18 ریاستوں سے 500 سے زائد مندوبین کی شرکت
 تعاون اختراع اور قومی ترقی کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر زور
اقتصادی ترقی صرف حکومتی پالیسیوں یا بڑے صنعتی منصوبوں کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ اس کی حقیقی بنیاد ایسے مضبوط کاروباری نیٹ ورکس، اختراعی سوچ، باہمی اعتماد اور اجتماعی تعاون پر استوار ہوتی ہے جو مختلف خطوں، شعبوں اور طبقات کو ایک دوسرے سے جوڑ سکیں۔ بدلتی ہوئی عالمی معیشت میں جہاں کاروبار کی نئی جہتیں ہر روز جنم لے رہی ہیں، وہیں ہندوستان میں بھی صنعت، تجارت، اسٹارٹ اپس اور اختراعی کاروبار کو منظم انداز میں فروغ دینے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔ ایسے حالات میں اگر ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے صنعت کار، تاجر، سرمایہ کار، کاروباری ماہرین اور نوجوان کاروباری ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہوں، تجربات شیئر کریں، شراکت داریوں کی بنیاد رکھیں اور مشترکہ ترقی کا عزم کریں تو یہ محض ایک کانفرنس نہیں بلکہ مستقبل کی معاشی سمت متعین کرنے کی سنجیدہ کوشش بن جاتی ہے۔
اسی تناظر میں رفاہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (RCCI) نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سنٹر فار انوویشن اینڈ انٹرپرینیورشپ (CIE) کے اشتراک سے رفاہ نیشنل بزنس کانکلیو 2026 کا انعقاد کیا جو اپنے حجم، شرکت، موضوعات اور عملی نتائج کے اعتبار سے ایک نمایاں قومی کاروباری اجتماع ثابت ہوا۔
ایک پلیٹ فارم، متعدد امکانات
نئی دہلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ڈاکٹر ایم اے انصاری آڈیٹوریم میں منعقدہ اس ایک روزہ کانکلیو میں ملک کی 18 ریاستوں اور 50 سے زائد کاروباری شعبوں سے تعلق رکھنے والے 500 سے زیادہ صنعت کاروں، تاجروں، کاروباری شخصیات، پیشہ ور ماہرین، اسٹارٹ اپ بانیوں اور سرمایہ کاروں نے شرکت کی۔
کانکلیو کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ اسے محض رسمی تقاریر تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ شرکاء کو ایک دوسرے سے براہِ راست روابط استوار کرنے، نئے تجارتی امکانات تلاش کرنے، سرمایہ کاری کے مواقع پر غور کرنے اور طویل مدتی کاروباری شراکت داریوں کی بنیاد رکھنے کے لیے مؤثر ماحول فراہم کیا گیا۔
تعلیم اور صنعت کے درمیان مضبوط ربط
افتتاحی اجلاس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کے بعد معزز مہمانوں کا استقبال اور گلپوشی کی گئی۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سنٹر فار انوویشن اینڈ انٹرپرینیورشپ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر ریحان خان سوری نے اپنے خیر مقدمی خطاب میں کہا کہ تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان مضبوط اشتراک وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہی تعلق نوجوان نسل میں اختراعی سوچ، کاروباری مہارت اور خود روزگاری کے مواقع پیدا کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
قومی کاروباری نیٹ ورک کی تعمیر
رفاہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے چیئرمین ایس امین الحسن نے کانکلیو کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ رفاہ کا نصب العین ملک بھر کے تاجروں، صنعت کاروں، پیشہ ور افراد اور نوجوان کاروباریوں کو ایک مضبوط قومی پلیٹ فارم پر یکجا کرنا ہے تاکہ باہمی تعاون، رہنمائی، معلومات کے تبادلے اور تجارتی روابط کے ذریعے مشترکہ ترقی کی نئی راہیں ہموار کی جا سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مضبوط معاشی بنیادیں صرف سرمایہ سے نہیں بلکہ منظم نیٹ ورک، اعتماد اور اجتماعی جدوجہد سے استوار ہوتی ہیں۔
کاروبار میں اخلاقیات اور عالمی وژن
کانکلیو میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ممتاز کاروباری رہنماؤں نے اپنے تجربات اور مشاہدات شرکاء کے ساتھ شیئر کیے۔
ہمالیہ ویلنیس کمپنی کے صدر ڈاکٹر ایس فاروق نے عالمی معیار کے بھارتی برانڈز کی تشکیل میں قیادت، اخلاقی اقدار، معیار اور مسلسل جدت کی اہمیت پر روشنی ڈالی جبکہ دبئی کی معروف کمپنی بارکو کے گلوبل ڈسٹری بیوشن ڈائریکٹر ڈاکٹر فیض الرحمن عباسی نے عالمی منڈیوں میں بھارتی مصنوعات کی رسائی، برآمدات، بین الاقوامی تقسیم کاری کے نظام اور نئے تجارتی امکانات پر تفصیلی گفتگو کی۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ رفاہ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کا یہ اشتراک نوجوان نسل میں کاروباری شعور، خود انحصاری اور اختراع کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
نیٹ ورکنگ سے کاروباری شراکت داری تک کانکلیو کی اصل روح اس کے عملی سیشنز تھے۔
ہائی ٹی نیٹ ورکنگ، انڈسٹری زون انٹروڈکشن، بزنس ٹو بزنس (B2B) ملاقاتیں، کاروباری لیڈز کا تبادلہ، سرمایہ کاری پر مذاکرات، ڈیلرشپ، ڈسٹری بیوشن اور مشترکہ منصوبوں سے متعلق خصوصی نشستوں نے شرکاء کو ایک دوسرے کے قریب آنے اور عملی کاروباری روابط قائم کرنے کا موقع فراہم کیا۔
مختلف ریاستوں سے آئے ہوئے کاروباری افراد نے اپنے اداروں، مصنوعات اور خدمات کا تعارف پیش کیا جس سے کئی نئے کاروباری امکانات اور شراکت داریوں کی راہیں کھلیں۔
نوجوان کاروباریوں کے لیے رہنمائی
کانکلیو میں نئے کاروبار اور اسٹارٹ اپس کے لیے بھی خصوصی نشست منعقد کی گئی جس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ و طالبات سمیت نوجوان کاروباریوں کو کامیاب کاروبار کے قیام، سرمایہ کے حصول، رہنمائی، ادارہ جاتی معاونت اور مارکیٹ تک رسائی کے عملی پہلوؤں سے آگاہ کیا گیا۔
اس نشست نے نوجوان نسل کو صرف ملازمت کے متلاشی بننے کے بجائے روزگار پیدا کرنے والا بننے کی ترغیب دی جو کسی بھی مضبوط معیشت کی بنیادی ضرورت سمجھی جاتی ہے۔
جامع معاشی ترقی کا ویژن
اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ریفاہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے جنرل سکریٹری مرزا افضل بیگ نے کہا کہ رفاہ ملک بھر کے تاجروں، صنعت کاروں اور پیشہ ور افراد کا ایک مضبوط قومی نیٹ ورک قائم کرنے اور جامع معاشی ترقی کے فروغ کے لیے مسلسل سرگرمِ عمل ہے۔
رفاہ دہلی کے صدر سلطان صلاح الدین نے تمام مہمانوں، مقررین، اسپانسرز، شریک اداروں اور رضاکاروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی کامیابی قرار دیا جبکہ کانکلیو کے کنوینر سید یونس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ رفاہ ہندوستان کی سب سے فعال، مؤثر اور منظم کاروباری برادری کی تشکیل کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کرے گا۔
آخر میں چیف کنوینر ڈاکٹر محمد اسلم نے کہا کہ یہ کانکلیو رفاہ کے اس قومی ویژن کی عملی تعبیر ہے جس کا مقصد تاجروں، صنعت کاروں، سرمایہ کاروں، اسٹارٹ اپس اور پیشہ ور افراد کو ایک مضبوط پلیٹ فارم پر متحد کرکے تعاون، اختراع، سرمایہ کاری اور پائیدار معاشی استحکام کو فروغ دینا ہے۔
مستقبل کی سمت
رفاہ نیشنل بزنس کانکلیو 2026 نے واضح کر دیا کہ موجودہ معاشی دور میں کامیابی صرف انفرادی کوششوں سے ممکن نہیں بلکہ منظم نیٹ ورکنگ، علم و تجربے کے تبادلے، اختراع، مشترکہ سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے ہی مضبوط اور پائیدار معاشی ترقی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اگر اس کانکلیو میں قائم ہونے والے روابط، طے پانے والی شراکت داریاں اور پیش کیے گئے تصورات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو یہ اجتماع صرف ایک کامیاب تقریب نہیں بلکہ ہندوستان میں کاروباری تعاون کی ایک نئی روایت اور قومی معاشی خود اعتمادی کی مضبوط بنیاد ثابت ہو سکتا ہے۔