یو پی میں بدعنوانی کا افسوسناک ویڈیو وائرل، شاہ جہاں پور بلدیہ کے ایوان میں کمیشن کے برابر بٹوارے کی کھائی گئی قسم
گجرات میں کتابیں پڑھنے کے لیے جمع ہونے والے نوجوانوں پر حملہ
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں چار طلبا لیڈروں کا اخراج، اسپاٹ ایڈمیشن کے عمل پر احتجاج کی سزا
شمالی ہند میں کانوڑیوں کا تانڈو ختم ہوا۔ محکمہ موسمیات کی پیش قیاسی کے مطابق اس سال مانسون بھی جلد رخصت ہوا چاہتا ہے۔ رہ گیا سیاسی جوار بھاٹا جو ابھی بھی عروج پر ہے۔ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے پارٹی صدر ملکارجن کھرگے کے اسٹیج کا شدھی کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شدھی کرن چھوت چھات کی ہی ایک شکل ہے جس کے ذریعے بی جے پی و آر ایس ایس یہ پیغام دے رہی ہے کہ دلتوں کو ہاتھ نہیں لگانا چاہیے کیونکہ وہ گندے ہیں۔ واضح رہے کہ اتر اکھنڈ بی جے پی صدر کی جانب سے شدھی کرم کو درست ٹھیرانے کے بعد یہ موضوع دوبارہ گرم ہو گیا ہے۔ راہل گاندھی نے دلی میں اس مسئلے کو اٹھاتے ہوئے ہریدوار میں پیش آنے والے واقعے کے خلاف مضبوطی سے لڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ادھر نیپال میں بغیر برسات اچانک آنے والے سیلاب سے یو پی اور بہار کے سرحدی اضلاع کے عوام حیران و پریشان ہیں جہاں ندیوں میں لاشیں بہہ کر آرہی ہیں۔ ہمالیہ کی گود میں واقع ریاست اتر اکھنڈ کے باشندے بھی کیدار ناتھ اور دیگر پہاڑی ندیوں میں پچھلے برسوں اچانک آنے والے سیلاب کے واقعات کو یاد کر کے سہمے ہوئے ہیں لیکن کسی کو بھی پہاڑوں کے اوپر سے آنے والے اس قہر کی روک تھام کا حل نہیں سوجھ رہا ہے۔ ماہرینِ ماحولیات گلوبل وارمنگ کے سبب گلیشیئر پگھلنے اور جنگلات کی کٹائی کو اس تباہی کا سبب بتا رہے ہیں۔
بے ایمانی کی رقم ایمانداری سے تقسیم کرنے کا حلف!
سائنسی تحقیقات اور انسانی ایجادات موجودہ مسائل کا حل تلاش کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں لیکن ہمارے ملک کے حکم راں و سیاست داں تو سیاسی روٹیاں سینکنے میں مصروف ہیں انہیں ان سنجیدہ مسائل سے کیا مطلب؟ سیاسی کال کوٹھری کی ایک سیاہ تصویر یو پی کے شاہ جہاں پور بلدیہ کے ایوان سے وائرل ہوئی ہے جس میں شہری بلدیہ کے کچھ ممبران یعنی کارپوریٹ ہاتھوں میں جل لے کر قسم کھاتے ہوئے نظر آرہے ہیں کہ ترقیاتی پروجیکٹوں میں کمیشن کی جو بھی رقم ملے گی سب میں برابر تقسیم ہوگی اور بد عنوانی کے کسی بھی معاملے میں مصیبت آنے پر سب ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے۔ تصویر وائرل ہونے کے بعد پورے صوبے میں چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں کیونکہ یہ معاملہ یو پی کے ایماندار سمجھے جانے والے یوگی آدتیہ ناتھ کے خاص وزیر شہری ترقی سریش کمار کھنا کے آبائی وطن سے جڑا ہوا ہے۔ بدعنوانی کی شرمناک تصویر وائرل ہونے کے بعد مقامی انتظامیہ نے جانچ کا حکم دے دیا ہے۔ تصویر میں موجود کارپوریٹروں کو تحریری وضاحت پیش کرنے کے لیے تین دنوں کی مہلت ملی تھی لیکن اس کے باوجود ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا ہے۔ اپوزیشن کانگریس نے اس معاملے میں ملوث ممبروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ شاہجہاں پور میں پچھلے دنوں جنگ آزادی کے تین مجاہدین آزادی کے مجسموں کو ہٹانے کے دوران توڑ دیا گیا تھا جس سے ان کے چاہنے والوں کو گہرا صدمہ لگا تھا۔ مجاہدین آزادی کی یادگاروں کے لیے جدوجہد کرنے والے سدھیر ودیارتی نے اس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بلدیہ کی شدید مذمت کی تھی۔ شاہ جہاں پور کے اس واقعے سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ بدعنوانی کے اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔
مدھیہ پردیش کابینہ نے کرنل صوفیہ کی توہین کرنے والے لیڈر کو معاف کر دیا!
مدھیہ پردیش کابینہ نے کرنل صوفیہ کے خلاف بیان بازی کرنے کے معاملے میں بی جے پی لیڈر وجے شاہ پر مقدمہ چلانے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ کی پھٹکار کے باوجود ریاستی کابینہ کے اس فیصلے کی چوطرفہ مذمت ہو رہی ہے۔ ایم پی کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے صدر جمہوریہ کو خط لکھ کر پوری کابینہ کو برخاست کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت عدالتی عمل میں رکاوٹ کھڑی کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے وجے شاہ کی معافی کو قبول نہیں کیا اور کہا کہ "بس بہت ہو گیا، اب عدالتی حکم پر عمل آوری کی رپورٹ پیش کی جائے" ریاستی کابینہ کا کہنا ہے کہ وجے شاہ تین بار سرعام معافی مانگ چکے ہیں اس لیے انہیں معاف کر دینا چاہیے۔ ریاستی حکومت کی اس ڈھٹائی پر سب کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ اودھیش کمار جی نام کے ایک صارف نے ایکس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا" دیکھنا ہے کہ کاکروچ والے می لارڈ ان چیف کیا کرتے ہیں۔ اگر اپنا حکم نافذ نہیں کرا سکتے تو کرسی پر بیٹھنے کا کوئی مطلب نہیں ہے"
رنویر سنگھ نام کے دوسرے صارف نے لکھا "یہ حد درجے کی بے شرمی ہے اور یہ بے شرمی صرف بی جے پی آر ایس ایس یا وزیر اعظم مودی کی نہیں ہے بلکہ اس بے شرمی کا داغ ہر اس ووٹر پر ہے جو انہیں ووٹ دیتا ہے"۔
یو پی میں جمہوری حقوق کا مذاق
طنزیہ جملہ لکھنے والا سرکاری ملازم معطل
اتر پردیش میں سرکاری ملازموں کی نگرانی اتنی بڑھ گئی ہے کہ سوشل میڈیا پر لکھا گیا ایک طنزیہ جملہ بھی ان کی ملازمت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ چنانچہ جون پور میں ایک سرکاری لیکھپال کے ساتھ یہی ہوا۔ شاہ گنج تحصیل کے لیے لیکھپال اشوک کمار یادو نے چینی کی مہنگائی پر طنز کرتے ہوئے فیس بک پر لکھ دیا "چائے خطرے میں ہے متر، چینی پہنچ گئی ہے ستر" اشوک کمار کی پوسٹ کو اعلیٰ حکام نے سرکاری پالیسیوں کے خلاف بتاتے ہوئے فوری طور پر معطل کر دیا اور ان کے خلاف محکمہ جاتی جانچ کے لیے کمیٹی بھی بنا دی۔ سرکاری حکام کا ماننا ہے کہ لیکھ پال نے سرکاری عہدے پر رہتے ہوئے حکومت کی شبیہ کو منفی انداز میں پیش کیا۔ سرکار کے اس فیصلے سے سوشل میڈیا میں خوب لے دے ہوئی لیکن ایسا لگتا ہے کہ سرکار کو عام لوگوں کے حقوق کی کوئی پروا نہیں ہے۔
مذہبی پرچم بنانے پر جیل کی سزا
یو پی کے ضلع دیوریہ کے سلیم پور میں ایک پینٹر کو یا حسین لکھا ہوا مذہبی جھنڈا بنانے پر جیل بھیج دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق مبین کے ساتھ دو اور لوگوں کو بھی گرفتار کر کے جیل بھیجا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ جھنڈے کو اے کے 47 کی شکل بنا کر لگایا جس سے سماج میں دہشت پھیل سکتی ہے۔ جبکہ وائرل تصویر میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ پرچم میں یا حسین کے نیچے ایک تلوار کی تصویر بنی ہوئی ہے لیکن پولیس نے اس کی جانچ کرنے کے بجائے صرف شکایت ملنے پر ہی ان لوگوں کو جیل بھیج دیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پرچم عربی خطاطی کا نمونہ ہے جسے میلاد النبی کی خوشی میں گھر کی چھت پر لگایا گیا تھا۔ ایم آئی ایم کے صدر بیرسٹر اسدالدین اویسی نے بھی اس معاملے میں پولیس کی کارروائی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ پولیس کو کسی ایکسپرٹ کی رائے کے بغیر اس طرح کی کارروائی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ مذکورہ دو مثالیں یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ یو پی میں جمہوری نظام کس طرح سے کام کر رہا ہے۔
گجرات میں کتاب پڑھنے کی مخالفت غنڈوں نے کیا حملہ
احمد آباد کے وسترا پور علاقے میں جین-زی کے نوجوان ایک پارک میں کتابیں پڑھ رہے تھے کہ ان پر کچھ غنڈوں نے حملہ کر دیا۔ مشہور سائنس داں و شاعر گوہر رضا نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر یہ خبر شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے "میں حیران نہیں بلکہ ناراض ہوں۔ یہ ٹھیک اسی طرح ہوا جس طرح ہٹلر کی جرمنی میں ہوا تھا۔ دراصل احمد آباد کے آنند نکیتن اسکول میں ملالہ یوسف زئی کی خود نوشت "آئی ایم ملالہ" اور انے فرینک کی ڈائری بچوں کے پڑھنے کے لیے لائبریری میں رکھی گئی تھی۔ چند سرپرستوں کی شکایت پر مقامی انتظامیہ نے اسکول پر دس ہزار روپے کا جرمانہ لگا دیا۔ اس کے خلاف جین-زی کے کچھ طلبا ایک پارک میں جمع ہوکر کتابیں پڑھ رہے تھے کہ بھگوا عناصر نے ان پر حملہ کر دیا۔ پولیس سے جب اس معاملے کی شکایت کی گئی تو اس نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیا۔ پروفیسر مکیش کمار نے اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ان دونوں کتابوں کا بھارت اور ہندوتوا سے کوئی تعلق نہیں ہے، ان میں نہ تو مودی کی برائی کی گئی ہے اور نہ آر ایس ایس کی، طلبا نے جب سر عام ان کتابوں کو پڑھنا شروع کیا تو بھگوا غنڈے انہیں مارنے کے لیے پہنچ گئے۔ کیا یہی گجرات کا تعلیمی ماڈل ہے جس میں دوسروں کی سوچ کے لیے بھی کوئی گنجائش نہیں ہے؟
جامعہ ملیہ اسلامیہ نے طلبا کا اخراج کیوں کیا؟
جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ضابطوں کے خلاف احتجاج کرنے کی پاداش میں چار طالب علم لیڈروں کا اخراج کر دیا اور یونیورسٹی میں ان کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔ ان طلبا نے یونیورسٹی میں اسپاٹ ایڈمیشن میں دھاندلی کے خلاف سنٹرل کینٹین کے پاس احتجاجی دھرنا منظم کیا تھا۔ یہ چاروں طالب علم کانگریس کی طلبا تنظیم این ایس یو آئی کے عہدے دار ہیں۔ طلبا تنظیم نے یونیورسٹی انتظامیہ سے تادیبی کارروائی واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ اس سے طلبا کا اکیڈمک کریئر متاثر ہو سکتا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو ان کی شکایت سننا چاہیے اور شفاف طریقے سے کھل کر بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنا چاہیے۔ طلبا سپاٹ ایڈمیشن کے دوران میرٹ کو نظر انداز کر کے غیر مستحق طلبا کو داخلہ دینے کا الزام لگا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ پر کافی عرصے سے طلبا کے حقوق کو پامال کرنے کے الزامات لگ رہے ہیں۔
یو پی میں گائے کا نسلی خاندان کم کیوں ہو رہا ہے؟
یوپی حکومت گائے کے تحفظ کے بڑے بڑے دعوے کرتی ہے۔ گوشالاؤں پر ہر سال کروڑوں روپے خرچ کر رہی ہے لیکن محکمہ مویشی پروری کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ 2021 میں مویشی شماری میں گائے کی نسل کے تقریبا ستر لاکھ جانور کم ہو گئے ہیں۔ صحافی ابھیشیک اپادھیائے نے ٹاپ سیکریٹ کی رپورٹ میں سرکاری اعداد و شمار سے انکشاف کیا ہے کہ 2019 کی مویشی شماری میں تقریبا ایک کروڑ 90 لاکھ جانور تھے جو 2024 کی مویشی شماری میں 37.18 فیصد کم ہو گئے۔ دو سال گزرنے کے باوجود ابھی تک اس رپورٹ کو جاری نہیں کیا گیا ہے۔ محکمہ مویشی پروری کے ایک حکم نامے میں گائے کی گھٹتی ہوئی نسل پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور اسے پورا کرنے کے لیے مصنوعی طریقے سے گائے کو گابھن کر کے گائے کی نسل بڑھانے کا حکم دیا گیا ہے۔ جبکہ سرکاری گوشالاؤں سے ہر روز گائیوں کے مرنے کی خبریں آرہی ہیں۔ وٹرنری ڈاکٹرس یونین کے لیڈر ڈاکٹر منوج کمار نے بات چیت میں تسلیم کیا کہ گوونش پہلے بھی کاٹے جاتے تھے لیکن پچھلے پانچ سات سالوں میں اس میں بھاری اضافہ ہوا ہے۔ پوری یو پی میں منظم طریقے سے گائے کی نسل کے جانور کاٹے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر منوج کے مطابق انہوں نے اس سلسلے میں حکومت کو خط لکھ کر آگاہ کیا تھا لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے بی جی پی رکن اسمبلی نند کشور گوجر ہر روز پچاس ہزار گائیں کاٹے جانے کا دعوی کر چکے ہیں۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ گوونش کی تعداد میں اتنی بھاری کمی ہونے کے باوجود ریاستی حکومت پچھلے دو سالوں سے مویشی شماری کی رپورٹ دبائے بیٹھی ہے جبکہ گوکشی کے نام پر قریشی برادری کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔ سیکڑوں افراد گوکشی کے مقدمے جھیل رہے ہیں لیکن مویشی ڈاکٹرز یونین کی شکایت پر ابھی تک کسی بھی سلاٹر ہاؤس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ کیا یہی گایوں سے محبت ہے؟
تو صاحبو! یہ تھا شمال کا حال، آئندہ ہفتے پھر ملیں گے کچھ تازہ اور دلچسپ احوال کے ساتھ، تب تک کے لیے اللہ خیر سلا۔