صدر ٹرمپ کے مطابق حماس، غزہ میں غیر مسلح ہونے پر آمادہ ہو گئی ہے۔ مزاحمت کاروں کے ترجمان نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ غزہ سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا سے مشروط ہے۔ اس سے قبل حماس یہ عندیہ بھی دے چکی ہے کہ وہ غزہ کے روز مرہ انتظامی امور کسی متفقہ فلسطینی انتظامیہ کے سپرد کرنے پر تیار ہے۔
سات اکتوبر 2023 کے حملے کو حماس نے کئی دہائیوں پر محیط قبضے اور ناکہ بندی کے خلاف مزاحمت کا تسلسل قرار دیتے ہوئے اسرائیلی جارحیت کا بھرپور مقابلہ کیا ہے۔ اس تاریخی اور پرعزم مزاحمت کی انسانی قیمت بھی غیر معمولی رہی یعنی 75 ہزار سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہوئے جن کی اکثریت خواتین اور معصوم بچوں پر مشتمل ہے۔ تین سال سے جاری اس جنگ میں اسرائیل نے وحشت و دہشت کا ہر حربہ استعمال کیا اور پورے غزہ کو کھنڈر بنا کر چھوڑا۔ ستم ظریفی کہ گزشتہ سال اکتوبر کی جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیل نے ہزاروں رہائشی عمارتیں با قاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تباہ کیں۔ عسکری کارروائیوں کے دوران اسکولوں، ہسپتالوں، آب پاشی و آب نوشی کے ذرائع اور شہری نوعیت کے بنیادی ڈھانچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا تاکہ علاقہ انسانی رہائش کے قابل ہی نہ رہے۔
جنگ کے آغاز ہی سے مختلف علاقائی اور عالمی قوتوں نے جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کی کوششیں شروع کیں۔ قطر، مصر اور امریکہ مسلسل سفارتی رابطوں میں رہے۔ گزشتہ برس "بورڈ آف پیس" کے عنوان سے سامنے آنے والے فریم ورک نے مستقل جنگ بندی، اسرائیلی افواج کے انخلا، یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے، اور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے ایک جامع راستہ تجویز کیا۔ اگرچہ اس منصوبے کی تمام تفصیلات پر فریقین میں مکمل اتفاق نہیں ہوسکا لیکن اس نے مذاکرات کو ایک واضح سمت ضرور فراہم کی۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے حماس کے غیر مسلح ہونے کا اعلان اس حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اگر غزہ کے انتظامی امور سے دستبرداری کے بعد غیر مسلح ہونے پر حماس کی آمادگی کو اس کے ظاہری معنوں میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ حماس کی حکمتِ عملی میں تبدیلی سے زیادہ جدوجہد کو زمینی حقائق سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش ہے۔ اسے شکست یا ہتھیار ڈالنے سے تعبیر کرنا درست نہیں ہوگا۔ حماس کا مؤقف ہے کہ اگر اسرائیلی افواج غزہ سے واپس چلی جائیں تو اسلحہ رکھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی اور تنظیم اپنی توانائیاں سیاسی عمل اور عوامی خدمت پر مرکوز کرے گی۔ اس دعوے کی عملی آزمائش یقیناً مستقبل ہی کرے گا، لیکن مذاکراتی عمل کے لیے یہ ایک اہم پیش رفت قرار دی جا سکتی ہے۔
اس مرحلے پر بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا اب امن کی گیند واقعی اسرائیل کے کورٹ میں ہے؟ اگر حماس سیاسی عمل، انتظامی دستبرداری اور مشروط غیر مسلح ہونے جیسے اقدامات پر آمادگی ظاہر کر رہی ہے تو اس کے بعد سب سے اہم ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوتی ہے کہ وہ غزہ سے فوجی انخلا کے بارے میں اپنا واضح اور قابلِ عمل لائحۂ عمل پیش کرے۔ اس حوالے سے اسرائیل کا ماضی انتہائی مایوس کن ہے۔ اسرائیل نے جنگوں کے بعد اپنے زیرِ قبضہ آنے والے علاقوں سے مکمل اور غیر مشروط انخلا کی روایت قائم نہیں کی۔ یہی تاریخی پس منظر فلسطینی قیادت اور عرب دنیا کے شکوک کو تقویت دیتا ہے۔ اسی تناظر میں جنگ بندی کے دوران پیش آنے والے واقعات بھی قابلِ توجہ ہیں۔ حماس نے معاہدے کے تحت یرغمالیوں اور ہلاک شدگان کی باقیات بر وقت اسرائیل کے حوالے کیں، جب کہ اسرائیل نے فوجی پیش قدمی روکنے اور انخلا کے وعدوں پر مکمل عمل نہیں کیا، حالاں کہ امن معاہدے میں تل ابیب سے یہی مطالبہ کیا گیا تھا۔
اس دوران انسانی بحران مزید سنگین ہوتا گیا۔ بین الاقوامی امدادی ادارے مسلسل خبر دار کرتے رہے کہ غزہ میں خوراک، ادویات اور بنیادی سہولیات کی شدید قلت ہے۔ غذائی تحفظ کے حوالے سے اقوام متحدہ کے اداروں نے بارہا بتایا کہ آبادی کا بڑا حصہ غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے، جبکہ صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے۔ جنگ کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ کی طرح عام شہریوں، خصوصاً بچوں اور خواتین نے اٹھایا ہے۔
اس تمام منظر نامے میں صدر ٹرمپ کی ذمہ داری معمولی نہیں۔ اگر امریکہ اس معاہدے کا ضامن اور سہولت کار ہے تو صرف اعلانات کافی نہیں ہیں بلکہ اسے غزہ سے فوری اور غیر مشروط فوجی انخلا کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالنا ہوگا۔ پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب جنگ بندی محض عارضی وقفہ نہ رہے بلکہ مستقل سیاسی حل کی بنیاد بن جائے۔ تاہم امریکہ میں انتہائی طاقت ور اسرائیلی ترغیب کار (Lobby) نیتن یاہو کی توسیع پسند سیاست کی پشتیبانی کے لیے سرگرم ہو چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ کو نومبر میں وسط مدتی انتخابات اور اس سے ایک ماہ پہلے نیتن یاہو کو قومی انتخابات کا سامنا ہے۔ اسرائیل میں حکم راں لیکوڈ پارٹی اور اس کے انتہا پسند اتحادیوں نے غزہ میں اسرائیلی بستیاں آباد کرنے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔
بہت سے ارکانِ پارلیمنٹ اور وزرا کھلے عام اس کی حمایت کر رہے ہیں۔ اگر یہ مطالبہ سرکاری پالیسی کی شکل اختیار کرتا ہے تو فوجی انخلا تو دور کی بات، غزہ پر مستقل قبضے اور نئی آبادکاری کا مرحلہ بھی اس کا حصہ بن جائے گا۔ آئندہ اسرائیلی انتخابات میں یہ نعرہ مذہبی اور قوم پرست ووٹروں کو متحرک کرنے کا مؤثر ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
غزہ کا بحران اب صرف ایک فوجی تنازع نہیں بلکہ عالمی ضمیر کا امتحان بن چکا ہے۔ اگر واقعی ایک ایسا مرحلہ آ پہنچا ہے جہاں بندوق کی جگہ سیاست لے سکتی ہے تو اس موقع کو ضائع کرنا پورے خطے کو ایک اور طویل جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق اپنے وعدوں کی پاسداری کریں، لیکن چونکہ عملی طاقت اور بین الاقوامی حمایت کا بڑا حصہ اسرائیل کے پاس ہے اس لیے دنیا کی نظریں اب زیادہ تر اسی پر مرکوز ہیں کہ آیا وہ اس موقع کو جنگ کے خاتمے میں بدلتا ہے یا ایک اور غیر یقینی دور کا آغاز کرتا ہے۔
(مسعود ابدالی سینئر کالم نگار ہیں۔ عالم اسلام اور بالخصوص مشرق وسطیٰ کی صورت حال کا تجزیہ آپ کا خصوصی میدان ہے)
masood_abdali@hotmail.com
غزہ، بورڈ آف پیس، حماس کی نئی حکمتِ عملی اور صدر ٹرمپ کی آزمائش

حماس کی مشروط غیر مسلح ہونے کی آمادگی نے مذاکرات کے لیے نئی راہ کھول دی، مگر پائیدار امن کا انحصار اسرائیلی انخلا اور عالمی ضمانتوں پر ہے

