ڈیجیٹل سسٹم میں کیسے ہوا جعلی اندراج؟ مہاراشٹر کے تعلیمی نظام پر بڑا سوال

بدعنوانی کے خلاف ’’نہ کھاؤں گا، نہ کھانے دوں گا‘‘ کا عزم دہرانے والی مودی حکومت اور بی جے پی کی زیرِ اقتدار ریاستوں میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے معاملات وقتاً فوقتاً توجہ کا مرکز بنتے رہے ہیں۔ انہی میں ایک تازہ اور سنگین معاملہ اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین کی بھرتیوں سے متعلق ’’Shalarth ID گھوٹالا‘‘ ہے، جس نے نظامِ تعلیم، سرکاری نگرانی اور ڈیجیٹل گورننس کی شفافیت پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
مہاراشٹر میں سامنے آنے والا یہ معاملہ اب محض مبینہ جعلی تقرریوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے ریاست کے تعلیمی انتظامی ڈھانچے، سرکاری ریکارڈ کے تحفظ، متعلقہ افسران کی جواب دہی اور شالارتھ جیسے ڈیجیٹل نظام کی قابلِ اعتماد حیثیت کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ تحقیقات کے مختلف مراحل میں الگ الگ اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ 2025 میں ناگپور سے شروع ہونے والی تحقیقات میں 622 تقرریوں میں سے 547 کو مبینہ طور پر قواعد کے خلاف قرار دیا گیا، جبکہ معاملے کا حجم سو کروڑ روپے سے زیادہ ہونے کا اندازہ ظاہر کیا گیا۔ اس کے بعد 2026 میں ناسک ڈویژن سے متعلق ایک دوسرے بڑے معاملے میں 841 تدریسی اور غیر تدریسی ملازمین کو مبینہ طور پر جعلی تقرری منظوریوں اور شالارتھ اندراجات کے ذریعے سرکاری تنخواہی نظام میں شامل کیے جانے کا دعویٰ سامنے آیا۔ اس سے تقریباً 160 کروڑ روپے کے ممکنہ نقصان کی بات بھی کہی گئی۔ یہ اعداد و شمار اشارہ کرتے ہیں کہ اس معاملے کو محض ایک ایف آئی آر یا ایک واحد اسکینڈل کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ زیادہ مناسب یہ ہے کہ اسے مہاراشٹر کے مختلف علاقوں میں شالارتھ نظام سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں اور انتظامی کمزوریوں کے ایک وسیع تر، نظامی بحران کے طور پر سمجھا جائے۔
شالارتھ دراصل کیا ہے؟
شالارتھ مہاراشٹر کے محکمہ اسکولی تعلیم کا ایک ڈیجیٹل نظام ہے جس کے ذریعے سرکاری اور سرکاری امداد یافتہ اسکولوں کے ملازمین کا سرویس ریکارڈ اور تنخواہوں کا انتظام کیا جاتا ہے۔ کسی استاد یا ملازم کا شالارتھ میں اندراج، عملی طور پر اسے سرکاری تنخواہی نظام میں شامل کرنے کا اہم مرحلہ ہوتا ہے۔ یہیں سے اس معاملے کی سنگینی سمجھ میں آتی ہے۔ اگر کوئی شخص جعلی طریقے سے ملازم مقرر ہو اور اس کی تقرری شالارتھ نظام میں بھی درج ہو جائے تو وہ ریاست کے تنخواہی نظام کا حصہ بن سکتا ہے۔
اس مبینہ طریقہ کار کو یوں سمجھا جا سکتا ہے: جعلی تقرری، جعلی منظوری ، شالارتھ آئی ڈی، سرکاری تنخواہی نظام ،ماہانہ تنخواہ اور ممکنہ بقایا جات ، سرکاری خزانے کو نقصان
اسی لیے شالارتھ آئی ڈی کے مبینہ غلط استعمال کو عام بھرتی گھوٹالے سے زیادہ سنگین سمجھا جا رہا ہے۔
گھوٹالا کس طرح ممکن ہوا؟
ایس آئی ٹی کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق بعض مقامات پر بھرتی کے مقررہ طریقۂ کار پر عمل نہیں کیا گیا۔ ناگپور کے معاملے میں ایس آئی ٹی نے 622 تقرریوں کا جائزہ لیا جن میں صرف 75 کو قواعد کے مطابق قرار دیا گیا جبکہ 547 تقرریوں میں مبینہ بے ضابطگیاں پائی گئیں۔رپورٹ کے مطابق بعض امیدواروں نے مبینہ طور پر جعلی شناختی دستاویزات یا غلط ریکارڈ کے ذریعے تقرری حاصل کی اور اس مقصد کے لیے امیدواروں نے رشوت کے طور پر 20 سے 30 لاکھ روپے تک ادا کیے۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو معاملہ صرف رشوت ستانی تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایک منظم غیر قانونی بھرتی کے نیٹ ورک کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص جعلی تقرری حاصل بھی کر لے تو وہ شالارتھ جیسے سرکاری نظام تک کیسے پہنچا؟ صرف امیدوار کو ذمہ دار قرار دینے سے اس سوال کا جواب نہیں ملتا۔ شالارتھ میں کسی شخص کا اندراج محض امیدوار خود نہیں کر سکتا؛ اس عمل میں اسکول انتظامیہ، تعلیمی ادارے، متعلقہ افسران اور سرکاری ریکارڈ کی مختلف سطحیں شامل ہوتی ہیں۔ اسی لیے تحقیقات کا مرکز صرف جعلی امیدوار نہیں بلکہ جعلی منظوری کے پورے سلسلے اور اس میں شامل ممکنہ کردار ہونے چاہئیں۔
ایسی صورت میں سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ ایک جعلی استاد کیسے بھرتی ہو گیا بلکہ یہ بنتا ہے کہ کیا تقرری، منظوری اور تنخواہ کے سرکاری نظام کو کسی سطح پر باقاعدہ مالی فائدے کے لیے استعمال کیا گیا ہے؟
841 ملازمین سے متعلق 2026 کا معاملہ کیوں اہم ہے؟
ناسک ڈویژن میں سامنے آنے والا معاملہ اس اسکینڈل کے ایک بڑے اور نئے پہلو کو ظاہر کرتا ہے۔ تحقیقاتی اداروں کے مطابق ناسک، جلگاؤں، دھولے اور نندوربار اضلاع میں 841 تدریسی اور غیر تدریسی ملازمین کو مبینہ طور پر مناسب بھرتی تجاویز یا مجاز منظوری کے بغیر شالارتھ کے تنخواہی نظام میں شامل کیا گیا ہے۔اس کیس میں سرکاری خزانے کو تقریباً 160 کروڑ روپے کے نقصان کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ اسی تحقیقات میں ایک تعلیمی ادارے سے وابستہ 177 ملازمین کا معاملہ بھی سامنے آیا جہاں پولیس کے مطابق جعلی منظوری کے ریکارڈ تیار کیے گئے تھے۔ جولائی 2026 میں تعلیمی ادارے کے ڈائریکٹر سنجے بھاسکراؤ گڑوڑ کی گرفتاری نے معاملے کو مزید سیاسی اور انتظامی اہمیت دی۔ تاہم یہ بات اہم ہے کہ کسی بھی ملزم کی مجرمانہ ذمہ داری عدالت کے حتمی فیصلے کے بعد ہی طے ہو گی۔
کیا یہ صرف چند افسران اور اداروں کا معاملہ ہے؟
یہ تحقیقات کا سب سے بنیادی سوال ہے۔ اگر جعل سازی کسی ایک کلرک یا ایک اسکول انتظامیہ تک محدود ہوتی تو جعلی تقرری کو شالارتھ کے تنخواہی نظام تک پہنچانا مشکل ہوتا۔ مختلف معاملات میں تعلیمی افسران، اسکول انتظامیہ، ادارہ جاتی عہدیداروں اور دیگر افراد کے مبینہ کردار کی تحقیقات سامنے آئی ہیں۔ مثال کے طور پر فروری 2026 میں واشی پولیس نے ایک ریٹائرڈ ڈپٹی ڈائریکٹر آف ایجوکیشن سمیت 19 افراد کے خلاف تقریباً سوا کروڑ روپے کے مبینہ شالارتھ گھوٹالے میں ایف آئی آر درج کی۔ الزام تھا کہ جعلی دستاویزات کے ذریعے اساتذہ کی بھرتی اور سرکاری تنخواہوں کے اجرا کا راستہ بنایا گیا۔ یہ صورتِ حال اس شبہ کو تقویت دیتی ہے کہ بعض معاملات میں نچلی سطح کے جعل سازوں سے لے کر منظوری دینے والے حلقوں تک کئی کڑیاں شامل ہو سکتی ہیں۔ لیکن یہاں ایک اہم اصول یاد رکھنا ضروری ہے کہ الزام، ایف آئی آر، ایس آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ اور عدالت میں جرم ثابت ہو۔ اس کے لیے چار الگ مراحل ہیں۔ 
اورنگ آباد ڈویژن میں ایس آئی ٹی نے بڑی تعداد میں شالارتھ آئی ڈی فائلوں کی جانچ شروع کی۔ ایک رپورٹ میں تقریباً 14 ہزار شالارتھ آئی ڈی فائلوں کی جانچ کا ذکر کیا گیا۔ بعد میں ریاستی سطح پر ریکارڈ کی جانچ اور ڈیجیٹلائزیشن کی کوششیں بھی تیز ہوئیں۔ مارچ 2026 تک لاکھوں ملازمین کے ریکارڈ ڈیجیٹلائز کرنے کی اطلاع سامنے آئی، جبکہ اگست 2025 میں اسکولوں کو شالارتھ آئی ڈیز اور تقرری سے متعلق دستاویزات دوبارہ جمع کرانے کی ہدایات دی گئی تھیں۔ ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو سابقہ ریکارڈ کے نظام میں موجود خامیوں کا ادراک ہوا ہے۔
تاہم تحقیقات کے دوران ایک پیچیدہ صورتِ حال بھی پیدا ہوئی۔ مشتبہ تقرریوں اور شالارتھ آئی ڈیز پر کارروائی کے نتیجے میں بعض ایسے اساتذہ بھی زد میں آئے جنہوں نے برسوں تدریسی خدمات انجام دی تھیں اور جو اپنی تقرری و منظوری سے متعلق دستاویزات موجود ہونے کا دعویٰ کرتے تھے۔ مارچ 2026 میں حکومت نے عدالت کو بتایا کہ 637 زیرِ تفتیش معاملات میں 99 فیصد سے زیادہ تقرریاں شک کے دائرے میں ہیں جبکہ صرف پانچ ملازمین کے ریکارڈ قابلِ تصدیق پائے گئے تھے۔ یوں حکومت کے سامنے دو اہم ذمہ داریاں آ کھڑی ہوئیں: ایک طرف سرکاری خزانے کو جعلی ملازمین سے بچانا اور دوسری طرف حقیقی اور قانونی ملازمین کو غلط کارروائی سے محفوظ رکھنا۔
عدالتوں نے کیا کہا؟
بامبے ہائی کورٹ نے مارچ 2026 میں ایس آئی ٹی کو غیر مصدقہ اور نامعلوم شکایات کی بنیاد پر قانونی طور پر مقرر اساتذہ کو مسلسل شک کے دائرے میں رکھنے سے خبردار کیا۔ عدالت نے اس معاملے کو نہایت سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے تشویش ظاہر کی کہ بے بنیاد شکایات سے حقیقی اساتذہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ بعد میں ناسک کے تین اساتذہ کے معاملے میں بھی عدالت نے منظوری اور شالارتھ آئی ڈیز بحال کرتے ہوئے کہا کہ سماعت کا طریقہ کار مناسب نہیں تھا۔ عدالت کے مطابق ایک ہی دن میں بڑی تعداد میں ملازمین کو بلانا اور واضح الزامات کے بغیر کارروائی کرنا انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہے۔ یہ فیصلے ایک بنیادی حقیقت واضح کرتے ہیں: گھوٹالے کی تحقیقات ضروری ہیں لیکن تحقیقات کے نام پر ہر استاد کو مجرم سمجھنا بھی انصاف نہیں۔
سپریم کورٹ کا اہم موقف
فروری 2026 میں سپریم کورٹ نے بامبے ہائی کورٹ کی ناگپور بینچ کے اس عبوری حکم کو منسوخ کر دیا، جس کے ذریعے زیرِ تفتیش اساتذہ کی تنخواہیں جاری رکھنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ ایسا عبوری ریلیف بنیادی درخواست کے حتمی فیصلے کے مساوی اثر رکھتا تھا۔ ساتھ ہی مقدمے کو جلد نمٹانے کی ہدایت بھی دی گئی۔ بعد میں ہائی کورٹ میں تنخواہوں، شالارتھ آئی ڈیز اور قانونی طریقۂ کار سے متعلق کئی مقدمات سامنے آئے۔ بعض معاملات میں عدالت نے حکومت کی کارروائی کو ضروری قانونی تحفظات کے بغیر قرار دیتے ہوئے ملازمین کو راحت دی۔ اس سے واضح ہے کہ شالارتھ معاملہ صرف پولیس اور ایس آئی ٹی کی تحقیقات تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ انتظامی قانون، ملازمین کے حقوق اور قدرتی انصاف کا بھی ایک اہم عدالتی مسئلہ بن چکا ہے۔
اصل ناکامی ڈیجیٹل نظام کی تھی یا انسانی نگرانی کی؟
شالارتھ ایک ڈیجیٹل نظام ہے اور عام طور پر ڈیجیٹلائزیشن سے شفافیت بڑھنے کی توقع کی جاتی ہے۔ لیکن اگر غلط معلومات ہی نظام میں درج کر دی جائیں تو جدید ترین سافٹ ویئر بھی اسے درست نہیں کر سکتا۔
مثلاً: جعلی تقرری نامہ ،جعلی منظوری ، متعلقہ افسر کی مبینہ منظوری ، شالارتھ میں اندراج، ڈیجیٹل ریکارڈ میں محفوظ جعلی معلومات
لہٰذا مسئلہ صرف ٹیکنالوجی کا نہیں تھا۔ اصل کمزوری تصدیق کے نظام میں تھی۔ بنیادی سوالات یہ ہیں:
تقرری کس نے کی؟ عہدے کی منظوری کس نے دی؟ کیا اسکول میں واقعی یہ منظور شدہ اسامی موجود تھی؟ کیا امیدوار مطلوبہ اہلیت پر پورا اترتا تھا؟ کیا تقرری کے وقت متعلقہ حکومتی اجازت موجود تھی؟ شالارتھ آئی ڈی کس افسر نے منظور کی اور تنخواہ جاری کرنے سے پہلے کس سطح پر تصدیق کی گئی؟ اگر ان سوالات کے جواب مختلف سرکاری ڈیجیٹل نظاموں سے خودکار طور پر مل جائیں تو جعلی تقرری کو چھپانا بہت مشکل ہو جائے گا۔
نقصان صرف مالی نہیں
تقریباً 160 کروڑ روپے کا مبینہ نقصان یقیناً سنگین ہے لیکن اس معاملے کا اصل نقصان اس سے کہیں زیادہ وسیع ہو سکتا ہے۔ جعلی استاد کو تنخواہ دینے کا مطلب صرف سرکاری خزانے سے رقم کا نکلنا نہیں بلکہ ایک حقیقی اور مستحق امیدوار کے حق کا متاثر ہونا بھی ہے۔ جو نوجوان برسوں محنت، تعلیم اور اہلیت کے بعد سرکاری یا امداد یافتہ اسکول میں ملازمت کی امید رکھتا ہے وہ اگر کسی غیر قانونی تقرری کی وجہ سے محروم رہ جائے تو اس نقصان کی قیمت کسی سرکاری آڈٹ میں مکمل طور پر ظاہر نہیں ہوتی۔ اسی طرح اگر کسی اسکول میں ضرورت سے زیادہ ملازمین درج کیے جائیں تو طلبا اسکول کے بجٹ اور پورے تعلیمی انتظام پر اثر پڑ سکتا ہے۔
اب حکومت کو کیا کرنا چاہیے؟
اس معاملے سے نمٹنے کے لیے صرف گرفتاریاں کافی نہیں ہوں گی بلکہ حکومت کو چند بنیادی اقدامات کرنے ہوں گے:
ہر شالارتھ آئی ڈی کا مکمل فرانزک آڈٹ کیا جائے۔ ہر ملازم کی مرکزی ڈیجیٹل فائل تیار کی جائے جس میں تقرری، تعلیمی اہلیت، روسٹر، منظور شدہ اسامی، منظوری کا حکم، جوائننگ رپورٹ اور شالارتھ منظوری باہم مربوط ہوں۔ کسی بھی شالارتھ آئی ڈی کی منظوری کے لیے دو یا تین سطحی ڈیجیٹل تصدیق لازمی کی جائے۔ جعلی تقرری ثابت ہونے پر صرف امیدوار نہیں بلکہ جعلی منظوری دینے، ریکارڈ تبدیل کرنے یا مالی فائدہ پہنچانے والے ہر ذمہ دار فرد کے خلاف کارروائی کی جائے۔ رقم کے مبینہ لین دین کی مکمل مالیاتی تحقیقات کی جائیں۔ اگر کسی امیدوار سے 20 یا 30 لاکھ روپے لیے گئے تو یہ رقم کس تک پہنچی، اس سوال کو تحقیقات کا مرکزی حصہ ہونا چاہیے۔ قانونی طور پر مقرر اساتذہ کو محض شک کی بنیاد پر مجرم نہ سمجھا جائے اور انہیں مکمل قانونی سماعت کا حق دیا جائے۔
ایک بڑا سبق: ڈیجیٹل نظام بھی ملی بھگت سے محفوظ نہیں
شالارتھ آئی ڈی معاملہ مہاراشٹر حکومت کے لیے ایک بڑا سبق ہے۔ صرف ڈیجیٹل نظام بنا دینا شفافیت کی ضمانت نہیں ہوتا؛ اس میں درج معلومات کی قابلِ اعتماد، شفاف اور ناقابلِ مداخلت تصدیق زیادہ اہم ہے۔ اگر کاغذی جعلی دستاویز کو کسی افسر کی منظوری مل جائے اور پھر وہی معلومات ڈیجیٹل نظام میں درج ہو جائیں تو نظام اسے حقیقت سمجھ کر تنخواہ جاری کر سکتا ہے۔ اس لیے مستقبل کی اصلاح کا اصول سادہ ہونا چاہیے: ڈیجیٹل ریکارڈ سے پہلے ڈیجیٹل تصدیق۔
شالارتھ گھوٹالا: اعتماد کا بحران
شالارتھ آئی ڈی گھوٹالے کی تحقیقات نے مہاراشٹر کی تعلیمی انتظامیہ کے سامنے ایک بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے: اگر ایک جعلی تقرری برسوں تک سرکاری ریکارڈ، شالارتھ نظام اور تنخواہی فہرست میں موجود رہ سکتی ہے تو نگرانی کا نظام کہاں تھا؟
2025 میں 547 مشتبہ تقرریوں سے شروع ہونے والی بحث 2026 میں 841 ملازمین اور تقریباً 160 کروڑ روپے کے مبینہ نقصان والے ناسک ڈویژن کیس تک پہنچ چکی ہے۔ دوسری طرف عدالتوں میں ایسے اساتذہ بھی پہنچے جنہوں نے اپنی تقرریوں کو قانونی اور اپنی تنخواہوں کو جائز قرار دیتے ہوئے محکمہ تعلیم کی کارروائی کو چیلنج کیا۔ اس لیے اس معاملے میں دو انتہاؤں سے بچنا ضروری ہے۔ نہ ہر شالارتھ ملازم کو جعلی قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ہر جعلی تقرری کو محض انتظامی غلطی کہہ کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ حقیقی حل دستاویزی ثبوت، مالیاتی تحقیقات، ڈیجیٹل فرانزک آڈٹ، ذمہ دار افسران کی جواب دہی اور منصفانہ عدالتی طریقہ کار میں ہے۔
اور شاید اس پورے معاملے کا سب سے اہم سوال یہی ہے: اگر حکومت ایک جعلی استاد کی شناخت کر سکتی ہے تو اسے یہ بھی معلوم کرنا ہو گا کہ اس جعلی تقرری کو سرکاری نظام میں داخل کس نے کیا ہے۔ کیونکہ جعلی شالارتھ آئی ڈی بنانے والا ہاتھ جتنا اہم ہے، اسے سرکاری نظام میں قانونی حیثیت دینے والا ہاتھ اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔
مبینہ جعلی شالارتھ آئی ڈی گھوٹالے نے مہاراشٹر کے پورے تعلیمی شعبے کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ الزام ہے کہ جعلی آئی ڈیز تیار کرکے سرکاری نظام اور خزانے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ اسی تناظر میں مہاراشٹر ٹیچرز اینڈ نان ٹیچنگ کونسل نامی تنظیم نے وزیرِ تعلیم دادا بھوسے سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے میں نامزد یا مشتبہ افراد، جن میں ریٹائرڈ ڈپٹی ڈائریکٹر نتن اُپاسنی اور مفرور بتائے جانے والے ڈپٹی ڈائریکٹر بی بی چوہان بھی شامل ہیں، کے خلاف مکوکا کے تحت کارروائی کی جائے۔ تاہم، یہ مطالبہ تنظیم کا مؤقف ہے اور متعلقہ افراد کی قانونی ذمہ داری کا تعین تفتیش اور عدالت کے حتمی فیصلے کے بعد ہی ہو گا۔