قرض کا دوہرا پیمانہ: غریب کے لیے نیلامی، کارپوریٹ کے لیے نجات؟
این ایل سی ٹی کا فیصلہ: سیاسی وفاداری کی قیمت یا دیوالیہ پن کے قانون کی ناکامی؟
انصاف کی حکم رانی اور ملک کے ہر ایک شہری کے ساتھ یکساں سلوک کے خواب کا اس سے بڑھ کر بدترین مذاق کیا ہوسکتا ہے کہ جب ایک غریب کسان، چھوٹا کاروباری یا متوسط طبقے کا فرد ہوم لون، ایجوکیشن لون ادا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو بینک ان کے گھر، زمین اور اثاثے تک نیلام کر دیتا ہے، یہاں تک کہ کسانوں کو خودکشی پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔
نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے جاری کردہ سالانہ رپورٹس (Accidental Deaths & Suicides in India) کے مطابق ہر سال دس سے گیارہ ہزار کے درمیان کسان اور زرعی مزدور اقتصادی بحران اور قرض کے بوجھ کی وجہ سے اپنی جان گنوا دیتے ہیں۔ سال 2020 میں (COVID-19 اور لاک ڈاؤن کے دوران) تاریخ میں پہلی بار تاجروں اور چھوٹے کاروباریوں کی خودکشیوں کی تعداد 11,716 تک پہنچ گئی اور کسانوں کی خودکشیوں کی تعداد 10,677 سے تجاوز کر گئی تھی۔
اگرچہ ان تمام خودکشیوں کی وجہ صرف بینک اور مالی اداروں کا دباؤ نہیں تھا لیکن جان یونہی تو کوئی نہیں دیتا ہے۔ رپورٹ کہتی ہے کہ ان میں ستر فیصد سے زائد افراد چھوٹے دکاندار رکشا/ٹیکسی مالک، چھوٹے سپلائرز اور خوانچہ فروش تھے۔ این سی آر بی کے مطابق ان خودکشیوں کی بڑی وجہ دیوالیہ پن (Bankruptcy) قرض کی عدم ادائیگی (Debt Trap) اور بینکس/فائنانس کمپنیوں کی بدسلوکی اور مقامی سود خوروں کا شدید دباؤ تھا۔
مگر دوسری طرف اسی مدت میں کئی بڑے کارپوریٹ گھرانے، جنہوں نے ہزاروں کروڑ روپے کے قرض لے رکھے تھے، ’’کمپنی دیوالیہ‘‘ کے قوانین کا سہارا لیا اور قرض کے بوجھ سے آزاد ہوگئے جبکہ ان کی ذاتی پرتعیش زندگی میں کوئی فرق نہیں پڑا۔
ہزاروں کروڑ روپے کے Corporate Claims کے سامنے ایک ایسا Insolvency Framework موجود ہے، جس کے تحت Creditors کو انتہائی معمولی Recovery قبول کرنی پڑسکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اتنی بے رحمی اور سفاکانہ امتیازی رویہ کیوں ہے؟
بھارت کا موجودہ معاشی اور قانونی فریم ورک غریب اور متوسط طبقے پر بوجھ ڈال کر بڑے سرمائے کو تحفظ فراہم کر رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کسی ناکام کاروبار کو دیوالیہ پن سے نکلنے کا حق کیوں دیا گیا؟ سوال یہ ہے کہ کیا بھارت کے مالیاتی اور قانونی نظام میں ناکامی کی قیمت بڑے سرمایہ دار اور عام شہری کے لیے ایک جیسی کیوں نہیں ہے؟
یہ سوال کسی ایک کاروباری شخصیت یا ایک کمپنی کے بارے میں نہیں ہے بلکہ نظام کے بارے میں ہے کہ ہندوستان کا موجودہ مالیاتی اور قانونی ڈھانچہ قرض کی ناکامی کا بوجھ کس پر ڈالتا ہے اور کس کو اس ناکامی سے نکلنے کا موقع دیتا ہے؟
اگر ایک غریب کا چند لاکھ کا قرض اس کا گھر چھین سکتا ہے، تو ہزاروں کروڑ کے Corporate Claims کے مقابلے میں چند کروڑ کی ادائیگی ہمیں کم از کم یہ سوال پوچھنے کا حق تو دیتی ہے کہ انصاف کے ترازو کے دونوں پلڑے متوازن کیوں نہیں ہیں؟
سرفیسی ایکٹ (SARFAESI Act, 2002) کے تحت اگر 90 دن تک قسط نہ ادا کی جائے تو بینک لون اکاؤنٹ کو NPA (غیر فعال اثاثہ) قرار دے دیتا ہے۔ اس کے بعد بینک کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ عدالت گئے بغیر تاجر کی دکان، فیکٹری، مشینری اور یہاں تک کہ ان کے گھر پر نوٹس چسپاں کرکے قبضہ (Seize) کر لے اور اسے نیلام کر دے۔
دوسری طرف اگر کارپوریٹ گھرانے ہزاروں کروڑ روپے کے قرض ادا نہیں کرتے ہیں تو بینک ان کے خلاف یہ سب کرنے کے لیے بے اختیار ہو جاتے ہیں۔
خود سبھاش چندرا، جن کی کمپنی کے ہزاروں کروڑ روپے کے قرض کو محض 6.5 کروڑ روپے کی ادائیگی کی شرط کے ساتھ گلو خلاصی کا پروانہ عطا کر دیا گیا ہے، ایک انٹرویو میں کہتے ہیں کہ ’’ریلائنس کمپنی کے مالک مکیش امبانی نے ان سے کہا تھا کہ ’سبھاش جی، آپ بینکوں کے قرض کی اتنی بڑی قسط کیوں ادا کرتے ہیں؟ کارپوریٹ شعبے میں قرض کون واپس کرتا ہے؟ ‘‘
اس سے قطع نظر کہ سبھاش چندرا کا دعویٰ کتنا سچ ہے، کیوں کہ اس وقت اس کی تصدیق کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، مگر یہ جملہ بھارت میں معاشی نظام کی خامیوں اور ارب پتیوں کے لیے فیاضی اور چھوٹے تاجروں کے لیے سفاکانہ بدسلوکی کی نشاندہی کرتا ہے۔
سبھاش چندرا کی کمپنی زی میڈیا، ایسار گروپ کے قرضوں کو 99.9 فیصد معاف کر دیے جانے کی وجہ سے بینکوں اور فائنانس کمپنیوں کو جو نقصان ہوگا، اس کا بوجھ کون برداشت کرے گا؟ ظاہر ہے کہ ملک کا عام شہری یہ بوجھ اٹھائے گا۔ کیا یہ ملک کے عوام کے سرمائے کا استحصال نہیں ہے؟
ایک اہم سوال جس سے ہم صرفِ نظر نہیں کرسکتے، یہ ہے کہ کیا موجودہ اقتدار ہندوتوا کو فروغ دینے والے میڈیا ہاؤسز اور نیشنلسٹ نعرہ بازی کی آڑ میں پنپنے والے سرمائے کی کھلی پشت پناہی نہیں کر رہا ہے؟
اطلاعات و نشریات کے پورے نظام کو یرغمال بنانے کا یہ نیا ماڈل سامنے آیا ہے، جہاں میڈیا مالکین کو پہلے بھاری قرضوں کے جال میں الجھایا جاتا ہے اور پھر قرض معافی یا این ایل سی ٹی (NCLT) کے ریلیف کے نام پر رام کرکے من پسند صحافت کروائی جاتی ہے۔ کیا یہ محض اتفاقی معاشی فیصلے ہیں یا پھر بھارتی جمہوریت کی چوتھی فصل کو قابو میں رکھنے کا کوئی بڑا اور خطرناک سیاسی ایجنڈا؟
اصل معاملہ کیا ہے؟
25 اگست 2026 کو قومی کمپنی قانون ٹریبونل نے ان کی جانب سے پیش کیے گئے ادائیگی کے منصوبے کو منظوری دی۔ اس منصوبے کے تحت قرض دینے والوں کے لیے تقریباً چھ کروڑ پچیس لاکھ روپے اور دیوالیہ پن کی کارروائی کے اخراجات کے لیے تقریباً پچیس لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یعنی مجموعی طور پر تقریباً ساڑھے چھ کروڑ روپے بنتی ہے۔
دوسری طرف، قرض دینے والے اداروں کے دعوؤں کی مجموعی رقم تقریباً بائیس ہزار چھ کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ یہ اعداد خود ایک سوال بن کر ہمارے سامنے کھڑے ہیں۔ بائیس ہزار کروڑ کے دعوے اور تقریباً ساڑھے چھ کروڑ کی ادائیگی، آخر اس قدر بڑا فرق کیوں ہے؟
بائیس ہزار کروڑ روپے سبھاش چندرا کا ذاتی قرض نہیں ہے۔ ایسل گروپ سے وابستہ کمپنیوں نے یہ قرض لیے تھے اور سُبھاش چندرا نے بعض قرضوں کے لیے ذاتی ضمانت دی تھی۔ خود سبھاش چندرا کا کہنا ہے کہ وہ براہِ راست ان قرضوں کے مقروض نہیں تھے اور ان کے خلاف متعلقہ دعوؤں کی رقم تقریباً چار ہزار کروڑ روپے تھی۔
سوال یہ ہے کہ اگر ذاتی ضمانت کے تحت ہزاروں کروڑ روپے کے دعوے موجود تھے تو آخر قرض دینے والوں کو چند کروڑ روپے ہی کیوں مل رہے ہیں، اور اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اس پورے معاملے کی مکمل اور آزادانہ مالی جانچ ہوئی؟
سبھاش چندرا اور این ایل سی ٹی (NCLT) کے اس پورے مالی معاملے کی قانونی، معاشی اور فنی باریکیوں کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے تاکہ اس فیصلے کی اصل حقیقت سامنے آسکے۔ یہ تجزیہ اس معاملے کی گرہوں کو کھولتا ہے۔
 زی گروپ کے بانی اور ایسل گروپ کے سربراہ سبھاش چندرا کے ذاتی دیوالیہ پن سے متعلق معاملے میں قومی کمپنی قانون ٹریبیونل (NCLT) کے 25 اگست 2026 کے فیصلے نے اسی سوال کو ملک گیر بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔
ٹریبیونل نے ان کے قرض کی واپسی کے منصوبے (Repayment Plan) کو منظوری دی ہے، جس کے تحت تمام قرض دہندگان کے لیے تقریباً سوا چھ کروڑ روپے اور دیوالیہ پن کے قانونی عمل کے اخراجات کے لیے تقریباً پچیس لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس طرح کل رقم تقریباً ساڑھے چھ کروڑ روپے بنتی ہے۔
دوسری طرف، ٹریبیونل کی جانب سے تسلیم شدہ مطالبات (Admitted Claims) کی رقم 22,006.57 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ اس حساب سے قرض دہندگان کو ان کے کل مطالبات کا صرف 0.03 فیصد مل رہا ہے، جبکہ باقی 99.97 فیصد رقم ڈوب چکی ہے۔
اس رقم کو سمجھنے کے لیے تجارتی قانون (Corporate Law) کا ایک بنیادی اصول سمجھنا ضروری ہے۔ کمپنی اور اس کا مالک دو الگ قانونی وجود رکھتے ہیں۔ کسی کمپنی کے قرض کو لازمی طور پر اس کے مالک کا ذاتی قرض نہیں سمجھا جاتا۔ تاہم، اگر مالک نے کمپنی کے قرض کے لیے ذاتی ضمانت (Personal Guarantee) دی ہو تو قانونی طور پر اس کی ذمہ داری الگ سے عائد ہوتی ہے۔
یہ معاملہ بنیادی طور پر اسی ذاتی ضمانت کا ہے۔ متعلقہ قرضے ایسل گروپ سے وابستہ کمپنیوں نے لیے تھے اور سبھاش چندرا نے ان میں سے بعض کے لیے ذاتی ضامن کا کردار ادا کیا تھا۔ یعنی بائیس ہزار کروڑ روپے کی پوری رقم ان کا ذاتی قرض نہیں تھی۔ خود سبھاش چندرا کی وضاحت کے مطابق وہ کسی بینک کے براہِ راست مقروض نہیں تھے اور ان کے خلاف ضامن کے طور پر حقیقی مطالبات تقریباً 3,992 کروڑ روپے کے تھے۔
لیکن یہ وضاحت بھی مسئلے کو حل نہیں کرتی، بلکہ چند مزید سنگین سوالات کو جنم دیتی ہے کہ اگر ذاتی ضمانت دی گئی تھی، تو اس ضمانت کی عملی اور مالی قیمت کیا تھی؟ اگر ضامن کے خلاف ہزاروں کروڑ کے مطالبات تسلیم شدہ تھے، تو بینکوں کو محض چند کروڑ پر ہی کیوں اکتفا کرنا پڑا؟
اس کیس کا سب سے تشویش ناک پہلو قرض دہندگان کی طرف سے سبھاش چندرا کی ذاتی جائیداد (Net Worth) کی مالی تاریخ پر اٹھایا گیا اعتراض ہے۔ مختلف بینکوں اور مالی اداروں نے دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے نشاندہی کی کہ 2017 میں سبھاش چندرا کی کل جائیداد تقریباً 45,888 کروڑ روپے بتائی گئی تھی۔ 2018 میں یہ رقم 40,526 کروڑ روپے کے قریب تھی، جب کہ موجودہ قانونی کارروائی میں ان کی کل جائیداد صرف 31.79 کروڑ روپے بتائی گئی۔
چند سالوں کے اندر دسیوں ہزار کروڑ روپے کی جائیداد کا اچانک چند کروڑ میں بدل جانا ایک ایسا فرق ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
ماضی کے بلند اعداد و شمار دراصل ان کی کمپنیوں کے شیئرز کی بازاری قیمت (Market Capitalisation) پر مبنی تھے، جسے ان کی ذاتی نقد جائیداد سمجھنا غلط تھا۔ خود سبھاش چندرا کا موقف بھی یہی ہے کہ 2019 کے بعد انہوں نے کمپنیوں کے قرضوں کی ادائیگی میں اپنا تمام دستیاب سرمایہ لگا دیا۔ یا پھر جائیداد کی فروخت، حصص کی منتقلی اور مالی لین دین کے نتیجے میں ان کے ذاتی اثاثوں میں شدید کمی آئی۔
کئی قرض دہندہ بینکوں اور مالی اداروں نے ٹریبیونل سے مطالبہ کیا تھا کہ اس پورے معاملے کی آزادانہ تحقیقاتی تفتیش اور اثاثوں کا سراغ (Asset Tracing) لگایا جائے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ پچھلے سالوں میں کون سے اثاثے موجود تھے؟ جائیدادیں کس کے نام منتقل کی گئیں؟ شیئرز کی منتقلی کس قیمت پر ہوئی؟ کیا اثاثوں کی فروخت اس وقت کی گئی جب قرض دہندگان کے مطالبات پہلے سے موجود تھے؟
تاہم، ٹریبیونل نے قرض کی واپسی کے منصوبے کو منظوری دیتے وقت ایسی کسی آزادانہ تفتیش کو لازمی شرط قرار نہیں دیا۔ یہاں صحافتی اور عوامی مفاد کا اصل سوال یہ ہے کہ کیا اتنے بڑے مالی فرق کے باوجود ایک غیر جانب دارانہ اور آزادانہ تحقیقی تفتیش کا حکم دیا جانا ضروری نہیں تھا؟
اس فیصلے سے بینکوں کو ہونے والے نقصان کی واضح مثال ایل آئی سی ہاؤسنگ فائنانس (LIC Housing Finance) اور ایچ ڈی ایف سی (HDFC) کے مطالبات سے ملتی ہے۔ ایل آئی سی ہاؤسنگ فائنانس کا ایسل گروپ پر تقریباً 1,322 کروڑ روپے کا قرض تھا، جس میں سبھاش چندرا ذاتی ضامن تھے۔ لیکن اس منظور شدہ منصوبے کے تحت ادارے کو 1,322 کروڑ کے بدلے صرف 38.09 لاکھ روپے ملیں گے۔
13,22 کروڑ روپے کے مقابلے میں 38 لاکھ روپے کی وصولی یہ ثابت کرتی ہے کہ ذاتی ضمانت کا عمل بینکاری نظام میں صرف ایک کاغذی کارروائی بن کر رہ گیا ہے۔ اس سے خود بینکوں کے نظام پر دو بنیادی سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔ اگر ضامن کی ذاتی جائیداد اتنی محدود تھی تو مالی اداروں نے اتنے بڑے قرض دیتے وقت اس ضمانت کو کس بنیاد پر قبول کیا؟ کیا قرض دیتے وقت خطرات کی جانچ (Risk Assessment) میں بینکوں کی جانب سے کوئی بڑی غفلت ہوئی اور اگر ہوئی تو اس کی جواب دہی کس کی ہے؟
یہ پورا معاشی اور قانونی فریم ورک اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ موجودہ نظام میں بڑے تجارتی گھرانے اپنی کمپنیوں کو دیوالیہ قرار دے کر اور چند فیصد رقم ادا کرکے تمام تر مالی ذمہ داریوں سے قانونی طور پر آزاد ہو جاتے ہیں۔ جبکہ اس کے نتیجے میں ہونے والا ہزاروں کروڑ روپے کا نقصان بالآخر بینکوں، عام بچت کنندگان اور ملک کے ٹیکس دہندگان کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
سبھاش چندرا کا معاملہ ہمیں ایک ایسے سوال سے روبرو کراتا ہے جس سے بھارتی معاشرے کو اب آنکھیں نہیں چرانی چاہئیں۔ گزشتہ برسوں میں کئی بڑے کارپوریٹ گھرانے بینکوں کے ہزاروں کروڑ روپے کے قرضے ادا کرنے میں ناکام رہے، مگر ان کے ساتھ وہ سلوک نہیں کیا گیا جو عام قرض داروں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
ایک کسان کی آمدنی کا انحصار موسم، فصل کی قیمت، بازار کی صورتِ حال اور قدرتی حالات پر ہوتا ہے۔ ایک خراب فصل، پیداوار کی مناسب قیمت کا نہ ملنا یا اچانک آنے والی بیماری پورے سال کی محنت اور آمدنی کو تباہ کر سکتی ہے، مگر قرض کی قسط اپنی جگہ برقرار رہتی ہے۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ قرض واپس نہیں کیا جانا چاہیے؛ کیونکہ اگر قرض لیا ہے تو اسے ادا ہونا ہی چاہیے۔ بلکہ سوال یہ ہے کہ قرض ادا نہ کر پانے والے شخص کے ساتھ نظام کا رویہ کیا ہونا چاہیے؟ کیا اسے صرف ایک ناکام مقروض سمجھ کر اس کی زندگی مزید اجیرن بنا دینی چاہیے، یا اسے دوبارہ سنبھلنے اور کھڑے ہونے کا موقع بھی ملنا چاہیے؟
بینکوں کو اپنا قرض واپس لینے کا پورا حق حاصل ہے اور یہ حق ضروری بھی ہے، کیونکہ اگر بینک اپنے پیسے واپس نہیں لا سکیں گے تو وہ نئے لوگوں کو قرض کیسے دیں گے؟ لیکن بینکوں کی وصولی کی سخت کارروائی اور عوام کے بنیادی انسانی حقوق کے درمیان توازن قائم ہونا لازمی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ قرض کی وصولی کے قوانین بناتے وقت یہ بنیادی سوال ہمیشہ سامنے رہنا چاہیے کہ: کیا قرض کی وصولی کے لیے ایسا طریقہ اپنایا جا رہا ہے جو مقروض کو دوبارہ پیروں پر کھڑا ہونے کی گنجائش دیتا ہے؟
اگر کسی چھوٹے کاروباری کی دکان ہی چھین لی جائے تو وہ قرض کی قسط کیسے اد کرے گا؟ اگر کسان کی زمین ہی اس کے ہاتھ سے نکل جائے تو اس کی آئندہ کی آمدنی کا ذریعہ کیا ہو گا؟ اور اگر متوسط طبقے کے خاندان کا چھت ہی نیلام ہو جائے تو وہ اپنے بچوں کی تعلیم اور مستقبل کیسے سنبھالے گا؟
یہ سوالات بینکنگ نظام کی مخالفت میں نہیں ہیں، بلکہ ایک ایسے عادلانہ مالیاتی نظام کے حق میں ہیں جہاں قرض کی وصولی بھی ہو اور ساتھ ہی معاشرتی انصاف کا پاس بھی رکھا جائے۔ قرضوں کی وصولیابی کا اندازہ اس رپورٹ سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔
سنٹرل بینک آف انڈیا نے معاشی طور پر نادہندہ (ڈیفالٹ) ہونے والے بڑے یا کارپوریٹ قرض دہندگان کے مقابلے میں چھوٹے قرض دہندگان سے زیادہ رقم وصول کی ہے۔ خبر رساں پورٹل منی لائف (MoneyLife) کی رپورٹ کے مطابق، مالیاتی سال 17-2016 سے 26-2025 تک کے دس سالہ عرصے کے دوران بینک نے ایک کروڑ روپے سے کم مقروض افراد سے 5,004.28 کروڑ روپے کی وصولی کی ہے۔
اس کے برعکس بینک نے سو کروڑ روپے سے زائد مقروض بڑے قرض دہندگان سے محض 3,874.41 کروڑ روپے کی وصولی کی ہے۔ سنٹرل بینک نے ڈیفالٹ کرنے والے بڑے قرض دہندگان کے 26,701.55 کروڑ روپے کے قرضے معاف کیے جبکہ چھوٹے قرض دہندگان کے معاملے میں معاف کی گئی رقم 6,774.23 کروڑ روپے تھی۔
اگر فی صد کے اعتبار سے دیکھا جائے تو بڑے مقروضوں سے قرض وصولی کی شرح محض 14.5 رہی جبکہ چھوٹے مقروضوں سے وصولی کی شرح 74 فیصد درج کی گئی۔
یہ حقائق پونے سے تعلق رکھنے والے آر ٹی آئی (RTI) ایکٹوسٹ اور ’سجگ ناگرک منچ‘ کے صدر وویک ویلنکر کی ایک درخواست کے جواب میں سامنے آئے ہیں، جسے منی لائف نے شائع کیا ہے۔
قرضوں کو ’رائٹ آف‘ (کاغذات میں معاف) کر دیے جانے کے بعد بھی نادہندگی کے معاملات میں وصولی کا عمل جاری رہتا ہے، تاہم ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) کی جانب سے نادہندہ کمپنیوں کے نام پوری طرح ظاہر نہیں کیے جاتے ہیں۔
آر ٹی آئی کے ذریعے سامنے آنے والے یہ اعداد و شمار بینک اور قرض دہندگان دونوں کے رویے میں ایک نمایاں غیر متوازن پن کو ظاہر کرتے ہیں۔ جہاں بڑے پیمانے پر سرمایے کا قرض لینے والے افراد کل معاف شدہ قرضوں میں سب سے بڑا حصہ رکھتے ہیں، وہیں چھوٹے نادہندہ کم رقم معاف کرواتے ہیں اور اپنے قرضوں کا کم از کم کچھ حصہ زیادہ قابلِ اعتماد طریقے سے واپس کرنے کا میلان رکھتے ہیں۔
منی لائف نے نشاندہی کی ہے کہ سنٹرل بینک آف انڈیا نے ان بڑے نادہندگان میں سے ایک کا نام بھی ظاہر کرنے سے انکار کر دیا ہے جن کے ہزاروں کروڑ روپے کے واجبات معاف کیے گئے ہیں۔
سبھاش چندرا کیس ہمیں کیا سوچنے پر مجبور کرتا ہے؟
یہ معاملہ ہمیں کم از کم پانچ بنیادی اور کڑے سوالات کے سامنے کھڑا کرتا ہے۔
پہلا سوال: بڑے کاروباریوں کو قرض دیتے وقت بینک خطرے (Risk Assessment) کا اندازہ کس طرح لگاتے ہیں؟
دوسرا سوال: کسی فرد کی ذاتی ضمانت (Personal Guarantee) کی حقیقی مالی قیمت کیسے طے کی جاتی ہے؟
تیسرا سوال: اگر ضمانت دینے والے کی جائیداد اور دولت میں اچانک غیر معمولی کمی آجائے تو اس کی آزادانہ تحقیقات (Forensic Audit) کا نظام کتنا مضبوط ہے؟
چوتھا: یہ کہ دیوالیہ پن کی کارروائی (Insolvency Process) میں قرض دینے والے بینکوں اور مالی اداروں کے مفادات کا تحفظ کس حد تک ہوتا ہے؟
پانچواں سوال: کیا عام شہریوں، کسانوں اور چھوٹے کاروباریوں کے لیے بھی معاشی بحران سے نکلنے کا اتنا ہی مؤثر اور نرم راستہ موجود ہے؟
ان سوالات کے جوابات صرف ایک فرد یا ادارے کے لیے نہیں، بلکہ پورے ہندوستانی مالیاتی نظام کی شفافیت کے لیے اہم ہیں۔
اس پورے معاملے کا سب سے تشویش ناک پہلو کارپوریٹ گھرانوں، میڈیا مالکین اور اقتدار پر قابض ہندوتوا نظریے کے درمیان قائم مبینہ ’سیاسی و معاشی گٹھ جوڑ‘ ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ دہائی کے دوران زی گروپ اور سبھاش چندرا کا میڈیا نیٹ ورک نہ صرف حکومت کا کھلم کھلا ترجمان بنا رہا، بلکہ اس کے پلیٹ فارموں کو مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف مہم جوئی اور سماجی منافرت پھیلانے کے لیے استعمال کیا گیا۔
یہاں ایک بنیادی  سوال جنم لیتا ہے کہ کیا ملک کے عام ٹیکس دہندگان اب اس نفرت کی معاشی قیمت بھی ادا کریں گے؟ ایک طرف تو اس یکطرفہ اور زہریلی صحافت کے ذریعے ملک کے سماجی تانے بانے کو تار تار کیا گیا اور معاشرتی زندگی تباہ کی گئی، اور دوسری طرف اب انہی میڈیا مالکان کے ہزاروں کروڑ روپے کے قرضے (عوامی بینکوں اور ٹیکس دہندگان کے پیسے) معاف کرکے انہیں صاف بچ نکلنے کا راستہ دیا جا رہا ہے۔
یہ صورتِ حال واضح کرتی ہے کہ کارپوریٹ گھرانے انتخابی چندوں، ہندوتوا پروپیگنڈے اور حکومت کی خوشامد کے عوض اپنے دیوالیہ پن اور معاشی بدعنوانیاں چھپانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ نفرت کی اس سیاست نے صرف ہندوستان کے سماج کو ہی نہیں تقسیم کیا بلکہ اب اس کا بوجھ براہِ راست ملک کی معیشت اور عام شہریوں کی جیب پر بھی پڑ رہا ہے۔ اس گٹھ جوڑ کی گہری اور شفاف تحقیقات وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
این ایل سی ٹی (NCLT) کا یہ فیصلہ محض ایک کمپنی کے قرض کی صفائی یا دیوالیہ پن کا معمولی مقدمہ نہیں ہے، بلکہ یہ بھارت کے موجودہ معاشی، قانونی اور جمہوری ڈھانچے پر ثبت ایک گہرا سوالیہ نشان ہے۔
ایک ایسے ملک میں جہاں چند ہزار کے زرعی قرضے پر کسان کی زمین نیلام کر دی جاتی ہے اور محض چند سو روپے کی قسط میں تاخیر پر چھوٹے تاجروں اور متوسط طبقے کے شہریوں کے گھر پر بینکوں کے ریکوری ایجنٹ پہنچ جاتے ہیں، وہاں ہزاروں کروڑ روپے کے سوٹ بوٹ والے نادہندگان کو 99.9 فیصد سے زائد قرض کی معافی (Haircut) کے ساتھ سرخ رو کر دینا نظام کے کھلے دوہرے معیار کا ثبوت نہیں ہے تو کیا ہے۔
جب عوامی بینکوں کی یہ رقم ڈوبتی ہے تو اس کا خمیازہ کسی ایک فرد کو نہیں، بلکہ ملک کے کروڑوں ٹیکس دہندگان اور عام بچت کنندگان کو بھگتنا پڑتا ہے۔ یہ پورا معاشی کھیل ثابت کرتا ہے کہ جب سیاسی اقتدار، ہندوتوا کا نظریہ اور میڈیا کا سرمایہ ایک دوسرے کی پشت پناہی کرنے لگیں تو اس کی قیمت ملک کا عام شہری ہی ادا کرتا ہے۔
معاشی تحفظ کی یہ چھتری اکثر انہی کارپوریٹ ہاؤسز اور میڈیا مالکین کو میسر آتی ہے جو اقتدار کے ساتھ ساز باز کرکے سماجی تانے بانے کو نقصان پہنچانے اور سیاسی ایجنڈوں کی آبیاری میں پیش پیش رہتے ہیں۔
اگر قانون کے ان چور راستوں، کارپوریٹ دیوالیہ پن کی آڑ میں معاشی فراڈ اور نفرت پر مبنی پروپیگنڈے کے اس تشویش ناک گٹھ جوڑ پر فوری اور شفاف انکوائری کے ذریعے نکیل نہ کسی گئی تو عوام کا نہ صرف بینکنگ نظام سے اعتماد اٹھ جائے گا بلکہ جمہوریت اور انصاف کے باقی ماندہ ستون بھی کھوکھلے ہو جائیں گے۔