۵۔ اندھی تقلید
اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل، شعور اور اختیار عطا کیا ہے تاکہ وہ حق و باطل میں فرق کرے۔ انسان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ دلیل کی بنیاد پر فیصلہ کر سکتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے اندھی تقلید، بے بنیاد قیاس، توہم پرستی اور غیر ثابت شدہ باتوں پر یقین کرنے سے سختی کے ساتھ منع کیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی انسان نے وحیِ الٰہی کو چھوڑ کر قیاس و گمان، آبا و اجداد کی اندھی تقلید یا انسانی خواہشات کو معیار بنایا تو وہ فکری، اخلاقی اور روحانی گمراہی کا شکار ہو گیا۔
اندھی تقلید سے مراد یہ ہے کہ انسان کسی شخص، خاندان، مذہبی پیشوا یا معاشرتی روایت کو بغیر دلیل کے محض اس لیے صحیح مان لے کہ اس کے بزرگ ایسا کرتے آئے ہیں۔ قرآنِ مجید نے متعدد مقامات پر اس ذہنیت کی مذمت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے نازل کردہ حکم کی پیروی کرو تو وہ کہتے ہیں کہ نہیں، ہم تو اسی طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے ہوں اور نہ ہدایت یافتہ ہوں۔‘‘ (سورۃ البقرۃ: ۱۷۰) ایک اور مقام پر فرمایا گیا: ’’اور اسی طرح ہم نے تم سے پہلے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوش حال لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں۔‘‘ (سورۃ الزخرف: ۲۳) یہی رویہ حضرت ابراہیم اور حضرت نوح علیہم السلام کی قوم، فرعون کے پیروکاروں اور رسول اللہ ﷺ کے مخالفین میں مشترک تھا۔
اسلام نے اندھی تقلید کے ساتھ بے بنیاد قیاس و گمان کی بھی مذمت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اکثر لوگ صرف گمان کی پیروی کرتے ہیں، حالانکہ گمان حق کے مقابلے میں کچھ بھی فائدہ نہیں دیتا۔‘‘ (سورۃ یونس: ۳۶) یہ تعلیم صرف مذہبی معاملات تک محدود نہیں بلکہ روزمرہ زندگی، تجارت، عدالت، خاندان اور معاشرت کے ہر شعبے پر لاگو ہوتی ہے۔ اکثر لوگ اس اصول کو پیشِ نظر نہ رکھنے کی وجہ سے اپنی زندگی میں بہت نقصان اٹھاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو دلائل اور معجزات کے ساتھ بھیجا۔ اسلام انسان سے اندھی تقلید نہیں بلکہ غور و فکر کا مطالبہ کرتا ہے۔ قرآن بار بار سوال کرتا ہے ’’کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟‘‘، ’’کیا تم غور نہیں کرتے؟‘‘، ’’کیا تم تدبر نہیں کرتے؟‘‘ قرآن تقریباً سات سو سے زیادہ مقامات پر انسان کو سوچنے، دیکھنے، سمجھنے اور استدلال کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اسلام میں ایمان اندھے یقین کا نہیں بلکہ علمِ وحی اور عقل کے امتزاج کا نام ہے، جبکہ انسانوں کے بنائے ہوئے مذاہب علمِ وحی کے بجائے انسانی قیاس، فلسفوں یا ثقافتی روایات پر قائم ہوتے ہیں۔
رسولوں کے بعد پچھلی قوموں میں وحی کے علم کے گم ہو جانے کے بعد وقت کے ساتھ اصل دین میں نئی نئی رسومات، توہمات اور غیر منطقی عقائد شامل ہوتے چلے گئے۔ ایسے مذاہب اہم سوالات کے تسلی بخش جواب نہیں دے پاتے، مثلاً: انسان کیوں پیدا ہوا؟ زندگی کا مقصد کیا ہے؟ موت کے بعد کیا ہوگا؟ خیر و شر کا معیار کیا ہے؟ اخلاق کی بنیاد کیا ہے؟ نتیجتاً بہت سے لوگ ان غیر منطقی عقائد سے مایوس ہو کر مذہب ہی سے بدظن ہو جاتے ہیں، حتیٰ کہ خدا، روح اور آخرت کے بھی منکر بن جاتے ہیں۔
دینِ اسلام کا معاملہ بہت مختلف ہے۔ اسلام سوال کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ’’اے میرے رب! مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے۔‘‘ (سورۃ البقرۃ: ۲۶۰) یہ سوال شک کی وجہ سے نہیں بلکہ اطمینانِ قلب کے لیے تھا۔ اسی طرح قرآن بار بار مخالفین سے کہتا ہے ’’اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل پیش کرو۔‘‘ (سورۃ البقرۃ: ۱۱۱)۔ یہی علمی رویہ ہے جو انسان کو گمراہی سے محفوظ رکھتا ہے۔
قیاس و گمان کی ایک خطرناک شکل توہم پرستی ہے۔ لوگ بعض دنوں، اعداد، جانوروں، درختوں، گھروں، عورتوں یا افراد کو منحوس سمجھ لیتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اسلام میں بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں۔‘‘ مزید فرمایا: ’’جس شخص کو بدشگونی کسی کام سے روک دے، اس نے شرک کا ایک شعبہ اختیار کیا۔‘‘
بدقسمتی سے جدید سائنس کے دور میں بھی بھارت میں جادو ٹونے، کالا جادو، ڈائن قرار دینے اور انسانی قربانی جیسے توہمات کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ National Crime Records Bureau (NCRB) کے اعداد و شمار کے مطابق مختلف برسوں میں توہم پرستی، انسانی قربانی اور جادو ٹونے سے متعلق جرائم درج کیے گئے ہیں۔ خصوصاً قبائلی اور دیہی علاقوں میں خواتین کو ’’ڈائن‘‘ (Witchcraft) قرار دے کر تشدد یا قتل کے واقعات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ مختلف سرکاری اور غیر سرکاری مطالعات کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں ایسے ہزاروں واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
خبروں میں متعدد ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں دولت، اولاد یا کامیابی کے حصول کے لیے بچوں کو اغوا کرکے ان کی قربانی دی گئی۔ یہ تمام واقعات اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ جب انسان وحی کی ہدایت سے دور ہو جاتا ہے تو توہمات اسے انتہائی سفاک جرائم تک پہنچا دیتے ہیں۔ لاکھوں افراد بیماری، بے روزگاری، شادی، اولاد یا کاروباری مشکلات کے حل کے لیے خود ساختہ باباؤں اور عاملوں کے پاس جاتے ہیں۔ کئی نام نہاد روحانی پیشواؤں پر مالی دھوکہ دہی، جنسی استحصال، قتل، غیر قانونی قبضوں اور دیگر سنگین جرائم کے مقدمات قائم ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود لوگ اندھی عقیدت کے باعث ان کی پیروی کرتے رہتے ہیں۔ یہ رویہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ اندھی تقلید عقل کو مفلوج کر دیتی ہے۔
بھارت میں قبائلی علاقوں میں خواتین کو ’’ڈائن‘‘ قرار دے کر ان کا قتل کیا جاتا ہے۔ ۲۰۰۱ء تا ۲۰۱۶ء کے دوران NCRB کے مطابق ۲۴۶۸ افراد قتل کیے گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ اس طرح کے واقعات دوسری وجوہات کے طور پر درج ہو جاتے ہیں۔ بھارت میں انسانوں کی بھینٹ چڑھانے یا بلی دینے کا رواج صدیوں سے چلا آ رہا ہے۔ NCRB نے گزشتہ چند برسوں سے Human Sacrifice کو الگ زمرے میں شامل کرنا شروع کیا ہے۔ مختلف NCRB رپورٹس کے مطابق ۲۰۱۴ء تا ۲۰۲۱ء کے درمیان سو سے زیادہ انسانی قربانیوں کے مقدمات ریکارڈ ہوئے۔ NHRC (National Human Rights Commission) کے مطابق جادو ٹونے کے الزام میں ۲۰۲۵ء میں بہار کے ضلع پورنیہ میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کو زندہ جلا دیا گیا۔
آج اندھی تقلید صرف مذہبی معاملات تک محدود نہیں رہی۔ سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق کے خبریں، ویڈیوز اور افواہیں پھیلائی جاتی ہیں۔ جھوٹی خبروں کی بنیاد پر ہجوم تشدد پر اتر آتا ہے، بے گناہ افراد قتل ہو جاتے ہیں اور بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ پوری خبر ہی جھوٹی تھی۔
اسلامی حل
قرآن کے مطابق گمراہی کی تین بنیادی وجوہ ہیں:
(۱) اندھی تقلید: قرآن میں اس گمراہی کے بارے میں فرمایا گیا ہے: ’’ہم نے اپنے باپ دادا کو جس طریقے پر پایا ہے، ہم اسی کی پیروی کریں گے۔‘‘ (البقرۃ: ۱۷۰)
(۲) قیاس و گمان: اس کے بارے میں فرمایا گیا: ’’اکثر لوگ صرف گمان کی پیروی کرتے ہیں، حالانکہ گمان حق کے مقابلے میں کچھ بھی فائدہ نہیں دیتا۔‘‘ (یونس: ۳۶)
(۳) تحقیق کے بغیر بات مان لینا: اس کے بارے میں فرمایا گیا: ’’اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو۔‘‘ (سورۃ الحجرات: ۶)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کرتا پھرے۔‘‘
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں۔‘‘
اسلام انسان کو تین بنیادی اصول دیتا ہے کہ ہر عقیدے کو عقل کی کسوٹی پر پرکھا جائے، ہر دعوے کی دلیل طلب کی جائے اور کسی بھی خبر یا روایت کو تحقیق کے بغیر قبول نہ کیا جائے۔ اندھی تقلید، بے بنیاد قیاس، توہمات اور غیر مصدقہ روایات انسان کی عقل کو مفلوج کر دیتی ہیں۔ یہی رویے شرک، بدعات، جھوٹے عقائد، مالی استحصال، سماجی ظلم، انسانی قربانی، جادو ٹونے، افواہوں اور اخلاقی تباہی کا سبب بنتے ہیں۔
اسلام انسان کو ایک ایسے علمی اور فکری راستے کی دعوت دیتا ہے جس کی بنیاد وحی، عقل، تحقیق اور دلیل پر قائم ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو دنیا میں صحیح فیصلے کرنے کی صلاحیت دیتا ہے اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بنتا ہے۔ لہٰذا ہر انسان کا فرض ہے کہ وہ نہ قیاس و گمان کی پیروی کرے، نہ آباؤ اجداد کی اندھی تقلید کرے اور نہ ہی کسی شخص کی بات کو بغیر دلیل کے قبول کرے، بلکہ ہر عقیدے، ہر نظریے اور ہر روایت کو قرآن، سنت اور عقل کی روشنی میں پرکھے۔ یہی حق کا راستہ ہے اور یہی حقیقی آزادیِ فکر ہے۔
قرآن خود اپنے پڑھنے والے سے کہتا ہے: ’’کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟‘‘ (سورۃ النساء: ۸۲)
مزید فرمایا گیا: ’’بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات اور دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ (سورۃ آل عمران: ۱۹۰)
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ اسلام کسی انسان سے اندھی اطاعت کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ ہر دعوے کو دلیل، وحی اور عقل کی کسوٹی پر پرکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔
اسلام کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی بزرگ، شیخ یا عالم کو معصوم (Infallible) نہیں سمجھا جا سکتا، سوائے رسول اللہ ﷺ کے، کیونکہ آپؐ کی تعلیمات وحیِ الٰہی پر مبنی ہیں۔ اسلام ہر مسلمان کو قرآن کو سمجھ کر پڑھنے، اس میں غور و فکر کرنے، مستند علماء سے اشکالات دور کرنے، ہر دعوے کے لیے دلیل طلب کرنے اور شخصیت پرستی سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلام یہ بھی سکھاتا ہے کہ اگر کوئی مذہبی یا روحانی شخصیت قرآن و سنت کے خلاف کوئی بات کہے یا اپنے لیے غیر معمولی اختیارات کا دعویٰ کرے تو اس کی پیروی نہیں کی جا سکتی۔
اندھی تقلید فکری غلامی کو جنم دیتی ہے، جبکہ اسلام انسان کو علم، عقل، تحقیق اور ذمہ دارانہ سوچ کے ذریعے آزاد کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن بار بار سوال کرتا ہے: ’’کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟‘‘ اور ’’کیا تم غور و فکر نہیں کرتے؟‘‘ اسلام کا پیغام یہ ہے کہ ایمان دلیل، یقین اور شعوری انتخاب پر قائم ہونا چاہیے، نہ کہ آبا و اجداد کی تقلید، قیاس و تخمین یا شخصیت پرستی پر!
۶۔ اونچ نیچ اور ذات پات کا مسئلہ
ذات پات کا مسئلہ بھارت کے معاشرے کا ایک سنگین مسئلہ ہے جو دنیا میں اس سطح پر کہیں اور نہیں پایا جاتا۔ یہ ایک عقیدے کا مسئلہ بن چکا ہے کہ خدا کے مختلف اعضا سے چار طبقات کو پیدا کیا گیا ہے۔ رگ وید کے مطابق برہمن برہما کے منہ سے پیدا ہوئے، چھتری اس کے بازوؤں سے پیدا ہوئے، ویش اس کی رانوں سے پیدا ہوئے اور شودر اس کے قدموں سے پیدا ہوئے۔ اس لیے برہمنوں کا کام مذہبی رسومات ادا کرنا قرار پایا، چھتریوں کی ذمہ داریوں میں حکومت، جنگ، رعایا کی حفاظت اور قانون نافذ کرنا شامل ہے، ویشیا طبقے کے کاموں میں تجارت، زراعت، مویشی پالنا اور معیشت کو چلانا شامل ہے، جبکہ شودروں کے حصے میں مزدوری، دستکاری اور دوسرے طبقات کی خدمت آئی۔
شودروں سے نیچے بھی ایک طبقہ ہے، جنہیں اچھوت کہا جاتا ہے، جنہیں بعد میں دلت کہا جانے لگا۔ ان کے ذمے گندگی صاف کرنا، مردہ جانور اٹھانا، چمڑے کا کام کرنا اور انسانی فضلہ صاف کرنا رکھا گیا۔ یہ لوگ صدیوں تک شدید سماجی امتیاز کا شکار رہے۔ اس ورن (طبقاتی) نظام کو مضبوط بنانے میں کَرم اور پُنر جنم کے عقائد نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ عقیدہ یہ بیان کیا گیا کہ انسان اپنے پچھلے جنم کے اعمال کے مطابق موجودہ دور میں جنم لیتا ہے۔ اگر کوئی برہمن پیدا ہوا ہے تو یہ اس کے سابقہ اعمال کا نتیجہ ہے، اور اگر کوئی شودر پیدا ہوا ہے تو یہ بھی سابقہ کرم کا نتیجہ ہے۔ اگر وہ اپنے موجودہ فرض کو اچھی طرح ادا کرے تو اگلے جنم میں بہتر مقام حاصل کر سکتا ہے۔ اس طرح مذہبی عقیدے اور سماجی نظام کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا گیا۔
اس جسمانی غلامی اور استحصال کو انسان کے دل و دماغ میں اس طرح راسخ کر دیا گیا کہ صدیوں سے نچلی ذاتیں راضی برضا اس ظلم کو سہتی آ رہی ہیں۔ یعنی وہ جسمانی غلامی کے ساتھ ذہنی غلامی کی بھی اسیر بن چکی ہیں۔ اسی لیے ان کے اندر انقلاب کا جذبہ آج تک پیدا نہ ہو سکا، اور ذہنی طور پر بھی یہ طبقات اس امتیازی سلوک سے آزاد نہیں ہو سکے۔ بھارت کے دستور میں اتنی وضاحت کے باوجود آج بھی نسلی، قبائلی اور ذات پات کی بنیاد پر انسانوں میں برتری اور کمتری کا تصور جوں کا توں باقی ہے۔
بھارت میں ذات پات کا نظام محض ایک سماجی تقسیم نہیں بلکہ صدیوں سے قائم ایک ایسا طبقاتی ڈھانچہ ہے جس نے کروڑوں انسانوں کو پیدائشی طور پر کمتر قرار دے دیا۔ اگرچہ بھارت کے آئین (1950ء) نے اچھوت پن کو غیر قانونی قرار دیا اور ذات پات کی بنیاد پر امتیاز کو ممنوع ٹھیرایا ہے، نیز اس تفریق کو ختم کرنے کے لیے دلتوں اور قبائلی طبقات کے لیے تحفظات بھی فراہم کیے، لیکن عملی زندگی میں اس کے اثرات آج بھی نمایاں ہیں۔
نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (NCRB) کی 2022ء کی رپورٹ کے مطابق درج فہرست ذاتوں (Scheduled Castes) پر مظالم کے 51,656 مقدمات درج ہوئے، جبکہ درج فہرست قبائل (Scheduled Tribes) پر مظالم کے 9,735 مقدمات درج کیے گئے۔ ان مظالم میں قتل (Murder) قتل کی کوشش (Attempt to Murder) زیادتی (Rape) اجتماعی زیادتی (Gang Rape) اغوا (Kidnapping)، جسمانی تشدد، مجرمانہ دھمکی (Criminal Intimidation) گھروں کو جلانا یا املاک کو نقصان پہنچانا، ذات کی بنیاد پر توہین، تذلیل اور عوامی بے عزتی شامل ہیں، جو SC/ST (Prevention of Atrocities) Act, 1989 کے تحت قابلِ سزا جرائم ہیں۔
یہ صرف وہ واقعات ہیں جو پولیس تک پہنچ سکے۔ متعدد مطالعات کے مطابق دیہی علاقوں میں بہت سے متاثرین سماجی دباؤ، خوف یا معاشی مجبوری کی وجہ سے مقدمات درج ہی نہیں کرواتے۔
دلتوں سے انسانی فضلے کی صفائی کا غیر انسانی کام لیا جاتا ہے۔ اگرچہ 1993ء اور 2013ء کے قوانین کے تحت انسانی فضلہ ہاتھ سے صاف کرنا جرم قرار دیا جا چکا ہے، لیکن یہ عمل مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا۔ حکومتِ ہند نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ ملک میں 42,594 شناخت شدہ مہتر درج فہرست ذاتوں (SC) سے تعلق رکھتے ہیں۔ مجموعی طور پر تقریباً 97 فیصد مہتر دلت برادری سے ہیں۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ صفائی کے سب سے ذلت آمیز کام اب بھی بڑی حد تک ایک ہی سماجی طبقے کے حصے میں آتے ہیں۔
ہر سال متعدد صفائی کارکن زہریلی گیسوں کی وجہ سے سیوریج اور سیپٹک ٹینک صاف کرتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ حکومت نے ان اموات کو روکنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، لیکن مختلف سرکاری اور عدالتی ریکارڈ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ اموات مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکیں۔
اگرچہ آئینی تحفظات (Reservations) نے تعلیم اور سرکاری ملازمتوں میں درج فہرست ذاتوں اور قبائل کی نمائندگی میں اضافہ کیا ہے، لیکن متعدد سرکاری اور تحقیقی رپورٹوں کے مطابق اب بھی نمایاں عدم مساوات موجود ہے۔ آج بھی مختلف علاقوں میں ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جہاں دلتوں کو مندروں میں داخل ہونے سے روکا جاتا ہے، شادی کی تقریبات میں دلہے کو گھوڑے پر سوار ہونے سے روکا جاتا ہے، بعض دیہات میں نچلی ذاتوں کے لیے پانی کے کنویں یا شمشان گھاٹ الگ رکھے گئے ہیں اور ذات پات کی بنیاد پر تشدد، سماجی بائیکاٹ اور معاشی دباؤ ڈالنے کے واقعات پیش آتے ہیں۔
اسلام کا پیش کردہ حل
اسلام نے چودہ سو سال قبل وہ اصول پیش کیا جسے آج دنیا انسانی حقوق کے نام سے بیان کرتی ہے۔ اسلام کے نزدیک تمام انسان ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں اس لیے تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔‘‘ (سورۃ الحجرات: 13)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نسل، رنگ، خاندان، قوم اور ذات کی بنیاد پر کسی بھی قسم کی برتری کو ختم کرکے صرف تقویٰ کو معیار قرار دیا ہے۔
حجۃ الوداع کے تاریخی خطبے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’کسی عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو عربی پر، کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں، سوائے تقویٰ کے۔‘‘
یہ انسانی مساوات کا ایسا عالمی منشور تھا جس کی مثال اس زمانے میں دنیا کے کسی مذہب یا معاشرے میں موجود نہیں تھی۔
اسلام نے صرف مساوات کا نظریہ پیش نہیں کیا بلکہ اسے عملی جامہ بھی پہنایا۔ حضرت بلالؓ بن رباح حبشی غلام تھے، لیکن رسول اللہ ﷺ نے انہیں مسجد نبوی کا مؤذن مقرر فرمایا۔ حضرت زیدؓ بن حارثہ، جو پہلے غلام تھے، انہیں فوج کا سپہ سالار بنایا گیا۔ ان کے بیٹے حضرت اسامہ بن زیدؓ کی قیادت میں بڑے بڑے مہاجر و انصار صحابہؓ کو بھی فوج میں شامل کیا گیا۔ یہ اس بات کا عملی ثبوت تھا کہ اسلام میں منصب اور عزت نسب سے نہیں بلکہ صلاحیت، ایمان اور کردار سے ملتی ہے۔
اسلام میں کوئی انسان پیدائشی طور پر مقدس یا ناپاک نہیں ہوتا۔ نماز میں بادشاہ اور مزدور ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔ حج میں دنیا کے ہر رنگ، نسل اور زبان کے مسلمان ایک ہی لباس پہن کر ایک ہی رب کے سامنے حاضر ہوتے ہیں۔ زکوٰۃ اور صدقات کے ذریعے معاشی تفاوت کم کیا جاتا ہے، جبکہ اخوتِ اسلامی کے ذریعے سماجی امتیاز کا خاتمہ کیا جاتا ہے۔
ذات پات کا نظام انسانوں کو پیدائش کی بنیاد پر مختلف درجوں میں تقسیم کرتا ہے، جبکہ اسلام انسانوں کو ان کے اخلاق، کردار اور تقویٰ کی بنیاد پر پرکھتا ہے۔ ذات پات کا نظام انسان کو نسل اور خاندان کا غلام بناتا ہے، جبکہ اسلام اسے صرف اللہ کا بندہ بناتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے دنیا کو مساوات، عدل اور انسانی عزت کا وہ تصور دیا جو ہر دور اور ہر معاشرے کے لیے قابلِ عمل ہے۔ اگر انسانیت کو نسلی، قبائلی اور ذات پات کے امتیازات سے حقیقی نجات حاصل کرنا ہو تو اسے اسی الٰہی اصول کو اختیار کرنا ہوگا جس کے تحت عزت خاندان اور نسل کی بنیاد پر نہیں بلکہ تقویٰ و پرہیزگاری کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ (جاری)