جو شئے بھی جسم میں داخل ہوگی اس کا اثر لازما جسم پر پڑتا ہے
انسانی ضرورت کے دائرے میں پاکیزہ غذا اور متوازن طرزِ زندگی بھی ہے
دسترخوان صرف کھانے کی جگہ نہیں بلکہ ایک خاموش تربیت گاہ بھی ہے

انگریزی کے ایک حکیمانہ قول کے مطابق ’’زندگی کے ننانوے فیصد مسائل اس وقت غائب ہو جاتے ہیں جب اپنی زندگی سے ہم غلط غذا، غلط افراد، غلط عادات اور غلط خیالات کو نکال دیتے ہیں۔‘‘
(99% of the life's problems disappear the moment you remove wrong foods, wrong people, wrong habits, and wrong thoughts from your life.)
’’ننانوے فیصد‘‘ یہ تناسب کسی سائنسی دعویٰ پر مبنی ہے اور نہ ہی کسی علمی و طبی تحقیق پر مبنی ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ زندگی کے مسائل کو کسی ایک عدد میں ظاہر کرنا بھی تقریباً نا ممکن ہے۔ لیکن اس مختصر قول میں ایک حکیمانہ نکتہ ضرور موجود ہے، جس پر عمل کرتے ہوئے ہر انسان اپنی زندگی کی کئی الجھنیں خود دور کر سکتا ہے۔ آج کے تیز رفتار و بے حس دور میں انسان ہر گھڑی اپنی زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کی تگ و دو میں لگا ہوا ہے۔ روز نت نئے منصوبے بناتا ہے۔ بہتری کی امیدوں میں نئی عادات و طریقوں کو اپناتا ہے۔ کبھی ایک نیا ہدف مقرر کرتا ہے تو کبھی کوئی نیا مشغلہ جو اسے بہتر سے بہترین کی طرف لے جائے۔ گویا انسان اپنی زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کی فکر میں ہمیشہ سرگرداں و پریشاں دکھائی دے گا۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ زندگی کو بہتر بنانے میں ہر نیا منصوبہ، نئے طور طریقے، عادات اور نئے مشغلے ہمیشہ سودمند و کارگر ثابت نہیں ہوتے ہیں۔ بسا اوقات زندگی کے بگاڑ کی وجہ دراصل وہ نقصان رساں، دیرینہ عادات و معمولات ہوتے ہیں جن سے چھٹکارا پائے بغیر کامیابی کا کوئی بھی فارمولا کارگر ثابت نہیں ہوتا۔
غذائی عادات سے انسانی جسم پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ کبھی غیر محسوس طریقے سے ایک بے لگام عادت ہی رفتہ رفتہ آدمی کے وقت کو نگل جاتی ہے۔ اسی طرح بری صحبتیں بھی انسان کے مزاج پر اپنا اثر و رنگ چھوڑتی ہیں۔ ایک مضر خیال غیر محسوس انداز میں انسان کے ذہن میں ایسی جگہ بنا لیتا ہے جس کی اسے خبر تک نہیں ہوتی۔ ادنیٰ، معمولی اور بے ضرر محسوس ہونے والے یہ خیال اس کی زندگی کا رخ ہی بدل دیتے ہیں۔ زندگی کا بگاڑ ہمیشہ کسی بڑے حادثے سے نہیں بلکہ ایک معمولی عادت اور رویہ سے ہوتا ہے جو بظاہر بے ضرر دکھائی دیتے ہیں لیکن مجموعی طور پر یہ انسان کی صحت، طرزِ زندگی، عادات، مزاج اور کردار پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ جب اس کے مضر اثرات ظاہر ہونے لگتے ہیں تو آدمی مضطرب ہوکر ان کے اسباب و علل کو اکثر باہر تلاش کرنے لگتا ہے جب کہ یہ اسباب و علل اس کے روزمرہ کے معمولات میں چھپے ہوتے ہیں۔
غذا، صحبت، عادت اور فکر بظاہر زندگی کے الگ گوشے ہیں لیکن ان کا ایک دوسرے سے گہرا تعلق ہے۔ جو شئے بھی جسم میں داخل ہوگی اس کا اثر لازما جسم پر پڑے گا۔ جسمانی کیفیت سے مراد انسان کا مزاج و مذاق ہے۔ مزاج رویوں سے ظاہر ہوتا ہے اور رویے جب بار بار دہرائے جائے تو یہ عادت ثانیہ بن جاتے ہیں۔ اسی طرح انسان جن لوگوں کے درمیان اٹھتا بیٹھتا ہے، ان کے لہجے،ترجیحات، رویوں اور خیالات سے بھی مکمل طور پر بے نیاز نہیں رہ سکتا۔ انسان اپنے ماحول سے ہمیشہ محسوس و غیر محسوس طریقے سے کچھ نہ کچھ اخذ کرتا رہتا ہے۔اس پس منظر میں ’’طیب غذا‘‘ کا مفہوم صرف دسترخوان پر رکھی ہوئی اشیاء خورد ونوش تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ پوری طرزِ زندگی کا غماز بن جاتا ہے۔ اسلام میں انسانی خوراک کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ اسلام کی نظر میں اہمیت یہ نہیں کہ انسان کیا کھا رہا ہے بلکہ یہ ہے کہ جو کچھ وہ کھا رہا ہے وہ حلال بھی ہے یا نہیں، اگر حلال ہو تو طیب و پاکیزہ بھی ہے یا نہیں۔ غذا کی مقدار کتنی ہو اور اس نعمت کے ساتھ آدمی کا رویہ کیسا ہو اس کے بارے میں قرآن کہتا ہے:
فَکُلُوا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللہَ حَلَالًا طَیِّبًا وَاشْکُرُوا نِعْمَتَ اللہِ إِنْ کُنْتُمْ إِیَّاہُ تَعْبُدُونَ
’’پس اللہ نے جو تمہیں حلال اور پاکیزہ رزق دیا ہے، اس میں سے کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو، اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔‘‘(النحل: ۱۱۴)
یہاں حلال اور طیب دونوں الفاظ اپنی الگ الگ معنوی جہت رکھتے ہیں۔ حلال کا تعلق شرعی جواز سے ہے جبکہ طیب میں پاکیزگی، اچھائی، موزونیت اور خیر کا مفہوم بھی شامل ہے۔ اس لیے ایک مسلمان کے لیے صرف یہ جان لینا کافی نہیں ہے کہ کوئی چیز حلال ہے بلکہ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ وہ چیز کس مقدار میں استعمال کرنی ہے۔ یہ درجہ اعتدال میں ہے یا نہیں۔ کیا وہ غذا اس کے جسم اور زندگی کے لیے موزوں بھی ہے یا نہیں۔ یہی وہ غذائی شعور ہے جو اسلام انسانوں کے اندر پیدا کرتا ہے۔ انسان اگر اپنے کھانے کے بارے میں غور کرنا شروع کرے تو کئی سوالات اس کے سامنے آکھڑے ہوتے ہیں۔
جو کچھ بھی میں کھا رہا ہوں، کیا وہ میرے جسم کے لیے مناسب ہے؟ کیا میں ضرورت سے زیادہ تو نہیں کھا رہا ہوں؟ کیا میرے بچوں کی غذا محض ذائقے کے تابع ہے یا ان کی صحت بھی میرے غذائی انتخاب کا حصہ ہے؟ کیا میرا کھانا ضرورت کے مطابق ہے یا خواہش و لذت نےصحت پر غلبہ حاصل کرلیا ہے؟
قرآن کا ایک مختصر مگر معنی خیز حکم ہے
فَلْیَنْظُرِ الْإِنسَانُ إِلَیٰ طَعَامِہِ
’’پس انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے کھانے کو دیکھے۔‘‘ (عبس۲۴:)
یہاں دیکھنے کا مطلب محض نگاہ ڈالنا نہیں ہے بلکہ اس میں ہمارے لیے غور و فکر کی ایک پوری دعوت پوشیدہ ہے۔ انسان اپنے کھانے پر نظر ڈالے۔ اس کے ماخذ کو سمجھے۔ اس کی نوعیت کو پرکھے۔ مقدار کا لحاظ رکھے اور یہ بھی دیکھے کہ کہیں زبان کی وقتی لذت جسم کی دیرپا ضرورتوں پر غالب تو نہیں ہو رہی ہے۔ آج ہمارے لیے خوراک صرف ایک ضرورت کے درجے میں نہیں ہے۔ بازار نے ذائقے، رنگ، خوشبو، سہولت اور فوری دستیابی کو بھی خوراک کے انتخاب کا حصہ بنا دیا ہے۔ چند لمحوں کی لذت پر جسم کی دیرپا صحت استوار نہیں ہو سکتی۔ جو چیز زبان کو بھلی لگے، ضروری نہیں کہ جسم بھی اسے اسی خوش دلی سے قبول کرے۔ زبان کی پسند اور جسم کی ضرورت کے درمیان جو فاصلہ ہے صحت کا راز اسی اہم فاصلے کو سمجھنے میں پوشیدہ ہے۔ قرآن پوری انسانیت کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے:
یَاأَیُّہَا النَّاسُ کُلُوا مِمَّا فِی الْأَرْضِ حَلَالًا طَیِّبًا
’’اے لوگو! زمین میں جو کچھ حلال اور پاکیزہ ہے، اس میں سے کھاؤ۔‘‘ (البقرۃ ۱۶۸:)
یہ خطاب صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ہے بلکہ تمام انسانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ حلال اور پاکیزہ چیزیں کھاؤ۔ پاکیزہ غذا اور متوازن طرزِ زندگی انسانی ضرورت کے دائرے میں آتے ہیں۔ تاہم طیب غذا کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر پیک شدہ یا صنعتی غذا لازماً ناقص ہو اور ہر گھریلو غذا لازماً صحت بخش۔ کسی غذا کے بہتر یا ناموزوں ہونے کا فیصلہ اس کے اجزا، مقدار، غذائی قدر، تیاری اور مجموعی استعمال کو سامنے رکھ کر ہی کیا جاسکتا ہے۔ مسئلہ صرف بازاری غذاؤں کا نہیں ہے بلکہ بے شعوری کے غلبہ کا ہے۔ گھر کا کھانا بھی اگر حد سے زیادہ تلا ہوا، میٹھا یا نمکین ہو تو اعتدال سے باہر ہوسکتا ہے۔اسی طرح بازار کی ہر چیز لازماً مضر نہیں ہوتی۔ اصل سوال شعور و انتخاب کا ہے کہ آدمی کیا خرید رہا ہے؟ کیوں خرید رہا ہے؟ اور کتنی مقدار میں خرید رہا ہے؟ معاشرے نے لذت، عجلت اور سہولت کو ہماری روزمرہ غذائی عادات میں اس طرح شامل کر دیا ہے کہ بہت سی چیزیں ضرورت سے بڑھ کر خواہش کا حصہ بن گئی ہیں۔ وقت کم ہو تو تیار کھانا حاضر ہے۔ بھوک لگے تو چند لمحوں میں کوئی پیکٹ کھولا جاسکتا ہے۔ گھر میں کھانا پکانے کی فرصت نہ ہو تو بازاری کھانا ایک آسان متبادل ہے۔ سہولت اپنی جگہ ایک نعمت ہے لیکن جب سہولت معمول بن جائے اور معمول رفتہ رفتہ انحصار میں بدلنے لگے تو انسان کو اپنے طرزِ زندگی کا جائزہ لینا ضروری ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
مَا مَلَأَ آدَمِیٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ
آدمی نے پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں بھرا۔ ابنِ آدم کے لیے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی کمر سیدھی رکھیں۔ اور اگر اس سے زیادہ کھانا ضروری ہو تو ایک تہائی کھانے کے لیے، ایک تہائی پینے کے لیے اور ایک تہائی سانس کے لیے کافی یے۔ یہ صرف کھانے کے آداب کی تعلیم نہیں ہے بلکہ یہ خواہشات پر قابو پانے کی تربیت ہے۔ فراوانی کے باوجود مقدار کا لحاظ رکھنا، لذت کے باوجود حد سے نہ گزرنا اور بھوک ختم ہوجانے کے بعدرغبت کے ہاتھوں غلام نہ بننا یہ عادت زندگی کے دوسرے معاملات میں بھی اعتدال کی بنیاد بن سکتی ہے۔
غذا کا معاملہ صرف زبان و معدہ تک ہی محدود نہیں ہے۔ انسانی جسم اور ذہن کے درمیان ایک گہرا تعلق ہے جسے جدید طب میں Gut-Brain Axis سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ہاضمی نظام، خوراک اور ذہنی کیفیت کے باہمی تعلق پر مسلسل تحقیقات جاری ہیں۔ اس لیے غذا کو ذہنی کیفیت سے بالکل بے تعلق سمجھنا درست نہ ہو گا۔ ہر وقت غصے، چڑچڑا پن یا ذہنی پریشانی کو صرف غذا کے کھاتے میں ڈال دینا بھی درست نہیں ہے۔ انسانی ذہن پر نیند کے علاوہ جسمانی صحت، ذہنی دباؤ، گھریلو ماحول، تربیت، معاشرتی حالات اور بہت سے دیگر عوامل بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔ جنک فوڈ اور الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کے بڑھتے ہوئے استعمال سے اس بحث کو مزید فوقیت حاصل ہوئی ہے۔ ایسی غذاؤں میں بعض اوقات شکر، نمک، چکنائی اور کیلوریز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جب کہ تازہ اور کم پراسیس شدہ غذاؤں کے مقابلے میں فائبر اور غذائی تنوع کم ہوسکتا ہے۔ بہت زیادہ شکر والی غذا بعض افراد میں خون میں گلوکوز کی سطح میں تیزی سے اتار چڑھاؤ پیدا کرسکتی ہے۔ جس کی وجہ سے توانائی اور مزاج میں تبدیلی محسوس کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح غیر متوازن اور ضرورت سے زیادہ کیلوریز والی غذا کا مسلسل استعمال موٹاپے اور بعض دیگر صحت کے مسائل کا سبب ہوسکتے ہیں۔ غذا میں اعتدال بے حد ضروری ہے۔ جنک فوڈ کوغصے یا عدم برداشت کا واحد سبب قرار دینا بھی درست نہیں ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ سمجھنا بھی صحیح نہیں ہے کہ غذا کا جسمانی اور ذہنی کیفیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ خوراک انسانی صحت کے پورے نظام کا ایک اہم حصہ ہے اسے نظر انداز کرکے ہم مکمل صحت کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ہندوستانی معاشرے میں فاسٹ فوڈ اور پیک شدہ غذاؤں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔ بچوں کے لیے چپس، میٹھے مشروبات، بیکری کی اشیا، پیک شدہ اسنیکس اور فاسٹ فوڈ اب صرف کبھی کبھار کی تفریح نہیں رہے۔ بہت سے گھروں میں یہ روزمرہ کے ذوق کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ جب زبان کم عمری ہی سے شکر، نمک اور چکنائی کی تیز لذتوں کی عادی ہو جائے تو پھر سادہ غذائیں پھیکی ہی محسوس ہوں گی۔ ان حالات میں ذائقہ صرف پسند تک محدود نہیں رہتا ہے بلکہ انتخاب پر یہ اپنی گرفت مضبوط کرنے لگتا ہے۔
بچوں کی جسمانی نشوونما کا تعلق بھی راست طور پر غذا سے جڑا ہوا ہے۔ بڑھتے وزن اور موٹاپے سے بچوں میں کئی صحت کے مسائل رونما ہو رہے ہیں۔ ضرورت سے زیادہ کیلوریز، غیر متوازن غذا اور جسمانی سرگرمی کی کمی اس میں شامل ہیں۔ خراب غذا و خراب غذائی عادات کی وجہ سے بعض بچوں میں عمر سے پہلے ہی بلوغت کے آثار بھی ظاہر ہو رہے ہیں۔ قبل از وقت بلوغت ایک طبی کیفیت ہے اور اس کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں۔ جن میں موٹاپا اور جسم میں چربی کی زیادتی جیسے عوامل کو شامل کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ہارمونل، جینیاتی اور بعض طبی عوامل کو بھی ان وجوہات میں شامل کرسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں بوائلر مرغی یا کسی ایک غذا کو قبل از وقت بلوغت کا براہِ راست سبب قرار دینا بھی درست نہیں ہے۔ بوائلر مرغی کے بارے میں یہ تصور عام ہے کہ انہیں تیزی سے بڑھانے کے لیے ویکسنس دیے جاتے ہیں، لیکن اس دعوے کو عمومی طبی حقیقت سمجھ لینا کافی نہیں ہے۔ اصل توجہ مجموعی غذاء اور طرزِ زندگی پر ہونی چاہیے جس میں غیر متوازن غذا، ضرورت سے زیادہ کیلوریز، میٹھے مشروبات، جسمانی سرگرمی کی کمی اور بڑھتا ہوا موٹاپا وغیرہ شامل ہوسکتے ہیں۔ اگر کسی بچے میں عمر سے پہلے بلوغت کی واضح جسمانی علامات ظاہر ہوں تو اسے محض غذا کا مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ بچوں کے ماہر ڈاکٹر یا متعلقہ ماہرِین سے مشورہ کرنا چاہیے۔ بعض اوقات جس تبدیلی کو ہم معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں اس کے پیچھے کوئی اور سبب ہوسکتا ہے جو طبی توجہ کا متقاضی ہوتا ہے۔
پلاسٹک کے برتنوں میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا کے بارے میں بھی صحت کے حوالے سے بہت تشویش پائی جاتی ہے۔ BPA اور بعض Phthalates جیسے کیمیکلز کے ہارمونل نظام پر ممکنہ اثرات کے بارے میں تحقیقات منظر عام پر آئی ہیں۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر پلاسٹک کی بوتل یا ہر ڈبے کو بیماری کا سبب قرار دیا جائے۔ احتیاط کے طور پر گرم غذا کو غیر موزوں پلاسٹک میں رکھنے، گرم کرنے سے گریز کریں۔ مناسب برتنوں کا استعمال ایک معقول اور بہتر تدبیر ہے۔ ان تمام مباحث کے درمیان ایک سوال ایسا بھی ہے جو ہر گھر ہر خاندان سے جڑا ہے، وہ یہ کہ ہم اپنے بچوں کو کھانے کے بارے میں کیا سکھا رہے ہیں؟اگر ہم بچوں کو وقت بے وقت میٹھی چیزیں، فاسٹ فوڈ، رونے پر چاکلیٹ اور سفر میں یا حضر میں ہر وقت پیکٹ والی غذاؤں کا عادی بنادیں تو وہ لاشعوری طور پر مضر صحت غذاوں کے عادی ہو جائیں گے۔ یہ عادات بھوک اور خواہش کے درمیان پائے جانے والے فرق کو آہستہ آہستہ ختم کر دیتے ہیں۔ بچوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ کھانا صرف مزے و لذت کی چیز نہیں ہے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ غذائیں کہاں سے آتی ہیں۔ جسم کو اس کی کیا ضرورت ہے؟ کون سی چیز کتنی مقدار میں کھانی چاہیے۔ کیا ہر پسندیدہ چیز روزانہ کھائی جاسکتی ہے۔ پانی کی اہمیت، پھلوں اور سبزیوں کی ضرورت، مناسب مقدار اور جسمانی کیفیت کا احساس، یہ سب غذائی شعور کا اہم حصہ ہیں۔ یہ شعور صرف نصیحتوں سے پیدا نہیں کیا جاسکتا۔ گھر کا ماحول اسے خاموشی سے تشکیل دیتا ہے۔ اسی لیے گھر کا دسترخوان صرف کھانے کی جگہ نہیں بلکہ ایک خاموش تربیت گاہ بھی ہے۔ بچے دسترخوان پر صرف ذائقہ سے واقف نہیں ہوتے ہیں بلکہ کھانے کا سلیقہ بھی سیکھتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ بڑے کس طرح کھانا کھاتے ہیں، کتنا کھاتے ہیں، دوسروں کا لحاظ کس طرح رکھتے ہیں اور نعمت کے ساتھ ان کا برتاؤ کیسا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے ایک بچے کو کھانے کے آداب سکھاتے ہوئے فرمایا ’’اے بچے! اللہ کا نام لو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔“ ان چند الفاظ میں کھانے کا سلیقہ بھی آگیا اور اللہ کی یاد بھی۔ تربیت، زندگی سے الگ کوئی شئے نہیں ہے۔ کھانے، سونے، بولنے، اٹھنے بیٹھنے اور لوگوں سے ملنے کے معمولات ہی رفتہ رفتہ انسان کے مزاج کو تشکیل دیتے ہیں۔
قرآن میں غذا کا ذکر شکر کے ساتھ بھی آیا ہے: کُلُوا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاکُمْ وَاشْکُرُوا لِلہ
جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں عطا کی ہیں، ان میں سے کھاؤ اور اللہ کا شکر کرو‘‘۔ شکر صرف زبان سے الحمدللہ کہہ دینے کا نام نہیں ہے۔ نعمت کا درست مصرف بھی شکر کا حصہ ہے۔ اگر صحت اللہ کی نعمت ہے تو اسے مسلسل بے احتیاطی کی نذر کرتے رہنا بھی ناشکری ہے۔ اگر رزق اللہ کی عطا ہے تو اس کا بے دریغ استعمال بھی درست نہیں ہے۔
قرآن کہتا ہے وَکُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا۔
’’کھاؤ اور پیو اور اسراف نہ کرو۔‘‘ (الأعراف۳۱:)
اسراف صرف زیادہ مال خرچ کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ ضرورت سے زیادہ کھانا، ضرورت سے زیادہ اشیاء کا خریدنا اور ایسی چیزیں ضائع کرنا جن کی کسی دوسرے کو ضرورت ہو، اسراف کی مختلف صورتیں ہیں۔ اسلام آدمی کو نعمتوں سے محروم نہیں کرتا بلکہ اس کے اندر اعتدال پیدا کرتا ہے اور نعمت کی قدر کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلام نعمت سے منہ موڑنے کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ نعمت کو حد سے بڑھا کر استعمال کرنے سے روکتا ہے۔ یہ اعتدال انسانی زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی اہمیت کا حامل ہے۔ جس طرح کھانے میں بے اعتدالی رفتہ رفتہ ایک معمول بن سکتی ہے۔ اسی طرح زندگی کے دیگر معمولات بھی آدمی کو اپنے حصار میں جکڑ لیتے ہیں۔ دیر رات تک جاگتے رہنا، بلا ضرورت موبائل فون میں الجھے رہنا، کام کو ٹالتے رہنا، جسمانی سرگرمی سے گریز، غصے میں فوراً جواب دینا، صبر و تحمل سے کام نہ لینا، ہر معاملے میں شکایت کرنا اور وقت کو بے مقصد ضائع کرتے رہنا۔ ابتدا میں یہ سب معمولی باتیں معلوم ہوتی ہیں لیکن یہی معمولات جب روز کا دستور بن جائیں تو زندگی کی باگ آہستہ آہستہ انہی خرابیوں کے ہاتھوں میں چلی جاتی ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو: اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، اپنی صحت کو بیماری سے پہلے، اپنی خوش حالی کو محتاجی سے پہلے، اپنی فراغت کو مشغولیت سے پہلے اور اپنی زندگی کو موت سے پہلے‘‘۔ صحت کا زوال یکایک نہیں ہوتا۔ برسوں کی بے اعتنائی خاموشی سے اپنا کام کرتی رہتی ہے اور ایک دن اس کا حاصل جمع ہمارے سامنے رکھ دیتی ہے۔ اصلاح کا آغاز عموماً کسی ایک بڑے فیصلے سے نہیں بلکہ روزمرہ کے چھوٹے فیصلوں سے ہوتا ہے۔آدمی حلال وطیب غذاؤں کے ذریعے صحت کے بیشتر مسائل کو حل کرسکتا ہے۔ اپنی غذا کا خاص خیال رکھیں کہ یہ صرف حلال ہی نہیں طیب و پاکیزہ بھی ہو۔
اے طائر لاہوتی، اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی