ہندوستان کے آئین کی تمہید اسے ایک ’’سیکولر ڈیموکریٹک ریپبلک‘‘ قرار دیتی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 25 تا 28 میں شہریوں کو مذہبی آزادی، مذہبی اداروں کے انتظامات، کسی مخصوص مذہب کے فروغ کے لیے ٹیکس کے استعمال سے اجتناب اور تعلیمی اداروں میں مذہبی تعلیم کے حوالے سے بنیادی حقوق فراہم کیے گئے ہیں۔ آرٹیکل 25 صاف الفاظ میں کہتا ہے کہ تمام افراد کو یکساں طور پر ضمیر کی آزادی اور مذہب کو ماننے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کا حق حاصل ہے۔ لیکن ہندوستان کے موجودہ سیاسی و انتظامی منظرنامے کو دیکھتے ہوئے ایک بنیادی سوال بڑی شدت کے ساتھ سامنے آ رہا ہے کہ کیا آئین کا سیکولر کردار صرف دستور کے صفحات تک محدود رہ گیا ہے، جبکہ ہر لمحہ ریاستی مشینری کے عملی رویے میں اکثریتی مذہب کی علامتیں، رسومات اور تصورات نمایاں نظر آتے ہیں؟
یہ سوال کسی ایک پوجا، کسی ایک وزیر یا کسی ایک تقریب کے بارے میں نہیں ہے بلکہ یہ سوال اس وسیع تر رجحان کے بارے میں ہے جو ریاست، حکومت، پولیس، سرکاری منصوبوں اور سرکاری تقریبات میں ایک مخصوص مذہبی تہذیبی شناخت کے ساتھ دکھائی دیتا ہے۔ یہاں ایک بات ابتدا ہی میں واضح کردینا ضروری ہے کہ یہ کہنا کہ ہندوستان کی پوری سرکاری مشینری ہندو ہے صحیح نہیں ہوگا لیکن یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ریاستی اداروں کے عوامی رویے میں ہندو مذہبی رسومات اور علامتوں کی موجودگی کے متعدد دستاویزی واقعات موجود ہیں اور ان کا تسلسل سیکولر ریاست کی غیر جانب داری پر سنجیدہ سوالات پیدا کرتا ہے۔
سیکولرزم کا مطلب یہ نہیں کہ ہندوستانی شہری مذہب سے دستبردار ہو جائیں، نہ یہ ہندوؤں، مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں، جینوں یا بدھوں کو اپنے اپنے مذہب پر عمل کرنے سے روکتا ہے، اصل اصول یہ ہے کہ ریاست کسی ایک مذہب کی ریاست نہ بنے۔ ایک ہندو پولیس افسر دفتر پہنچ کر ذاتی طور پر پوجا کرتا ہے تو یہ اس کا مذہبی حق ہوسکتا ہے، اسی طرح ایک مسلمان افسر نماز پڑھتا ہے تو یہ بھی اس کا حق ہے، ایک سکھ افسر پگڑی پہنتا ہے تو یہ بھی اس کی مذہبی آزادی ہے، لیکن جب ریاست بحیثیت ادارہ کسی مخصوص مذہب کی عبادت کو سرکاری تقریب کا حصہ بناتی ہے تب سوال فرد کے مذہبی حق کا نہیں بلکہ ریاستی جانب داری کا ہو جاتا ہے۔ یہ فرق معمولی نہیں بلکہ ہندوستانی سیکولرزم کی بنیاد ہے۔
سپریم کورٹ نے نومبر 2024 میں بھی ’سیکولر‘ اور ’سوشلسٹ‘ الفاظ کو آئین کی تمہید میں شامل کرنے کے خلاف دائر درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان الفاظ کا آئینی مقام برقرار ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ہندوستانی آئینی نظام میں سیکولرزم کوئی معمولی سیاسی تصور نہیں بلکہ آئینی ڈھانچے کا اہم حصہ ہے۔
یہ سوال اس وقت زیادہ اہم ہو جاتا ہے جب کسی سرکاری منصوبے کا افتتاح یا سنگ بنیاد رکھا جاتا ہے۔ سرکاری سڑک، پل، ہسپتال، پولیس اسٹیشن، سرکاری دفتر، پارلیمنٹ یا کوئی اور عوامی منصوبہ کسی مذہبی فرقے کی ملکیت نہیں ہوتا۔ اس کی تعمیر میں پیسہ ٹیکس دہندگان کا ہوتا ہے، اس میں ہندو کا ٹیکس بھی شامل ہوتا ہے، مسلمان کا بھی، عیسائی کا بھی، سکھ کا بھی اور ان لوگوں کا بھی جو کسی مذہب کو نہیں مانتے۔ پھر اگر ایسے منصوبے کے آغاز کی سرکاری رسم کسی مخصوص مذہب کی پوجا پاٹ سے کی جاتی ہے تو سوال پیدا ہونا لازمی ہے، کہ کیا ریاست تمام شہریوں کی نمائندگی کر رہی ہے یا اکثریتی مذہبی روایت کو ریاستی روایت میں تبدیل کر رہی ہے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ کیا حکومت کے پاس مذہب کا متبادل موجود ہے؟ سنگ بنیاد رکھنے کے لیے آئین کی تمہید پڑھی جاسکتی ہے، قومی پرچم لہرایا جا سکتا ہے، قومی ترانہ بجایا جا سکتا ہے، منصوبے کے مقصد اور عوامی فائدے کی وضاحت کی جاسکتی ہے مگر کسی مذہبی عبادت کو لازمی بنانے کی کوئی انتظامی ضرورت نہیں ہے۔
دسمبر 2020 میں نئی پارلیمنٹ کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھومی پوجا کی تھی۔ یہ کسی نجی گھر کی تعمیر کا معاملہ نہیں تھا بلکہ ہندوستان کی سب سے اہم آئینی جمہوری علامت یعنی پارلیمنٹ کی عمارت کا معاملہ تھا، یہ سوال یہاں اور زیادہ بنیادی ہو جاتا ہے کہ پارلیمنٹ کس کی ہے؟ اگر پارلیمنٹ ہندوستان کے تمام شہریوں کی نمائندہ ہے تو اس کی سرکاری تقریب بھی ایسی ہونی چاہیے جس میں ہر شہری خود کو برابر کا شریک محسوس کرے۔
اسی طرح سنٹرل ویسٹا کی دوبارہ تعمیر کے آغاز کے موقع پر بھی بھومی پوجا کی سرکاری تقریب ہوئی اور مرکزی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار اس میں شریک تھے۔ حکومت کے اپنے پریس انفارمیشن بیورو کے ریکارڈ میں اس تقریب کا ذکر موجود ہے۔
یہاں مسئلہ یہ نہیں کہ بھومی پوجا ہندو مذہب میں کیا معنی رکھتا ہے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ کیا ہندوستانی ریاست کو اپنے عوامی منصوبوں کے آغاز کے لیے کسی مخصوص مذہبی رسم کو ریاستی علامت بنانا چاہیے؟ پولیس ریاست کی عام انتظامی مشینری سے بھی زیادہ حساس ادارہ ہے کیونکہ پولیس کے پاس طاقت اور قانون نافذ کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ اگر پولیس لائن میں شاستر پوجا ہو، پولیس کے ہتھیاروں کی مذہبی پوجا کی جائے اور وزیر اعلیٰ سرکاری حیثیت میں اس میں شریک ہو تو یہ محض کسی شہری کی ذاتی مذہبی آزادی نہیں رہتی۔ مثال کے طور پر اکتوبر 2025 میں مدھیہ پردیش کے اندور پولیس لائنز میں وزیر اعلیٰ موہن یادو نے وجے دشمی کے موقع پر شاستر پوجا میں شرکت کی، رپورٹ کے مطابق روایتی ہتھیاروں کے ساتھ جدید پولیس ہتھیار، حتیٰ کہ اے کے 47 بھی مذہبی رسم کا حصہ بنائے گئے اور ویدک منتر پڑھے گئے۔ کیا پولیس کی سرکاری تقریب کو کسی مذہبی رسم سے جوڑنا آئین کے مطابق ہے؟
اگر ایک مسلمان پولیس اہلکار اس رسم میں شرکت نہ کرنا چاہے تو کیا وہ صرف ’’روایت‘‘ کی وجہ سے شرکت کرے گا اور اگر ریاستی پولیس کے ہتھیار کسی دیوی کے سامنے رکھے جاتے ہیں تو کیا ایک غیر ہندو شہری کے لیے پولیس کی غیر جانب داری برقرار رہتی ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں ثقافتی روایت اور ریاستی غیر جانب داری ایک دوسرے کے بالمقابل آ جاتےہیں۔
یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ یہ سب صرف ماضی کے واقعات ہیں۔ 2025 کے آخر میں پریاگ راج میں میں ماگھ میلے کے انتظامات کے لیے سرکاری انفراسٹرکچر کی تعمیر کے آغاز سے پہلے بھومی پوجاکی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق شلوک اور منتر پڑھے گئے اور اسی منصوبے کے تحت 17 عارضی پولیس اسٹیشن، 40 پولیس آؤٹ پوسٹ اور دیگر سرکاری انتظامات قائم کیے گئے۔ ماگھ میلہ بذات خود ایک مذہبی میلہ ہے، اس لیے اس کے انتظامات سے متعلق مذہبی رسومات کا معاملہ کسی عام پولیس اسٹیشن یا سرکاری سکریٹریٹ سے مختلف ہے، لیکن یہ مثال اس بڑے رجحان کو ظاہر کرتی ہے کہ ریاستی انتظامیہ اور مذہبی تہوار کے درمیان فاصلہ مسلسل کم ہو رہا ہے۔
سرکاری بسوں میں دیوی دیوتاؤں کی تصویر کا معاملہ کچھ مختلف ہوسکتا ہے۔ اگر ایک بس ڈرائیور اپنی ذاتی عقیدت کے تحت ڈیش بورڈ پر کسی دیوتا کی تصویر رکھتا ہے تو اسے ریاستی ہندو ازم قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس کے مذہبی آزادی کے حق کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا لیکن اگر سرکاری ادارہ باضابطہ طور پر کسی ایک مذہب کی تصویر کو لازمی قرار دے یا تمام سرکاری گاڑیوں کو کسی مخصوص مذہبی علامت سے وابستہ کرے تو معاملہ بالکل مختلف ہوجائے گا۔ اسی لیے سیکولرزم کا درست معیار یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ’’کیا سرکاری دفتر میں کوئی مذہبی تصویر موجود ہے؟‘‘ بلکہ سوال یہ ہونا چاہیے کہ’’کیا ریاست اس مذہبی علامت کو اپنی سرکاری شناخت کے طور پر اختیار کر رہی ہے؟‘‘ یہ تفریق بہت اہم ہے۔
آرٹیکل 25 کے بنیادی اصول کے تحت ہر شخص ہے آزاد ہے، مذہبی آزادی صرف اکثریت کا حق نہیں ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 27 اس اصول کو تقویت دیتا ہے کہ ریاستی مالی وسائل کو کسی مخصوص مذہب کی تشہیر یا اس کے فروغ کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا، چنانچہ اسی بنیاد پر حج سبسیڈی بند کر دی گئی۔ لہٰذا اگر حکومت کسی مذہبی تقریب میں شریک ہوتی ہے تو کیا وہ ایک منتخب نمائندے کی ذاتی حیثیت ہے یا ریاست کی سرکاری حیثیت؟ وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ ایک فرد کی حیثیت سے جو چاہیں مذہبی عقیدہ رکھ سکتے ہیں لیکن جب وہ سرکاری عہدے، سرکاری پروٹوکول، سرکاری گاڑی، سرکاری عمارت، سرکاری افسران، سرکاری وسائل کے ساتھ کسی مذہبی رسم میں شریک ہوتے ہیں تو ذاتی حیثیت میں نہیں بلکہ سرکاری حیثیت میں شریک ہوتے ہیں۔
اکثر اس تنقید کے جواب میں کہا جاتا ہے کہ ’’بھومی پوجا ہندوستانی ثقافت ہے، اسے ہندو مذہب نہیں کہنا چاہیے۔‘‘ لیکن یہ دلیل بے بنیاد ہے اور آئینی سطح پر بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔ اگر کسی رسم کی بنیاد مذہبی عقیدے میں ہے اور اس میں مخصوص مذہبی منتر، دیوی دیوتاؤں کی پوجا اور مذہبی طریقہ کار شامل ہے تو اسے صرف ثقافت کہ دینے سے اس کی مذہبی نوعیت ختم نہیں ہوجاتی اور اگر واقعی اسے صرف ہندوستانی ثقافت قرار دیا جائے تو پھر ایک اور سوال پیدا ہوگا کہ کیا ہندوستانی ثقافت میں مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں، بدھوں، جینیوں، دلتوں اور قبائلی روایات کی کوئی جگہ نہیں ہے؟ ہندوستان کی ثقافت کو صرف ہندو مذہب کی ثقافت میں تبدیل کرنا خود ہندوستان کی تہذیبی کثرت کو ختم کرنا ہے۔
یہاں ہندوستانی سیکولرزم کا اصل امتحان سامنے آتا ہے۔ اقلیتوں کے مذاہب کے ساتھ رواداری دکھانا آسان ہے لیکن اصل امتحان یہ ہے کہ کیا اکثریت کی مذہبی روایت کو بھی ریاستی طاقت سے الگ رکھا جاسکتا ہے؟ اگر حکومت کسی مسلمان وزیر کو سرکاری تقریب میں نماز یا قرآن پڑھنے اجازت نہیں دیتی تو اسے ہندو وزیر کو بھی سرکاری تقریب میں پوجا کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ اگر ریاست کسی عیسائی پادری کو سرکاری دفتر میں بائبل پڑھ کر افتتاح کرنے کی دعوت نہیں دیتی تو اسے ہندو پجاری کو بھی ریاستی افتتاح کا حصہ نہیں بنانا چاہیے، اور یہ مذہب دشمنی نہیں ہے۔
اس بحث کو ہندو مخالف بنا دینا سب سے بڑی غلطی ہوگی۔ ہندو مذہب یا ہندو شہری مسئلہ نہیں ہے، مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہندو اکثریت – ہندو کلچر – نیشنل کلچر اور اسٹیٹ کلچر کا حصہ بن جائے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں جمہوری سیکولر ریاست کا تصور کمزور ہو جاتا ہے کیونکہ پھر مسلمان سے کہا جا سکتا ہے کہ "آپ ہندوستانی ہیں، لیکن یہ قومی ثقافت ہے۔’’ عیسائی سے کہا جا سکتا ہے کہ’’آپ کو مذہب کی آزادی ہے لیکن قومی تہذیب یہ ہے۔‘‘ قبائلی سے کہا جا سکتا ہے کہ’’آپ کی اپنی روایت ثانوی ہے، اصل ہندوستانی روایت یہ ہے۔‘‘ اور یہی وجہ ہے کہ سیکولرزم صرف مسلمانوں یا عیسائیوں کے لیے نہیں بلکہ خود ہندوؤں کے لیے بھی ہے۔ ریاست اگر آج مذہب کے نام پر طاقت استعمال کرنا شروع کرے گی تو کل کسی دوسرے مذہبی یا سیاسی رجحان کے تحت بھی یہی طاقت استعمال ہوسکتی ہے۔
جب سرکاری منصوبوں کا آغاز مذہبی رسومات سے ہو، پولیس کی تقریبات میں مذہبی پوجا شامل ہو، سرکاری عمارتوں میں مذہبی علامتیں غالب ہوں، سیاسی اقتدار مذہبی تہواروں کے ساتھ اپنی شناخت بنائے، ریاستی زبان اور سیاسی بیانیے میں ہندو تہذیب کو قومی تہذیب کے طور پر پیش کیا جائے تو انفرادی واقعات ایک دوسرے سے جڑ کر ایک انسٹیٹیوشنل پیٹرن تشکیل دیتے ہیں۔ یہ کہنا ابھی درست نہیں ہوگا کہ ہندوستان قانونی طور پر ہندو ریاست بن چکا ہے، کیونکہ آئین اب بھی سیکولر ہے، لیکن یہ کہنا بھی حقیقت سے آنکھیں بند کرنا ہوگا کہ ریاستی اداروں کے مذہبی علامتی رویوں میں اضافہ کوئی اہم سیاسی و آئینی مسئلہ نہیں ہے۔
حکومت اگر واقعی ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘ کی بات کرتی ہے تو اس کا سب سے واضح مظاہرہ سرکاری اداروں میں ہونا چاہیے۔ ایک مسلمان شہری جب پولیس اسٹیشن جائے تو اسے یہ محسوس ہو کہ پولیس اس کی حفاظت کے لیے ہے، نہ کہ کسی مذہبی اکثریت کی نمائندہ ہے! ایک عیسائی طالب علم سرکاری کالج میں داخل ہو تو اسے یقین ہو کہ ریاست اس کے عقیدے سے غیر جانب دار ہے۔ ایک سکھ شہری سرکاری دفتر جائے تو اسے یہ احساس نہ ہو کہ ریاستی ثقافت ہندو مذہب سے مخصوص ہے۔ ایک قبائلی، دلت یا ملحد شہری کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ اسے ریاست کے کسی مذہبی عمل کا حصہ نہ بننا پڑے، یہی سیکولرزم ہے۔
اس مسئلے کا حل مذہب کو ریاست سے مکمل طور پر ختم کرنا نہیں، بلکہ ریاستی مذہبی غیر جانب داری کے واضح ضابطے بنانا ہے۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو چاہیے کہ سرکاری عمارتوں، پولیس اداروں، سرکاری منصوبوں اور آئینی اداروں کے افتتاح اور سنگ بنیاد کے لیے ایک واضح نیوٹرل پروٹوکول بنائیں، مثال کے طور پر کسی مخصوص مذہب کی پوجا یا عبادت سرکاری تقریب کا حصہ نہ ہو، سرکاری وسائل کسی مخصوص مذہبی رسم کے لیے استعمال نہ کیے جائیں، سرکاری تقریبات میں آئین، قومی پرچم، قومی ترانہ اور شہری اقدار کو مرکزی علامت بنایا جائے، سرکاری ملازمین کو کسی مذہبی رسم میں شرکت پر مجبور نہ کیا جائے، پولیس، عدلیہ، پارلیمنٹ اور دیگر آئینی اداروں میں مذہبی غیر جانب داری کے اصول کو خصوصی اہمیت دی جائے، کسی ایک مذہب کی علامت کو ریاست کی علامت میں تبدیل نہ کیا جائے، اگر حکومت کسی مذہبی تہوار میں سرکاری حیثیت سے شرکت کرے تو تمام مذہبی برادریوں کے ساتھ مساوی اصول اپنایا جائے۔
ہندوستان کا آئین ابھی بھی سیکولر ہے، لیکن جمہوریت صرف آئین کے الفاظ سے نہیں چلتی بلکہ اداروں کے رویے سے بھی چلتی ہے۔ ایک طرف آئین کہتا ہے کہ تمام شہری برابر ہیں، دوسری طرف اگر ریاستی علامتیں مسلسل ایک مخصوص مذہبی روایت کے ساتھ وابستہ ہونے لگیں تو اقلیتوں کے ذہن میں ایک فطری سوال پیدا ہوگا کہ کیا یہ واقعی ان کی بھی ریاست ہے؟ یہ سوال معمولی نہیں ہے، کیونکہ ریاست کی طاقت کا سب سے بڑا سرچشمہ شہریوں کا اعتماد ہوتا ہے۔ اگر مسلمان کو پولیس اسٹیشن میں، عیسائی کو سرکاری دفتر میں، سکھ کو سرکاری ادارے میں، قبائلی کو انتظامیہ میں، دلت اور ملحد کو کسی عوامی ادارے میں یہ محسوس ہونے لگے کہ ریاست کی شناخت اس سے مختلف مذہبی شناخت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے تو آئین کا We The People of India یعنی ہم ہندوستان کے عوام‘‘ والا تصور کمزور پڑنے لگتا ہے۔ سیکولرزم کا مطلب یہ نہیں کہ ہندوستان اپنی تہذیب بھول جائے بلکہ یہ ہے کہ ہندوستان اپنی تہذیب کو کسی ایک مذہب کی ملکیت نہ بنائے، ہندوستان کی خوبصورتی یہ نہیں کہ یہاں ہندو اکثریت ہے بلکہ یہ ہے کہ ہندو اکثریت کے باوجود مسلمان، سکھ، عیسائی، بدھ، جین، قبائلی، دلت، ملحد اور دوسرے تمام شہری برابر کے ہندوستانی ہیں۔
اس لیے آج اہم سوال یہ نہیں کہ کیا ہندوستان ہندو ملک ہے؟ بلکہ یہ ہے کہ کیا ہندوستانی ریاست اب بھی ہر ہندوستانی کی ریاست کی طرح نظر آتی ہے؟ اور اگر اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہو تو ہمیں پارلیمنٹ کے بڑے بڑے دعوؤں سے زیادہ پولیس اسٹیشنوں، سرکاری اسکولوں، سرکاری دفتروں، سرکاری بسوں، سرکاری تقریبات اور سرکاری افسروں کے روزمرہ کے رویوں کو دیکھنا ہوگا، کیونکہ سیکولرزم صرف آئین کی تمہید میں لکھا ہوا ایک لفظ نہیں ہے بلکہ وہ احساس ہے جو ایک عام شہری کو ریاست کے دروازے پر قدم رکھتے وقت ہونا چاہیے کہ یہ ریاست میری بھی ہے۔ اگر یہ احساس کمزور پڑ رہا ہے تو پھر خطرہ صرف اقلیتوں کے لیے نہیں، ہندوستانی جمہوریت کے لیے بھی ہے۔
سیکولر آئین، مذہبی ریاستی عمل

کیا ہندوستان کی سرکاری مشینری اکثریتی مذہب کے رنگ میں ڈھل رہی ہے؟

