لبنان، غربِ اردن اور غزہ اس ہفتے بھی مسلسل بمباری، میزائل حملوں، فائرنگ، قبضہ گردی اور فوجی کارروائیوں کی لپیٹ میں رہے۔ جنوبی لبنان کے قصبے مفدون پر حملے میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد افراد جاں بحق ہوئے۔ فلسطینی علاقوں میں گھروں، کھیتوں، مویشیوں اور زیتون کی فصلوں پر حملے معمول بنتے جا رہے ہیں۔ یہ واقعات کسی ایک دن یا ایک محاذ کی کہانی نہیں بلکہ ایک پوری قوم کے خلاف جاری مسلسل تشدد کا نقشہ ہے، جسے دنیا دیکھ تو رہی ہے مگر روک نہیں پا رہی ہے۔
غزہ کی ’’رضاکارانہ ہجرت‘‘ ایک نیا بیانیہ
غزہ سے فلسطینیوں کا انخلا اب اسرائیل کا قومی بیانیہ بنتا جا رہا ہے۔ قومی سلامتی کے وزیر اتامر بن گوئر نے غزہ کی تقریباً پوری آبادی کو ’رضاکارانہ ہجرت‘ کے ذریعے سات برس کے اندر بیرونِ ملک منتقل کرنے کا منصوبہ پیش کر دیا ہے۔ منصوبے میں سفر، رہائش، پیشہ ورانہ تربیت اور 24 ماہ تک مالی معاونت شامل ہے۔ فلسطینیوں کو آباد کرنے والے ممالک کو بھی فی فرد ادائیگی کی تجویز ہے۔ اس منصوبے کے لیے ابتدائی طور پر 3 ارب ڈالر اور بعد میں 15.2 ارب ڈالر تک ’’مطابقتی اعانت‘‘ (Matching Fund)کی پیشکش کی گئی ہے۔
جبری بے دخلی کو ہجرت نہیں کہا جاسکتا
وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز بھی کہہ چکے ہیں کہ غزہ کا ’’حقیقی حل‘‘ فلسطینیوں کی ہجرت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جس سرزمین پر بمباری، محاصرہ، تباہی اور مسلسل بے گھری کے ذریعے زندگی ناقابلِ برداشت بنا دی جائے، وہاں سے جانے کو ’’رضاکارانہ‘‘ کیسے کہا جا سکتا ہے؟ کسی قوم کو اس کی سر زمین سے اجتماعی طور پر بے دخل کرنا بین الاقوامی قانون کے تحت سنگین جرم ہے۔ اگر یہ عمل نسلی شناخت کی بنیاد پر ہو تو اسے ’’نسلی تطہیر‘‘ کے سوا کوئی اور نام نہیں دیا جا سکتا۔ اہم سوال یہ نہیں کہ فلسطینی کہاں جائیں گے، بلکہ یہ ہے کہ کیا دنیا کسی قوم کو اس کی اپنی سر زمین سے نکالنے کے منصوبے کو محض ’’ہجرت‘‘ کے خوبصورت نام پر قبول کرلے گی؟ غزہ خالی کرانا ’’ہجرت‘‘ نہیں، فلسطینیوں کے حقِ وطن کا خاتمہ ہوگا۔
غربِ اردن ، عبادت گاہیں، گھر اور کھیت سب نشانہ
اس ہفتے نابلوس قبضہ گروں کا خاص ہدف رہا۔ مداما میں تاریخی جامع مسجد نورالدین زنگی کو آگ لگا دی گئی۔ آگ بجھانے کی کوشش کرنے والے فلسطینیوں کو پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا، جبکہ مسجد میں محصور نمازی آنسو گیس کے شیلوں سے زخمی ہوئے۔ بزاریا کی مسجد بھی نذرِ آتش کردی گئی اور جاتے جاتے دیواروں پر عبرانی میں ’’انتقام‘‘ لکھ دیا گیا۔ معلوم نہتے فلسطینیوں پر حملہ کرکے مسلح آباد کار کس سے اور کس بات کا انتقام لے رہے ہیں؟
دیہات اور کھیت ، زندگی کی کمائی خاکستر
جنوبی نابلوس کے گاؤں اوصرین میں کئی مکانات جلا دیے گئے۔ عسکر میں فوجی کارروائی کے دوران متعدد نوجوان گرفتار ہوئے۔ قصٰری میں ایک فلسطینی خاندان کے گھر پر قبضہ کرکے آباد کاروں نے بالکونی میں خود گرفتہ تصویر (selfie) بنائی اور اسے فخریہ انداز میں سوشل میڈیا پر نشر کیا۔ ایک اور گاؤں میں کاشتکاروں کو گھروں سے نکال کر عارضی حراست کدے میں بند کیا گیا، جس کے بعد ان کی زیتون کی کھڑی فصلوں پر بلڈوزر پھیر دیے گئے اور جالیوں کے پیچھے کھڑے یہ کسان اپنی زندگی بھر کی کمائی کو مٹی ہوتا دیکھتے رہے۔
رملہ ، سڑکوں پر حملے، ایک نوجوان کو چلتی گاڑی سے باہر پھینک دیا گیا
رملہ کے علاقوں المغیر اور ابوالفلاح میں کاروں پر حملوں میں تین سگے بھائیوں سمیت متعدد فلسطینی زخمی ہوئے۔ اسی علاقے میں ایک گرفتار نوجوان کو چلتی فوجی گاڑی سے باہر پھینک دیا گیا۔ اس درندگی کا بصری تراشہ ٹائمز آف اسرائیل نے جاری کیا۔
امریکی تشویش ، مگر عملی اقدام؟
اسرائیل میں امریکی سفیر مائک ہکابی نے رملہ میں قبضہ گروں کے ہاتھوں تباہ شدہ گھروں اور باغات کا جائزہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ہونی چاہیے‘‘۔ یادش بغیر تحریک پاکستان کے دوران مسلم کش فسادات کے بعد گاندھی جی بھی متاثرہ علاقے کا دورہ کرتے ہوئے مسلمانوں سے تعزیت کے ساتھ اسی طرح تشویش کا اظہار کرتے تھے۔
اسرائیل میں داخلی بحران ، فوجی بھرتی سے استثنیٰ کا مطالبہ
فلسطینیوں کے خلاف امتیازی روئے کے ساتھ اسرائیل میں ایک اور تنازع شدت اختیار کر رہا ہے اور وہ ہے حفظِ توریت مدارس (یشیوا) کے طلبا کو لازمی فوجی بھرتی سے استثنیٰ۔ تل ابیب میں فوجی بھرتی مرکز کے باہر حریدی طلبا اور ربائیوں نے مظاہرہ کیا۔ ان کے پلے کارڈ پر لکھا تھا: ’’فوج میں بھرتی سے بہتر تھا ہم ہولوکاسٹ میں یہودی کی حیثیت سے مر جاتے۔‘‘ اسی ہفتے حریدی علما کا ایک وفد واشنگٹن میں صدر ٹرمپ سے ملا اور اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالنے کی درخواست کی تاکہ استثنیٰ برقرار رکھا جائے۔
امریکی سیاست ، اسرائیل کے بائیکاٹ پر پابندی کا بل
امریکی ایوانِ نمائندگان نے 3؍ ستمبر کو ایک بل منظور کیا ہے جس کے تحت اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے والی جامعات کی وفاقی اعانت بند کی جاسکے گی۔ قرارداد 169 کے مقابلے میں 237 ووٹوں سے منظور ہوئی، جن میں ڈیموکریٹک پارٹی کے 33 ارکان بھی شامل تھے۔ یہ بل تعلیمی آزادی اور امریکی آئین کی پہلی ترمیم سے متصادم ہے۔ اس قانون کے بعد جامعات کے بجائے واشنگٹن یہ فیصلہ کرے گا کہ وقف رقوم کی سرمایہ کاری کس ملک میں کی جائے۔ بل اب سینیٹ میں پیش ہوگا جہاں سے اس کی منظوری یقینی دکھائی دیتی ہے۔
رعم پارٹی کا فیصلہ: سیاسی پل کی تعمیر
انتہا پسندانہ ماحول کے باوجود اخوانی فکر سے وابستہ اسرائیل کی رعم (Ra’am) پارٹی نے یہودی سیاسی رہنما اور سابق رکنِ پارلیمنٹ یوآو سیگالووِٹز کو آئندہ انتخابات کے لیے ٹکٹ جاری کیا ہے۔ اسرائیل میں کنیسہ (پارلیمنٹ) کے انتخابات متناسب نمائندگی (Proportional Representation) کے نظام کے تحت ہوتے ہیں۔ ووٹر کسی امیدوار کو براہِ راست منتخب کرنے کے بجائے جماعت کو ووٹ دیتے ہیں۔ یاوو سیگو کووٹز کا نام رعم کی فہرست میں منصور عباس کے بعد دوسرے نمبر پر ہوگا۔ کسی جماعت کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہونا محض علامتی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ پارلیمنٹ تک پہنچنے کا مضبوط راستہ ہے۔ منصور عباس کافی عرصے سے ایسی سیاست کی بات کر رہے ہیں جس میں عرب اور یہودی شہریوں کے مشترکہ مسائل، مساوی شہری حقوق اور سیاسی شراکت کو مذہبی و قومی تقسیم پر ترجیح دی جائے۔ سیگالووِٹز نے بھی عرب و یہودی شہریوں کے درمیان سیاسی پل تعمیر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ شاید یہی وہ راستہ ہے جس سے بڑھتی ہوئی مذہبی منافرت اور انتہاپسندی کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ ایک طرف اسرائیل میں مذہبی، قومی و سیاسی تقسیم گہری ہوتی جارہی ہے، آباد کاروں کا تشدد بڑھ رہا ہے اور غزہ کے فلسطینیوں کو باہر منتقل کرنے کی تجاویز سامنے آرہی ہیں، دوسری طرف اسی اسرائیل میں ایک عرب جماعت، یہودی سیاست دانوں کو اپنی صفِ اول میں شامل کر رہی ہے۔
فلسطین میں جاری تشدد، غزہ سے آبادی کے انخلا کی تجاویز، مسجدوں پر حملے، گھروں اور کھیتوں کی تباہی اور امریکی جامعات پر اسرائیل کے بائیکاٹ کے حوالے سے قانون سازی،یہ سب ایک ایسی سیاسی فضا کی عکاسی کرتے ہیں جس میں اختلاف بتدریج دشمنی اور دشمنی تشدد میں تبدیل ہو رہی ہے۔ لیکن اسی ماحول میں منصور عباس اور یوآو سیگالووِٹز کا سیاسی اشتراک ایک مختلف امکان کا راستہ ہموار کر رہا ہے۔ مذہبی شناخت کو سیاسی دیوار بنانے کے بجائے عدل، مساوات، شہری حقوق، امن اور انسانی وقار کے لیے مشترکہ میدان تلاش کرنا سب سے مشکل کام لیکن اس خطے کی اہم ترین سیاسی ضرورت ہے۔
(مسعود ابدالی سینئر کالم نگار ہیں۔ عالم اسلام اور بالخصوص مشرق وسطیٰ کی صورت حال کا تجزیہ آپ کا خصوصی میدان ہے)
masood_abdali@hotmail.com
غزہ سے ’’ہجرت‘‘ یا جبری بے دخلی؟

مقبوضہ فلسطین میں قبضہ گردوں کا تشدداور اسرائیل کی بدلتی سیاست

