سرکاری اسکولوں میں چونسٹھ فیصد اساتذہ پوسٹ گریجویٹ، پرائیویٹ میں چوالیس فیصد: تحقیق
جب سے سی جے پی نے اسکول ٹھیک کرو مہم شروع کی ہے تعلیم کے شعبے سے متعلق ایک دلچسپ اور متضاد صورت حال سامنے آرہی ہے، ایک طرف حکومت مسلسل سرکاری اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے، ڈیجیٹل تعلیم، اسمارٹ کلاس روم، نئی تعلیمی پالیسی اور مختلف تعلیمی منصوبوں کی کامیابی کے دعوے کر رہی ہے، دوسری طرف بڑی تعداد میں والدین اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں سے نکال کر پرائیویٹ اسکولوں میں داخل کرانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر دونوں طرح کے اسکولوں کے طلبا کے تعلیمی نتائج میں وہ نمایاں فرق موجود نہیں ہے جس کا عام طور پر تصور کیا جاتا ہے، تو پھر والدین پرائیویٹ اسکولوں کے لیے اپنی محدود آمدنی کے باوجود ایک بڑا حصہ خرچ کرنے پر کیوں آمادہ ہیں؟
حال ہی میں اسکرول ڈاٹ ان نے تمل ناڈو کے مختلف علاقوں، خصوصاً سیلم اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں والدین، اساتذہ اور تعلیمی ماہرین سے گفتگو کی اور اس سوال کا جائزہ لیا۔ رپورٹ میں سامنے آنے والی تصویر صرف تمل ناڈو تک محدود نہیں ہے بلکہ ملک کے کئی حصوں میں اسکولوں کے حوالے سے بدلتی ہوئی عوامی نفسیات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
اصل مسئلہ شاید یہ نہیں کہ پرائیویٹ اسکول لازماً سرکاری اسکولوں سے بہتر تعلیم دیتے ہیں، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سرکاری اسکول والدین کو یہ یقین دلانے میں ناکام ہو رہے ہیں کہ ان کے بچوں کا مستقبل یہاں محفوظ اور روشن ہے۔
ہندوستان میں سرکاری اسکول اب بھی تعداد کے اعتبار سے تعلیمی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ UDISE+ 2024-25  کے مطابق ملک میں تقریباً 14.71 لاکھ اسکول تھے، جن میں 10.13 لاکھ سرکاری اسکول تھے۔ اسی سال سرکاری اسکولوں میں تقریباً 12.16 کروڑ طلبا اور پرائیویٹ غیر امدادی اسکولوں میں تقریباً 9.59 کروڑ طلبہ زیر تعلیم تھے، یعنی یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ہندوستانی عوام نے سرکاری اسکولوں کو مکمل طور پر ترک کردیا ہے لیکن رجحان ضرور بدل رہا ہے۔ خاص طور پر شہری علاقوں اور کم آمدنی والے خاندانوں میں بھی پرائیویٹ اسکولوں کا انتخاب بڑھا ہے۔
یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ پرائیویٹ اسکول کا مطلب صرف وہ مہنگا اسکول نہیں ہے جہاں سالانہ لاکھوں روپے فیس ادا کی جاتی ہے۔ ہندوستان میں بڑی تعداد ایسے کم فیس والے پرائیویٹ اسکولوں جن کو عام طور پر بجٹ اسکولس کہا جاتا ہے، ان کی ہے جہاں متوسط اور کم آمدنی والے خاندان اپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں۔ اسکرول کی رپورٹ کے مطابق وزارتِ شماریات کے اعداد و شمار میں پرائیویٹ اسکولوں کے تقریباً ستر فیصد طلبا ماہانہ ایک ہزار روپے سے کم فیس ادا کرتے ہیں، یعنی غریب اور لوور مڈل کلاس طبقہ بھی سرکاری اسکول کے مفت یا انتہائی کم خرچ متبادل کے باوجود پرائیویٹ اسکول کے لیے اپنی جیب سے پیسہ خرچ کر رہا ہے۔ یہ صورتحال حکومت اور تعلیمی پالیسی سازوں کے لیے ایک بڑا سوال ہے۔
والدین جب بچے کو اسکول بھیجتے ہیں تو وہ صرف کتابیں پڑھانے کے لیے نہیں بھیجتے بلکہ ان کے سامنے بچے کا پورا مستقبل ہوتا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ بچہ اچھی زبان سیکھے، اعتماد کے ساتھ بات کرے، نظم و ضبط کا عادی ہو، مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیاب ہو، اچھی ملازمت حاصل کرے اور معاشرے میں بہتر مقام بنائے، اسی لیے والدین اسکول کا انتخاب صرف اس بنیاد پر نہیں کرتے کہ وہاں ریاضی یا زبان کے امتحان میں کتنے نمبر آتے ہیں۔
عظیم پریم جی یونیورسٹی کے ایک مطالعے نے 2018 میں چار ریاستوں کے دس اضلاع میں 121 سرکاری اور کم فیس والے پرائیویٹ اسکولوں اور 1,210 خاندانوں کا جائزہ لیا تھا۔ اس مطالعے میں والدین کے اسکول کے انتخاب کے متعدد عوامل سامنے آئے، جن میں ذریعۂ تعلیم، اساتذہ کی خصوصیات، فیس، حفاظت، نظم و ضبط، سماجی رکاوٹیں، اسکول کا بنیادی ڈھانچہ اور امتحانی نتائج شامل تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ والدین کا فیصلہ محض "کون سا اسکول زیادہ پڑھاتا ہے؟" کے سوال تک محدود نہیں ہے۔
پرائیویٹ اسکولوں کی مقبولیت کی سب سے اہم وجوہات میں سے ایک انگریزی ذریعۂ تعلیم ہے، ہندوستان میں انگریزی محض ایک زبان نہیں رہی، یہ روزگار، اعلیٰ تعلیم، ٹیکنالوجی، مسابقتی امتحانات، کارپوریٹ دنیا اور سماجی نقل و حرکت کی ایک اہم زبان بن چکی ہے اور ایک سمبل آف اسٹیٹس بن چکی ہے۔ ایک غریب والدین بھی یہ سوچتا ہے کہ اگر اس کا بچہ روانی سے انگریزی بول اور لکھ سکے تو شاید اسے اپنے والدین سے بہتر مواقع مل جائیں گے۔
اسکرول کی رپورٹ میں تمل ناڈو کے والدین اور طلبا نے بار بار اس بات کا ذکر کیا کہ انگریزی نہ آنے کی وجہ سے انہیں ملازمت اور روزمرہ کے کئی مواقع میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ بعض والدین نے صاف کہا کہ وہ صرف اس لیے پرائیویٹ اسکول کی فیس برداشت کررہے ہیں تاکہ ان کے بچوں کو انگریزی اچھی طرح سیکھنے کا موقع مل سکے۔
یہاں سرکاری اسکولوں کے لیے ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر سرکاری اسکول مفت تعلیم، بہتر تربیت یافتہ اساتذہ اور وسیع تر وسائل رکھتے ہیں تو وہ والدین کو یہ یقین کیوں نہیں دلا پا رہے کہ ان کے بچوں کو معیاری انگریزی تعلیم بھی یہاں مل سکتی ہے؟
ایک دلچسپ معاملہ سامنے آتا ہے کہ عام تاثر یہ ہے کہ پرائیویٹ اسکول کے اساتذہ زیادہ محنت کرتے ہیں اور سرکاری اسکول کے اساتذہ کم لیکن تحقیقات اس کے برعکس بیان کرتی ہیں۔
عظیم پریم جی یونیورسٹی کے مطالعے میں چونسٹھ فیصد سرکاری اسکول اساتذہ کے پاس پوسٹ گریجویٹ ڈگری تھی جبکہ پرائیویٹ اسکولوں کے اساتذہ میں یہ تناسب چوالیس فیصد تھا۔ اسی مطالعے نے یہ بھی نشاندہی کی کہ سرکاری اسکولوں کے مقابلے میں کم فیس والے پرائیویٹ اسکولوں میں اساتذہ کی پیشہ ورانہ اور تعلیمی قابلیت بعض معاملات میں کم تھی، یعنی والدین کا یہ تصور کہ "پرائیویٹ اسکول کا استاد لازماً بہتر ہوگا" اعداد و شمار سے ثابت نہیں ہوتا۔
یہاں ایک بنیادی فرق سامنے آتا ہے، وہ یہ کہ استاد کی اہلیت اور اسکول کی انتظامی کارکردگی دو الگ چیزیں ہیں۔ سرکاری اسکول میں ایک انتہائی قابل استاد ہوسکتا ہے لیکن اگر والدین سے اس کا رابطہ کمزور ہے، اسکول کا ماحول غیر پرکشش ہے، بچے کی انفرادی نگرانی نہیں ہوتی اور اسکول اپنے اچھے کام کو والدین تک پہنچانے میں ناکام ہے تو والدین اس استاد کی قابلیت سے واقف ہی نہیں ہوں گے۔ اس کے برعکس ایک پرائیویٹ اسکول معمولی کارکردگی کے باوجود اپنے آپ کو بہتر انداز میں پیش کرسکتا ہے۔
جدید تعلیم کا ایک اہم پہلو اس کی مارکیٹنگ ہے۔ پرائیویٹ اسکول صرف تعلیم نہیں دیتے بلکہ وہ اپنے اسکول کو ایک "پروڈکٹ" کے طور پر پیش بھی کرتے ہیں۔ بڑے بڑے اشتہارات، خوبصورت یونیفارم، اسکول بسیں، سی سی ٹی وی کیمرے، اسمارٹ کلاس روم، کمپیوٹر لیاب، انگریزی بولنے والے اساتذہ، سالانہ تقریبات، ڈانس، اسپورٹس، فینسی ڈریس مقابلے اور مختلف سرگرمیاں والدین کو یہ احساس دلاتی ہیں کہ بچہ ایک جدید اور محفوظ ماحول میں تعلیم حاصل کر رہا ہے۔
عظیم پریم جی یونیورسٹی کی تحقیق نے بھی اس بات کی طرف توجہ دلائی تھی کہ پرائیویٹ اسکول باقاعدہ داخلہ مہم چلاتے ہیں اور حفاظت، ٹرانسپورٹ، سی سی ٹی وی، کمپیوٹر تعلیم، نظم و ضبط اور غیر نصابی سرگرمیوں کو نمایاں کرکے والدین کو متوجہ کرتے ہیں۔ تحقیق نے یہ بھی بتایا کہ والدین کے تصورات اور اسکول کی حقیقی صورت حال کے درمیان کئی جگہ فرق پایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ کسی اسکول کی مقبولیت اور اس کے تعلیمی معیار کو ایک ہی چیز سمجھنا خطرناک ہے۔
سرکاری اسکول کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ اکثر اپنی کامیابیوں کی تشہیر نہیں کرتے، اگر کسی سرکاری اسکول کا طالب علم آئی آئی ٹی میں داخلہ لیتا ہے، کسی سرکاری مقابلے میں کامیاب ہوتا ہے، کوئی استاد بہترین نتائج دیتا ہے یا اسکول میں کوئی غیر معمولی تعلیمی سرگرمی ہوتی ہے تو اس کی خبر چند لوگوں تک محدود رہ جاتی ہے جب کہ اس کے مقابلے میں پرائیویٹ اسکول ایک چھوٹی سی کامیابی کو بھی اشتہاری مہم بنا دیتے ہیں، اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ والدین کے ذہن میں ایک مخصوص تاثر قائم ہوجاتا ہے کہ "اچھے بچے پرائیویٹ اسکول میں جاتے ہیں۔" یہ تاثر حقیقت سے مختلف ہوسکتا ہے، لیکن سماجی نفسیات میں تاثر خود ایک طاقت بن جاتا ہے۔
یہاں ایک اور مسئلہ ہے، جب متوسط طبقہ سرکاری اسکول سے نکلتا ہے تو سرکاری اسکول میں زیادہ تر غریب خاندانوں کے بچے رہ جاتے ہیں، پھر معاشرے میں یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ سرکاری اسکول "غریبوں کے اسکول" ہیں۔ اس کے بعد جو خاندان تھوڑا بہتر معاشی مقام حاصل کرتا ہے وہ بھی اپنے بچے کو پرائیویٹ اسکول بھیجنے کی کوشش کرتا ہے، تاکہ بچہ "غریب بچوں" کے ماحول سے الگ رہے۔ یوں سرکاری اسکول سے طلبا کا اخراج خود اس اسکول کی سماجی ساکھ کو کمزور کرتا ہے۔
عظیم پریم جی یونیورسٹی کی تحقیق میں بھی یہ رجحان سامنے آیا ہے کہ معاشی طور پر کمزور خاندان سرکاری اسکولوں پر زیادہ انحصار کرتے ہیں جبکہ نسبتاً بہتر معاشی حیثیت رکھنے والے خاندان پرائیویٹ اسکولوں کی طرف زیادہ جاتے ہیں، یہ صرف تعلیم کا مسئلہ نہیں، سماجی مساوات کا مسئلہ بھی ہے۔
اسکرول کی تمل ناڈو سے متعلق رپورٹ کا ایک نہایت اہم پہلو ذات پات سے متعلق والدین کے تجربات ہیں۔ بعض خاندانوں نے بتایا کہ سرکاری اسکول میں ان کے بچوں کی شناخت ان کی ذات اور سماجی پس منظر سے کی جاتی تھی۔ بعض والدین نے یہ خوف بھی ظاہر کیا کہ قریبی سرکاری اسکول میں بھی ان کے بچوں کو وہی سماجی رویہ برداشت کرنا پڑے گا جس کا سامنا ان کے والدین نے کیا تھا۔ اگر یہ تجربات درست ہیں تو مسئلہ صرف اسکول کی عمارت، کتاب یا استاد کا نہیں بلکہ ہندوستانی معاشرے کے اندر موجود سماجی تفریق کا بھی ہے۔ تعلیم کا بنیادی مقصد ہی یہ ہے کہ وہ انسان کو اس کی پیدائشی شناخت کی قید سے نکال کر قابلیت، محنت اور کردار کی بنیاد پر آگے بڑھنے کا موقع دے، اگر اسکول ہی ذات پات کی تفریق کو مضبوط کرے تو تعلیم کا مقصد کیا رہ جاتا ہے۔
بعض والدین نے پرائیویٹ اسکولوں کے انتخاب کی وجہ یہ بتائی کہ وہاں ان کے بچے پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ اگر بچہ بیمار ہوجائے تو والدین کو فون کیا جاتا ہے، بچے کی غیر حاضری پر اطلاع دی جاتی ہے، امتحان کے نتائج پر والدین سے گفتگو ہوتی ہے، اسکول بس کا نظام موجود ہوتا ہے، چھوٹے بچوں کے لیے نگرانی کا انتظام ہوتا ہے۔ یہ سب چیزیں بظاہر تعلیمی نتائج سے براہ راست متعلق نہیں، لیکن والدین کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ والدین دراصل یہ محسوس کرنا چاہتے ہیں کہ اسکول ان کے بچے کی ذمہ داری لے رہا ہے۔ یہ احساس اگر سرکاری اسکول پیدا نہ کرسکے تو والدین فیس ادا کرکے بھی پرائیویٹ اسکول کا انتخاب کریں گے۔
جب طلبا کے سماجی و معاشی پس منظر، گھریلو حالات اور والدین کی تعلیم جیسے عوامل کو ملحوظ رکھا گیا تو سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں کے درمیان تعلیمی فرق بہت کم رہ جائے گا، بلکہ ابتدائی سطح پر بعض سرکاری اور امدادی اسکولوں کے طلبہ نے ریاضی اور زبان میں پرائیویٹ اسکولوں کے طلبا سے بہتر کارکردگی بھی دکھائی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام سرکاری اسکول اچھے ہیں یا تمام پرائیویٹ اسکول کمزور ہیں۔
اصل سبق یہ ہے کہ پرائیویٹ اسکول میں فیس ادا کرنا بہتر تعلیمی نتائج کی ضمانت نہیں ہے۔ اور اسی طرح سرکاری اسکول میں مفت تعلیم حاصل کرنا خراب تعلیم کی ضمانت نہیں ہے، اصل فرق اسکول کے انتظام، استاد کی محنت، تدریسی طریقہ، نگرانی، ماحول اور والدین کے ساتھ تعلق سے پیدا ہوتا ہے۔
پھر سرکاری اسکولوں کا مستقبل کیا ہے؟ یہ سوال صرف حکومت سے نہیں بلکہ پورے معاشرے سے پوچھنا ہوگا۔ سرکاری اسکول ہندوستان کی سب سے بڑی سماجی ضرورت ہیں، ہر خاندان لاکھوں روپے فیس ادا نہیں کرسکتا، اگر سرکاری اسکول کمزور ہوتے گئے تو سب سے زیادہ نقصان غریب، دلت، قبائلی، اقلیتی اور دیہی خاندانوں کے بچوں کو ہوگا، اسی لیے حکومت کو صرف اسکولوں کی تعداد یا عمارتوں کی تزئین و آرائش پر توجہ نہیں دینی چاہیے، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اساتذہ کی مناسب تعداد یقینی بنائی جائے، اساتذہ کو غیر تدریسی کاموں سے حتی الامکان آزاد کیا جائے، ابتدائی جماعتوں میں پڑھنے، لکھنے اور بنیادی ریاضی کو اولین ترجیح دی جائے، انگریزی زبان کی تعلیم کو بہتر بنایا جائے، مگر مادری اور علاقائی زبانوں کو کمزور نہ کیا جائے، اسکولوں میں صفائی، بیت الخلا، پینے کا پانی، بجلی، انٹرنیٹ اور محفوظ ماحول کو بنیادی حق سمجھا جائے، والدین کے ساتھ باقاعدہ رابطے کا نظام بنایا جائے، طلبا کی حاضری، تعلیمی ترقی اور مشکلات سے والدین کو مسلسل آگاہ کیا جائے، اسکول انتظامیہ کو مقامی سطح پر جواب دہ بنایا جائے، ذات پات، مذہب، جنس یا معاشی حیثیت کی بنیاد پر کسی بھی امتیاز کے خلاف سخت نظام بنایا جائے اور سب سے بڑھ کر سرکاری اسکولوں کی کامیابیوں کو عوام کے سامنے لایا جائے۔
اکثر یہ شکایت سننے میں آتی ہے کہ والدین پرائیویٹ اسکولوں کی چمک دمک سے متاثر ہوکر بچوں کو سرکاری اسکول سے نکال رہے ہیں۔ والدین کو الزام دینا آسان ہے لیکن اس سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، ایک مزدور، رکشہ ڈرائیور، گھریلو ملازم یا چھوٹا تاجر اگر اپنی آمدنی میں سے ہزاروں روپے نکال کر بچے کی فیس ادا کرتا ہے تو اسے صرف "پرائیویٹ اسکول کی مارکیٹنگ سے متاثر" کہہ دینا اس کے فیصلے کی پیچیدگی کو نظرانداز کرنا ہوگا، وہ دراصل اپنے بچے کے لیے بہتر مستقبل خریدنے کی کوشش کررہا ہے، وہ چاہتا ہے کہ اس کا بچہ اس سے بہتر زندگی گزارے، یہ والدین کا قصور نہیں؛ یہ ایک ایسا پیغام ہے جو حکومت کو سمجھنا ہوگا۔
یہاں ایک اور بنیادی سوال اٹھتا ہے، وہ یہ کہ کیا تعلیم کا مقصد صرف نمبرات ہیں؟ کیا اچھا اسکول وہ ہے جہاں بچے زیادہ اچھے نمبر حاصل کریں؟ یقیناً تعلیمی کامیابی اہم ہے، لیکن تعلیم کا مقصد اس سے کہیں وسیع ہے۔ بچے میں سوال کرنے کی صلاحیت، تنقیدی سوچ، زبان پر عبور، سائنسی مزاج، سماجی ذمہ داری، اخلاقی شعور، دوسروں کے احترام اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا بھی تعلیم کا حصہ ہے۔ اگر سرکاری اسکول ان بنیادی صلاحیتوں کو مضبوط بنائیں اور والدین کو یہ یقین دلائیں کہ ان کا بچہ یہاں محفوظ بھی ہے، باعزت بھی ہے اور مستقبل کے لیے تیار بھی ہورہا ہے تو پرائیویٹ اسکول کی طرف جانے کا دباؤ خود کم ہوسکتا ہے۔
ہندوستان میں تعلیمی بحث کو اس سوال تک محدود کر دینا کہ "پرائیویٹ اسکول اچھے ہیں یا سرکاری؟" مسئلے کو بہت سادہ بنا دینا ہے، اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ ہندوستان کے ہر بچے کو معیاری تعلیم کیسے فراہم کی جائے؟ اگر پرائیویٹ اسکول اچھا کام کر رہے ہیں تو ان کے اچھے طریقوں سے سیکھا جائے، اگر سرکاری اسکولوں میں بہتر تربیت یافتہ اور تجربہ کار اساتذہ موجود ہیں تو ان کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے، اگر کسی سرکاری اسکول کا تعلیمی نتیجہ اچھا ہے تو اس کے ماڈل کو دوسرے اسکولوں تک پہنچایا جائے اور اگر کوئی پرائیویٹ اسکول صرف تشہیر کے ذریعے والدین کو متوجہ کر رہا ہے لیکن تعلیمی معیار کمزور ہے تو والدین کو درست معلومات فراہم کی جائیں۔
ہندوستان جیسے ملک میں سرکاری اسکولوں کی مضبوطی صرف تعلیم کا مسئلہ نہیں ہے، یہ جمہوریت، سماجی انصاف اور مساوی مواقع کا سوال ہے، ایک ایسا معاشرہ جہاں امیر بچے مہنگے پرائیویٹ اسکول میں، متوسط طبقے کے بچے کم فیس والے پرائیویٹ اسکول میں اور غریب بچے کمزور سرکاری اسکول میں پڑھیں، وہاں سماجی فاصلے مزید بڑھ جاتے ہیں، اس کے برخلاف اگر ایک ہی سرکاری نظام میں وزیر کا بچہ، مزدور کا بچہ، دکاندار کا بچہ، کسان کا بچہ اور متوسط طبقے کا بچہ ایک ہی معیار کی تعلیم حاصل کریں تو تعلیم حقیقی معنوں میں سماجی برابری کا ذریعہ بن سکتی ہے، اس لیے حکومت کا ہدف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ والدین پرائیویٹ اسکول کیوں چھوڑ نہیں رہے، بلکہ ہدف یہ ہونا چاہیے کہ والدین کو اپنے بچے کے لیے سرکاری اسکول منتخب کرتے ہوئے کبھی یہ خوف محسوس نہ ہو کہ انہوں نے بچے کے مستقبل کے ساتھ سمجھوتہ کیا ہے۔ یہ اعتماد واپس لانا ہی سرکاری تعلیمی نظام کی اصل کامیابی ہوگی۔
پرائیویٹ اسکولوں کی طرف والدین کا بڑھتا ہوا رجحان محض اس بات کا ثبوت نہیں کہ پرائیویٹ اسکول بہتر تعلیم دیتے ہیں، تحقیق یہ بتاتی ہے کہ اکثر حالات میں سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں کے تعلیمی نتائج میں فرق بہت کم ہوتا ہے، بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بعض سرکاری اسکول بہتر نتائج بھی دیتے ہیں، اس کے باوجود والدین پرائیویٹ اسکولوں کا رخ اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں وہاں انگریزی، نظم و ضبط، حفاظت، والدین سے رابطہ، انفرادی توجہ، غیر نصابی سرگرمیوں اور بہتر سماجی ماحول کی امید نظر آتی ہے۔
ان کی یہ امید ہمیشہ حقیقت ہو، ضروری نہیں، لیکن والدین کے فیصلے کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ تعلیم صرف کلاس روم میں ہونے والی تدریس کا نام نہیں بلکہ تعلیم کے ساتھ اعتماد، ماحول، زبان، عزت، تحفظ اور مستقبل کی امید بھی جڑی ہوئی ہے۔
سرکاری اسکولوں کے بحران کا حل پرائیویٹ اسکولوں کو برا بھلا کہنا نہیں بلکہ سرکاری اسکولوں کو اتنا مضبوط بنانا ہے کہ والدین انہیں محض مجبوری کے طور پر نہیں بلکہ اعتماد اور اطمینان کے ساتھ منتخب کریں، کیونکہ ایک ایسے ملک میں جہاں کروڑوں بچے اسکول جاتے ہیں، معیاری سرکاری تعلیم کسی حکومت کی مہربانی نہیں بلکہ ایک بنیادی عوامی ضرورت ہے۔