طلبا کے احتجاج سے وزرا کی ریلز تک ۔ سیاست، بیانیہ، صحافت اور اقلیتوں کی جدوجہد ڈیجیٹل دنیا میں کس نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے؟
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے شاید کبھی سوچا بھی نہ ہوگا کہ کمرۂ عدالت میں نوجوانوں کے بارے میں ان کا ایک تبصرہ بھارت کی نئی نسل کے دلوں میں سلگتی بے چینی کو سوشل میڈیا پر اظہار کا موقع دے گا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ ایک وسیع عوامی تحریک کی صورت اختیار کر لے گا۔ سیاسی تجزیہ کار اب یہ تسلیم کرنے لگے ہیں کہ پارلیمنٹ مارچ کے دوران جین زی کے خلاف پولیس کی سخت کارروائی، مبینہ بربریت اور نوجوانوں کے پُرعزم ردِعمل نے بھارتی سیاست کے رخ پر اثر ڈالا ہے۔
جنتر منتر پر ایک ماہ تک جاری رہنے والے ان مظاہروں نے بی جے پی اور مرکزی حکومت کے اقتدار کے اس ڈھانچے کو چیلنج کیا ہے جو گزشتہ پندرہ برس سے بظاہر ناقابلِ مزاحمت دکھائی دیتا تھا۔ سرکاری ایجنسیوں، مذہبی برتری کے بیانیے اور مین اسٹریم میڈیا کے سہارے ایسا ماحول بن گیا تھا جس میں مزاحمت کی آواز کمزور پڑتی محسوس ہوتی تھی۔ لیکن حالیہ صورتِ حال نے نوجوانوں میں مزاحمت اور اظہارِ رائے کا ایک نیا حوصلہ پیدا کیا ہے۔ پارلیمنٹ مارچ کے دوران پولیس تشدد، پیلٹ گنوں کے استعمال اور بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کے باوجود اس جذبے کو دبایا نہیں جا سکا۔
یہ احتجاج بظاہر امتحانی پرچوں کے افشا کے ردِ عمل میں شروع ہوا تھا لیکن اس کی اصل جڑیں سماجی و سیاسی نظام کی شدید ناکامیوں میں پیوست تھیں۔ پیلٹ گنوں اور تشدد کے استعمال نے عوام میں شدید بیزاری پیدا کر دی ہے۔ اب یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ خوف کی فضا ختم ہو رہی ہے اور ملک ایک بار پھر حقیقی جمہوری بحالی کی طرف گامزن ہے۔اگرچہ مین اسٹریم میڈیا کی سوچ اور طرزِ عمل میں کوئی بڑی تبدیلی نظر نہیں آ رہی، لیکن انسٹاگرام، یوٹیوب، ایکس (ٹویٹر) اور فیس بک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کی وسعت نے متبادل مواقع فراہم کر دیے ہیں۔ جس سوشل میڈیا کو سیاسی جماعتوں نے عوامی رائے اور بیانیہ سازی کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا تھا، اب نئی نسل اسی میدان کو سیاسی طاقت، روایتی میڈیا اور سرکاری بیانیے کو چیلنج کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ ملک میں سیاسی مواصلات کا خاکہ تبدیل ہو رہا ہے۔ ایک طرف حکومت اور سیاسی جماعتیں جین زی اور جین الفا تک پہنچنے کے لیے 'انفلوئنسر اسٹائل پولیٹکس کا سہارا لے رہی ہیں، تو دوسری طرف یہی نسل ڈیجیٹل اسپیس کا استعمال اقتدار اور روایتی بیانیے کا محاکمہ کرنے کے لیے کر رہی ہے۔اسی کا نتیجہ ہے کہ برسوں تک سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا کے ذریعے یکطرفہ بیانیہ مرتب کرنے کا نظام پیچھے ہٹتا دکھائی دے رہا ہے۔ اب اس کے تدارک کے لیے جہاں آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت جین زی سے مکالمہ کرنے پر مجبور ہیں اور بی جے پی اپنی سوشل میڈیا ٹیم کی ازسرنو تشکیل کر رہی ہے، وہیں مرکزی حکومت پالیسی سطح پر نوجوانوں کی ناراضگی دور کرنے کے بجائے وزرا کو ریلز بنانے کا مشورہ دے رہی ہے۔ اس کشمکش میں سچ، صحافت، اقلیتیں اور جمہوریت کہاں کھڑے ہیں؟ کیا سوشل میڈیا سیاسی شعور پیدا کرنے کا ذریعہ بن رہا ہے یا یہ محض سیاسی جوڑ توڑ کا آلہ ہے، کیا حکومت اور سیاسی جماعتیں نوجوانوں سے حقیقی مکالمہ چاہتی ہیں یا صرف انہیں بہتر انداز میں ٹارگیٹ کرنا چاہتی ہیں یا مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقات کے لیے سوشل میڈیا صرف دفاع کا ذریعہ ہونا چاہیے یا اپنا مستقل، مثبت اور باوقار بیانیہ قائم کرنے کا میدان ہے؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاسی جماعت کے طور پر بی جے پی نے سوشل میڈیا کی سیاسی اہمیت کو بہت جلد سمجھ لیا تھا۔ روایتی سیاسی تشہیر کے مقابلے میں اس نے سوشل میڈیا کو عوام تک براہِ راست پہنچنے، سیاسی پیغام کو تیزی سے پھیلانے اور اپنی مقبولیت کے گرد ایک مضبوط ڈیجیٹل ماحول تشکیل دینے کے لیے استعمال کیا۔ 2014 کے عام انتخابات میں بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کی کامیابی کے پیچھے اس حکمت عملی کا بھی ایک اہم کردار سمجھا جاتا ہے۔ فیس بک، ایکس (سابق ٹویٹر) یوٹیوب اور بعد میں واٹس ایپ اور انسٹاگرام کے ذریعے پارٹی نے اپنے سیاسی پیغام کو لاکھوں لوگوں تک براہِ راست پہنچانے کا ایسا نظام قائم کیا جس میں روایتی میڈیا پر انحصار کم ہوگیا۔ پارٹی کے IT اور سوشل میڈیا نیٹ ورک نے حکومت کی کامیابیوں کو نمایاں کرنے کے ساتھ ساتھ مخالف جماعتوں کے بیانیوں کا فوری جواب دینے، کارکنوں کو متحرک کرنے اور مختلف سماجی گروہوں تک مخصوص پیغامات پہنچانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ WhatsApp کے مقامی گروپس، رضاکاروں کے نیٹ ورک، memes، مختصر ویڈیوز اور بعد میں influencers کے ذریعے سیاست کو ایک نئی ڈیجیٹل زبان دی گئی ہے۔
لیکن وقت کے ساتھ یہی ماڈل بی جے پی کے لیے ایک چیلنج بھی بننے لگا ہے۔ سوشل میڈیا کی طاقت صرف اس بات میں نہیں تھی کہ حکومت اپنے کام کی تشہیر براہِ راست عوام تک پہنچا سکتی تھی، بلکہ اس کی اصل طاقت یہ بھی تھی کہ عوام حکومت کی پالیسیوں، دعووں اور ترجیحات پر فوری ردعمل دے سکتے تھے۔ مخالفین کو کمزور کرنے، ان کی شبیہ مسخ کرنے اور جذباتی یا اشتعال انگیز مواد کو زیادہ سے زیادہ پھیلانے کی دوڑ میں سوشل میڈیا کا ایک بڑا حصہ تعمیری سیاسی مکالمے کے بجائے گالی گلوج، شخصی حملوں، تاریخی واقعات کی یک طرفہ تعبیر اور معاشرے کو مخصوص نظریاتی سانچوں میں دیکھنے کا ذریعہ بنتا گیا۔ اس کا ایک بڑا نقصان یہ ہوا کہ جس ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو حکومت نوجوانوں کی ترجیحات جاننے، ان کے مسائل براہِ راست سننے، پالیسی سازی میں ان کی شرکت بڑھانے اور عوامی شکایات کو سمجھنے کے لیے استعمال کرسکتی تھی، وہ بڑی حد تک اپنی شبیہ بہتر بنانے اور مخصوص سیاسی بیانیہ قائم کرنے کا میدان بنتی چلی گئی۔ یوں سوشل میڈیا کی بڑھتی ہوئی رسائی حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے کم کرنے کے بجائے بعض مواقع پر ایک ایسے محدود دائرے میں تبدیل ہوگئی جہاں حکومت کو وہی آوازیں زیادہ سنائی دینے لگیں جو پہلے سے اس کے بیانیے سے ہم آہنگ تھیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سوشل میڈیا کی سب سے بڑی طاقت اس کی سب سے بڑی کمزوری میں تبدیل ہونے لگی۔
حالیہ جین زی احتجاج نے اس صورت حال کو ایک نئی سمت دے دی ہے۔ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ جیسے طنزیہ نعروں، تصویروں اور مختصر ویڈیوز کے ذریعے نوجوانوں نے نہ صرف اپنے سیاسی غصے کا اظہار کیا بلکہ چند ہی گھنٹوں میں لاکھوں لوگوں تک اپنا پیغام پہنچانے کی صلاحیت کا بھی مظاہرہ کیا ہے۔ انسٹاگرام، یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر نوجوانوں کی غیر روایتی زبان، طنزو مزاح، مختصر ویڈیوز اور احتجاجی مواد نے روایتی سیاسی ابلاغ کے مقابلے میں ایک متبادل میدان پیدا کردیا ہے۔ دوسری طرف کانگریس سمیت حزب اختلاف کی جماعتوں نے بھی اس موقع کو حکومت کو جواب دینے اور اپنا سیاسی پیغام زیادہ مؤثر انداز میں عوام تک پہنچانے کے لیے استعمال کیا ہے۔ یوں وہ ڈیجیٹل دنیا جس پر ایک عرصے تک بی جے پی کی برتری سمجھی جاتی تھی، اب یک طرفہ نہیں رہی ہے۔مرکزی حکومت کی جانب سے وزراء کو سوشل میڈیا پر زیادہ فعال ہونے، مختصر ویڈیوز بنانے اور انسٹاگرام سمیت دیگر پلیٹ فارموں پر نوجوانوں سے زیادہ مؤثر انداز میں رابطہ قائم کرنے کی ہدایات کو اسی پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بظاہر یہ نوجوان نسل تک پہنچنے اور بدلتے ہوئے ابلاغی ماحول کے مطابق خود کو ڈھالنے کی کوشش ہے لیکن بنیادی سوال اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔کیا حکومت نے نوجوانوں کے غصے اور بے اطمینانی کے اصل اسباب کو سمجھ لیا ہے کہ کیا وہ صرف اپنی تشہیری حکمت عملی تبدیل کرکے اس ناراضگی کا جواب دینا چاہتی ہے؟ یہاں سوال محض سوشل میڈیا پر موجودگی کا نہیں بلکہ سیاسی ادراک کا ہے۔ کیا نوجوانوں کو مزید مختصر ویڈیوز دکھانے کی ضرورت ہے یا ان کے سوالات کے جواب دینے کی؟ کیا حکومت کو اپنی پالیسیوں کی بہتر تشہیر درکار ہے یا ان پالیسیوں کے بارے میں نوجوانوں کی رائے سننے کی زیادہ ضرورت ہے؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ کیا طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے سے حکومتیں کبھی کبھی اس صلاحیت سے محروم ہوجاتی ہیں کہ وہ اپنے بارے میں قائم کیے گئے بیانیے اور عوام کے حقیقی تجربے کے درمیان فرق کو محسوس کرسکیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر مسئلہ سوشل میڈیا کا نہیں بلکہ خود احتسابی اور عوامی مکالمے کے کمزور ہوتے ہوئے نظام کا ہے۔
19 اگست کو انڈیا ٹوڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں مئی سے 16 اگست کے درمیان وزراء کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان کی مقبولیت، تبصروں، پسندیدگی اور مختلف پلیٹ فارموں پر حاصل ہونے والی توجہ کو بھی جانچا گیا ہے۔ یہ جائزہ صرف وزراء کے باہمی موازنے تک محدود نہیں تھا بلکہ مختلف سطح کے سیاسی رہنماؤں کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کو بھی سامنے رکھا گیا تھا۔یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی وزیر کی کارکردگی کا پیمانہ اس کی وزارت کا کام ہونا چاہیے یا سوشل میڈیا پر اس کی مقبولیت؟ اگر کسی وزیر کا کام مؤثر ہے لیکن اس کی مختصر ویڈیوز مقبول نہیں ہوتیں تو کیا اسے ناکام ابلاغ کار قرار دیا جائے گا؟ اور اگر کسی وزیر کی ویڈیو لاکھوں مرتبہ دیکھی جاتی ہے لیکن زمینی سطح پر اس کی کارکردگی مختلف ہو تو کامیابی کا پیمانہ کیا ہوگا؟ اسی طرح وزراء کو یونیورسٹیوں کا دورہ کرکے طلبا سے براہِ راست رابطہ کرنے کی ہدایت بظاہر خوش آئند ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ مقصد طلبا کے مسائل اور ان کی آواز سننا ہے یا حکومتی بیانیے کے مطابق ان کی ذہن سازی کرنا؟یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے اور آمدنی حاصل کرنے کی ترغیب دیتے رہے ہیں، جبکہ حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی سوشل میڈیا کے حد سے زیادہ استعمال کو نوجوانوں کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہیں۔ اس متضاد نقطہ نظر کے درمیان سائنسی تحقیق ایک زیادہ متوازن تصویر پیش کرتی ہے۔ تحقیق کے مطابق سوشل میڈیا نوجوانوں کو معلومات، اظہارِ خیال، رابطے اور اپنی شناخت کے اظہار کے مواقع فراہم کرتا ہے، لیکن اس کا بے تحاشا یا غیر متوازن استعمال ذہنی صحت، نیند، خود اعتمادی اور توجہ پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ امریکی سرجن جنرل کے جائزے کے مطابق روزانہ تین گھنٹے سے زیادہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والے نوجوانوں میں ذہنی صحت سے متعلق مسائل کا خطرہ زیادہ پایا گیا ہے، تاہم تحقیق یہ بھی واضح کرتی ہے کہ سوشل میڈیا کے اثرات ہر نوجوان پر یکساں نہیں ہوتے۔لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ سوشل میڈیا نوجوانوں کے لیے زہر ہے یا نعمت، بلکہ یہ ہے کہ نوجوان اسے کس مقصد کے لیے، کس نوعیت کے مواد کے ساتھ اور کتنی حد تک استعمال کر رہے ہیں۔ یہی سوال ہمیں سوشل میڈیا کے اگلے اور زیادہ پیچیدہ پہلو—الگورتھم، غلط معلومات اور نفرت انگیز مواد—کی طرف لے جاتا ہے۔
رائٹرز انسٹیٹیوٹ کی 2026 کی رپورٹ بھی بھارت میں خبر کے بدلتے ہوئے ذرائع کی اسی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت میں نصف سے زیادہ جواب دہندگان خبروں کے لیے سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، جبکہ تقریباً 58 فیصد جواب دہندگان نے یوٹیوب کو خبروں کے حصول کا ذریعہ بتایا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سوشل میڈیا اب نوجوانوں کے لیے محض تفریح، وقت گزاری یا دوستوں سے رابطے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ خبر، سیاسی معلومات اور سماجی مباحث تک رسائی کا ایک اہم وسیلہ بن چکا ہے۔ خبر کی یہ منتقلی اپنے ساتھ ایک بڑا سوال بھی لاتی ہے جب خبر کسی اخبار کے ادارتی صفحے یا ٹیلی ویژن کے خبرنامے کے بجائے ایسی اسکرین پر پہنچے جہاں اسی وقت تفریح، سیاسی تشہیر، اشتہار، ذاتی رائے اور افواہ بھی موجود ہو تو عام صارف کے لیے ان سب کے درمیان فرق کرنا کتنا آسان رہ جاتا ہے؟ یہ تشویش اس لیے بھی اہم ہے کہ رائٹرز انسٹیٹیوٹ کی بھارت سے متعلق 2025 کی تحقیق میں غلط اور گمراہ کن معلومات کے بارے میں نمایاں تشویش سامنے آئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق 53 فیصد جواب دہندگان نے واٹس ایپ کو غلط اور گمراہ کن معلومات کے حوالے سے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔ اس صورت حال میں مسئلہ صرف یہ نہیں رہتا کہ کوئی جھوٹی خبر کتنے لوگوں تک پہنچتی ہے، بلکہ یہ بھی اہم ہوجاتا ہے کہ لوگ خبر کو کس ذریعے سے حاصل کررہے ہیں، اس کی تصدیق کیسے کرتے ہیں اور ایک ہی خبر کے بارے میں مختلف ذرائع سے ملنے والی متضاد معلومات میں سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کیسے قائم کرتے ہیں۔ یوں سوشل میڈیا نے خبر تک رسائی کو آسان ضرور کردیا ہے، لیکن خبر کی سچائی جانچنے کی ذمہ داری بھی پہلے سے کہیں زیادہ عام صارف کے کندھوں پر ڈال دی ہے۔
سوشل میڈیا کا پورا نظام الگورتھم کے ذریعے چلتا ہے۔ یہ الگورتھم صارف کی پسند، دلچسپی، تلاش، دیکھنے کے دورانیے، پسندیدگی اور ردعمل کا مسلسل تجزیہ کرتے ہیں اور پھر اسی بنیاد پر اس کی اسکرین پر نئے مواد کی ترجیح طے کرتے ہیں۔ بظاہر یہ سہولت محسوس ہوتی ہے کہ صارف کو اپنی پسند کا مواد آسانی سے مل جاتا ہے، لیکن اس کے اندر ایک گہرا مسئلہ بھی پوشیدہ ہے۔ اگر کوئی شخص بار بار کسی خاص نوعیت کی سیاسی، مذہبی یا اشتعال انگیز ویڈیو دیکھتا ہے تو سوشل میڈیا کا نظام یہ سمجھنے لگتا ہے کہ یہی مواد اس کی دلچسپی کا مرکز ہے اور پھر اسی نوعیت کی مزید ویڈیوز اس کے سامنے آنے لگتی ہیں۔ یوں صارف کو ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ پورا معاشرہ اسی طرح سوچ رہا ہے، حالاں کہ حقیقت میں وہ ایک ایسے محدود اطلاعاتی دائرے میں داخل ہوچکا ہوتا ہے جہاں اس کے سامنے زیادہ تر وہی خیالات آتے ہیں جو اس کی پہلے سے قائم رائے کو مضبوط کرتے ہیں۔یہ صورت حال اس وقت زیادہ خطرناک ہوجاتی ہے جب مواد کا تعلق مذہب، ذات، قومیت یا سیاسی شناخت جیسے حساس موضوعات سے ہو۔ اشتعال انگیز، خوف پیدا کرنے والا یا نفرت پر مبنی مواد عام طور پر فوری جذباتی ردعمل پیدا کرتا ہے۔ لوگ اسے زیادہ دیر تک دیکھتے ہیں، دوسروں کے ساتھ شریک کرتے ہیں، تبصرہ کرتے ہیں اور اس پر بحث کرتے ہیں۔ اس طرح ایک ایسا مواد جس کا مقصد ہی اشتعال پیدا کرنا ہو، غیر ارادی طور پر بھی زیادہ لوگوں تک پہنچنے کی صلاحیت حاصل کرلیتا ہے۔ یوں نفرت صرف کسی فرد یا تنظیم کی جانب سے پھیلائی جانے والی چیز نہیں رہتی بلکہ وہ پورے ڈیجیٹل نظام میں بار بار گردش کرنے والی ایک ایسی قوت بن سکتی ہے جسے ہر نیا ردعمل مزید طاقت فراہم کرتا ہے
مسلمانوں کے لیے سوشل میڈیا:دفاع سے آگے تعمیر تک
بھارت جیسے متنوع معاشرے میں یہ سوال اہم ہے کہ یہاں مذہب، ذات، زبان اور علاقائی شناخت پہلے ہی سیاسی اور سماجی مباحث کے حساس حصے ہیں۔ اگر سوشل میڈیا کے ذریعے کسی ایک طبقے کے بارے میں خوف، شک یا نفرت کو مسلسل تقویت ملتی رہے تو اس کے نتیجے میں سماجی فاصلے بڑھتے ہیں اور وہ سیاسی بیانیہ مضبوط ہوتاہے جس میں شہریوں کو ان کی مذہبی یا سماجی شناخت کی بنیاد پر دیکھا جاتا ہے۔ اس لیے سوشل میڈیا کی بحث کو صرف نوجوانوں کے وقت کے ضیاع یا ذہنی صحت تک محدود رکھنا کافی نہیں۔ یہ سوال بھی اتنا ہی اہم ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں کس کی تصویر بنائی جارہی ہے، کس کی آواز دبائی جا رہی ہے اور کس کے بارے میں ایک مخصوص تصور مسلسل لوگوں کے ذہنوں میں داخل کیا جارہا ہے۔یہیں سے مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقات کے لیے سوشل میڈیا کی بحث ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی ہے۔ اگر ایک طرف سوشل میڈیا ان طبقات کے خلاف غلط اطلاعات، نفرت انگیز مواد اور یک طرفہ بیانیے کو پھیلانے کا ذریعہ بن سکتا ہے تو دوسری طرف یہی پلیٹ فارم انہیں اپنی کہانی خود بیان کرنے، اپنے مسائل براہِ راست عوام تک پہنچانے اور روایتی ذرائع ابلاغ میں نظر انداز ہونے والی آوازوں کو سامنے لانے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
سوال اب صرف یہ نہیں رہتا کہ سوشل میڈیا پر ہمارے خلاف کیا کہا جارہا ہے اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنی حقیقت، اپنی تاریخ، اپنی جدوجہد اور اپنی موجودگی کو اس ڈیجیٹل دنیا میں کس طرح پیش کرسکتے ہیں؟سوشل میڈیا پر مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقات کے خلاف بنائے جانے والے منفی بیانیے کا جواب صرف تردید، شکایت اور دفاع تک محدود نہیں ہو سکتا ہے۔ اگر کسی برادری کے بارے میں مسلسل ایک خاص تصویر پیش کی جارہی ہے تو محض ہر جھوٹی خبر کا جواب دینا کافی نہیں ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ برادری اپنی زندگی، اپنی جدوجہد، اپنی کامیابیوں، اپنے مسائل اور اپنی شناخت کی کہانی خود بیان کرے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مسلمانوں کو محض مظلومیت کے بیانیے سے آگے بڑھ کر وقار کے بیانیے کی طرف جانے کی ضرورت ہے۔مسلمانوں کو کبھی قومی سلامتی کے مسئلے سے جوڑا جاتا ہے، کبھی آبادی، کبھی مذہب، کبھی تاریخ اور کبھی جرائم کے واقعات کو پوری برادری کی اجتماعی شناخت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس کا جواب ہر واقعے پر جذباتی ردعمل دینے سے نہیں بلکہ حقائق، اعداد و شمار، دستاویزات اور انسانی کہانیوں کے ذریعے دینا زیادہ مؤثر ہوسکتا ہے۔ اگر مسلم سماج کی سوشل میڈیا موجودگی صرف ردعمل تک محدود رہی تو وہ ہمیشہ دوسروں کے بنائے ہوئے موضوعات کے پیچھے چلتا رہے گا۔ اس کے برعکس اگر کمیونٹی میڈیا مقامی سطح کے مسائل کو دستاویزی شکل دے، سرکاری اعداد و شمار کا تجزیہ کرے، نوجوانوں کی کامیابیوں کو سامنے لائے، خواتین کی جدوجہد کو جگہ دے، تعلیمی اور معاشی پسماندگی کے اسباب پر تحقیق کرے اور عام مسلمانوں کی روزمرہ زندگی کو صحافتی موضوع بنائے تو وہ ایک متبادل اور باوقار عوامی بیانیہ تشکیل دے سکتا ہے۔اس بیانیے کا مطلب یہ نہیں کہ مسلمانوں کے مسائل یا ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو چھپایا جائے۔ ظلم کو ظلم کہنا اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔ لیکن ہر وقت صرف مظلومیت کو مرکز بنا دینے کا خطرہ یہ ہے کہ پوری برادری کی شناخت صرف اس کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں تک محدود ہوجائےگی۔ ایک مضبوط بیانیہ اس وقت تشکیل پاتی ہے جب ناانصافی کو بھی بیان کیا جائے اور اس کے ساتھ صلاحیت، مزاحمت، خود اعتمادی، تعلیم، محنت اور تعمیر کی کہانی بھی سنائی جائے۔اسی لیے مسلمانوں کے لیے سوشل میڈیا کی حکمت عملی کو تین سطحوں پر دیکھنے کی ضرورت ہے: دفاع، دستاویز اور تعمیر۔ دفاع اس وقت جب جھوٹی خبر یا نفرت انگیز مہم سامنے آئے؛ دستاویز اس وقت جب کسی ناانصافی، محرومی یا امتیاز کو ثبوت کے ساتھ محفوظ کرنا ہو؛ اور تعمیر اس وقت جب اپنی مثبت شناخت، اپنی صلاحیتوں اور اپنی مستقبل کی ترجیحات کو معاشرے کے سامنے پیش کرنا ہو۔لیکن یہاں ایک اور بنیادی سوال کھڑا ہوتا ہے: کیا ہمارے ادارے ایسے نوجوان تیار کررہے ہیں جو اس نئے ابلاغی ماحول کو سمجھتے ہوں؟ کیا ہم ایسے صحافی، محقق، ویڈیو ساز، مصور، اعداد و شمار کے ماہر اور ابلاغی کارکن تیار کررہے ہیں جو مسلمانوں کو صرف مظلومیت کی نفسیات سے نکال کر تعمیرِ معاشرہ کے سفر میں شریک کر سکیں؟ کیا ہمارے تعلیمی، سماجی، مذہبی اور صحافتی ادارے نوجوانوں کو صرف سوشل میڈیا استعمال کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں یا انہیں یہ بھی سکھا رہے ہیں کہ معلومات کی جانچ کیسے کی جاتی ہے، جھوٹ اور پروپیگنڈے کی شناخت کیسے ہوتی ہے اور ایک ذمہ دار عوامی بیانیہ کیسے تشکیل دیا جاتا ہے؟۔
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ دنیا بھر میں ابلاغ کا نظام تیزی سے تبدیل ہورہا ہے۔ روایتی اخبارات اور ٹیلی ویژن اب بھی اہم ہیں، لیکن اطلاعات کے حصول، رائے سازی اور سماجی رابطے کا بڑا حصہ ڈیجیٹل دنیا میں منتقل ہوچکا ہے۔ ایسے میں مسلم معاشرے کے لیے سوشل میڈیا سے فرار کا راستہ موجود نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس نئے ماحول کو سمجھا جائے، اس کے خطرات سے آگاہ رہا جائے اور اس کے امکانات کو تعمیری مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔
نوجوانوں کے حالیہ احتجاج نے یہ ضرور دکھایا ہے کہ نئی نسل سیاسی اور سماجی مسائل کو روایتی خانوں میں دیکھنے کے لیے ہمیشہ تیار نہیں۔ نوجوان اگر مذہبی تقسیم، نفرت اور جذباتی نعروں کے بجائے تعلیم، روزگار، امتحانات، مستقبل اور شہری حقوق جیسے سوالات کو سیاسی بحث کے مرکز میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں تو یہ ایک اہم تبدیلی کی علامت ضرور ہے۔ لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ نفرت پر مبنی سیاست ختم ہوگئی ہے یا مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی کوششیں خود بخود رک جائیں گی۔ سیاسی بیانیے طاقتور ہوتے ہیں، وہ شکست کے بعد بھی نئے انداز میں واپس آسکتے ہیں۔ اس لیے کسی ایک احتجاج یا کسی ایک ڈیجیٹل لہر کو مستقل تبدیلی سمجھ لینا بھی درست نہیں ہوگا۔اصل سوال یہی ہے کہ کیا مسلمان اپنی کہانی سنانے کے لیے تیار ہیں اور اگر تیار ہیں تو کس طرح؟ اس پوری بحث کا سب سے اہم سبق ہے۔ سوشل میڈیا صرف یہ طے نہیں کرتا کہ کون دکھائی دے رہا ہے بلکہ یہ بھی طے کرنے کی طاقت رکھتا ہے کہ معاشرہ کس کو کس نظر سے دیکھے۔ اس لیے مسلمانوں کے لیے اصل چیلنج سوشل میڈیا پر موجود ہونا نہیں بلکہ وہاں اپنی حقیقت کو ذمہ داری، تحقیق اور وقار کے ساتھ پیش کرنا بھی ہے۔