تاریخ کا ایک بہت مشہور واقعہ ہے کہ حضرت خالدؓ بن ولید نے عراق اور شام کی فتوحات کے دوران فارسی کمانڈر ہرمز کو جنگ کے آغاز سے قبل ایک خط روانہ کیا کہ
" اسلام قبول کر لو تو سلامتی پاؤ گے۔ ورنہ جزیہ ادا کرو۔ اگر یہ بھی قبول نہیں ہے تو جان لو کہ میں تمہارے پاس ایسے لوگوں کو لے کر آیا ہوں جو اللہ کی راہ میں شہادت سے ایسی ہی محبت کرتے ہیں جیسے تم زندگی سے کرتے ہو۔"
لیکن فارسی کمانڈر نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا اور دونوں لشکروں کے درمیان جنگ ذات سلاسل ہوئی۔ اس جنگ میں کفار کی تعداد کئی گنا زیادہ تھی اور مجاہدین کی تعداد چند ہزار تھی اس کے باوجود مجاہدین اسلام اور اسلامی لشکر فتح یاب ہوا تھا۔ یہ واقعہ صرف ایک واقعہ نہیں ہے اس کے علاوہ بے شمار واقعات تاریخ میں درج ہیں کہ کس طرح اسلامی لشکر کی قلیل تعداد کفار کی کثیر تعداد پہ غالب آتی تھی اور کس طرح مجاہدین اسلام دیوانہ وار شہادت کی تمنا میں میدان میں کود پڑتے تھے اور ظالم اور باطل قوتیں انگشت بدندان ان کے اس جذبے کو دیکھتی تھیں کہ وہ کون سی قوت تھی جو ان مٹھی بھر مجاہدین کی مدد کرتی تھی اور وہ کون سا جذبہ تھا جو مجاہدین کے دلوں میں جا گزیں تھا۔
دراصل جو قوت مجاہدین اسلام کے ساتھ کھڑی ہوتی تھی وہ ان کا ایمان ہوتا تھا نا قابلِ تسخیر ایمان۔ جس کی بدولت اللہ تعالیٰ غیبی لشکروں کے ذریعے ان کی مدد فرماتا تھا جو انہیں کسی میدان میں پسپا نہیں ہونے دیتے تھے۔ ان کے ایمان کی بدولت اللہ رب العزت کی رحمت اور نصرت ان پر نازل ہوتی تھی، یہ ان کا ایمان ہی تھا جو انہیں جنگ میں دیگر تمام اقوام پر بالاتر رکھتا تھا۔ خود اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "بے شک وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے، پھر وہ اسی (ایمان) پر ثابت قدم رہے، تو ان پر فرشتے اترتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) تم خوف نہ کرو اور نہ غم کرو، اور اس جنت کی خوشیاں مناؤ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے۔" (سورہ فصلت: 30)
لیکن اصل بات یہ ہے کہ یہ کہنے کے بعد جم جانا اصل امتحان ہے کہ ایک مومن زبان سے کہتا تو ہے کہ میں ایمان لایا لیکن اس پر ثابت قدم نہیں رہتا تو ایسے لوگوں کے لیے رحمت اور مدد کا وعدہ نہیں ہے۔
اور اسی طرح دوسرا اہم جذبہ جو مجاہدین اسلام کے دلوں میں ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی طرح موجزن تھا وہ شہادت کا جذبہ تھا اور اللہ کی راہ میں شہید ہونا ہم سب جانتے ہیں کہ کس اعزاز مقام ومرتبے کا حامل ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں:
"اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ مت کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں۔" (سورہ بقرہ: 154)
یعنی شہادت کی موت پانے کے بعد بھی ایک بندہ مومن اپنے رب کے پاس زندہ ہوتا ہے اور رزق پاتا ہے۔ احادیث میں بھی اس امر کی وضاحت ملتی ہے جس کا مفہوم اس طرح سے ہے کہ شہید سبز پرندے کی شکل میں آسمان سے لٹکتی ہوئی قندیلوں میں آرام کرتے ہیں۔ اور سب سے عظیم چیز شہادت کے بدلے اللہ رب العزت کی رضا اور اس کا دیدار ہے۔ ایک بندہ مومن کا الٹیمیٹ گول یہ ہوتا ہے اور ہونا چاہیے کہ اسے رب کی رضا اور جنت حاصل ہو جائے اور ایک شہید تو سب سے بہترین بدلہ اپنے رب کے حضور پاتا ہے۔ انہی دو بنیادی قوتوں کے دم پر اسلامی مجاہدین بڑے بڑے میدان سر کرتے تھے۔ ان کا ایمان انہیں دیگر اقوام پہ فاتح رکھتا تھا۔ اور شہادت کی تمنا انہیں میدان میں جمائے رکھتی تھی۔
اگر ہم موجودہ حالات کے تناظر میں اس واقعے اور اس قول کا جائزہ لیں تو منظر کھل کے ہمارے سامنے آئے گا کہ آج ہم مغرب کی بالادستی اور اسلام کے مغلوب ہونے کی بات کرتے ہیں۔ کیا بات ہے کہ مسلمان خس و خاشاک کی طرح ہو گئے ہیں!
اس کی ایک بڑی وجہ ہمارے اندر جذبہ ایمان اور جذبہ شہادت کی کمی ہے۔ ہم زبان سے تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے لیکن اس کلمے پر ثبات اور جم جانے والا عنصر ہمارے اندر موجود نہیں ہے۔ غیر متزلزل ایمان اور استقامت نہیں ہے تو شہادت کی تمنا کیسے پیدا ہو گی اور ہم اللہ کی راہ میں مر مٹنے کے لیے کیسے آمادہ ہوں گے؟ جب ایک بندہ مومن کے اندر ایمان موجزن ہوتا ہے تو اس پر کوئی طاقت غلبہ نہیں پا سکتی۔ یہی راز قرونِ اولیٰ کے مسلمان خاص کر مجاہدین اسلام کے فتح یاب اور دنیا کے اقوام پر غالب ہونے کا راز تھا۔
اگر ہم بھی آج مغربی اقوام اور خاص کر باطل پرست قوتوں پر غلبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اپنے دین کی سر بلندی چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے ایمان کے زبانی دعوؤں کو عمل و کردار کے ذریعے ثابت کرنا ہو گا ورنہ صرف زبان سے کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ ہم ایمان لائے بلکہ زبان سے اقرار کرنے کے بعد اس کلمے پر جم جانا بھی ہے۔ جب ہمارے اندر ایمان پیدا ہو گا تو ہم بھی شہادت کو اپنی معراج اور اللہ کی راہ میں شہادت والی موت اپنے لیے اعزاز سمجھیں گے اور شہادت کے نتیجے میں رضائے الٰہی اور ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہماری منزل ہو گی اور یہی بندۂ مومن کی فلاح اور معراج ہے۔
شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کِشوَر کُشائی
شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
کیا وہ لوگ شکست کھا سکتے ہیں جو شہادت کی تمنا میں موت کا پیچھا کرتے ہیں؟

