آج کل یو پی سمیت پورے ملک میں بی جے پی سرکاروں کی طرف سے مساجد، عید گاہوں اور مزارات کو چھوٹے چھوٹے بہانوں سے گرانے کا سلسلہ اتنی سرعت سے جاری ہے جیسے یہ حکومت کی کوئی بہت اہم "وکاس یوجنا" (ڈیولپمنٹ پروگرام) ہو۔ اس وقت یہ تحریر صرف حکومت سے براہ راست یہ پوچھنے کے لیے لکھی ہے کہ: آخر مسجدیں ڈھانے کا یہ سلسلہ کب اور کہاں جا کر رکے گا؟ یہ سوال ہمارے دلوں میں ایک بڑا خطرہ بن کر دھڑکنے لگا ہے۔
اب مسلمان ہی نہیں بلکہ ملک کے ہر انصاف پسند شہری کے ذہن میں اس ملک کا سب سے بڑا سوال بن کر ابھر رہا ہے کہ کیا واقعی میں یہ درد ناک سلسلہ صرف انتظامی اصولوں اور ڈسپلین کے تقاضوں کے تحت بی جے پی حکومتوں نے شروع کیا ہے یا پھر اس کے پیچھے کوئی اور خطرناک مقصد چھپا ہوا ہے جس کا کوئی خاص تعلق یوگی کے اس پسندیدہ جملے اور منصوبے سے یے جسے وہ اکثر " مٹی میں ملا دوں گا" کے الفاظ میں دہراتے دکھائی دیتے ہیں؟
سوال یہ بھی ہے کہ یو پی، آسام یا دوسرے کسی صوبے پر کوئی ایسا شخص بطور حکم راں کیسے مسلط رہ سکتا ہے جو حکم رانی کی اتنے اصول و آداب سے بھی نا آشنا ہو جن کا کسی زمانے میں قبائلی سردار بھی پاس ولحاظ رکھتے تھے اور اپنے قبیلے کے تمام لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے۔ جب کہ ادھر حال یہ ہے کہ یہ صوبائی و مرکزی حکم راں جنہیں عام حالت میں کوئی ایک گاؤں کا پردھان بھی بنانا پسند نہ کرے وہ حاکم تو مشکوک انتخابی جیت کے سہارے بنتے ہیں لیکن ان کے منھ سے ڈینگیں اور دھمکیاں ظالم بادشاہوں والی نکلتی ہیں۔ ان میں سے ایک آسام کا چیف منسٹر ہے جو اپنے صوبے میں ظلم و ستم کو وسیلہ بنا کر اپنے صوبے یا ملک سے مسلمانوں کو نکالنے کی دھمکیاں دے رہا ہے تو اسی طرح کا ایک دوسرا نا اہل اور بے لگام حکم راں ملک کے سب سے بڑے صوبے پر مسلط ہے جس نے بلڈوزر اور ملک کے غریب و کمزور شہریوں کے گھروں اور ان کی عبادت گاہوں کو معمولی حیلے بہانوں سے ڈھانے کے بعد اس پر فخر جتانے کو اپنی پہچان بنا لیا ہے۔
کوئی مانے یا نہ مانے لیکن بی جے پی حکومت کا یہ طرز حکومت موجودہ ہندوستانی سیاست اور حکم رانی دونوں کا ایک ایسا انتہائی گھناؤنا چہرا بن چکا ہے کہ اسے دیکھنا اور سہنا ہمارے لیے اذیت ناک ہی نہیں سوہان روح بن چکا ہے۔
یہی نہیں ہندوؤں کے عوامی اجتماعات میں ایک وزیر اعلیٰ کی طرف سے کھلے عام اپنی بلڈوزر دہشت گردی پر خوشیاں منانا اور جاہل و سادہ لوح عوام سے اپنے ان ظالمانہ کارناموں ہر واہ واہی لوٹنا جدید ملکی سیاست اور موجودہ حکم رانی کے ایک انتہائی سیاہ و مکروہ چہرے کو آشکارا کرتا ہے۔
آخر کن مجبوریوں کے تحت یہ حکم راں ان بزدلانہ اور مذموم کاموں کو اپنی پہچان بنا رہے ہیں؟ اس کا صحیح جواب تو شاید انہیں بھی معلوم نہ ہو لیکن فی الحال یہی ان کا مشن ہے۔
پہلے تو ایسا محسوس ہوا کہ شاید یہ سلسلہ دو چار مساجد اور دو چار عید گاہوں پر جا کر رک جائے گا۔ کچھ پریشانیاں یا کچھ غلط فہمیاں ہیں جن کے دور ہونے کے بعد سب کچھ معمول پر آ جائے گا مگر افسوس کہ ہمارا یہ خیال غلط ثابت ہوا۔ اب نہ صرف یہ سلسلہ دراز ہو رہا ہے بلکہ اس کا دائرہ بھی دن بدن وسیع ہوتا چلا جا رہا ہے۔ نوبت یہ ہے کہ مساجد و مزارات کے ساتھ مسلمانوں کے مدارس اور جدید تعلیم گاہیں بھی ان کی تباہ کاریوں کے خاص نشانے پر ہیں۔ رام پور میں یو پی کے مشہور سیاست داں و سابق وزیر، اعظم خان جو اس وقت جیل میں ہیں، ان کی محمد علی جوہر یونیورسٹی کے ساتھ حکومت کا سوتیلا برتاؤ سماجی انصاف اور تعلیم دونوں کے مقدس وجود کو زخمی کرنے والا ہے۔ جوہر یونیورسٹی یوں تو بہت دنوں سے یوگی کی نگاہوں میں ہے لیکن اب لگتا ہے انہوں نے اسے پوری طرح نیست و ںابود کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔ ان کی حکومت کی طرف سے پہلے اعظم خان اور ان کے بیٹے کو طویل مدت تک جیل میں رکھا گیا اور اس کے بعد ان کی قائم کی ہوئی یونیورسٹی کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جوہر یونیورسٹی کے مستقبل کے تعلق سے لوگوں کی تشویش اس وقت سے مزید گہری ہو گئی ہے جب سے اس کی 40 میں 38 عمارتوں کو ڈھانے کے لیے ابھی حال ہی میں سرکار کی طرف سے یونیورسٹی انتظامیہ کو پندرہ دن کا نوٹس دیا گیا ہے۔
اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد نہ تو قوانین کا نفاذ ہے اور نہ ہی گھروں اور بڑی مذہبی و تعلیمی تعمیرات وغیرہ میں قانونی سقم کی اصلاح ہے بلکہ براہ راست ایک فرقے کو حاشیے پر لانا اور اسے دینی، تہذیبی اور تعلیمی طور سے کچھ اس طرح مفلس و لا چار بنانا کہ وہ ملی و تہذیبی طور سے بے نام و نشان ہو کر رہ جائے اور ہندوتوا کے رنگ میں رنگے بھارت میں نہ تو مسلمانوں کی کسی مسجد کا مینار سر اٹھائے دکھائی دے اور نہ ہی ایسے تعلیمی ادارے باقی رہیں جہاں اسلام اور مسلمان کا رنگ غالب ہو یا جہاں ان کی نسلوں میں ایسے اعلیٰ دماغ تعلیم یافتہ لوگ موجود ہوں جو دنیا میں حق و انصاف کی طاقت ور آواز بن کر ان کی نمائندگی کریں۔
ایک طرف مسلم مذہبی عمارتوں اور شعائر کے ساتھ حکومت کی یہ ظالمانہ روش ہے، وہیں دوسری طرف ہندوؤں خصوصاً آر ایس ایس کے زیر انتظام چلنے والے اداروں کو سرکاری انتظامیہ چھونا بھی حرام سمجھتی ہے، چاہے ان اداروں کے پاس ایک بھی دستاویزی ثبوت نہ ہو۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے ہندوؤں کی مذہبی ریلیوں، جلوسوں، سڑک پر مذہبی تیوہاروں اور جاگرن کے لیے پوری چھوٹ ہے۔ خواہ اس کی وجہ سے سڑک پر جیسا بھی اور جتنی دیر تک بھی جام لگے اور عوام کو جس قدر بھی پریشانیاں اٹھانی پڑیں اس سے حکومت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس کے بر خلاف مسلمانوں کو ان کے سبھی بڑے تیوہاروں، خصوصاً عیدین اور رمضان میں جمعۃ الوداع کے وقت اگر پانچ سے دس منٹ تک نمازیوں کی صفیں سڑک کے کچھ حصے تک پہنچ جائیں تو قیامت آ جاتی ہے اور کئی بار نماز پڑھتے ہوئے نمازیوں کے ساتھ توہین آمیز سلوک کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ بلکہ اب تو چیف منسٹر کی طرف سے انتہائی متکبرانہ انداز میں پیشگی دھمکیاں بھی دی جانے لگی ہیں کہ سڑکوں پر نماز پڑھنے والوں کو ہرگز بخشا نہیں جائے گا۔ ظاہر ہے کہ اپنے شہریوں کے ساتھ دوہرا معیار اپنانے کا یہ طریقہ کسی جمہوری- عوامی حکومت کا نہیں بلکہ فسطائی اور نسل پرست حکومتوں کی پہچان یے۔
اس معاملے میں اتر پردیش کی ہوگی حکومت سب سے آگے نظر آ رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا چیف مںسٹر یوگی ادتیہ ناتھ اقتدار کا اسی طرح ناجائز استعمال کرتے ہوئے ملک کے ایک مخصوص مذہبی فرقہ، مسلمانوں کو ہندوتوا کے متعین منصوبے کے تحت نشانہ بناتے رہیں گے اور یہ مان لیا جائے کہ ملک اور عوام کی ترقی و بہبودی کی بجائے یہی ان کا مشن ہے یا پھر مسلمانوں کے ساتھ تعصب اور بغض وعناد سے بھرے اس سلوک کی کوئی حد بھی ہے؟ اور کیا ان کی پارٹی کے مرکزی لیڈروں نے انہیں اتنی چھوٹ کیوں دے رکھی ہے کہ مسلمانوں کے معاملات میں قانون و جمہوریت کو روندنا ان کی عادت سے بن گئی ہے اور کوئی انہیں لگام دینے والا کوئی نہیں ہے؟
حالیہ رپورٹوں میں بھارت کی چھ ریاستوں میں مسلمانوں کی کم از کم تین درجن مذہبی عمارتوں کو منہدم کیے جانے کی نشان دہی کی گئی ہے۔ حکومت کے ان اقدامات کا مرکز خاص طور پر اتر پردیش، دلی اور راجستھان جیسی ریاستیں رہی ہیں۔ سرکاری انتظامیہ ان مذہبی عمارتوں کی مسماری کو غیر قانونی ’تجاوزات کے خلاف مہم‘ کا حصہ بتا کر انہیں منہدم کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ جب کہ ان مسلم مذہبی عمارتوں میں بعض ایسی بھی ہیں جو سیکڑوں سال قدیم ہیں اور زیادہ تر آزادی سے پہلے کی تعمیر شدہ ہیں۔ ان میں ایک بنارس کی ایک ہزار سال پرانی مسجد اور ایک دلی میں دو سو سال پرانا مزار بھی شامل ہے۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ ان مذہبی عمارتوں پر شہروں کی ڈیولپمنٹ انتظامیہ کا کوئی نیا قانون نافذ نہیں ہوتا اور نہ وہ تجاوزات کے زمرے میں آتی ہیں، کیونکہ یہ ڈیولپمنٹ اتھارٹیز ان قدیم عمارتوں کی تعمیر کے سالوں اور دہائیوں بعد وجود میں آئی ہیں۔ اس کے باوجود حکومت کے حکم پر سرکاری عملہ کسی نہ کسی بہانے ان عمارتوں پر بلڈوزر چلانے میں مصروف ہے۔ سرکاری انتظامیہ کے علاوہ اسلام دشمن ہندو تنظیمیں بھی ہندوتوا نواز بی جے پی حکومت و انتظامیہ سے حوصلہ پاکر (اور کبھی خود ان کی موجودگی میں) پوری بے خوفی سے مسلم مذہبی عمارتوں پر حملے کر رہی ہیں۔
مسلمانوں کی مساجد و مدارس کو مسمار کرنے کی یہ کارروائیاں کوئی وقتی یا الگ الگ واقعات کا حصہ نہیں ہیں بلکہ ان کے پیچھے وہی منصوبہ کار فرما ہے جس کے تحت مسلمانوں سے بابری مسجد، گیان واپی مسجد اور سنبھل کی جامع مسجد جیسی تاریخی عبادت گاہیں فرضی سروے، جھوٹے مقدمات اور غلط فیصلوں کی مدد سے چھین لی گئیں اور ابھی ایسی مزید بہت ساری مساجد کو گرانے یا انہیں جھوٹے دعوؤں کی بنیاد پر مندر میں تبدیل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ حالیہ دنوں میں تو ایسی جانب دارانہ کاروائیوں کو ایک منصوبہ بند مہم کی شکل دے دی گئی ہے۔ چنانچہ مئی سے اب تک چھ ریاستوں میں مسلمانوں کی کم از کم 23 مذہبی عمارتوں کو، جن میں مساجد، درگاہیں، عیدگاہیں اور مدارس شامل ہیں، پوری سرعت سے مسمار کیا جا چکا ہے۔ وارانسی کی ایک ہزار سالہ تاریخی مسجد 'گنجِ شہیداں' بھی اتر پردیش حکومت کی اسی مسجد مسماری مہم کے نشانے پر ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ مسلم مذہبی عمارتوں کی مسماری کا یہ سلسلہ صرف بی جے پی کی حکومت والی متعدد ریاستوں میں ہی چل رہا ہے جس کی اسلاموفوبیائی شناخت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ ان ریاستوں میں دہلی، اتر پردیش، گجرات، راجستھان، مہاراشٹر اور ہریانہ شامل ہیں۔
دوہرا معیار اور سوتیلا سلوک
اس دوران ملک میں مسلمانوں اور اسلامی شعائر کے خلاف ہندوتوا حکومتوں کی ریاستی مہم کے شانہ بشانہ ہندوتوا کی غیر سرکاری دہشت گردی کا بھی سلسلہ جاری ہے۔ مساجد کی مسماری کی اسی مہم کے دوران اس قسم کا ایک واقعہ حال ہی میں ملک کے دارالحکومت دلی میں رونما ہوا۔ ہوا یہ کہ دہلی کے پیٹم پورہ علاقے میں بی جے پی کے رکن اسمبلی کرنل سنگھ کی قیادت میں ایک گروپ نے اس ڈھانچے کو منہدم کر دیا جسے انہوں نے "غیر قانونی مدرسہ" قرار دیا۔ ان کے بقول یہ دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے) کی ملکیت والی زمین پر تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ واقعہ 21 مئی 2026 کو پیش آیا جب آر ایس آیس کے درجنوں حامیوں اور ہندوتوا تنظیموں سے وابستہ افراد غنڈوں کی شکل میں جائے وقوعہ پر پہنچے اور ایک ایسی چار دیواری کو گرا دیا جس کی تعمیر کا کام مبینہ طور پر جاری تھا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں ان مخصوص لوگوں کے ایک بڑے ہجوم نے مذہبی نعرے لگاتے ہوئے عمارت پر دھاوا بول دیا اور خود اپنے ہاتھوں سے اس حصے کو منہدم کرتا دکھائی دیا، جبکہ کرنل سنگھ نے اس کارروائی کی فوٹیج خود ریکارڈ کی اور اسے فیس بک پر شیئر کیا۔ لیکن ان کے خلاف نہ تو پولیس نے کوئی کارروائی کی اور نہ ہی اس پر دلی کی حکومت و انتظامیہ کو کوئی اعتراض ہوا۔ یہی کام اگر کسی ہندو مذہبی عمارت کے ساتھ کسی مسلم ایم ایل اے یا ممبر پارلیمنٹ یا کسی بڑے سے بڑے اپوزیشن لیڈر کی قیادت میں ہوا ہوتا تو اب تک ان پر قانون شکنی کی نہ جانے کون کون سی دفعات لگ چکی ہوتیں اور شاید وہ گرفتار بھی ہو چکے ہوتے۔
یہ مثال یہ بتانے کے لیے دی گئی ہے کہ مسلمانوں کا سامنا صرف ریاستی سطح پر ہونے والی ظلم و زیادتی سے نہیں ہے بلکہ نفرتی ہندو گروہوں کے ان غیر سرکاری کارندوں سے بھی ہے جنہوں نے بھی مسلمانوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ یہ لوگ آر ایس ایس اور مسلم دشمن ہندوتوا کے اسکولوں میں پلے بڑھے ہیں جن کی رگ رگ میں نفرت کا زہر بھر دیا گیا ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ ہندوتوا کے ان بے لگام کارکنوں کا حوصلہ کسی اور نے نہیں بلکہ ملک کے انہیں موجودہ حکم رانوں نے بڑھایا ہے جو خود بھی اسلاموفوبیائی ایجنڈے کے ساتھ حکومت میں آئے ہیں۔
اس سلسلے میں دوسرا قابل توجہ پہلو یہ ہے کہ جب سے موجودہ حکومت نے اسرائیل جیسی غاصب رجم کو اپنا رول ماڈل بنایا ہے اس وقت سے ہندوتوا دہشت گردی کو جیسے پر نکل آئے ہوں اور یہ ہر کنٹرول سے آزاد ہو گئی ہے۔ جس طرح مقبوضہ فلسطین میں سارے قوانین اور ساری بندشیں صرف فلسطینیوں پر لاگو ہوتی ہیں اور غیر قانونی یہودی آباد کار مسجد اقصی سے مسجد الخلیل تک دندناتے پھرتے ہیں، فلسطینی بستیوں پر پُرتشدد حملے اور لوٹ مار کرتے ہیں، لیکن اسرائیلی حکومت انہیں روکنا کبھی ضروری نہیں سمجھتی۔ یہاں ان یہودی آباد کاروں کو اسرائیلی حکومت کی طرف سے تمام طرح کی غیر قانونی حرکتیں کرنے کی پوری چھوٹ ہے، وہ جب چاہتے ہیں اسرائیلی فوج کی حفاظت میں کسی فلسطینی کے گھر یا کھیت پر حملہ کرتے ہیں اور جب چاہتے ہیں فلسطینیوں کے گھروں پر قبضہ کر لیتے ہیں اور جیسے چاہتے ہیں راہ چلتی فلسطینی عورتوں اور کم عمر بچوں کو ہراساں کرتے ہیں۔ لیکن اگر کبھی کوئی مظلوم فلسطینی مجبور ہو کر جواب دینے کی ہمت کرتا ہے تو فوج فوراً حرکت میں آ جاتی ہے اور اسے یا تو موقع پر فورا گولی مار دی جاتی ہے یا گرفتار کرکے اذیت خانوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ہندوتوا اور صہیونیت کے طرز عمل میں یہ یکسانیت صرف اتفاق نہیں ہے بلکہ اس میں دیرینہ رشتے اور مقصدی ہم آہنگی یعنی اسلام سے نفرت کی قدر مشترک کا بہت بڑا دخل ہے۔
*شفافیت اور قانونی تقاضوں کا خون*
بہر حال مسماری کے اس سلسلے نے ان الزامات کو تقویت بخشی ہے کہ بی جے پی کے بنیادی سیاسی ایجنڈے میں مسلمانوں اور ان کے مذہبی شعائر کو نشانہ بنانا خصوصی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے کہ اس سے ان کے اس مقصد کی تکمیل ہوتی ہے جسے وہ اب کھلے عام دہرا رہے ہیں، یعنی یہ ملک صرف ہندوؤں کا ہے جہاں دیگر مذہبی قوموں کی حیثیت ثانوی ہے اور ان مذہبی شعائر اور تہذیبی مظاہر کے لیے یہاں کوئی گنجائش نہیں ہے۔
اس منظم انہدامی مہم سے متعلق دوسری بڑی حقیقت یہ ہے کہ مسلم عمارتوں پر انہدامی کارروائی کے معاملات میں حکومت کی طرف سے قانونی طریقہ کار کی پیروی بالکل نہیں کی جا رہی ہے اور انہیں منہدم کرنے میں اتنی عجلت دکھائی جاتی ہے جیسے وہ مساجد و مدارس نہیں بلکہ دوران جنگ ہاتھ آنے والی دشمن کی چوکیاں ہوں جنہیں فوری طور سے اڑانا ضروری ہو۔ حالیہ اقعات پر دستیاب رپورٹوں کا جائزہ لینے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ قدیم مذہبی عمارتوں پر مسماری کی کارروائیاں شروع کرنے سے قبل متعلقہ انتظامیہ کو شاذ و نادر ہی کوئی پیشگی نوٹس دی جاتی ہے اور اکثر یہ ساری کارروائیاں بہت عجلت میں راتوں رات انجام دی جاتی ہیں۔ اس طرح ان معاملات میں شروع سے آخر تک کسی قسم کی کوئی شفافیت نہیں برتی جا رہی ہے بلکہ اس سلسلے میں حکومت کے مجموعی برتاؤ سے شفافیت، انصاف اور قانونی تقاضوں کا پوری طرح سے خون ہو رہا ہے ۔
اطلاعات کے بموجب ان مخصوص علاقوں میں جہاں ایک طرف مسلمانوں کی مذہبی عمارتوں کے خلاف انہدامی کارروائیاں زور و شور سے جاری ہیں، وہیں ان کے قریب موجود ہندوؤں کی مذہبی عمارتوں کو جوں کا توں رہنے دیا جاتا ہے — حالانکہ مبینہ طور پر ان میں سے بیشتر عمارتیں بغیر اجازت تعمیر کی گئی تھیں۔ بر سبیل تذکرہ یہ بھی جان لیں کہ ہندوستان میں اس وقت کوئی ایسا شہر نہیں ہے جہاں کسی سڑک کے درمیان یا کسی نیم یا پیپل کے پیڑ کے نیچے غیر قانونی طور سے چھوٹے بڑے مندر نہ بنے ہوں۔ خود لکھنؤ میں، میں ایسے کئی مندروں کو جانتا ہوں اور ان کی تعمیر کا چشم دید گواہ ہوں جو میرے سامنے ہی دیکھتے دیکھتے سڑکوں کے کنارے فٹ پاتھ کی زمین پر قبضہ کرکے بنائے گئے ہیں اور آج بھی باقی ہیں، بلکہ دن بدن وسیع ہوتے جا رہے ہیں۔ لیکن یہ تمام نا جائز تجاوزات ( قبضہ اور انکروچمنٹ) شاید ہندوتوادی حکومت و انتظامیہ کی نظر میں اس طور سے قانونی ٹھیرتے ہوں کہ ان کے نزدیک ہندوتوا کا معاملہ قانون و عدالت سے بالا تر ہے جو بابری مسجد کے خلاف ان کی مہم کا ایک پسندیدہ نظریہ ہے۔
تہذیبی جارحیت سے نسل کشی تک کا سفر اور ہم
اس طرح حالات کا علم رکھنے والوں کے لیے یہ کہنا بھی مبالغہ نہیں ہے کہ یہ در اصل ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف اس نسل کشی کی تشویش ناک علامتیں ہیں مستقبل قریب میں جس کے واقع ہونے کی بہت سارے ماہرین پیش گوئی کر رہے ہیں اور جو فلسطینیوں کے خلاف غاصب اسرائیلی ریاست کے اقدامات سے بہت زیادہ مشابہت رکھتی ہیں، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ یہ وہیں سے درآمد شدہ ہیں۔ تجزیہ کار مسلمانوں کے ساتھ اس حکومتی رویے کو پہلے صرف "تہذیبی جارحیت" کا نام دیتے تھے لیکن حکومت کے موجودہ رنگ ڈھنگ کو دیکھتے ہوئے اب یہ لفظ بہت معمولی لگتا ہے بلکہ یہ ایک طرح کی نسل کشی ہے، وہی نسل کشی جس کی ابتدا اکثر فسطائیت قوتوں کے ذریعہ "تہذیبی نسل کشی" سے ہوتی ہے۔ اس صورت حال میں ظلم و نا انصافی کا نشانہ بننے والی قوموں کے لیے خاموش بیٹھنا بہت بڑا جرم ہے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ اس مشکل دور میں جب ملک کے تقریباً ہر گوشے میں آتش نمرود دہک رہی ہے، جابروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کلمہ حق کہنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے، اس وقت سچ بولنا اور ظالموں کو ٹوکنا خود کو تلوار کی دھار پر رکھنے کے برابر ہے۔ لیکن جنہیں مستقبل کی پیشانی پر خون کی لکیریں صاف نظر آرہی ہیں اور جو ذلت کی زندگی پر عزت کی موت کو ترجیح دیتے ہیں وہ حالات سے غافل نہیں ہیں، ایسے تمام جیالے اپنے سینوں میں شیر کا جگر پیدا کرکے آج بھی ایودھیا کی ہنومان گڑھی سے لے کر دلی کے جنتر منتر تک پوری بے خوفی سے بول رہے ہیں اور نا انصافیوں کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔ اس لیے کہ وہ جانتے ہیں کہ انقلاب احوال کے لیے معرکہ حیات سے گزرنا لازمی ہے۔
روحِ امم کی حیات کشمکشِ انقلاب
جس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگی
مسلم مفکرین ہی نہیں بہت سارے عالمی مفکرین کی بھی یہ رائے ہے کہ اس کرہ ارضی پر ظلم ایک انتہائی غیر فطری مظاہرہ ہے جس کی جڑیں بہت کمزور ہوتی ہیں جب کہ اس کے خلاف انسانی مزاحمت ایک بالکل فطری تقاضا ہے جو انسانی فطرت میں رچا بسا ہوتا ہے۔ بلکہ اس فکر کا اصل سر چشمہ قرآن کریم ہے جو باطل قوتوں کے تمام ظالمانہ حربوں کو فساد اور نظام فطرت کے خلاف بغاوت قرار دیتا ہے اور اس کے وجود کو پھسپھسی اور سطحی جڑوں والے خود رو درختوں سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا جنہیں وقت آنے پر ہوا کا ایک تیز جھونکا بھی زمین بوس کر دیتا ہے۔ دوسرے یہ کہ جس طرح ظلم و نا انصافی ایک غیر فطری مظاہرہ ہے اسی طرح بے چون و چرا صدیوں تک ظلم سہتے جانا بھی ایک غیر فطری انسانی رویہ ہے جو انسانی فطرت سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا اور یہ رویہ مستقل طور سے باقی رہنے پر دھیرے دھیرے انسانوں سے ان کی انسانی خصوصیات چھین لیتا ہے۔ اس لیے جب ظلم ساری حدیں پار کرنے لگے اور وہ موج خون بن کر ہمارے سروں کے اوپر سے گزرنے لگے اور ایک پوری قوم کا حال و مستقبل دونوں داؤ پر لگ جائیں تو ان حالات میں محض ڈر کی وجہ سے نہ بولنا ڈر کے اس ماحول کی جڑیں اپنے لیے اور اپنی آئندہ نسلوں کے لیے مزید مضبوط کرنے کے برابر یے اور یہ غیر فطری ماحول نسلوں کے فطری نشو و نما میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں یہ یقین ان پر مثبت ارتقا کی راہیں کھولتا ہے کہ بے شک جب ظلم بڑھتا ہے تو ایک دن وہ مٹتا بھی ہے اور جب بھی ظالموں کا دبدبہ راج کرتا ہے تو ایک دن وہ سمٹتا بھی ہے۔ لیکن یہ سب اپنے آپ نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے سب سے پہلے دلوں سے ڈر کو نکالنا اور آگے بڑھ کر ظلم و نا انصافی کے غیر فطری ماحول کے خلاف کھڑا ہونا ہو گا۔
ایسا نہیں ہے کہ لوگ حالات کی سنگینی سے واقف نہیں ہیں، لوگ واقف بھی ہیں اور کہیں نہ کہیں انہیں اس پر تشویش بھی ہے لیکن ان کی ساری تشویش و بے چینی صرف کڑھنے اور کبھی کبھی اپنی محفلوں میں اس پر ہائے توبہ کرنے تک محدود ہے۔ تاہم جو لوگ یہ تمنا رکھتے ہیں کہ ان کی کھوئی ہوئی بہاریں دوبارہ لوٹ آئیں ان کا رویہ اس سے مختلف ہوتا ہے۔ وہ وقت آنے پر کشمکش انقلاب سے بھی گزرتے ہیں اور خزاں کے سوداگروں سے بھی دو دو ہاتھ کرنے سے نہیں کتراتے۔ وہ خاموشی میں عافیت نہیں ڈھونڈتے اور ان کی زندگی کی ساری ساری دوڑ دھوپ صرف اپنا رزق حاصل کرنے تک باقی نہیں رہتی، بلکہ آگے بڑھ کر خود پہلا زخم کھانا اور ظالموں کا پہلا وار سہنا انہیں پسند ہوتا ہے چاہے اس کے لیے انہیں جو بھی قیمت چکانی ہڑے۔ جو ظلم کے سیلاب پر بند باندھنے اور غلامی کو رد کرنے کا تہیہ کرتے ہیں، وہ ضرورت پڑنے پر نقد جاں پیش کرکے بھی اپنی امت کو حیات تازہ بخشتے ہیں۔ یاد رکھیے! جو مایوس نہیں ہوتے وہ کبھی ڈر کر اپنی موت کا انتظار نہیں کرتے بلکہ موت سے کھیل کر ظالموں کی راہیں روکنے کا حوصلہ دکھاتے ہیں۔ ہندوستان کے موجودہ سیاسی و جغرافیائی حالات آج اسی رویے کا تقاضا کر رہے ہیں۔
روحِ امم کی حیات کشمکشِ انقلاب

اسلامی شعائر سرکاری و غیر سرکاری ہندوتوا کی زد میں

