۳۔ ازدواجی بے وفائی اور ناجائز تعلقات
خاندان انسانی تہذیب کی بنیادی اکائی ہے اور اس کی مضبوطی کا سب سے اہم ستون میاں بیوی کے درمیان اعتماد، وفا داری اور عفت ہے۔ جب ازدواجی وفا داری کمزور پڑ جاتی ہے تو صرف دو افراد کا رشتہ ہی متاثر نہیں ہوتا بلکہ بچوں کی نفسیات، خاندان کا استحکام اور پورا معاشرہ اس کے منفی اثرات سے دوچار ہوتا ہے۔ جدید دنیا میں میڈیا، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، ڈیٹنگ ایپس، فحاشی، پورنوگرافی اور غیر محدود آزادانہ اختلاط نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جن میں ناجائز تعلقات قائم کرنا پہلے کی بہ نسبت آسان ہو گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں بے وفائی، طلاق، گھریلو تشدد اور بعض اوقات قتل جیسے سنگین جرائم بھی سامنے آنے لگے ہیں۔
جدید تحقیقات اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتی ہیں کہ دنیا بھر میں پورنوگرافی کی صنعت سالانہ اربوں ڈالر کی صنعت بن چکی ہے اور لاکھوں ویب سائٹس پر روزانہ کروڑوں افراد رسائی حاصل کرتے ہیں۔ متعدد بین الاقوامی اسٹڈیز میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پورنوگرافی کے مسلسل استعمال اور ازدواجی عدم اطمینان، جنسی توقعات میں غیر حقیقی اضافہ اور بعض صورتوں میں بے وفائی کے امکانات کے درمیان تعلق پایا گیا ہے۔ ہندوستان میں قومی جرائم کے ریکارڈ اور متعدد ریاستی پولیس رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض قتل کے مقدمات میں ناجائز تعلقات یا ازدواجی تنازعات اہم محرک کے طور پر سامنے آتے ہیں، اگرچہ قتل کی مجموعی وجوہات میں مالی تنازعات، خاندانی جھگڑے، زمین کے اختلافات اور دیگر عوامل بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی نشان دہی کرتے ہیں کہ اخلاقی بے راہ روی صرف انفرادی گناہ نہیں بلکہ ایک سماجی مسئلہ بن چکا ہے۔
ازدواجی بے وفائی کے متعدد اسباب ہو سکتے ہیں، جن میں: اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کے احساس کا فقدان، نکاح سے پہلے نا جائز تعلقات کو معمول سمجھنا، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے خفیہ روابط، پورنوگرافی کی لت، فلموں اور ویب سیریز میں بے وفائی کو خوش نما اور رومانوی انداز میں پیش کرنا، ازدواجی اختلافات کو گفتگو کے بجائے ناجائز تعلقات سے حل کرنے کی کوشش اور نفس کی خواہشات کو اخلاقی حدود پر ترجیح دینا وغیرہ۔
پورنوگرافی صرف ایک اخلاقی برائی نہیں بلکہ ایک نفسیاتی اور سماجی مسئلہ بن چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں شریکِ حیات سے عدم اطمینان پیدا ہو سکتا ہے اور غیر حقیقی جنسی توقعات جنم لیتی ہیں۔ نتیجتاً ازدواجی تعلقات متاثر ہوتے ہیں۔ بعض افراد میں اس کی لت (Addiction) پیدا ہو جاتی ہے اور ناجائز تعلقات کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ ایسی بھی رپورٹس ہیں کہ یہی پورنوگرافی،ل جو لذت اندوزی کے لیے اختیار کی جاتی ہے مرد حضرات کی جنسی طاقت کو قابلِ لحاظ حد تک گھٹا دیتی ہے۔ اس کا علاج یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ پورنوگرافی سے مکمل اجتناب کیا جائے۔ جو چیز علاج کے لیے تجویز کی جا رہی ہے، اسلام اس سے کوسوں دور رہنے کی ہدایت دیتا ہے جو علاج سے قبل پرہیز کا اصول فراہم کرتا ہے۔
قرآن کا نقطہ نظر
اسلام صرف زنا کو ہی حرام قرار نہیں دیتا بلکہ اس کے تمام راستے بند کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، بے شک وہ بے حیائی ہے اور بہت برا راستہ ہے۔‘‘ (سورۂ الإسراء: ۳۲) یہاں قرآن نے ’’زنا نہ کرو‘‘ نہیں کہا بلکہ فرمایا ’’زنا کے قریب بھی نہ جاؤ‘‘ یعنی وہ تمام ذرائع جن سے انسان اس گناہ کی طرف بڑھتا ہے، ان سے بھی بچنے کی تاکید کی ہے۔ اسی طرح اللہ کا ارشاد ہے: ’’مومن مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔‘‘ (سورۂ النور: ۳۰)۔ اور اس کے بعد مومن عورتوں کو بھی یہی حکم دیا گیا۔ یہ احکام انسانی فطرت کو سامنے رکھتے ہوئے معاشرے کی اخلاقی حفاظت کے لیے دیے گئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’آنکھوں کا بھی زنا ہے اور اس کا زنا حرام چیز کو دیکھنا ہے۔‘‘ آنکھوں کی حفاظت شرم گاہ کی حفاظت کے مقدمات میں سے ہے۔ اور یہ فرمایا گیا ہے کہ ہمارا واسطہ ایسی ہستی سے ہے جو آنکھوں کی خیانت کو بھی جانتا ہے اور دلوں کے چھپے رازوں سے بھی واقف ہے۔
اسلام اس مسئلے کا علاج صرف سزا کے ذریعے نہیں بلکہ جامع اخلاقی تربیت کے ذریعے کرتا ہے۔ جب انسان یقین رکھتا ہے کہ اللہ ہر وقت اسے دیکھ رہا ہے تو وہ خلوت میں بھی گناہ سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسلام نے گناہ کے آغاز ہی کو روکنے کے لیے نگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے نوجوانوں کو نکاح کی ترغیب دی تاکہ فطری خواہشات کا پاکیزہ راستہ اختیار کیا جائے۔ ازدواجی زندگی میں زوجین کے مابین باہمی محبت، احترام، حسنِ سلوک اور ایک دوسرے کی جذباتی و جسمانی ضروریات کا خیال رکھنا ازدواجی تعلق کو مضبوط بناتا ہے اور نا جائز ترغیبات سے محفوظ رکھتا ہے۔ اسلام ہر اس چیز سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے جو بے حیائی کو عام کرے، خواہ وہ میڈیا، انٹرنیٹ، گفتگو یا ماحول کے ذریعے ہو۔ اس سلسلے میں اسلام کی سب سے اہم ہدایت یہ ہے کہ خلوت میں غیر محرم سے ملاقات نہ کی جائے۔ کوئی رومانوی کہانی، افسانہ یا فلم وجود ہی میں نہیں آ سکتی جہاں خلوت میں غیر محرم عورت و مرد کے ملنے کا موقع فراہم نہ ہو۔ اسلام نے اس بنیادی سبب ہی کو جڑ سے ختم کر دیا ہے جہاں سے ناجائز تعلقات کا فتنہ جنم لیتا ہے۔ اس سلسلے میں یہ بات بہت اہم ہے کہ مقصدِ شریعت یہ ہے کہ خلوت کی ملاقاتوں پر پابندی لگا کر کسی بھی کنواری لڑکی یا شادی شدہ خاتون کی عصمت و عفت کو مشتبہ ہونے سے بچایا جائے۔
اگر نفسانی کمزوری کی وجہ سے گناہ سرزد ہو جائے تو اسلام کسی گناہ گار کے لیے اصلاح کا دروازہ بند نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو، بے شک اللہ تمام گناہ معاف کر دیتا ہے۔‘‘ (سورۂ الزمر: ۵۳)۔ اللہ تعالیٰ توبہ و استغفار کے ذریعے تزکیہ نفس کے راستے کھول دیتا ہے۔
ازدواجی وفا داری ایک مضبوط، پُر امن اور خوشحال معاشرے کی بنیاد ہے۔ جب وفا داری ختم ہوتی ہے تو اعتماد ٹوٹتا ہے، خاندان بکھرتے ہیں، بچے متاثر ہوتے ہیں اور بعض حالات میں سنگین جرائم بھی جنم لیتے ہیں۔ جدید تہذیب نے خواہشات کی آزادی کو فروغ دیا ہے مگر اس کے ساتھ آنے والی اخلاقی ذمہ داریوں سے مردوں کو آزاد و بے پروا کر دیا ہے۔ اس غیر ذمہ داری کا خمیازہ عورت اور بچے بھگتتے رہتے ہیں۔ اسلام اس بحران کا جامع حل پیش کرتا ہے۔ ایمان، تقویٰ، حیا، نگاہوں کی حفاظت، نکاح کی آسانی، میاں بیوی کے حقوق کی ادائیگی، توبہ اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کا احساس وہ مضبوط بنیادیں ہیں جن پر ایک پاکیزہ خاندان اور ایک صالح معاشرہ تعمیر ہو سکتا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ مومن فلاح پا گئے اور ان کی صفات میں سے ایک اہم صفت یہ ہے کہ وہ شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں: ’’اور جو لوگ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں... یہی لوگ وارث ہیں، جو فردوس کے وارث ہوں گے۔‘‘ (سورۂ المؤمنون: ۵ تا ۱۱)
۴۔ رشوت خوری اور بد عنوانی
رشوت خوری اور بد عنوانی کسی بھی ملک کی معیشت کو دیمک کی طرح اندر ہی اندر کھا جاتی ہے۔ یہ صرف ایک اخلاقی برائی نہیں بلکہ ایک ایسا معاشی جرم ہے جو دولت کی منصفانہ تقسیم، اداروں کی کارکردگی، سرمایہ کاری، روزگار اور قومی ترقی کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ لوگ برسوں محنت کرکے اتنا سرمایہ جمع نہیں کر پاتے جو بعض بد عنوان سرکاری اہلکار ایک ہی سودے میں بغیر محنت کے غیر قانونی طور پر اس سے کئی گنا زیادہ دولت حاصل کر لیتے ہیں۔ نتیجتاً دولت چند افراد کے ہاتھوں میں مرتکز ہونے لگتی ہے، جبکہ عام شہری مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔
رشوت کی وجہ سے ترقیاتی منصوبوں کی لاگت مصنوعی طور پر بڑھ جاتی ہے۔ اگر کسی سڑک، پل، ہسپتال یا اسکول کی تعمیر پر سو کروڑ روپے خرچ ہونے چاہئیں لیکن اس میں بیس سے تیس فیصد رقم کمیشن اور رشوت کی نذر ہو جائے تو یا تو منصوبہ ناقص معیار کا بنتا ہے یا پھر عوام کو اس کے لیے زیادہ ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ رشوت کی وجہ سے غریب مزید غریب تر بنتا ہے، کیونکہ اسے اپنا جائز حق حاصل کرنے کے لیے بھی رشوت دینی پڑتی ہے۔ دوسری طرف طاقتور اور دولت مند افراد قانون سے بچ نکلتے ہیں۔ اس طرح انصاف کا نظام کمزور اور عوام کا ریاست پر اعتماد ختم ہونے لگتا ہے۔
بین الاقوامی اداروں کے مطابق بدعنوانی کے معاشی اثرات نہایت سنگین ہیں۔ بد عنوانی کے عالمی اشاریے میں ۱۸۲ ممالک میں بھارت کا درجہ ۹۱واں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بد عنوانی کے بارے میں عالمی ماہرین کا تاثر یہ ہے کہ بھارت میں سرکاری شعبوں میں بد عنوانی ایک نمایاں مسئلہ ہے۔ مختلف سرویز سے معلوم ہوا کہ تقریباً ۴۰ سے ۶۰ فیصد بھارتی شہریوں نے کسی نہ کسی مرحلے پر سرکاری دفتر میں اپنا جائز کام کروانے کے لیے رشوت دی یا سفارش کا سہارا لیا۔ پولیس، بلدیاتی ادارے، زمین کی رجسٹری، عدالتی نظام، سرکاری ہسپتال، ٹیکس اور ریونیو کے محکمے رشوت لینے کے معاملے میں زیادہ نمایاں ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق جب کسی ملک میں بد عنوانی بڑھتی ہے تو کاروبار کرنے کی لاگت بڑھ جاتی ہے، نئے صنعتی منصوبے کم ہو جاتے ہیں اور روزگار کے مواقع میں کمی آتی ہے۔ اسی لیے عالمی بینک کی گورننس رپورٹس میں "Control of Corruption" کو معاشی ترقی کے بنیادی عوامل میں شمار کیا جاتا ہے۔ بد عنوانی کی وجہ سے سڑکوں، پلوں، سرکاری ہسپتالوں اور اسکولوں کے منصوبوں کی لاگت غیر ضروری طور پر بڑھ جاتی ہے اور تعمیرات کا معیار گر جاتا ہے۔ عوام کے ٹیکس کا بڑا حصہ اپنے اصل مقصد تک نہیں پہنچ پاتا۔ اس کے نتیجے میں حکومت کو یا تو مزید قرض لینا پڑتا ہے یا مزید ٹیکس عائد کرنے پڑتے ہیں۔
رشوت کا سب سے زیادہ نقصان غریب آدمی کو ہوتا ہے، کیونکہ راشن کارڈ، زمین کے کاغذات، پنشن، سرکاری امداد، پولیس رپورٹ اور بجلی و پانی کے کنکشن جیسے بنیادی حقوق کے حصول میں بھی بعض اوقات غیر قانونی ادائیگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح بد عنوانی غربت کو مزید بڑھاتی ہے۔ عالمی بینک اور اقوامِ متحدہ کا اندازہ ہے کہ بد عنوانی دنیا کی مجموعی معیشت کو ہر سال عالمی GDP کے تقریباً ۵ فیصد کے برابر نقصان پہنچاتی ہے۔ چونکہ بھارت بھی دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہے، اس لیے بدعنوانی کا اس کی اقتصادی ترقی، ٹیکس وصولی، صنعت، سرمایہ کاری اور روزگار پر بھی نمایاں منفی اثر پڑتا ہے۔
بھارت میں بد عنوانی صرف چند افراد کی نا جائز دولت جمع کرنے کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ کروڑوں غریب شہریوں کے حقوق پر ڈاکہ ہے۔ جب سرکاری وسائل رشوت اور کمیشن کی نذر ہو جائیں تو عوام کے لیے بننے والے اسکول، ہسپتال، سڑکیں اور فلاحی منصوبے متاثر ہوتے ہیں۔ اس سے متوسط طبقے کی قوتِ خرید کم ہوتی ہے، صنعت و تجارت کی رفتار سست پڑتی ہے، بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے اور قومی معیشت کی ترقی بھی متاثر ہوتی ہے۔ اسی لیے رشوت کے خاتمے کو صرف اخلاقی یا قانونی مسئلہ نہیں بلکہ قومی اقتصادی اصلاح کا بنیادی ستون سمجھنا چاہیے۔
جب بد عنوانی بڑھتی ہے تو قومی دولت کا بڑا حصہ چند افراد کے پاس جمع ہونے لگتا ہے۔ اس کے نتیجے میں متوسط طبقے کی حقیقی آمدنی کم ہو جاتی ہے، مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے، عوام کی قوتِ خرید (Purchasing Power) کم ہوتی ہے۔ نتیجتاً صارفین کم خریداری کرتے ہیں اور صنعتوں کی فروخت کم ہو جاتی ہے۔ فیکٹریاں پیداوار گھٹا دیتی ہیں، نئی سرمایہ کاری رک جاتی ہے، بے روزگاری بڑھتی ہے۔ آخرکار ملک کی GDP کی شرحِ نمو متاثر ہوتی ہے۔ اسے معاشیات میں Multiplier Effect کہا جاتا ہے، جہاں ایک شعبے کی خرابی پوری معیشت میں پھیل جاتی ہے۔
رشوت کا سب سے خطرناک اثر یہ ہے کہ مستحق شخص جب اپنے حق سے محروم رہ جاتا ہے تو نا اہل شخص سفارش یا رشوت کے ذریعے منصب حاصل کر لیتا ہے۔ اداروں کی کارکردگی گر جاتی ہے، فیصلوں کا معیار خراب ہوتا ہے، عوام کا اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ نوجوان محنت کے بجائے سفارش اور رشوت کو کامیابی کا ذریعہ سمجھنے لگتے ہیں۔ جب میرٹ ختم ہو جائے تو قوم کی صلاحیتیں بھی ضائع ہونے لگتی ہیں۔
غیر ملکی سرمایہ کار ہمیشہ ایسے ممالک کو ترجیح دیتے ہیں جہاں قانون کی حکم رانی ہو، معاہدوں پر عمل درآمد یقینی ہو، رشوت نہ دینی پڑے اور عدالتی نظام مؤثر ہو۔ جہاں ہر مرحلے پر رشوت دینا لازم ہو، وہاں سرمایہ کار اپنا سرمایہ لگانے سے گریز کرتے ہیں۔ اس طرح روزگار کے نئے مواقع پیدا نہیں ہوتے۔
رشوت صرف دولت کی چوری نہیں بلکہ عوام کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف بھی ہے۔ مثلاً: ہسپتالوں کے لیے ناقص ادویات خریدی جاتی ہیں، اسکولوں کی عمارتیں ناقص تعمیر ہوتی ہیں، پل اور سڑکیں جلد ٹوٹ جاتی ہیں، پانی، بجلی اور دیگر بنیادی سہولتوں کے منصوبے ناقص رہ جاتے ہیں۔ یوں ایک بد عنوان شخص کی ایک نا جائز دستخط لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیتی ہے۔
اسلام کا نقطۂ نظر
اسلام نے رشوت کو صرف اخلاقی برائی نہیں بلکہ ایک سنگین گناہ قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ، اور نہ اسے حاکموں تک اس غرض سے پہنچاؤ کہ لوگوں کے مال کا کوئی حصہ جان بوجھ کر ناجائز طریقے سے کھا جاؤ۔‘‘ (سورۃ البقرۃ: ۱۸۸)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ عدالتی یا سرکاری نظام کو استعمال کرکے نا جائز فائدہ حاصل کرنا بھی حرام ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے:
’’رسول اللہ ﷺ نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر لعنت فرمائی۔‘‘
ایک اور حدیث میں فرمایا:
’’جس شخص کو ہم کسی کام پر مقرر کریں اور اسے اس کی تنخواہ دیں پھر وہ اس کے علاوہ کچھ لے تو وہ خیانت ہے۔‘‘
حضرت عمر بن خطابؓ اپنے گورنروں کے اثاثوں کا تقابلی جائزہ لیتے تھے۔ اگر کسی سرکاری عہدیدار کی دولت غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی تو اس سے حساب لیا جاتا تھا۔ یہ احتساب اسلامی طرزِ حکومت کی نمایاں خصوصیت تھا۔
اسلام صرف رشوت کی ممانعت ہی نہیں کرتا بلکہ مکمل اصلاحی نظام بھی پیش کرتا ہے۔ جب انسان یقین رکھتا ہے کہ ایک دن اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے مال اور فیصلوں کا حساب دینا ہے تو وہ رشوت لینے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچتا ہے۔
قرآن کا اصول ہے:
’’بے شک بہترین شخص وہ ہے جو طاقتور بھی ہو اور امانت دار بھی۔‘‘ (سورۃ القصص: ۲۶)
یعنی اہلیت (Competence) اور دیانت (Integrity) دونوں لازمی ہیں۔
اسلام اقربا پروری، سفارش اور خاندانی بنیادوں پر تقرری کی مخالفت کرتا ہے۔ ہر ذمہ داری اہل شخص کو ملنی چاہیے (سورۃ النساء: ۵۸)۔ اسلام میں حاکم بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ خلفائے راشدین نے بھی خود کو عوام کے سامنے جواب دہ بنایا۔ حضرت عمرؓ نے سرکاری اہلکاروں کو مناسب وظائف دیے تاکہ وہ رشوت لینے پر مجبور نہ ہوں، مگر اس کے ساتھ سخت احتساب بھی قائم رکھا۔
اسلام شفاف نظام چاہتا ہے۔ تمام سرکاری خریداری کھلے مقابلے سے ہو، سرکاری اخراجات عوام کے سامنے ہوں، آزاد عدلیہ اور آزاد احتسابی ادارے قائم ہوں اور سرکاری عہدوں کے اثاثوں کا سالانہ اعلان ہو۔
رشوت خوری صرف چند افراد کی ناجائز کمائی کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پوری قوم کی معاشی، اخلاقی اور سماجی تباہی کا سبب بنتی ہے۔ یہ دولت کو چند ہاتھوں میں مرتکز کرتی ہے، میرٹ کو ختم کرتی ہے، اداروں کو کھوکھلا کرتی ہے، سرمایہ کاری کو روکتی ہے، صنعت کو کمزور کرتی ہے، بے روزگاری اور مہنگائی میں اضافہ کرتی ہے اور بالآخر قومی پیداوار (GDP) کی رفتار کو سست کر دیتی ہے۔
اسلام نے اس مرض کی جڑ پر ضرب لگائی ہے۔ قرآن نے ناجائز مال خوری کو حرام قرار دیا ہے اور خلافتِ راشدہ کے دور میں امانت، احتساب، شفافیت اور میرٹ پر مبنی حکم رانی کا عملی نمونہ پیش کیا ہے۔ اگر مسلمان معاشرے قرآن و سنت کے ان اصولوں کو دیانت داری سے نافذ کریں تو رشوت، بدعنوانی اور معاشی ناانصافی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے اور ایک ایسا معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے جہاں دولت چند افراد کے بجائے پوری قوم کی فلاح و بہبود کا ذریعہ بنتی ہے۔
(جاری)