’’مودی مخالفت‘‘ سے آگے: راہل گاندھی نے پیش کیا خواتین کی آزادی کا ایجنڈا
بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ وہ تو ملک کو وشو گرو بنا رہی ہے جبکہ کانگریس کے پاس اقتدار کے حصول کے لیے مودی مخالفت کے سوا کوئی اور ایجنڈا ہی نہیں ہے۔ چنانچہ پونے میں راہل گاندھی نے اس بیانیے کی بیخ کنی کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہاں سیاست پر بات کرنے نہیں آئے بلکہ خواتین کو بولنے یعنی اپنے جذبات و احساسات کو بیان کرنے کا موقع دینا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد اپنا پروچن سنانے کے بجائے انہوں نے کہا ’’آج آپ بولیں، آپ بتائیں کہ آپ کیا سوچتی ہیں اور کیا چاہتی ہیں؟ ہم آپ کے خیالات آپ ہی کے ساتھ شیئر کریں گے اور ان پر گفتگو کریں گے‘‘۔ وزیر اعظم نریندر مودی تو خود کو نان بائیولوجیکل سمجھتے ہیں اس لیے وہ کسی سے کچھ سننا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔ وہ اپنا گھسا پٹا راگ الاپتے رہتے ہیں مگر اس سے نسلِ نَو تو دور عام لوگ بھی اوب چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ من کی بات سننے والوں کی تعداد میں بہت زبردست کمی واقع ہوچکی ہے۔ آنکھ موند کر ان کی باتوں کو سننے والے اب بارہ سال کی طویل مدت کے بعد سوال کرنے لگے ہیں؎
نہ ادھر اُدھر کی تو بات نہ کر، یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے
راہل گاندھی نے پونے کانفرنس کے دوران ایک خاتون سے سوال کیا کہ آخر ایک مرد کسی عورت کو کنٹرول کیوں کرنا چاہتا ہے؟ کیا وہ محسوس کرتی ہیں کہ مرد انہیں قابو میں رکھ سکتا ہے؟ جواب تھا کہ وہ خود کو سب سے پہلے ایک انسان سمجھتی ہیں۔ انہیں اس وقت غصہ آتا ہے جب لوگ ان کے ساتھ صرف اس بنیاد پر برتاؤ کرتے ہیں کہ وہ ایک عورت ہیں۔ انہیں کہا جاتا ہے کہ ’’تم تو لڑکی ہو، خوبصورت ہو، کوئی بھی تم سے شادی کر لے گا اور تم اچھی زندگی گزارو گی‘‘ اس جواب پر راہل گاندھی نے کہا کہ یہی دراصل ایک جال ہے۔ خواتین کو کنٹرول کرنے کے لیے سماج نے کئی طریقے بنا رکھے ہیں۔ ان میں تشدد، توہین و بے عزتی، وقت پر پابندی اور فیصلوں پر کنٹرول شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد صرف جسمانی نہیں ہوتا بلکہ اس کی کئی شکلیں ہیں۔ گھر میں بار بار یہ کہا جاتا ہے کہ ’’ادھر مت جاؤ، کچھ ہوگیا تو؟‘‘، ’’باہر مت نکلو، کچھ ہوگیا تو؟‘‘۔ اس طرح خوف کو عورت کی زندگی کا مستقل حصہ بنا دیا جاتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے مکہ مکرمہ کے سخت حالات میں جس روشن مستقبل کی خوشخبری سنائی تھی اس میں یہ مثال دی گئی کہ ’’ایک بوڑھی عورت صنعا سے حضرموت یعنی جزیرۃ العرب کے ایک کونے سے دوسرے تک تنہا سونا اچھالتی ہوئی جائے گی اور اس کو اللہ کے سوا کسی کا ڈر نہیں ہوگا‘‘۔ یہ تحفظ کی گارنٹی سیکڑوں سال قبل دی گئی اور اسے عملی جامہ پہنا کر دکھا دیا۔ طلبا کی گونج نے سنگھ پریوار کے اس بیانیے کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا کہ حزب اختلاف کے پاس مودی کی مخالفت کے سوا کوئی ایجنڈا نہیں ہے۔ راہل گاندگی نے سنگھ کی دکھتی رگ ’منو سمرتی‘ پر سیدھا حملہ کرکے ثابت کر دیا کہ یہ معاملہ اقتدار کی تبدیلی تک محدود نہیں ہے بلکہ نظریاتی و سماجی انقلاب کا بھی ہے۔ طلبا کی گونج کا سلسلہ کوٹا شروع ہو کر دہرہ دون گیا اور پھر الٰہ آباد سے ہوتا ہوا پونے پہنچ گیا۔ ان سارے صوبوں میں بی جے پی کی ڈبل انجن سرکاریں ہیں۔ ان میں سے ہر مقام پر رکاوٹیں پیدا کی گئیں مگر ریاستی سرکاروں کو منہ کی کھانی پڑی اور ہر مرحلے میں اس میں شریک ہونے والے طلبا و طالبات کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ پونے کے طلبا کی گونج نے تو تاریخ رقم کر دی۔ راہل گاندھی کی کامیابی کا یہ روشن سفر بشیر بدر کے اس شعر کی یاد دلاتا ہے؎
مخالفت سے مری شخصیت سنورتی ہے
میں دشمنوں کا بڑا احترام کرتا ہوں
پونے کو مہاراشٹر کی ثقافتی راجدھانی کا درجہ حاصل ہے۔ اسی شہر میں برہمن پیشواؤں نے منوسمرتی کو نافذ کرکے ظلم و جبر کی انتہا کردی تھی۔ اسی شہر میں منوسمرتی کی دھجیاں اڑا کر راہل گاندھی نے ثابت کر دیا کہ اب وہ سنگھ پریوار کو گھر میں گھس کر مار رہے ہیں۔ پونے میں منوسمرتی کا ذکر خواتین کے تناظر میں تھا اس لیے کہ وہ پروگرام طالبات کے لیے مخصوص تھا۔ اس میں ہزاروں طالبات نے شرکت کی۔ وہاں اپنے شاندار استقبال کے جواب میں راہل گاندھی نے کہا ’’پہلی بار پروگرام میں لڑکے کم دکھائی دے رہے ہیں یا دکھائی ہی نہیں دے رہے ہیں‘‘ لیکن یہ معاملہ تعداد اور جذباتی نعروں سے اس وقت آگے نکل گیا جب راہل گاندھی نے کہا ’’خواتین کو دبانے کا مائنڈسیٹ منوسمرتی سے آتا ہے اور آج ہماری جنگ اسی ذہنیت سے ہے۔ بی جے پی-آر ایس ایس کے لوگ چاہتے ہیں کہ لڑکیاں پنجرے میں بند رہیں۔ لیکن ہم ایسا ہندوستان نہیں چاہتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ سبھی کا احترام ہو۔‘‘ پونے کی ترقی یافتہ طالبات اور جین-زی خواتین کے درمیان راہل گاندھی نے منوسمرتی کا اقتباس پیش کر کے کہا یہ کتاب خواتین کے خود مختار نہ ہونے دینے کی تلقین کرتی ہے۔ ریاست میں سنگھ کی شاکھا سے آنے والے برہمن وزیر اعلیٰ کے ہوتے یہ چمتکار ہوگیا اور پھڈنویس منہ دیکھتے رہ گئے۔
نئی نسل کے ساتھ راہل گاندھی نئے انداز میں گفتگو کرتے ہیں۔ ان کے اسٹیج پر بہت بڑا الیکٹرانک بورڈ لگا ہوتا ہے۔ اس پر مختلف سلائیڈس کے ساتھ ویڈیوز بھی دکھائی جاتی ہیں۔ ایسے میں اسکرین پر لکھے ہوئے منوسمرتی کے ایک مذموم جملے کی طرف اشارہ کر کے راہل گاندھی کہا کہ ’’منوسمرتی میں لکھا ہے کہ بچپن میں عورت کو اپنے باپ کے تابع رہنا چاہیے، جوانی میں اپنے شوہر کے اور جب اس کا شوہر مر جائے تو اپنے بیٹوں کے تابع رہنا چاہیے۔ عورت کو کبھی خود مختار نہیں ہونا چاہیے‘‘ اس نظریہ کو شرمناک قرار دے کر راہل گاندھی نے مسترد کیا اور بولے کہ ہر خاتون کی اپنی شناخت ہے، وہ کسی کے تابع نہیں ہو سکتی۔ یہ سن کر وہاں موجود مجمع خوشی سے جھوم اٹھا۔ انہوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ منوسمرتی کے مطابق عورت کو کبھی آزاد نہیں ہونا چاہیے، لیکن ملک کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ خواتین آزاد ہوں، اپنے لیے کھڑی ہوں اور خود پر اعتماد کریں۔
وطن عزیز میں شودر سماج سے آنے والی خواتین منوسمرتی کی دہری تعذیب کا شکار ہو جاتی ہے۔ اتر پردیش میں بی جے پی کی رکن اسمبلی دیوی کوشل کو شیتلا ماتا مندر کے سنگ بنیاد کی تقریب سے اس لیے دور رکھا گیا کیونکہ وہ پاسی سماج سے تعلق رکھتی ہیں جو دلت ہے۔ ان کے شوہر کوشل کشور وزیر رہ چکے ہیں اس کے باوجود اگر اپنی ہی پارٹی کی رکن اسمبلی کے ساتھ اس طرح کا بھید بھاو کیا جاتا ہو تو عام خواتین کے ساتھ کیا کچھ نہیں ہوتا ہوگا؟ یہ لوگ صوفیہ قریشی جیسی فوجی افسر کو بھی دہشت گرد کی بہن قرار دینے سے نہیں چوکتے۔ یہ تو ایک ایسا ملک ہے کہ جہاں خاتونِ اول صدر مملکت دروپدی کو بھی دہلی میں مندر کے اندرونی حصے میں داخل ہونے سے روک دیا جاتا ہے لیکن کسی کا بال بیکا نہیں ہوتا۔ پونے کی تقریب میں موجود خواتین سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ خواتین فطرتاً مردوں کے مقابلے میں زیادہ حساس، نرم مزاج، رحم دل اور دور اندیش ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہندوستان کی خواتین کو ملک کی سب سے بڑی طاقت تصور کرتے ہیں۔
دین اسلام میں ماں کا حق والد سے تین درجہ زیادہ ہے ۔ نبی کریم ﷺ سے جب پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ تو فرمایا "ماں کا" اس کے بعد؟ تو پھر وہی جواب "ماں کا" تیسری بار سوال کیا گیا اس کے بعد؟ تو پھر جواب ملا "ماں کا" چوتھی بار سوال کرنے پر جواب دیا گیا "باپ کا"۔ یہ معاملہ دنیا تک محدود نہیں ہے بلکہ جنت کے بھی ماں کے قدموں تلے ہونے کی بشارت دی گئی ہے۔ اپنی پیشکش میں توازن پیدا کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا ’’بیٹی، بیوی یا ماں کے طور پر شناخت ہونے میں کچھ بھی غلط نہیں ہے، لیکن کسی خاتون کی بس یہی واحد شناخت نہیں ہو سکتی۔ اسے صرف بیٹی، بیوی یا ماں تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ دین اسلام میں بیٹی کا کنیا دان نہیں کیا جاتا اور شادی کے بعد بھی عورت کی انفرادی شناخت محفوظ رہتی ہے وہ نکاح کے بعد پرینکا گاندھی سے وادرا نہیں بلکہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کہلاتی ہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ سے ان کی نسبت باقی رہتی ہے۔ طالبات کی گونج پروگرام میں راہل گاندھی نے یہ کہہ کر خواتین کا دل جیت لیا کہ ہندوستان کی اصل طاقت اس کی فوج یا کوئی ایک ادارہ نہیں، بلکہ ملک کی ستر کروڑ خواتین کے خواب اور ان کے عزائم ہیں۔ یہ حقیقت ہے کیونکہ ملک کا مستقبل تو انہیں کی گود میں کھیلتا، پلتا اور بڑھتا ہے۔
حدیث شریف میں جب حصول علم کی ترغیب دی گئی تو مسلم مرد اور عورت دونوں کا ذکر کیا گیا اور دونوں کی پرورش میں بھید بھاو کی مخالفت کرتے ہوئے بیٹی کی دیکھ بھال پر بشارتیں دی گئیں۔ مگر موجودہ سماج میں سب کچھ الٹ گیا ہے۔ اس لیے راہل گاندھی نے سوال اٹھایا کہ یہ ذہنیت کہاں سے آتی ہے کہ لڑکی کو تعلیم دینے کے بجائے لڑکے کو پڑھایا جائے، لڑکی کو ملازمت نہ کرنے دی جائے اور اگر کوئی لڑکی جدید خیالات رکھتی ہے تو اسے ’’بہت ماڈرن‘‘ قرار دے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ خواتین پر جسمانی، مالی اور ان کی زندگی کے فیصلوں سے متعلق تینوں طرح کا کنٹرول قائم ہے۔ آخر میں راہل گاندھی نے خواتین کے نام اپنا پیغام دیا کہ ’’بی لاؤڈ، بی پراؤڈ اینڈ فائٹ فار یور سیلف‘‘ یعنی اپنی آواز بلند کریں، خود پر ناز کریں اور اپنے حق کے لیے لڑیں۔ ‘‘
نظریاتی جنگ کا دھارا آگے چل کر عملی میدان میں آیا تو راہل گاندھی نے صاف کہا کہ سماج میں خواتین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے تشدد کا سہارا لیا جاتا ہے۔ ملک میں خواتین پر تشدد عام بات ہے۔ سرکار کی جانب سے شائع ہونے والی این آر سی بی کی رپورٹ اس کی گواہی دیتی ہے لیکن اس پر قومی سطح پر کوئی بیانیہ تشکیل نہیں دیا جاتا کیونکہ سرکار اور اس کی گود میں بیٹھے ہوئے میڈیا کو ہندو-مسلمان کھیل کھیلنے سے فرصت ہی نہیں ملتی۔ راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں خواتین پر تین طریقوں کے تشدد کا ذکر کیا ہے جس میں سے جسمانی تشدد پر تو بہت گفتگو ہوتی ہے مگر مواقع پر مبنی تشدد جس میں تفریق و امتیاز کا شکار ہوتی ہیں اور معاشی تشدد کی بات عام طور پر نہیں کی جاتی۔ راہل گاندھی نے جسمانی تشدد کے اعدادو شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ سالانہ 5.4 لاکھ بیٹیوں کا دوران حمل ہی قتل کر دیا جاتا ہے۔ اسی فیصد خواتین کے ساتھ جنسی استحصال ہوتا ہے، انتیس فیصد خواتین کے ساتھ جسمانی تشدد کیا جاتا ہے اور چھ فیصد خواتین کی عصمت دری ہوتی ہے۔ یہ اس ملک کی بھیانک تصویر ہے جہاں مودی سرکار ’ناری وندنا‘ (خواتین کا احترام) نامی قانون بنا کر عورتوں کو بیوقوف بناتی ہے یا لاڈلی بہنا کہہ کر سرکاری خزانے سے رشوت کی آڑ میں ان کا ووٹ جھٹک لیتی ہے۔
پونے میں منعقد ہونے والے طلبا کی گونج پروگرام میں ایک لڑکی نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ جب اولمپکس میں ملک کے لیے تمغے جیتنے والی لڑکیوں کے ساتھ غلط سلوک کرنے والے لوگ بری ہوجاتے ہیں تو وہ ایک عام لڑکی ہونے کی حیثیت سے کہاں تک لڑ سکتی ہے؟ یہ سوال عصرِ حاضر میں خواتین کے اندر پائے جانے والے خوف اور بے بسی کی تصویر پیش کرتا ہے۔ اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ برج بھوشن سنگھ کے خلاف ملک کے خواتین کھلاڑیوں کو جنتر منتر پر احتجاج کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ مودی سرکار ان مظلوم خواتین کا ساتھ دینے کے اپنے رکن پارلیمنٹ کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ عالمی سطح کی کھلاڑیوں کے ساتھ کھلے عام بدسلوکی کی گئی۔ ان کا درد محسوس کرنے کے بجائے برج بھوشن کے بیٹے کو پھر سے الیکشن کا ٹکٹ دیا گیا۔ شکایت کرنے والی لڑکی کے والدین پر دباو ڈال کر پوکسو ہٹوایا گیا اور مقدمہ اس قدر کمزور کردیا گیا کہ وہ عدالت سے با عزت بری ہوگیا۔ اس پر راہل گاندھی نے کہا کہ یہ ذہنیت بدلنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ان خیالات پر بھی تنقید کی جن کے تحت لڑکیوں کو محدود رکھنے اور لڑکوں کو مکمل آزادی دینے کو معمول سمجھا جاتا ہے۔ راہل گاندھی کا اشارہ مودی کی طرف تھا جنہوں نے کہا تھا کہ لڑکیوں بدکلامی سے انہیں بہت تکلیف ہوئی۔
رہل گاندھی نے ایسے سیاسی رہنماؤں پر تنقید کی جو خواتین کے خلاف ہونے والے جنسی جرائم کے لیے بھی انہیں کو ذمہ دار ٹھیرانے کی کوشش کرتے ہیں۔راہل گاندھی کے مطابق یہ سوچ دراصل اس تصور سے پیدا ہوتی ہے کہ لڑکی کی ایک مقررہ جگہ ہے اور اسے پنجرے میں بند رہنا چاہیے، جبکہ لڑکوں کو گالی دینے، گھومنے پھرنے اور اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کی مکمل آزادی ہونی چاہیے۔ راہل گاندھی نے کہا ہمیں ایسا ہندوستان نہیں چاہیے، لیکن بی جے پی کو ایسا ہی ملک چاہیے۔ راہل گاندھی نے وہاں پر وزیر اعظم نریندر مودی، یوگی آدتیہ ناتھ اور آر ایس ایس سرسنگھ چالک کی ویڈیو چلا کر اس ذہنیت کو پیش کیا مگر وہ آر ایس ایس کی فکری سیل کے موہن داس کا نام بھول گئے۔ انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ جنتر منتر پر عصمت دری ہوگی مگر اس کی شکایت نہیں کی جائے گی کیونکہ وہاں موجود اشتراکی خواتین کو اجتماعی عصمت دری کروانا پسند ہے۔ وہ اس سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔ کسی تنظیم کی فکری تربیت کرنے والوں کے اندر اگر خواتین کے حوالے سے اس قدر نفرت کا زہر موجود ہو تو اس کے تربیت یافتگان سے کیا توقع کی جائے؟
مدھیہ پردیش سنگھ پریوار کی سب سے پہلی تجربہ گاہ ہے۔ گجرات اور اترپردیش سے قبل آر ایس ایس نے وہاں اپنے قدم جمائے۔ بی جے پی کی اولین نائب صدر وجئے راجے سندھیا کے علاقے گونا سے منتخب ہونے والے رکن اسمبلی پنا لال شک نے پچھلے دنوں کھلے عام خواتین کے حوالے سے مثالیں دے دے کر اپسے خیالات کا اظہار کیا جو کسی بھی خود دار مرد و خواتین کو شرمندہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ پنا لال شک نے کہا کہ راون جب سیتا کو اغوا کرکے لے گیا تو اس کے بھائی نے کہا تم موت کا سامان اٹھا لائے ہو۔ راون خود بہت بڑا عالم اور برہمن تھا۔ اس سے یہ بات وہ بھائی کہتا ہے جس کی مدد سے رام جی نے لنکا کو ڈھا دیا اور یہ مثل مشہور ہوگئی ’’گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے‘۔ پنا لال وہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے کہا رامائن سے مہابھارت تک ساری جنگیں عورتوں کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ ان میں عورتیں نہیں ماری گئیں بلکہ مرد ہی مارے گئے۔ پنا لال کی ویڈیو یوٹیوب پر موجود ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ پنچالی کے سبب جو مہابھارت ہوئی اس میں ایک کروڑ مرد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
اس بیان کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ پنا لال کی نظر میں دروپدی کو برہنہ کرنے والا دشاسن اس جنگ کے لیے ذمہ دار نہیں ہے۔ یہی وہ ذہنیت ہے جو برج بھوشن سرن سنگھ کو بے قصور ٹھیراتا ہے اور رام رحیم جیسے عصمت دری کے مجرم سے سیاسی فائدہ اٹھاتا ہے۔ ان لوگوں کی نظر میں خود پنچالی مہابھارت کی جنگ کے لیے بنیادی طور پر ذمہ دار ہے۔ درونآچاریہ کے غیر انسانی رویہ کو اس ذہنیت سے سمجھا جاسکتا ہے۔ پنا لال شک نے تو پرتھوی راج چوہان کو بھی نہیں بخشا اور کہا کہ سنیوگیتا کے چکر میں اس نے قنوج سے دہلی تک اپنے ۵۵ جاگیرداروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جس کی قیمت آج بھی چکائی جا رہی ہے۔ وہ جب اپنے ان مذموم خیالات کا اظہار کر رہے تھے تو اسٹیج پر موجود چنچوڑ کی رکن اسمبلی پرینکا پینچلی نے انہیں ٹوک کر کہا کہ میں اپنے دم پر اسمبلی ہوں مگر پنا لال نے اسے سب کے سامنے ڈانٹ دیا۔ اس واقعہ کے تناظر میں راہل گاندھی کا چھاتروں کی گونج کو صرف خواتین کے لیے مختص کرکے ان کے مسائل کو موضوعِ گفتگو بنانے کی اہمیت اور معنویت کو با آسانی سمجھا جاسکتا ہے۔
راہل گاندھی اور طالبات و خواتین کی عصری معنویت

کوٹا سے پونہ تک نوجوانوں کی بڑھتی شرکت نے اپوزیشن کے بیانیے کو نئی توانائی دی

