سیرتِ نبوی کے دو بڑے حصے ہیں: ایک کا تعلق نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی سے ہے اور دوسرے کا تعلق اس دین، اس نظام اور اس پیغام سے ہے، جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر نازل کیا اور جس پر خود آپ نے عمل کرکے دکھایا۔
نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی سے جس حصہ کا تعلق ہے اس کی دو نوعیتیں ہیں:
ایک یہ کہ آپ کہاں پیدا ہوئے؟ کب پیدا ہوئے؟ کس خاندان سے اور نبوت سے پہلے آپ کے سوانح حیات کیا ہیں؟ نیز یہ کہ ظہور قدسی کے وقت جزیرۃ العرب کے بالخصوص اور پوری دنیا کے بالعموم حالات کیا تھے؟
دوسری نوعیت یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنے آخری رسول کو بحیثیت رسول کیا مقام عطا فرمایا ہے؟ سیرتِ نبوی کے دوسرے حصے کی وسعت کا عالم یہ ہے کہ انسانی زندگی کا کوئی شعبہ اس کے دائرے سے باہر نہیں ہے۔ وہ ایک مکمل اور ہمہ گیر ضابطۂ حیات ہے۔ سیرتِ نبوی سے مراد یہ دونوں حصے ہیں۔
مطالعہ سیرت کی اہمیت
اس کی ایک واضح ناقابلِ انکار اہمیت یہ ہے کہ نبی ﷺ کے اتباع اور پیروی کے بغیر دین اسلام پر عمل ممکن نہیں ہے۔ کوئی مومن، اسلام کے اولین حکمِ اقامت ِ صلوٰۃ پر بھی عمل نہیں کرسکتا اگر آپ کی قولی و عملی تعلیم اس کے سامنے نہ ہو۔
داعیانِ حق اور اقامت دین کی جدوجہد میں حصہ لینے والوں کے لیے اس کی مخصوص اہمیت یہ ہے کہ اس کے بغیر وہ یہ مہم سر نہیں کرسکتے۔ کیوں کہ اقامت ِدین کا آخری نمونہ حضور کی سیرت میں موجود ہے۔ اگر اس کو نگاہوں سے اوجھل کردیا جائے تو اقامت دین کی جدوجہد کسی اور سمت مڑ جائے گی اور مڑنے والوں کو اس کا شعور بھی نہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم نے آپؐ کی سیرت کو قیامت کے لیے واجب العمل اسوئہ حسنہ کی حیثیت دے دی ہے:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللہَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَكَرَ اللہَ كَثِيْرًا (الاحزاب ۳۳: ۲۱) اور تمہارے لیے اللہ کے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے، ان کے لیے جو اللہ کی ملاقات اور روزِ آخرت کی توقع رکھتے ہیں اور اللہ کو زیادہ یاد کرتے ہیں۔
مطالعہ سیرت کی اہمیت کے پیش نظر یہ آیت بے حد قابلِ غور ہے اور ضروری ہے کہ ہرمسلمان اور خاص طور سے داعیِ حق کے ذہن میں تازہ رہے تاکہ وہ دعوتِ حق کے ہرموڑ پر اس سے روشنی حاصل کرسکے۔ ہم اس آیت کریمہ کے چند پہلوؤں پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔
سب سے پہلی چیز جو سامنے آتی ہے وہ اس آیت کا موقع و محل اور اس کا پس منظر ہے۔ موقع و محل غزوئہ احزاب سے تعلق رکھتا ہے۔ اس غزوے کی اہمیت یہ ہےکہ پوری سورہ کا نام ہی الاحزاب رکھ دیا گیا ہے۔ اس غزوہ کی خصوصیت یہ ہے کہ قبیلۂ قریش و دیگر قبائل اور یہودیوں کی متحدہ و مشترکہ طاقت (Allied Forces) نے مدینہ منورہ کی چھوٹی سی بستی پر یلغار کی تھی۔ یہ بات عرب کی تاریخ میں بالکل نئی تھی کہ اس طرح کی متحدہ مشترکہ طاقتوں نے کسی بستی پر حملہ کیا ہو۔ یہ صرف ان کی اسلام دشمنی تھی جس نے سب کو متحد کر دیا تھا۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ تمام غیر اسلامی طاقتیں خواہ ان کے درمیان باہمی اختلافات کتنے ہی شدید ہوں اسلام کے خلاف متحد ہو جاتی ہیں۔ آج بھی یہ حقیقت کھلی آنکھوں سے دیکھی جا رہی ہے۔
اس انتہائی خطرناک موقع پر منافقین نے جو روش اختیار کی تھی اس پر ان کی بزدلی اور بے حمیتی پہ غیرت دلانے کے لیے سرورِ عالمؐ کا اسوہ حسنہ پیش کیا گیا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ اصلاً یہ آیت میدانِ جہاد کے تعلق سے نازل ہوئی تھی اور کش مکشِ حق و باطل میں نبی کریم ﷺ کا اسوہ حسنہ پیش کیا گیا تھا۔ لیکن آیت کے الفاظ عام ہیں، اس لیے زندگی کے ہرشعبے میں آپ کی سیرتِ مبارک ہمارے لیے اسوہ حسنہ ہے۔ جو لوگ صرف نماز، روزہ اور مخصوص اوقات کے ذکر و تسبیح میں آپ کے اسوہ پر عمل کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے آپ کے اسوہ حسنہ کا کامل اتباع کرلیا ہے، وہ غلط سمجھتے ہیں اور ان کی پیروی ناقص پیروی ہے۔
دوسری چیز جو آیت کے اندر ہے وہ یہ ہے کہ ہر مدعی نبی کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ کی پیروی نہیں کرسکتا۔ اس کے لیے تین چیزیں ضروری ہیں: (۱) اللہ پر ایمان (۲) آخرت پر ایمان (۳) ذکرِ کثیر۔ ایمان وہ نہیں ہے، جس کے مدعی منافقین بھی تھے بلکہ مخلصانہ، زندہ اور مضبوط ایمان ہے اور ذکرِ کثیر (بہت زیادہ اور ہمیشہ ذکر الٰہی کرنا) ہی وہ چیز ہے ، جو ایمان باللہ اور ایمان بالیوم الآخرہ کو تازگی اور تقویت بخشتا ہے اور جس کا تعلق پوری زندگی سے ہے۔
تیسرا پہلو یہ ہےکہ یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تمام نبیوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ ان کے اسوہ کو بھی سورہ ممتحنہ کی دو آیتوں میں مومنوں کے لیے اسوہ حسنہ قرار دیا گیا ہے اور اس کی ایک آیت میں تو الفاظ بھی تقریباً یہی ہیں، جو سورہ اَحزاب کی اس آیت کے ہیں۔
پہلی آیت یہ ہے:
قَدۡ كَانَتۡ لَكُمۡ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ فِىۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۚ اِذۡ قَالُوۡا لِقَوۡمِهِمۡ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنۡكُمۡ وَمِمَّا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ كَفَرۡنَا بِكُمۡ وَبَدَا بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمُ الۡعَدَاوَةُ وَالۡبَغۡضَآءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤۡمِنُوۡا بِاللہ وَحۡدَهٗۤ (الممتحنۃ:۴)
ترجمہ: تم لوگوں کے لیے ابراہیم اور اس کے ساتھیوں میں ایک اچھا نمونہ ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے صاف کہہ دیا ’’ہم تم سے اور تمہارے اِن معبودوں سے جن کو تم خدا کو چھوڑ کر پوجتے ہو قطعی بیزار ہیں، ہم نے تم سے کفر کیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے عداوت ہوگئی اور بیر پڑگیا جب تک تم اللہ واحد پر ایمان نہ لاؤ۔‘‘
دوسری آیت یہ ہے:
لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِيۡهِمۡ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنۡ كَانَ يَرۡجُوا اللّٰهَ وَالۡيَوۡمَ الۡاٰخِرَ ؕ وَمَنۡ يَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡغَنِىُّ الۡحَمِيۡدُ (الممتحنۃ:۶)
ترجمہ:انہی لوگوں کے طرز عمل میں تمہارے لیے اور ہر اس شخص کے لیے اچھا نمونہ ہے جو اللہ اور روزِ آخر کا امیدوار ہو۔ اگر کوئی اس سے منحرف ہو تو اللہ بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔
اس وقت ان آیتوں پر مفصل گفتگو کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ مطالعہ سیرت کی اہمیت کے پیش نظران آیتوں کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔
مطالعہ سیرت کا مقصد
مطالعۂ سیرت کے مقصد کا تعیین بھی اتنا ہی اہم ہے، جتنا مطالعہ قرآن کے مقصد کا تعیین اہم ہے۔ جیسا مقصد ہوگا اسی کے لحاظ سے اس کا مطالعہ اور اس سے استفادہ بھی ہوگا۔ اگر کوئی محدود مقصد ہو تو اسی کے اعتبار سے سیرت کا مطالعہ بھی محدود ہوگا اور اس سے استفادہ بھی۔
فرض کیجیے کہ کسی شخص کا مقصد صرف یہ جاننا ہو کہ نبی ﷺ پانچ وقتوں اور تہجد کی نمازیں کتنی اور کس طرح ادا فرماتے تھے؟ سو کر اٹھتے تو کیا کرتے تھے؟ مختلف اوقات میں کیا دُعائیں مانگتے تھے اور آپ کی نشست و برخاست کیسی تھی؟ تو وہ انہی چیزوں کے مطالعہ کو اہمیت دے گا اور انہی سے استفادہ کرے گا۔
حضور ﷺ کی تبلیغ دین کی کوششوں، سفر طائف کی صبر آزمائیوں، بدر و حُنین کی جنگوں اور کشمکشِ حق و باطل کی مزاحمتوں کے مطالعہ سے اس کو کوئی حقیقی دل چسپی نہ ہوگی، اور سیرت کے اس حصے پر عمل اور اس سے استفادے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اگر وہ شخص مقرر ہو تو زیادہ سے زیادہ ان چیزوں کو جلسۂ سیرت، مجالس وعظ کی زیبایش اور اپنی مقبولیت کے لیے استعمال کرے گا۔ اس کے بر خلاف جو شخص اپنی پوی زندگی میں سیرتِ نبویؐ سے رہنمائی کا خواہش مند ہوگا، تبلیغ اسلام کو فرض سمجھ کر اس میں لگا ہوگا، وہ آپ کی پیدایش سے لے کر وفات تک پوری تاریخ کا اپنے مقصد کے لحاظ سے مطالعہ اور اس سے استفادہ کی پوری کوشش کرے گا۔
سیرتِ نبوی کا ماخذ
اس کا پہلا لاریب فیہ ماخذ قرآنِ کریم ہے۔ افسوس کہ ہمارے ہاں مسلمان جب علمی و عملی حیثیت سے زوال پذیر ہوئے تو مولود سعیدی اور مولود شہیدی جیسی کتابیں سیرت کا ماخذ بن گئیں، جو بیش تر من گھڑت حکایتوں اور روایتوں سے بھری ہوئی ہیں۔ یہ کتابیں بالخصوص دیہات میں پڑھنے اور میلاد خوانوں کی سہولت کے لیے لکھی گئی تھیں۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ سے جب نبی کریم ﷺ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب میں فرمایا تھا: کَانَ خُلْقُہُ الْقُرْاٰنَ (قرآن آپ کا اخلاق تھا)
ان کا یہ تاریخی اور قیامت تک باقی رہنے والا جملہ تقریروں میں دہرایا تو بہت گیا اور اب بھی دہرایا جاتا ہے لیکن یہ نہیں سمجھا گیا کہ حضرت عائشہؓ نے اپنے اس جملے میں دراصل قرآن کریم کو سیرتِ نبوی کا پہلا ماخذ قرار دیا تھا۔ قرآن کریم سے سیرتِ نبوی مرتب کرنے کی طرف بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ مثال کے طور پر قرآنِ کریم میں ہے:
لَقَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ اَنۡفُسِكُمۡ عَزِيۡزٌ عَلَيۡهِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِيۡصٌ عَلَيۡكُمۡ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ (التوبہ:۱۲۸)
ترجمہ: دیکھو! تم لوگوں کے پاس ایک رسول آیا ہے جو خود تم ہی میں سے ہے، تمہارا نقصان میں پڑنا اس پر شاق ہے، تمہاری فلاح کا وہ حریص ہے، ایمان لانے والوں کے لیے وہ شفیق اور رحیم ہے۔
اس آیت میں نبی اکرم ﷺ کے اخلاق و کردار کا جو چمن پُر بہار لہک رہا ہے، اگر قرآن اور صحیح احادیث اور سیرت و سوانح کی مستند روایات کی روشنی میں اس کی تصویر کشی کی جائے تو اس کے لیے ایک کتابچے کی ضخامت بھی کافی نہ ہوگی۔ ایک طرف اس سے:
وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ اِلَّا رَحۡمَةً لِّـلۡعٰلَمِيۡنَ (الانبیاء:۲۱)
ترجمہ: اے محمدؐ، ہم نے جو تم کو بھیجا ہے تو یہ دراصل دنیا والوں کے حق میں ہماری رحمت ہے۔ کے مفہوم پر روشنی پڑتی ہے اور دوسری طرف اس میں اہلِ ایمان کے لیے اس شفقت و رحمت کا اظہار ہے جو رأفت و رحمت الٰہی کا مظہر ہے۔ یہاں صرف چند اشارات بیان کیے جارہے ہیں:
پہلی بات یہ کہی گئی ہے کہ تمہارے پاس تم ہی میں سے جو رسول آیا ہے اس پر تمہارا ہلاکت میں پڑنا اور نقصان اُٹھانا بہت شاق ہے۔ وہ تمہیں ہر اس چیز سے بچانا چاہتا ہے جو تمہارے دنیوی و اُخروی نقصان و ہلاکت کا سبب بنے۔ اس کی جدوجہد اس لیے ہے کہ تم دنیا اور بالخصوص آخرت کی ہلاکت سے محفوظ رہو۔
دوسری بات یہ کہی گئی ہے کہ وہ تمہارے ایمان کا، تمہاری بھلائی کا اور تمہاری فلاح دارین کا حریص ہے۔ وہ اپنے لیے تم سے کچھ نہیں مانگتا بلکہ تمہاری نجات و فلاح کے لیے اپنی جان کھپا رہا ہے۔
تیسری بات خاص طور پر مسلمانوں سے کہی گئی ہے کہ وہ ان کے لیے رؤوف و رحیم اور سراپا شفقت و رحمت ہے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ رؤوف میں دفع شر (بُرائی کو مٹانے) کا اور رحیم میں جلب ِ خیر (بھلائی کے حصول) کا پہلو غالب ہے۔ یعنی وہ اہلِ ایمان سے ہر طرح کے شر کو دور کرنا چاہتا ہے اور ان کے لیے ہر طرح کی خیرکا خواہاں ہے۔ وہ انہیں دنیا میں مامون و محفوظ اور آخرت میں کامیاب و کامران دیکھنا چاہتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کے اخلاق و کردار کے ان تین کوزوں میں تین سمندر بند ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ خود اس پاک ذات نے آپ کے خلق عظیم کی شہادت دی ہے جس نے آپ کو روشن چراغ بنا کر مبعوث کیا تھا:
وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيۡمٍ (القلم:۴)
ترجمہ: اور بے شک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو۔
سیرت کا دوسرا ماخذ صحیح احادیث ہیں۔ قرآنِ کریم کے بعد مستندو معتبر ہونے کے لحاظ سے صحیح احادیث کا دوسرا درجہ ہے۔ کیوں کہ احادیث کے راویوں کی جتنی چھان پھٹک کی گئی ہے وہ سیرت و سوانح کے راویوں کی نہیں کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم کے بعد صحیح بخاری، صحیح مسلم اور مؤطا امام مالک صحیح ترین کتابیں سمجھی جاتی ہیں۔ سیرت و سوانح کی روایات صحیح احادیث کے مقابلے میں نہیں لائی جاسکتیں۔ جہاں تک سیرتِ نبوی کے دوسرے حصے، یعنی دین اسلام اور اس کی تعلیمات کا تعلق ہے اس میں تو صحیح احادیث کے دوسرے ماخذ ہونے میں کوئی شبہ ہے ہی نہیں۔ اور میرے خیال میں جس حصے کا تعلق آپ کی ذاتِ گرامی سے ہے اس میں بھی صحیح احادیث کو سیرت و سوانح کی روایات پر فوقیت حاصل ہے۔
حضور ﷺ کی تمام باتیں محفوظ کرکے صحابہ نے ہم مسلمانوں تک پہنچا دیں۔ مثال کے طور پر آپ کی شجاعت و دلیری سے متعلق ایک حدیث میں حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تمام انسانوں میں بہترین تھے۔ آپ سب سے زیادہ سخی تھے۔ آپ سب سے زیادہ شجاع اور بہادر تھے۔ ایک رات اہلِ مدینہ کسی آواز کی وجہ سے دہشت زدہ ہوگئے۔ کچھ لوگ دریافت حال کے لیے آواز کی طرف روانہ ہوئے۔ ابھی وہ راستے ہی میںتھے کہ رسول اللہ ﷺ واپس ہوتے ہوئے ملے۔ آپ دریافت حال کے لیے ان لوگوں سے پہلے آواز کی طرف جاچکے تھے۔ آپ ابو طلحہؓ کے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار تھے اور گلے میں تلوار حمائل (لٹکی ہوئی) تھی اور آپؐ فرما رہے تھے: ڈرو نہیں، ڈرو نہیں۔ اور ابو طلحہ کے گھوڑے کے بارے میں جو اپنی سبک رفتاری کے لیے مشہور تھا، آپ نے فرمایا کہ میں نے تو اس کو دریا پایا، یہ کہ وہ دریا ہی ہے۔
تیسرا ماخذ سیرت اور سوانح کی کتابیں ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت و سوانح پر دنیا کی ہر زبان میں بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں، لکھی جارہی ہیں اور لکھی جائیں گی۔ اوّلاً چونکہ یہ کتابیں عربی زبان میں لکھی گئی ہیں، اس لیے ان کتابوں کے اصل ماخذ وہی ہیں۔ ان میں سیرت ابن ہشام اور علامہ ابن قیم کی زادالمعاد کا خاص طور پر مطالعہ کرنا چاہیے۔ مطالعہ سیرت کے لیے اردو میں جو کتابیں لکھی گئی ہیں ان میں درج ذیل مستند، مفصل اور اہم ہیں:
-۱ علامہ شبلی نعمانی اور علامہ سیّد سلیمان ندوی کی سیرت النبی۔ اس کتاب کی سات جلدیں ہیں۔ یہ سیرتِ نبوی کا دائرۃ المعارف (انسائیکلوپیڈیا) ہے۔
-۲ علامہ سید سلیمان منصور پوری کی رحمۃ للعالمینؐ اور مولانا عبدالرؤف داناپوری کی اصح السیر۔
-۳مولانا سید ابوالاعلیٰ موددی کی سیرتِ سرورِ عالمؐ
-۴مولانا نعیم صدیقی کی محسنِ انسانیت ؐ
-5 مولانا ابو سلیم عبدالحی کی حیاتِ طیبہ
-۶ مولانا صفی الرحمٰن مبارک پوری کی الرحیق المختوم وغیرہ۔
سیرتِ نبویؐ کا چوتھا ماخذ تاریخِ عالم کی کتابیں ہیں۔ ہماری رائے میں اگر اسی ترتیب سے سیرت کا مطالعہ کیا جائے تو یہ سب سے زیادہ مستند اور معتبر طریقہ ہوگا، مثلاً قرآنِ کریم میں آپؐ کے بارے میں کوئی بات کہی گئی ہے وہ مجمل یا عمومی انداز میں ہے تو اس کی تشریح پہلے احادیث میں تلاش کرنی چاہیے۔ وہاں نہ ملے تو سیرت و سوانح کی کتابیں پڑھنی چاہئیں اور اگر ان کتابوں میں بھی نہ ملے تو تاریخِ عالم کی کتابیں پڑھنی چاہئیں۔
استفادے کا طریقہ
استفادے کے دو طریقے ہیں: علمی اور عملی۔ علمی طریقے کی تفصیل اُوپر گزری۔ عملی طریقہ یہ ہے کہ دین سے تعلق رکھنے والے ہر معاملے میں نبی اکرم ﷺ کے قول اور عمل کو سامنے رکھ کر اس پر اسی طرح عمل کیا جائے جس طرح آپ نے فرمایا یا خود اس پر عمل کیا ہے ۔ انسان کے ظاہر و باطن کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جس کی قولی و عملی تعلیم سیرتِ نبوی میں موجود نہ ہو۔
قرآنِ کریم نے تکمیل دین اور اتمامِ نعمت کا اعلان کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسانی نجات و فلاح اورانسان کے روحانی ارتقا سے متعلق کوئی چیز چھوڑی نہیں گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے ارشاد میں بھی بات واضح فرما دی ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے لوگو! ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو تمہیں جنّت سے قریب اور دوزخ سے دور کرتی ہو، اِلا یہ کہ میں نے تمہیں اس کا حکم دے دیا ہے۔ اور ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو تمہیں دوزخ سے قریب اور جنّت سے دور کرتی ہو، اِلا یہ کہ میں نے اس سے تمہیں منع کر دیا ہے۔
اس تفصیل سے ہمیں معلوم ہوا کہ سیرتِ نبوی کا مطالعہ کیسے کیا جائے؟ آج کے پُرفتن دور میں ہمیں اپنے بچوں کو، اپنے نوجوانوں کو اور دوستوں کو سیرتِ نبویؐ کی کتابوں کے مطالعے کی طرف توجہ دلانا چاہیے۔ سیرت کی کتابوں کو گھروں میں لانا چاہیے۔ اللہ ہم سب کو اس کی توفیق دے۔ (آمین)
(بشکریہ : عالمی ترجمان القرآن، دسمبر ۲۰۲۰ء)
سیرت النبی کا مطالعہ کیسے کریں؟


