سقوطِ حیدرآباد پر ناندیڑ میں اہم اجلاس
تاریخی دستاویزات اور حوالوں کی روشنی میں واقعات کو سمجھنے پر زور،
نئی نسل کو تاریخ کے غیر جانب دارانہ مطالعے کی تلقین
فی زمانہ تاریخ اور تاریخی شخصیات و واقعات کے ساتھ جو کھلواڑ روا رکھا جا رہا ہے وہ ہر ایک ذی ہوش بھارتی شہری کے لیے باعثِ تشویش بنا ہوا ہے۔ برِّ صغیرِ ہند و پاک کی تقسیم کا سانحہ اس خطے کے لیے جیسے ناسور بنا ہوا ہے، اسی سے وابستہ ایک تاریخ ہے17 ستمبر!
یہ تاریخ بھی ہر سال ایک پرانے زخم کو کریدنے کا سبب بن جاتی ہے حالانکہ متاثرین زبانِ حال سے پکارتے ہیں کہ ’’یادِ ماضی عذاب ہے یا رب؛چھین لے مجھ سے حافظہ مرا‘‘۔ لیکن بھارت میں جن لوگوں کی سرشت میں گڑے مردے اکھاڑنے اورحقائق کو مسخ کرنے کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے ان کے لیے اسی میں موقع فراہم ہوتا ہے گویا کہ ’’آپَدا میں اَوسَر‘‘!
اصل میں 17 ستمبر1948 کوہوا کیا تھا؟
"آزادی"، "انضمام"، "پولیس ایکشن" یا "قبضہ"؟ اور مورخین، بی جے پی، بی آرایس، کانگریس اور ایم آئی ایم اس واقعے کی الگ الگ تعبیر کیوں کرتے ہیں؟
مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ خطے میں 17 ستمبرکو ہر سال’’ مُکتی سَنگرام دن‘‘ یعنی ’آزادی کی جدوجہد کا دن‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اسی تاریخ کو 1948 میں حیدرآباد ریاست کے بھارتی یونین میں انضمام سے متعلق اہم واقعات پیش آئے تھے۔ اصل اختلاف 17 ستمبر 1948 کی تاریخی تعبیر پر ہے۔مرکزی حکومت اور بی جے پی اسے "Liberation" یعنی نظامِ حیدرآباد کی حکمرانی سے آزادی کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ سنہ 2022 میں وزارتِ ثقافت نے اسے پہلی مرتبہ سال بھر جاری رہنے والی سرکاری تقریبات ’’حیدرآباد لِبریشن ڈے‘‘ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا۔اس کے مقابلے میں اُس وقت کی کے سی آر کی قیادت والی تلنگانہ راشٹر سمیتی کی حکومت نے "National Integration Day" کا نام اختیار کیا۔ اس فیصلے سے پہلے یہاں کی رکنِ پارلیمان بیریسٹراسدالدین اویسی نے وزیر اعلیٰ کے سی آر اوروزیر داخلہ امیت شاہ دونوں کو خط لکھ کر لِبریشن ڈے کے بجائے National Integration Day منانے کی اپیل کی تھی۔ پھر کانگریس حکومت آنے کے بعد نام تبدیل کرتے ہوئے ریونت ریڈی سرکارنے 2024 میں "Praja Palana Dinotsavam" کا نام اختیار کیا۔ سرکاری وضاحت کے مطابق مقصد 17 ستمبر کو صرف Merger Day یا Liberation Day کی اصطلاحات تک محدود رکھنے کے بجائے اسے عوامی جدوجہد، جمہوری حکمرانی اور نظامِ حیدرآباد کے خاتمے کے بعد عوامی اقتدار سے جوڑنا تھا۔یعنی آج تلنگانہ میں اصطلاحی طور پر صورتِ حال کچھ یوں ہے:
بی جے پی/مرکز → Hyderabad Liberation Day
بی آر ایس حکومت → National Integration Day
کانگریس حکومت → Praja Palana Dinotsavam
اہم سیاسی نکتہ یہ کہ امسال مرکز اور تلنگانہ حکومت کے بیانیے کا فرق بھی نمایاں رہا۔ مرکز نے اسے “Hyderabad Liberation Day” کہا، جبکہ تلنگانہ کی موجودہ کانگریس حکومت 17 ستمبر کو “Telangana Praja Palana Day” کے طور پر مناتی ہے۔یعنی ایک ہی تاریخی واقعے کے لیے دو مختلف سرکاری تعبیرات موجود ہیں—مرکز کی تعبیرلبریشن /انضمام پر زور دیتی ہے، جبکہ تلنگانہ حکومت کی اصطلاح پرجا پالنا/عوامی حکمرانی پر۔
اور ایک دلچسپ مگر اہم بات یہ ہے کہ سن2026 میں بھی مرکزی حکومت17 ستمبر کو "Hyderabad Liberation Day" کے طور پر منا رہی ہے؛جب سکندرآباد پریڈ گراؤنڈ میں اسی نام سے مرکزی تقریب ہوئی۔ جس میںمہمانِ خصوصی تھے نائب صدرِ جمہوریہ سی. پی. رادھا کرشنن — انہوں نے قومی پرچم لہرایا، وار میموریل پر شہیدوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور پریڈ کا معائنہ کیا۔دیگراہم شخصیات میں تلنگانہ کے گورنر شیو پرتاپ شکلا، مرکزی وزیرِ ثقافت و سیاحت گجیندر سنگھ شیخاوت، مرکزی وزیر جی. کشن ریڈی، مرکزی وزیرِ مملکت برائے داخلہ بنڈی سنجے کمار، ملکاج گری کے رکنِ پارلیمنٹ ایٹالہ راجندر کے علاوہ وزارتِ ثقافت اور مرکزی مسلح پولیس فورسز کے اعلیٰ افسران۔
اس تاریخی دور اور اس کے بعد کے واقعات کے بارے میں مختلف سیاسی، سماجی اور تاریخی نقطۂ نظر موجود ہیں۔ ادھوری معلومات اور غلط باتوں کے عام ہو جانے کے نتیجے میں ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے تعلق سے مزید بدگمانیاں جنم لیتی جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ خود مسلم نوجوان بھی تذبذب کا شکار ہو جاتے ہیں بلکہ بسا اوقات نفسیاتی طور پر سابق کی مبینہ کمیوں اور غلطیوں کے لیے خود کو ذمے دار سمجھنے لگتے ہیں۔ سوچ و فکر کےانہی مختلف دھاروں اور گوناگوں پہلوؤں کو سمجھنے اور تاریخی واقعات کو دستاویزات و حوالوں کی روشنی میں عوام کے سامنے لانے کے مقصد سے مسلم نمائندہ کونسل ناندیڑ کی جانب سے 17 ،ستمبر کو اجلاس منعقد کر نے اور تاریخی شواہدکو اجاگر کرنے کی روایت شروع کی گئی ہے ۔ چنانچہ امسال بھی اجلاس میں حیدرآباددکن سے تعلق رکھنے والے معروف تاریخ داں، سینئر صحافی اور تجزیہ نگار خصوصی طور پر شریک ہوئے۔سولہ ستمبر کو ایک پریس کانفرنس منعقد ہوئی جس میں کافی بڑی تعداد میں پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کے نمائندوں نے پر جوش شرکت کی۔ دوسرے دن سترہ ستمبر کواہم پروگرام ہوا جس میں سقوطِ حیدرآباد، ریاستِ حیدرآباد کی سیاسی صورتِ حال، نظامِ عثمان علی خاں کے اصل کردار، ان کا دورِ اقتدار، رضاکار تحریک، فوجی آپریشن پولو، ریاستِ دکن کے بھارتی یونین میں انضمام اور اس کے بعد پیدا ہونے والے حالات سمیت مختلف تاریخی موضوعات پرتفصیلی گفتگو کی گئی۔اجلاس کی صدارت حیدرآباد کے معروف سینئر صحافی اور تاریخ کا گہرا مطالعہ رکھنے والے ڈاکٹر انعام الرحمن غیور نے کی، جبکہ تاریخ داں کیپٹن لنگالا پانڈورنگ ریڈی، کل ہند تعمیرِ ملت کے سابق صدر و اقبال اکیڈمی حیدرآباد کے صدر ضیاء الدین نیر اور سینئر صحافی و تجزیہ نگار ڈاکٹر خالد ملا نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ مسلم نمائندہ کونسل کے صدر ایڈووکیٹ نصیر الدین فاروقی نے افتتاحی کلمات میںکہا کہ سقوطِ حیدرآباد کے حوالے سے بالخصوص مہاراشٹر میں نظامِ حکومت کے خلاف ایک مخصوص نوعیت کا بیانیہ عام کیا جاتا رہا ہے جس سے آج کی نسل میں منفی تاثر پیدا ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق تاریخی واقعات کو بعض اوقات مخصوص سیاسی یا نظریاتی زاویے سے پیش کیے جانے کے نتیجے میں نئی نسل میں تاریخی حقائق کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں اور سماج میں دوریاں بھی بڑھتی ہیں۔ ایڈووکیٹ نصیر الدین فاروقی نے کہا کہ سقوطِ حیدرآباد سے متعلق مختلف آرا اور غلط فہمیوں کو سمجھنے اور نئی نسل کو اپنے ماضی کے مختلف پہلوؤں سے واقف کرانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی مقصد کے تحت مسلم نمائندہ کونسل کی جانب سے گزشتہ چند برسوں سے سقوطِ حیدرآباد کے موضوع پر اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں اور موجودہ اجلاس بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ تاریخی دستاویزات، سرکاری ریکارڈ، محققین کے مطالعات اور مختلف تاریخی حوالوں کی مدد سے ماضی کے واقعات کو سمجھنے کی کوشش کی جانی چاہیے، تاکہ کسی ایک بیانیے کو حتمی حقیقت سمجھنے کے بجائے مختلف پہلوؤں کا مطالعہ کیا جاسکے۔
ریاستِ حیدرآباد کے انضمام پر مختلف تاریخی زاویے:
فوجی آپریشن پولو کے عینی شاہد اور غیر جانبدار تاریخ داں کیپٹن لنگالا پانڈورنگ ریڈی نے ’سقوطِ حیدرآباد‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے ریاستِ حیدرآباد کے ہندوستانی یونین میں انضمام سے متعلق اپنے تاریخی مطالعے کومختلف دستاویزات کےحوالوں کے ساتھ پیش کیا۔ بذرگ محقق اور تاریخ داں پانڈورنگا ریڈی نے ریاستِ حیدرآباد کے سیاسی حالات، نظامِ حکومت اور 1948 کے واقعات کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ 13 ستمبر 1948 کو ہندوستانی فوج نے ’آپریشن پولو‘ کے نام سے فوجی کارروائی شروع کی، جو 17 ستمبر کو حیدرآباد کی افواج کے ہتھیار ڈالنے کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ سرکاری اور تاریخی حوالوں میں 17 ستمبر 1948 کو حیدرآباد ریاست کے ہندوستانی یونین میں انضمام سے جوڑا جاتا ہے۔ حکومتِ ہند بھی 17 ستمبر کو ’حیدرآباد لِبریشن ڈے‘ کے طور پر مناتی ہے، جبکہ مہاراشٹر میں اسی تاریخ کو ’مراٹھواڑہ مکتی سنگرام دن‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ کیپٹن ریڈی نے نظامِ حکومت کے مختلف فلاحی اقدامات کا بھی ذکر کیا اور تاریخی دستاویزات پیش کرتے ہوئے اس دور کے سیاسی حالات کو ایک حقیقی زاویے سے سمجھانے کی کوشش کی۔۔انہوں نے مزید کہا کہ ریاستِ حیدرآباد کا انڈین یونین میں انضمام نظام الملک میر عثمان علی خان کی رضامندی سے ہوا تھا۔ ان کے مطابق جب حکومتِ ہند نے آپریشن پولو کے لیے حیدرآباد میں فوج بھیجی تو کسی بڑی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور ان کے بقول ریاست کا انضمام باہمی رضامندی سے عمل میں آیا۔ سابق فوجی ریڈی نے مزید کہا کہ بعد میں حکومتِ ہند نے میر عثمان علی خان کو ریاست کا’’راج پرمُکھ‘‘ یعنی گورنر مقرر کیا تھا۔ اسی بنیاد پر ان کا کہنا تھا کہ 17 ستمبر کو ’مراٹھواڑہ مکتی سنگرام دن‘ یا ’لبریشن ڈے‘ کے طور پر منایا جانا مناسب نہیں ہے۔
تاریخ کو ایک ہی زاویے سے دیکھنا مناسب نہیں:
ایکزیکیوٹیو ایڈیٹر دعوت نیوزڈاکٹر خالد ملا نے کہا کہ تاریخ کو اس کے مکمل تاریخی پس منظر میں سمجھنا چاہیے اور کسی بھی تاریخی واقعے کو صرف ایک مخصوص نظریاتی زاویے سے دیکھنا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر ریاستِ حیدرآبادایک فلاحی مملکت رہی ہے جہاں اپنے بجٹ کا گیارہ فی صد تعلیم کی مد پر خرچ کیا جاتا تھا، لہذا اس کی تاریخ کو صرف 1948 کے چند ماہ کے واقعات تک محدود کرناتاریخ کے ساتھ بد دیانتی ہوگی۔ ان کے مطابق تقریباً ڈھائی صدی پر محیط نظام سرکار کے دورِ حکومت، اس کے انتظامی ڈھانچے، تعلیمی پالیسیوں، رعایا کے مختلف طبقات کے ساتھ ان کے رویے اور تعلقات نیز اس دور کے دیگر سماجی و معاشی پہلوؤں کا بھی مطالعہ کیا جانا چاہیے۔ ڈاکٹر خالد ملا نے کہا کہ موجودہ دور میں تاریخ کے بعض واقعات کو مخصوص یک رخی انداز میں پیش کیے جانے کی وجہ سے نئی نسل اپنے ماضی کے وسیع تر پس منظر سے دور ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق تاریخی واقعات کو سیاسی مفادات کے لیے مخصوص رنگ دینے کے بجائے اصل دستاویزات اور مختلف محققین کے مطالعات کی روشنی میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے ریاستِ حیدرآباد میں ہندو مسلم تعلقات، تعلیمی اداروں اور انتظامی نظام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دور کی تاریخ میں ایسے واقعات اور مثالیں بھی موجود ہیں جنہیں موجودہ عمومی بیانیے میں کم جگہ ملتی ہے۔ڈاکٹر ملا نے رضاکاروں کے مبینہ مظالم کے حوالے سے کہا کہ کسی مخصوص تنظیم یا گروہ کی کارروائیوں کی ذمہ داری پورے نظامِ حکومت یا اس دور کے تمام عوام پر عائد کرنا تاریخی اعتبار سے محتاط طرزِ عمل نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق رضاکاروں، ریاستی انتظامیہ، سیاسی تنظیموں اور مختلف مزاحمتی تحریکوں کے کردار کا الگ الگ مطالعہ کیا جانا چاہیے۔
ڈاکٹر انعام الرحمن غیور ۔ تاریخی دستاویزات کا گہرا مطالعہ ضروری :
اجلاس کی صدارت کرنے والے بذرگ صحافی ڈاکٹر انعام الرحمن غیور نے کہا کہ تاریخ میں پیش آنے والے واقعات کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ ان سے سبق حاصل کرکے مستقبل کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق بعض اوقات تاریخی واقعات کو سیاسی مفادات کے لیے مخصوص انداز میں پیش کیا جاتا ہے، اس لیے مستند تاریخی مواد کا مطالعہ ضروری ہوجاتا ہے۔ انہوں نے نظام حکومت کے تقریباً ڈھائی سو سالہ دور کے مختلف پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئےعثمانیہ یونیورسٹی سمیت تعلیمی اور انتظامی اداروں کی تشکیل پر روشنی ڈالی۔ آزاد محقق ڈاکٹر انعام الرحمن نے کہا کہ ریاستِ حیدرآباد میں مختلف زبانوں اور طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے تعلیم اور سرکاری ملازمتوں کے مواقع موجود تھے۔ڈاکٹر غیور نے میر عثمان علی خان کی جانب سے ہندوستان کے دفاعی فنڈ میں سونے کی سرمایہ کاری یا تعاون کا بھی ذکر کیا۔ تاہم واضح کیا کہ اس حوالے سے مشہور ’چین کے خلاف جنگ کے لیے 5,000 کلو سونا عطیہ کرنے‘ کے دعوے کو تاریخی طور پر احتیاط کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔ دستیاب فیکٹ چیکنگ ریکارڈ کے مطابق 5,000 کلو سونا عطیہ کیے جانے کا مستند سرکاری ریکارڈ نہیں ملتا، جبکہ نیشنل ڈیفنس گولڈ اسکیم میں نظام کی جانب سے تقریباً 425 کلو گرام سونا سرمایہ کاری کیے جانے کا حوالہ ملتا ہے۔ تاریخ کے تحقیق کار ڈاکٹر غیور نے رضاکاروں کے کردار پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ رضاکار تحریک میں مختلف عناصر کارفرماتھے اور بعض افراد کی جانب سے کیے گئے مظالم کو نظام سرکار کے ساتھ جوڑ کر دیکھنا تاریخی تصویر کے ایک ہی پہلو کو سامنے لاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام تر آزمائشی اور ھنگامہ خیزحالات کے باوجود دارالخلافہ شہرِ حیدرآباد تشدد اور تعصب سے پاک رہا،عثمان آباد موجودہ دھاراشیوضلع اور شولاپور جیسےسرحدی علاقوں میں جہاں سے بھارتی فوجیں داخل ہو رہی تھیں وہاں شورش ہوئی لیکن’’ مرکزِ اقتدار حیدرآباد میں گولی تو کیا کوئی گالی بھی نہیں چلی۔‘‘جب کہ نظام کی انڈین یونین میں باضابطہ شمولیت کے بعد پورے مراٹھواڑہ علاقے میں مسلمانوں کو عتاب جھیلنا پڑا۔
ڈاکٹر انعام الرحمن نے اس موضوع پر مزید دستاویزی تحقیق کی ضرورت پر زور دیا۔ساتھ ہی وصیت کی کہ اس تاریک دور کوآج یاد کرکے ہم خوشی محسوس نہیں کرتے لیکن موجودہ حالات کو بگڑنے سے بچانے کے لیے کوشش کی جاتی ہے کہ مستند حوالوں کے ساتھ واقعات کو عوام و خواص کے روبرو پیش کیا جایے۔
’آپریشن پولو‘ کے بعد کے حالات بھی تاریخ کا اہم حصہ:
اجلاس ’’سقوطِ حیدرآباد‘‘ کے دوران یہ بات بھی کہی گئی کہ سقوطِ حیدرآباد کے بارے میں کسی بھی جامع تجزیے میں 13 سے 17 ستمبر 1948 کی فوجی کارروائی کے ساتھ ساتھ اس کے بعد کے حقیقی حالات کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔ جدید تاریخی تحقیق میں اس بات پر توجہ دی گئی ہے کہ فوجی کارروائی کے اختتام کے بعد بھی ریاست کے مختلف علاقوں میں فرقہ وارانہ تشدد، انتقامی کارروائیاں اور جانی و مالی نقصان کے واقعات پیش آئے۔کیمبرج یونیورسٹی پریس سے شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق مبینہ ’پولیس ایکشن‘ کے دوران اور اس کے بعد حیدرآبادریاست کے مختلف نواحی علاقوں میں تشدد ہوا، جس کا اثر خصوصاً مسلم آبادی پر بھی پڑا۔ اسی حوالے سے سندر لال کمیٹی کی رپورٹ میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا تخمینہ پیش کیا گیا تھا، اگرچہ اس تعداد اور اس کے دائرۂ کار پر بعد کے محققین نے بھی بحث کی ہے۔ اس لیے ان اعداد و شمار کو صرف پانچ روزہ فوجی کارروائی کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔یہ پہلو اس تاریخی بحث کو مزید پیچیدہ بناتا ہے، کیونکہ ایک طرف ریاست کے بھارتی یونین میں انضمام کو ’’آزادی‘‘ اور قومی یکجہتی کے تناظر میں پیش کیاجاتا ہے، جبکہ دوسری طرف 1948 کے بعد کے تشدد اور عام شہریوں کو پہنچنے والے بھاری نقصان پر بھی تاریخی تحقیق موجود ہے۔ اس لیے سقوطِ حیدرآباد کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے دونوں پہلوؤں کا مطالعہ ضروری ہے۔
’لبریشن ڈے‘ یا ’مکتی سنگرام دن‘؛ اصطلاحات کے پیچھے مختلف یادداشتیں :
17 ستمبر کے حوالے سے استعمال ہونے والی اصطلاحات بھی اس تاریخی واقعے کے مختلف سیاسی و سماجی تصورات کی عکاسی کرتی ہیں۔ مہاراشٹر میں سرکاری طور پر اسے ’مراٹھواڑہ مکتی سنگرام دن‘ کہا جاتا ہے، جبکہ حکومتِ ہند نے ’حیدرآباد لبریشن ڈے‘ کے نام سے اس دن کو منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب، بعض تاریخ داں اور سماجی حلقے اس پورے واقعے کو زیادہ وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ صرف ایک دن یا ایک فوجی کارروائی کی بنیاد پر ڈھائی صدی کی ریاستی تاریخ کا مکمل جائزہ نہیں لیا جاسکتا۔
نئی نسل کے لیے تاریخی مطالعے کی اہمیت :
اجلاس میں مقررین کی گفتگو کا ایک مشترکہ پہلو یہ رہا کہ نئی نسل کو تاریخی واقعات کے بارے میں مستند مواد تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ تاریخ کا مطالعہ صرف سیاسی تقریروں یا سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی معلومات تک محدود رکھنے کے بجائے سرکاری دستاویزات، آرکائیوز، محققین کی کتابوں، عینی شاہدین کے بیانات اور مختلف علمی مطالعات کی روشنی میں کیا جانا چاہیے۔حیدرآباد کی تاریخ کے بارے میں حالیہ علمی مطالعات بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ 1948 کے واقعات اور ان کے بعد کی اجتماعی یادداشت آج تک ہندوستانی سیاست، حیدرآبادی مسلم شناخت اور تاریخی مباحث پر اثرانداز ہوتی ہے۔اس اعتبار سے ناندیڑ میں منعقد ہونے والا یہ اجلاس محض ایک تاریخی واقعے کی یاد تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے
تاریخ کو کس طرح پڑھا اور سمجھا جائے، اس بنیادی سوال کو بھی سامنے رکھا۔ تاہم تاریخی موضوعات پر ایسے پروگراموں کی افادیت اسی وقت مزید بڑھ سکتی ہے جب مختلف نقطۂ نظر رکھنے والے محققین، تاریخ داں اور دستاویزی ماہرین بھی ایک ہی علمی پلیٹ فارم پر اپنے شواہد اور دلائل پیش کریں۔
ڈاکٹرخالد ملا
سقوطِ حیدرآباد’’آزادی‘‘، ’’انضمام’’، ’’پولیس ایکشن’’، ’’آپریشن پولو‘‘، ’’ مُکتی سنگرام‘‘، ’’پرجا پالَنا‘‘ یا ’’قبضہ’’؟

کیا تاریخی شواہد کو نظرانداز کرنا تاریخ کو مسخ کرنا نہیں؟

