غزہ پر مسلط جنگ کے تین سال مکمل ہونے کے تین دن بعد 10؍ اکتوبر کو جنگ بندی کی پہلی برسی اسرائیلی فوج نے ایک بچے سمیت کم از کم سات افراد کو قتل کرکے منائی۔ یہاں تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کے ساتھ پانی کی شدید قلت بھی انسانی المیے کو بڑھا رہی ہے۔ بار بار کی نقل مکانی میں پانی ذخیرہ کرنے کے ڈرم اور بڑے برتن ضائع ہوچکے ہیں؛ بہت سے خاندان بالٹیوں میں پانی جمع کرنے پر مجبور ہیں۔ پانی کے ٹرکوں کے قریب خیمے لگانا، پانی ڈھونے سے آسان ہوچکا ہے۔ یوں بے گھر خاندان پانی کی دستیابی کے ساتھ اپنی عارضی پناہ گاہیں بھی بدلتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اہلِ غزہ کی مہاجرت کا المیہ 1948ء سے جاری ہے۔
سات اکتوبر: ہینی بال حکم نامے کا سوال
سات اکتوبر 2023ء کے واقعات کی تیسری برسی پر ایک اہم سوال زیرِ بحث ہے کہ اسرائیلی شہریوں کی ہلاکتوں میں فوجی کارروائیوں کا کیا کردار تھا؟ اقوام متحدہ تحقیقاتی کمیشن کے مطابق اس روز 809 اسرائیلی شہری ہلاک ہونے۔ اسی رپورٹ میں ہینی بال حکم نامے (Hannibal Directive) کے ممکنہ استعمال کے شواہد بھی درج ہیں۔ یہ حکم نامہ اغوا کی کوشش ناکام بنانے کے لیے ایسی فوجی کارروائیوں سے متعلق ہے جن میں مغوی کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ کمیشن نے ایک اسرائیلی ٹینک کے عملے کے بیان سمیت ایسے واقعات کا ذکر کیا جن میں فوجی کارروائی سے یرغمال بنائے گئے اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت کا امکان سامنے آیا ہے۔ اگر حماس کے حملے میں 809 شہری مارے گئے تو اسرائیلی دعوے کے مطابق جو ہزاروں لوگ مارے گئے، کیا وہ اسرائیلی فوج کی Hannibal حکمت عملی کا نشانہ بنے؟ان شواہد کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
غربِ اردن: بے دخلی اور قبضہ گردوں کے حملے
غربِ اردن میں فلسطینی خاندانوں کی بے دخلی، اسرائیلی فوج کی موجودگی یا سرپرستی میں قبضہ گردوں کے حملے، فصلوں کی تباہی اور مویشیوں پر قبضے کا سلسلہ جاری ہے۔ رملہ کے گاوں دیر ابو مشعل میں بہت سے فلسطینی خاندانوں کو بے گھر کر دیا گیا ہے۔ رملہ کے ایک اور گاوں دیر نظام میں اسرائیلی آبادکاروں نے گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ شمالی یروشلم کے قریب جبع نامی گاوں میں بھی فلسطینیوں کے مکانات منہدم اور گاڑیاں نذرِ آتش کردی گئیں۔ نابلوس کے گاوں برقہ میں مسلح قبضہ گردوں نے فوج کی سرپرستی میں 44 سالہ علی البزاری کو اس کے بچے کے سامنے قتل کر دیا۔ ایسے واقعات صرف ایک خاندان کو نہیں اجاڑتے بلکہ بچوں کے ذہنوں پر بھی گہرے اور دیرپا اثرات چھوڑتے ہیں۔
زیتون کے باغات: شناخت کو مٹانے کا خطرہ
غرب اردن میں زیتون کی فصلوں اور باغات کی تباہی کا منظم سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے۔ انتہا پسندوں کے خیال میں زیتون، فلسطین کی شناخت ہے جس کو مٹانا نسلی تطہیر کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ اب زیتون سے نفرت کا دائرہ جنوبی لبنان تک وسیع کر دیا گیا ہے۔ زیتون کی کاشت کے لیے مشہور جنوبی لبنان کے علاقے خیام میں گزشتہ چند ماہ کے دوران چوبیس کروڑ ڈالر مالیت کی فصلیں غارت کردی گئیں اور 11؍ اکتوبر کو اسی علاقے میں بنتِ جبیل کے گاوں فرون اور یاطر پر زیتون کی کٹانی کے دوران اسرائیلی ٹینکوں سے گولہ باری نے دو افراد کی جان لے لی۔
جب مسیحا ہی زخم دینے والوں کے ساتھی بن جائیں
اسرائیلی حراستی مرکز سدی تیمان (Sde Teiman) میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ مبینہ تشدد، بدسلوکی اور طبی غفلت کے معاملے پر ہند رجب فاؤنڈیشن نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے مستغیث (پراسیکیوٹر) سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ فاؤنڈیشن کی درخواست میں اسرائیلی ڈاکٹروں، طبی اداروں اور متعلقہ حکام کے کردار کی جانچ کی استدعا کی گئی ہے۔ اس میں علاج کے دوران ہتھکڑیاں اور آنکھوں پر پٹی باندھنے، درد کش ادویات کے بغیر جراحی اور طبی نگرانی میں مبینہ بدسلوکی جیسے الزامات شامل ہیں۔
فاونڈیشن نے نام لے کر اسرائیلی میڈیکل ایسوسی ایشن کے سربراہ پروفیسر زائن ہیگے (Zion Haggay) کو نامزد کیا اور عالمی میڈیکل فاونڈیشن (WMA) سے مطالبہ کیا ہے کہ IMA کی رکنیت معطل کر کے اس کے وفد کو ڈاکٹروں کے عالمی کنونشن سے نکالا جائے۔ یہ اجلاس اجکل ہالینڈ کے شہر روٹیرڈیم میں ہو رہا ہے۔ معاملہ صرف فلسطینی قیدیوں کے ساتھ مبینہ سلوک کا نہیں بلکہ یہ اس بنیادی اصول کا امتحان ہے کہ طب کا پیشہ تشدد کا سہولت کار نہیں، انسانیت کا محافظ ہونا چاہیے۔ اگر مسیحا ہی زخم دینے والوں کے ساتھی بن جائیں تو مظلوم، مرہم کے لیے کس دروازے پر دستک دے؟
امریکی سفارت کاری: کیا واشنگٹن تک مکمل حقائق پہنچ رہے ہیں؟
مسیحاوں کے ساتھ سفارتکار بھی امتیازی سلوک میں سہولت کار بنتے نظر آرہے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق یروشلم کے امریکی سفارتخانے میں اسرائیلی اقدامات سے متعلق تیار کی جانے والی بعض رپورٹوں کو ڈیوڈ ملسٹین (David Milistein) نامی ایک اعلیٰ امریکی سفارتی معاون نے روک دیا، تبدیل کیا یا اس انداز میں دوبارہ لکھا کہ اسرائیلی حکومت زیادہ مثبت دکھائی دے۔ حتیٰ کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں میں غیر معمولی توسیع سے متعلق ایک ہنگامی رپورٹ واشنگٹن بھیجی ہی نہیں گئی۔ ایک اور معاملے میں امریکی سفارتخانے کے عملے نے فلسطینی نژاد امریکی شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق تفصیلی رپورٹ تیار کی لیکن ملسٹین صاحب نے اسے بھی آگے بڑھنے سے روک دیا۔ سفارتی اہلکار کی جانب سے اہم معلومات کو امریکی فیصلہ سازوں تک پہنچنے سے روکنا محض رپورٹ نویسی کا معاملہ نہیں، اس سے خارجہ پالیسی کی تشکیل اور سرکاری معلومات کی دیانت داری متاثر ہوسکتی ہے۔ امریکی عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کے نام پر فیصلے کرتے وقت فیصلہ سازوں کو مکمل حقائق فراہم کیے جا رہے ہیں یا نہیں۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت اور طاقتور ریاستوں کا رویہ
اس مہمل سفارتکاری کی وجہ امریکی وزارت خارجہ کا متعصبانہ رویہ ہے جس نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) پر وسیع پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام جنوبی افریقہ کی ممتاز قانون داں اور سابق جج ڈاکٹر نیوی پلّے کو نوبل امن انعام ملنے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔ پلّے اقوام متحدہ کے اس تحقیقاتی کمیشن کی سربراہ رہ چکی ہیں جس نے غزہ میں اسرائیلی اقدامات کو نسل کشی قرار دیا تھا۔ امریکہ اور اسرائیل نے ان الزامات اور عدالت کے اقدامات کی مخالفت کی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عدالت کو Rogue یعنی بدمعاش کورٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس کے ساتھ لین دین روک کر اس کے وسائل اور کام کرنے کی صلاحیت محدود کرے گا۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ امریکہ نے منشورِ روم کی توثیق نہیں کی اور وہ امریکی شہریوں، فوجیوں یا سیاسی رہنماؤں پر ایسی عدالت کا اختیار تسلیم نہیں کرتا۔ کسی عدالت کے فیصلے سے اختلاف کرنا ہر ایک کا حق ہے اور عدالت کے قانونی اختیار پر اعتراض بھی درست لیکن اگر ہر ریاست اپنی ناپسندیدہ تحقیقات یا فیصلے کے جواب میں عدالت کو معاشی دباؤ کے ذریعے مفلوج کرنے لگے تو بین الاقوامی انصاف کا نظام کس طرح کام کرے گا؟
یہودیت اور صیہونیت: ایک مذہبی رہنما کا اختلاف
اسرائیل کے ممتاز حریدی ربائی (امام) ڈوو لانڈو (Rabbi Dov Lando) نے کہا ہے کہ یہودیت اور صیہونیت کو ایک ہی چیز سمجھنا تاریخی اور مذہبی طور پر درست نہیں ہے۔ حریدی سیاسی جماعت Degel HaTorah کے روحانی رہنما، صیہونیت پر سخت تنقید کرتے ہوئے یہاں تک کہہ گئے کہ اگر اسرائیلی ریاست کے بجائے یہاں اقوام متحدہ یا عرب حکم رانی ہوتی تو حالات بہتر ہوسکتے تھے۔ ربائی صاحب نے دو ٹوک اندااز میں کہا ’’صیہونیت نے ہمیں عربوں سے نفرت کرنا سکھایا‘‘ اور اس تحریک نے یہودی قوم پر ’’جسمانی تباہیاں‘‘ بھی مسلط کیں۔ اسرائیلی انتہا پسندوں نے یہودی مذہب اور صیہونی سیاست کو گڈ مڈ کر دیا ہے۔ حالانکہ یہودیت ایک مذہبی و تہذیبی شناخت اور صیہونیت ایک جدید سیاسی تحریک ہے۔ ہر یہودی، صیہونی ہے اور نہ ہر صیہونی لازماً یہودی۔ خود اسرائیل کے حریدی مذہبی حلقوں میں صیہونیت اور ریاست کے قیام کی مذہبی تعبیر سے اختلاف کی ایک طویل روایت موجود ہے۔ ربائی لانڈو کی موجودہ گفتگو میں بھی مذہبی صیہونیت سے ان کا اختلاف نمایاں ہے۔ انہوں نے اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دینے والے مذہبی صیہونی نوجوانوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ فوج کے ربائی انہیں ’’تحریف شدہ توریت‘‘ سکھاتے ہیں۔
غیر جانبدار علمائے سیاست ایک عرصے سے اسرائیل کو یہودی کے بجائے انتہا پسند و نسل پرست صیہونی ریاست کہہ رہے ہیں۔ اور اب یہودی ربائی نےخود یہ کہہ دیا کہ صیہونیت نے یہودیوں کے لیے جسمانی تباہیاں پیدا کیں اور عربوں کی دشمنی میں اضافہ کیا ہے۔ یعنی صیہونیت کو یہودیت کا مترادف قرار دینا خود یہودی مذہبی حلقوں کے ایک بڑے حصے کے مؤقف کی عکاسی نہیں کرتا اور اور شاید یہی اس بحث کا سب سے اہم پہلو ہے۔
فلسطینی انتخابات کا التوا
فلسطین کے پارلیمانی انتخابات ملتوی کر دیے گئے، قانون ساز اسمبلی کے لیے 28؍ نومبر کو ووٹ ڈالے جانے تھے۔ حکام نے غزہ کی غیر یقینی صورتِ حال، اسرائیلی فوج کی موجودگی، سلامتی کے مسائل اور انتخابی عمل کے لیے درکار انتظامات میں رکاوٹوں کو فیصلے کی وجوہ میں شمار کیا ہے۔ فلسطین میں آخری انتخابات 2006 میں ہوئے جس میں حماس نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل لیکن اسرائیل اور امریکہ کی شدید مخالفت کی بنا پر محمود عباس نے وزیر اعظم اسماعیل ہانیہ کی حکومت صرف پندرہ ماہ بعد معزول کرکے اسمبلی تحلیل کردی تھی۔ تقریباً دو دہائیوں سے نئے پارلیمانی انتخابات نہ ہونے کے باعث فلسطینی عوام کی جمہوری نمائندگی اور سیاسی جواب دہی معطل ہے۔ انتخابات کے مسلسل التوا نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
غزہ میں جنگ بندی کی برسی پر شہریوں کی ہلاکتیں، غربِ اردن میں بے دخلی اور حملے، قیدیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی، سفارتی رپورٹوں پر دباؤ اور بین الاقوامی عدالتوں کے اختیار پر تنازع ایک ہی بنیادی سوال کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کیا انسانی حقوق اور قانون کی حکم رانی کا اصول سب کے لیے یکساں ہے؟ جنگ بندی کا مقصد محض بمباری میں کمی نہیں بلکہ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی ضروریات کی فراہمی، ذمہ داروں کا احتساب اور ایک پائیدار سیاسی حل کی راہ ہموار کرنا بھی ہے۔ جب تک فلسطینیوں کو تحفظ، انصاف اور اپنی سیاسی تقدیر کے تعین کا حقیقی موقع نہیں ملتا، امن کے دعوے ادھورے رہیں گے۔
غزہ جنگ بندی کی پہلی برسی

طبی اخلاقیات ،سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کی آزمائش

