ایس آئی آر کے حوالے سے سیاسی و سماجی ذمہ داریوں پر اظہارِ خیال
سیاسی جہد کاری محض انتخابات میں حصہ لینے یا کسی امیدوار کی حمایت تک محدود نہیں بلکہ عوامی زندگی کے معاملات پر مثبت اثر ڈالنا، مسائل کے حل کے لیے سرگرم رہنا اور عدل و انصاف پر مبنی سماج کی تعمیر میں کردار ادا کرنا اس کی اصل روح ہے۔
یہ بات نائب امیر جماعت اسلامی ہند ملک معتصم خان نے دارالسلام، بنگلورو میں جماعت اسلامی ہند، کرناٹک کے زیر اہتمام سیاسی و سماجی میدان میں سرگرم افراد کی ایک روزہ ورکشاپ کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ ریاست کے مختلف اضلاع سے سیاسی جہد کاروں نے ورکشاپ میں شرکت کی، جہاں خطابات کے ساتھ سوالات اور براہِ راست مکالمے کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔
ملک معتصم خان نے کہا کہ ایک مؤثر سیاسی جہد کار کے لیے سیاسی معلومات، واضح ویژن اور علمی بصیرت ضروری ہے۔ اسے ملک کے دستور، دستور ساز اسمبلی کی روداد، حکومتی بجٹ، پالیسیوں اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار سے واقف ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں سیاسی کارکنوں کی کمی نہیں ہے لیکن دستور، بجٹ، پالیسی سازی اور حکومتی نظام کی باریکیوں سے واقفیت کے معاملے میں موجود علمی و عملی خلا کو پُر کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند ملت اسلامیہ اور برادرانِ وطن کے درمیان عدل و قسط کی بنیاد پر ایک منصفانہ سماج کی تعمیر کے لیے سرگرم ہے۔
کرناٹک اسمبلی کے سابق اسپیکر رمیش کمار نے کہا کہ ملک میں امن کا اصل پیمانہ یہ ہے کہ عوام امن و اطمینان کے ساتھ زندگی گزار رہے ہوں۔ اگر معاشرے میں انتشار ہو اور مختلف طبقات اپنے حقوق کے لیے جدوجہد پر مجبور ہوں تو اقتدار کی ذمہ داری سنبھالنے والوں کو اس کا جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک غنڈہ گردی سے نہیں بلکہ دستور اور قانون سے چلتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد جن لوگوں نے ہندوستان کو اپنا وطن بنایا اور یہاں رہے وہ سب ہندوستانی ہیں اور کسی کو دوسروں کی حب الوطنی یا شہریت کی سند دینے کا حق نہیں۔ انہوں نے فرقہ پرستی کے خلاف متحد ہونے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کا دستور مضبوط ہے اور اسے کمزور نہیں ہونے دینا چاہیے۔ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اور ہندو راشٹر کا تصور ناقابل قبول ہے۔
راجیہ سبھا کے رکن منصور علی خان نے کہا کہ موجودہ حالات کی ساری ذمہ داری صرف حکم راں جماعت پر ڈال دینا کافی نہیں ہے بلکہ سیکولر جماعتوں اور خود مسلمانوں کے منتخب نمائندوں سے بھی جواب طلبی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ایک مسئلہ یہ ہے کہ ہم حکم رانوں، سیاسی جماعتوں اور اپنے نمائندوں سے مؤثر انداز میں سوالات نہیں کرتے۔
انہوں نے ملت کی ترقی کے لیے تعلیم کو بنیادی قرار دیتے ہوئے تعلیمی اداروں کے قیام، نوجوانوں کی رہنمائی، درست معلومات تک رسائی، سماجی خدمت، ٹیکنالوجی میں پیش رفت اور اجتماعی احساسِ ذمہ داری کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے شرکاء کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا: ’’مایوس نہ ہوں، ہمارا مستقبل روشن ہے۔‘‘
ورکشاپ کا ایک اہم حصہ صحافیوں کے ساتھ براہِ راست مکالمہ تھا، جس میں ٹائمز ناؤ کے سینئر صحافی عمران خان پٹھان، ادیب وانی کے رپورٹر سید رفیق اور دکن ہیرالڈ کے ارشاد احمد نے صحافت، میڈیا، سیاسی بیانیے اور عوامی مسائل سے متعلق سوالات کے جواب دیے۔ اس نشست میں اس بات پر زور دیا گیا کہ کسی مسئلے کو محض محسوس کرنا کافی نہیں بلکہ حقائق، درست معلومات اور مؤثر ابلاغ کے ساتھ اسے عوامی سطح پر پیش کرنا بھی ضروری ہے۔
کرناٹک اسٹیٹ مائنارٹی کمیشن کے چیئرمین یو نثار احمد (آئی پی ایس) نے کہا کہ بڑی جماعتوں اور تنظیموں کی سرگرمیوں کے باوجود مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ تعلیمی اور سماجی پسماندگی کا شکار ہے۔ انہوں نے جھونپڑ پٹیوں اور محروم بستیوں میں رہنے والے خاندانوں کے حالات کا زمینی جائزہ لینے اور میدانِ عمل میں اتر کر نئی قیادت اور باصلاحیت افراد کو تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
سید رفیق لنگسوگور نے مختلف سرکاری محکموں اور افسران کے ساتھ بہتر اور مسلسل رابطے کو عوامی مسائل کے حل کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے سیاسی و سماجی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ ہر سطح پر باوقار اور مثبت تعلقات قائم کریں۔
امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند، کرناٹک ڈاکٹر محمد سعد بلگامی نے سیاسی جہد کاروں سے کہا کہ وہ محض مبصر بن کر نہ رہیں بلکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے آگے بڑھیں، مظلوموں کی مدد کریں اور لوگوں سے مسلسل رابطے میں رہتے ہوئے اپنی شناخت ایک سنجیدہ، قابلِ اعتماد اور خدمت گزار کارکن کے طور پر قائم کریں۔
انہوں نے کرناٹک میں ایس آئی آر کے مسئلے کی طرف خصوصی توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ اس عمل سے ایک کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے سیاسی جہد کاروں پر زور دیا کہ وہ عوام کو درست معلومات فراہم کریں، ضرورت مندوں کی مدد کریں اور اس معاملے میں سرگرم تنظیموں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے عوامی بیداری پیدا کریں۔
اس سے قبل سکریٹری حلقہ جماعت اسلامی ہند، کرناٹک محمد یوسف کنہی نے افتتاحی گفتگو میں کہا کہ ورکشاپ کا مقصد محض تقاریر نہیں بلکہ شرکاء کو سوالات اور مکالمے کے ذریعے سیکھنے اور ماہرین سے براہِ راست استفادہ کا موقع فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جہد کار کے لیے ملکی سیاست کو سمجھنا، ملت کی حقیقی صورتِ حال سے واقف ہونا اور وسیع عوامی روابط قائم کرنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
ورکشاپ اس پیغام کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ سیاسی جہد کاری صرف ووٹ اور الیکشن تک محدود نہیں ہے بلکہ دستور کی آگہی، عوامی مسائل کی سمجھ، محروم طبقات تک رسائی، اداروں سے مؤثر رابطہ، نئی قیادت کی تیاری اور عدل و انصاف کے لیے مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔