری نسل کشی کے اثرات اب امریکی سیاست میں بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ امریکہ میں اسرائیل کی حمایت کو سیاسی اثاثہ سمجھا جاتا تھا، مگر مشیگن سے آنے والی خبر مختلف ہے۔ ریپبلکن امیدوار مائک روجرز اسرائیل کے پرجوش حامی ہیں، مگر ان کی ٹیم امریکہ اسرائیل سیاسی مجلس عمل یا AIPAC سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کی انتخابی مہم کے حق میں اشتہارات نہ چلائے۔ خدشہ ہے کہ AIPAC کی کھلی حمایت نومبر کے انتخابات میں فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ رجحان اگر مضبوط ہوا تو یہ صرف AIPAC کی حکمتِ عملی کی ناکامی نہیں بلکہ امریکی عوامی رائے میں اسرائیل اور غزہ جنگ کے بارے میں آنے والی بڑی تبدیلی کا اشارہ ہوگا۔ گویا غزہ میں بہنے والا blood امریکی ballot کو متاثر کر رہا ہے۔
غربِ اردن — بے دخلی، گرفتاری اور نئی سزائیں
غربِ اردن میں بے دخلی، گرفتاری اور حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے پھانسی گھاٹ کا سنگِ بنیاد رکھا جہاں فلسطینی قیدیوں کو تختہ دار پر لٹکایا جائے گا۔ وزیرِ اندرونی سلامتی بن گوئر نے کہا کہ تختہ دار کے سامنے 'مجرموں' کے اہلِ خانہ کے لیے خصوصی گیلری بنائی جائے گی تاکہ وہ اپنے پیاروں کو پھانسی پر تڑپتا دیکھ کر ’’عبرت‘‘ حاصل کریں۔
آبادکاروں کا تشدد — معاشی تباہی اور انسانی المیہ
اس ہفتے بن گوئر کی جانب سے آبادکاروں میں جدید اسلحے کی تقسیم کی تصاویر بھی سامنے آئیں۔ غربِ اردن کے علاقے سعر میں 17 سالہ کریم سند شلادیح کو اسرائیلی گارڈ نے گولی مار کر قتل کردیا۔ شمالی غربِ اردن میں قبضہ گردوں کے پتھراو سے 15 سالہ بچہ شدید زخمی ہوا۔ الخلیل میں آبادکاروں نے تعمیراتی پتھر کی کان کو آگ لگا دی۔ بھاری مشینری جل کر خاک ہوگئی، جس سے مقامی معاشی
سرگرمی طویل عرصے کے لیے مفلوج ہو سکتی ہے۔ یہ واقعہ محض ایک کان کو آگ لگانے کا نہیں بلکہ مقامی لوگوں کے معاشی قتل کی ایک شکل ہے۔
معذور فلسطینی پر تشدد — انسانیت کی شکست
ٹائمز آف اسرائیل نے جنوبی الخلیل کے علاقے مسافر یطا میں آبادکاروں کے حملے کا بصری تراشہ جاری کیا، جس میں ایک معمر و معذور فلسطینی سعید العمور کو دھاتی ڈنڈے سے پیٹا جا رہا ہے۔ سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ سعید ایک ٹانگ سے محروم اور اپنا دفاع کرنے سے قاصر تھا۔ یہ منظر دنیا کی خاموشی اور ہومیوپیتھک ردِعمل کی عکاسی کرتا ہے۔
یورپی یونین کا ’عندیہ‘ — عملی اقدام کب؟
فلسطینیوں کے خلاف مسلسل تشدد کی ایک بڑی وجہ عالمی برادری کا وہ کمزور اور سست ردِعمل بھی ہے جو اکثر مذمت اور تشویش کے بیانات سے آگے نہیں بڑھتا۔ غربِ اردن کے متنازع E1 علاقے میں نئی اسرائیلی آبادکاری کے لیے ٹینڈرز جاری ہونے کے بعد یورپی یونین نے سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف ممکنہ پابندیوں کا عندیہ دیا ہے۔
یہ محض ایک نئی آبادکاری کا منصوبہ نہیں۔ یہ وہ جغرافیائی مقام ہے جو مشرقی یروشلم اور غربِ اردن کے درمیان واقع ہے۔ یہاں بڑے پیمانے پر آبادکاری مغربی کنارے کے شمالی اور جنوبی حصوں کے درمیان جغرافیائی رابطہ ختم کر دے گی، جس سے ایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست کا قیام مزید مشکل ہو جائے گا۔
سوال یہ ہے کہ کیا یورپ کی مذمت عملی اقدام میں بھی تبدیل ہوگی؟ جب فلسطینی زمین پر تعمیراتی منصوبے آگے بڑھتے رہیں اور عالمی طاقتیں تشویش اور مذمت سے آگے نہ بڑھیں تو ایسی سفارت کاری کی حیثیت محض اخلاقی بیان سے زیادہ نہیں رہتی۔ اسرائیل اصل دباؤ اس وقت محسوس کرے گا جب مذمت کے ساتھ کوئی حقیقی اقتصادی قیمت بھی وابستہ ہو۔
اسرائیلی سیاست — جمہوریت اور عدم برداشت
ترک صدر طیب رجب ایردوان کو ڈکٹیٹر کہتے ہوئے وزیر اعظم نیتن یاہو نے اسرائیل کو مشرق وسطیٰ اکلوتی جمہوریت قرار دیا لیکن اس جمہوریت میں عدم برداشت کا یہ عالم کہ انتخابی مہم کے دوران پارٹی اجلاس میں اخوانی فکر سے وابستہ رعم پارٹی کے قائد منصور عباس نے کہا کہ فلسطینی ریاست ایک حقیقت ہے جسے جتنی جلد تسلیم کرلیا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔ منصور صاحب کے اس بیان پر حکم راں اور حزب اختلاف دونوں مشتعل ہیں، نیتن یاہو نے کہا کہ اخوان المسلمون کا گھناونا چہرہ سامنے آگیا ہے، جب تک میں وزیر اعظم ہوں ایران کے زیر اثر فلسطینی ریاست کبھی قائم نہیں ہوگی۔حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت Yashar پارٹی کے سربراہ آئزن کاٹ نے بھی اس پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ ان کی جماعت کسی قیمت پر فلسطینی ریاست قائم نہیں ہونے دے گی۔ انتہاپسند جماعتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ رعم پارٹی پر پابندی لگا گر اس کا نام بیلٹ سے حذف کیا جائے۔ یہ صورتِ حال اسرائیلی جمہوریت کے ایک بنیادی تضاد کو نمایاں کرتی ہے: انتخابی سیاست میں عرب شہریوں اور عرب سیاسی جماعتوں کی شرکت تو موجود ہے مگر فلسطینی ریاست کی بات اسرائیلی سیاسی دھارے کا بڑا حصہ سننے کے لیے بھی تیار نہیں ہے۔
اسرائیل کے اندر سے ضمیر کی آواز
اس تاریک منظر نامے میں ایک نسبتاً امید افزا پہلو یہ ہے کہ اسرائیل کے اندر بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو فلسطینیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر آواز بلند کررہے ہیں۔چند باضمیر سیاسی کارکنوں نے 19 اگست کو تل ابیب میں احتجاج کرتے ہوئے اپنے جسموں پر مصنوعی خون لگایا اور ایسے نعروں والے پلے کارڈ اٹھائے جن میں غزہ کی تباہی اور غربِ اردن میں فلسطینیوں کی بے دخلی کو ریاستی پالیسی قرار دیا گیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ محض انفرادی غلطیاں نہیں بلکہ ایک پالیسی کا حصہ ہے۔امریکی شہری حقوق کے معروف رہنما ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کا مشہور قول ہے ’’کہیں بھی ہونے والی ناانصافی، ہر جگہ انصاف کے لیے خطرہ ہے‘‘ یہی اصول فلسطین پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ منظرنامے میں ایک عجیب تضاد نمایاں ہے۔ ایک طرف امن کے منصوبے، مذاکرات، خصوصی ایلچی، سربراہانِ حکومت کی ملاقاتیں اور سفارتی کوششیں جاری ہیں؛ دوسری طرف بمباری، آبادکاری، بے دخلی، گرفتاری، تشدد اور معاشی تباہی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ گویا سفارت کاری کی زبان امن کی بات کر رہی ہے، مگر زمین پر طاقت کی زبان فیصلہ سنا رہی ہے۔ دنیا اگر فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی پر خاموش رہی تو یہی خاموشی کل کسی اور قوم کے لیے ظلم کا راستہ ہموار کرے گی۔ ظلم کی اصل قوت ظالم نہیں، مظلوموں کی بے بسی پر دنیا کی خاموشی ہے۔
(مسعود ابدالی سینئر کالم نگار ہیں۔ عالم اسلام اور بالخصوص مشرق وسطیٰ کی صورت حال کا تجزیہ آپ کا خصوصی میدان ہے)
masood_abdali@hotmail.com