جمہوری و انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی جواب دہی ضروری۔ شفاف تحقیقات کی ضرورت
کیا نیٹ (NEET) امتحانی پرچے کے افشاء کے خلاف مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے جنتر منتر سے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے پیلٹ گن استعمال کی؟
اگرچہ دہلی پولیس نے دوٹوک انداز میں پیلٹ گن کے استعمال کی تردید کی ہے، تاہم کناٹ پیالیس کے قریب واقع لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل میں زیرِ علاج شیخ ارشاد کی چوٹوں نے سرکاری مؤقف پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ الزام عائد کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ان کی چوٹوں کی نوعیت پیلٹ گن کے چھرّوں سے لگنے والے زخموں سے مطابقت رکھتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق پولیس کارروائی میں سو سے زائد مظاہرین زخمی ہوئے۔ یہ بھی الزام ہے کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شاک بیٹن اور پتھروں کا استعمال کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ زخمیوں کی اکثریت رام منوہر لوہیا اسپتال میں زیرِ علاج ہے۔
کشمیر کی مثال
پیلٹ گن کا استعمال پہلی بار 2016ء میں جموں و کشمیر میں ہجوم پر قابو پانے کے ایک ذریعے کے طور پر کیا گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں سیکڑوں شہری زخمی ہوئے، جن میں سے متعدد ہمیشہ کے لیے بینائی سے محروم ہو گئے۔
تاہم اس وقت پیلٹ گن کے استعمال پر ملک گیر سطح پر نہ کوئی نمایاں عوامی ردِعمل سامنے آیا اور نہ ہی اس موضوع پر سنجیدہ بحث ہوئی، کیونکہ متاثرین کشمیری مسلمان تھے۔ شدید سیاسی کشیدگی اور منقسم فضا کے باعث پولیس کی مبینہ زیادتیوں پر کھل کر گفتگو نہ ہو سکی۔ ملک کے بیشتر حصوں میں عوامی مباحث فرقہ وارانہ تقسیم سے متاثر رہے اور سیاسی و عوامی گفتگو میں مسلم مخالف بیانیہ نمایاں ہوتا گیا۔ ایسے ماحول میں کشمیر میں ریاستی طاقت کے استعمال پر سوال اٹھانے والی آوازیں بہت محدود رہیں۔
سرکاری اعداد و شمار جنہوں نے عالمی توجہ حاصل کی
بعد ازاں یہ معاملہ اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا جب جموں و کشمیر حکومت نے پیلٹ گن سے ہونے والی اموات اور زخمیوں کے سرکاری اعداد و شمار جاری کیے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2016ء سے جنوری 2017ء کے درمیان پیلٹ چھرّوں سے لگنے والی چوٹوں کے باعث 17 افراد ہلاک ہوئے۔
جموں و کشمیر ہیومن رائٹس کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق 2016ء میں دھاتی چھرّوں سے 1,726 افراد زخمی ہوئے۔
بعد ازاں جنوری 2018ء میں اس وقت کی وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کو بتایا کہ 8 جولائی 2016ء سے 27 فروری 2017ء کے دوران پیلٹ گن سے 6,221 افراد زخمی ہوئے۔ ان میں 728 افراد کی آنکھیں متاثر ہوئیں، جبکہ 54 افراد بینائی سے محروم ہو گئے۔
یہ الزامات کیوں اہم ہیں؟
اگر دہلی میں مظاہرین کے خلاف واقعی دھاتی چھرّوں (پیلٹ) کا استعمال کیا گیا ہے تو یہ نہایت تشویش ناک امر ہے، کیونکہ مظاہرہ پُرامن تھا۔ قومی سطح کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے باعث اپنے مستقبل کے حوالے سے فکر مند نوجوان طلبا و طالبات ہمدردی کے مستحق تھے، نہ کہ طاقت کے استعمال کے؟
مظاہرے کے عینی بیانات کے مطابق مظاہرین غیر مسلح تھے، انہوں نے نہ پولیس پر حملہ کیا اور نہ ہی کسی سرکاری یا نجی املاک کو نقصان پہنچایا۔ وہ گاندھیائی روایت کے مطابق پُرامن انداز میں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کر رہے تھے تاکہ حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرائیں کہ ان کے نزدیک ملک کے نوجوان ایک بڑھتے ہوئے بحران سے دوچار ہیں اور مرکزی حکومت ان کے تحفظات دور کرنے میں ناکام رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ مارچ اس وقت منظم کیا گیا جب متعدد اپیلوں کے باوجود کوئی شنوائی نہ ہوئی، جب کہ ماحولیاتی کارکن سونم وانگچوک طلبا کے مطالبات کی حمایت میں تین ہفتوں سے زائد عرصے سے بھوک ہڑتال پر تھے۔
اہم بات یہ ہے کہ ڈپٹی کمشنر آف پولیس، نئی دہلی نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر اس احتجاج کو "پُرامن" قرار دیا تھا۔ اگر واقعی ایسا تھا تو بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر پُرامن مظاہرین کے خلاف اتنی سخت طاقت کیوں استعمال کی گئی؟
پولیس کی تردید اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ
دہلی پولیس نے پیلٹ گن کے استعمال کے الزامات کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے ایسی خبروں کو "جھوٹا اور گمراہ کن" قرار دیا ہے۔ پولیس نے عوام سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز پر انحصار نہ کریں اور انہیں آگے بڑھانے سے پہلے سرکاری ذرائع سے ان کی تصدیق کر لیں۔
تاہم اس مؤقف سے چند اہم سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔ اگر الزامات خود پولیس کے طرزِ عمل سے متعلق ہوں تو کیا انہی الزامات کی تصدیق اسی ادارے سے طلب کرنا مناسب ہوگا جس پر حد سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے؟ کیا وہ تجربہ کار صحافی جو اپنے بقول موقع پر موجود تھے اور جنہوں نے پولیس کی کارروائی اپنے موبائل فون میں ریکارڈ کی، انہیں بھی اسی ادارے سے تصدیق حاصل کرنی چاہیے جس کے اقدامات خود جانچ کے دائرے میں ہیں؟
یہ ایسے سوالات ہیں جن کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ حقائق تک پہنچنے کے لیے محض سرکاری تردید کافی نہیں، بلکہ شفاف اور آزادانہ تحقیق ناگزیر ہے۔
شاک بیٹن اور سادہ لباس میں موجود افراد کا معمہ
احتجاج کے متعدد عینی بیانات کے مطابق دہلی پولیس، ریپڈ ایکشن فورس (RAF) اور پولیس کے ساتھ موجود سادہ لباس میں ملبوس بعض افراد نے شاک بیٹن کے ذریعے مظاہرین پر تشدد کیا، جن میں نوجوان مرد، خواتین اور حتیٰ کہ کم عمر افراد بھی شامل تھے۔ عینی شاہدین کا الزام ہے کہ سادہ لباس میں موجود بعض افراد ہجوم کو منتشر کرنے کے بجائے براہِ راست مظاہرین پر حملے کر رہے تھے، جبکہ یونیفارم میں موجود پولیس اہلکار یہ سب دیکھتے رہے۔
قانونی حیثیت اور جواب دہی سے متعلق سوالات
یہ الزامات پولیس کارروائی کے دوران نا معلوم افراد کی موجودگی اور ان کے کردار کے بارے میں بھی سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔ ڈی کے باسو بنام ریاستِ مغربی بنگال (1997ء) کے تاریخی مقدمے میں سپریم کورٹ نے ہدایت دی تھی کہ گرفتاری عمل میں لانے والے پولیس اہلکار واضح طور پر قابلِ شناخت ہوں، ان کے یونیفارم پر نام کی تختی لگی ہو اور ان کی شناخت نمایاں ہو تاکہ ضرورت پڑنے پر ان سے جواب دہی کی جا سکے۔
اگر سادہ لباس میں ملبوس افراد نے بھی طاقت کے استعمال میں حصہ لیا ہے تو ان کے اختیار، جواب دہی اور سپریم کورٹ کی ان ہدایات کی پابندی کے بارے میں فطری طور پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
سادہ لباس میں موجود افراد کون تھے؟
پولیس اہلکاروں کے ساتھ سادہ لباس میں ملبوس افراد کی موجودگی نے کئی سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔ اگر ایسے افراد ہجوم پر قابو پانے کی کارروائی میں شریک تھے تو انہیں یہ اختیار کس بنیاد پر حاصل تھا؟ عام شہری مجاز اہلکاروں اور نجی افراد میں امتیاز کیسے کریں؟
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض ویڈیوز اور تصاویر میں بظاہر کئی سادہ لباس افراد پولیس اہلکاروں کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں اور بعض مناظر میں ان پر مظاہرین پر حملہ کرنے کا بھی الزام عائد کیا جا رہا ہے، جبکہ یونیفارم میں موجود پولیس اہلکار موقع پر موجود نظر آتے ہیں۔
اب تک دہلی پولیس اور مرکزی وزارتِ داخلہ نے ان افراد کی شناخت یا کردار کے بارے میں کوئی عوامی وضاحت پیش نہیں کی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ان الزامات کی تصدیق ہوتی ہے تو اس سے جواب دہی اور شفافیت کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا ہوں گے۔
سیاسی ردِعمل میں شدت
اس معاملے پر سیاسی حلقوں کی جانب سے بھی سخت ردِعمل سامنے آیا۔ سماجوادی پارٹی کے صدر اور اتر پردیش کے سابق وزیرِ اعلیٰ اکھلیش یادو نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے باہر کانگریس رہنما راہل گاندھی کے ساتھ احتجاج میں شرکت کے دوران سادہ لباس میں موجود افراد کے مبینہ استعمال کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے ان افراد کا موازنہ ایڈولف ہٹلر کی اسٹورم ٹروپرز (SA) سے کرتے ہوئے سوال کیا: "کیا بی جے پی نے بھی ایسے جتھے بنا لیے ہیں؟"
دہلی پولیس پر کیجریوال کے الزامات
عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال نے بھی دہلی پولیس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا الزام ہے کہ لاٹھی چارج کے دوران نوجوان مظاہرین "خوف سے کانپ رہے تھے" اور پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کے کپڑے تک پھاڑ دیے۔
کیجریوال نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کے خلاف ثبوت گھڑنے کی غرض سے خود اپنی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا اور اس کی ویڈیو ریکارڈ کی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیس نے مظاہرین پر پتھراؤ کیا۔
انہوں نے سوال کیا: "کیا پُرامن مظاہرین کے ساتھ پولیس کا یہی سلوک ہونا چاہیے؟ پولیس کے پاس پتھر کہاں سے آئے؟ کیا وہ انہیں اپنی گاڑیوں میں ساتھ لائی تھی؟" انہوں نے اس پورے معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔
کانگریس رہنماؤں کو بھی پولیس کارروائی کا سامنا
21 جولائی کو وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے باہر کانگریس کے احتجاج سے نمٹنے کے پولیس کے طریقۂ کار پر بھی تنقید کی گئی۔
اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی کو احتجاج کے دوران زبردستی حراست میں لیا گیا۔ اس دوران ان کی ناک پر چوٹ آئی اور انہیں خون بہتا ہوا دیکھا گیا۔ کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا کے بارے میں بھی الزام ہے کہ پولیس گاڑی تک لے جاتے وقت ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔ بعد ازاں سابق کانگریس صدر سونیا گاندھی بھی احتجاج کے مقام پر پہنچ گئیں۔
کانگریس نے یہ احتجاج اس الزام کے بعد منظم کیا تھا کہ پارلیمنٹ میں کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے کارکنوں کے خلاف مبینہ پولیس زیادتیوں پر بحث کی اجازت نہیں دی گئی۔
کیا یہ اپوزیشن کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ہے؟
20 اور 21 جولائی کے واقعات نے ناقدین کے اس خدشے کو مزید تقویت دی ہے کہ مرکزی حکومت جمہوری اقدار اور پُرامن احتجاج کے حق کے تحفظ کے حوالے سے اپنے عزم پر پورا نہیں اتر رہی۔
اس سے پہلے مسلم برادری بھی حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس کی مبینہ سخت کارروائیوں کا الزام عائد کرتی رہی، لیکن کانگریس اور سماجوادی پارٹی سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں نے ان معاملات کو مستقل طور پر نہیں اٹھایا۔ اب ناقدین کا کہنا ہے کہ سی جے پی اور کانگریس کے کارکنوں کے خلاف مبینہ کارروائیاں اس بات کی غماز ہیں کہ یہ مسئلہ کسی ایک برادری یا ایک سیاسی جماعت تک محدود نہیں۔
اپوزیشن کے اتحاد کا مطالبہ
متعدد اپوزیشن رہنماؤں نے ان واقعات کو ملک میں بڑھتے ہوئے آمرانہ رجحانات کی علامت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اپوزیشن جماعتیں آئینی حقوق اور جمہوری اداروں کے دفاع کے لیے متحد نہ ہوئیں تو مستقبل میں وہ بھی اسی نوعیت کی کارروائیوں کا نشانہ بن سکتی ہیں۔
ان ناقدین کے مطابق اپوزیشن کو جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر متحدہ محاذ قائم کرنا چاہیے اور بی جے پی حکومت کے اس طرزِ حکم رانی کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنا چاہیے، جسے وہ بڑھتا ہوا آمرانہ رجحان قرار دیتے ہیں۔
عدلیہ بھی سوالوں کی زد میں
اس معاملے میں عدلیہ کے کردار پر بھی ناقدین نے مایوسی کا اظہار کیا۔ اطلاعات کے مطابق جب سینئر وکلاء نے چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت سے کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے مظاہرین کے خلاف مبینہ پولیس زیادتیوں سے متعلق ایک مفادِ عامہ کی عرضی پر فوری سماعت کی درخواست کی تو انہوں نے اسے قبول نہیں کیا۔
موقع پر موجود افراد کے مطابق چیف جسٹس نے کہا: "ہمارا وقت ضائع نہ کریں اور اپنا وقت بھی ضائع نہ کریں۔" یہ بھی بتایا گیا کہ انہوں نے پولیس کارروائی کی مبینہ ویڈیوز دیکھنے سے انکار کرتے ہوئے کہا: "ہم ویڈیوز میں دلچسپی نہیں رکھتے، انہیں دیکھنے کا ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔"
چیف جسٹس سے منسوب ان ریمارکس کے بعد اس بات پر نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ پولیس کی مبینہ زیادتیوں کے الزامات کے معاملات میں عدلیہ کا کردار کیا ہونا چاہیے اور بنیادی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے مقدمات میں بروقت عدالتی مداخلت کس حد تک ضروری ہے۔
دہلی احتجاج : پیلٹ گن کے الزامات سے پولیس کی زیادتیوں تک۔ کیا جمہوری حقوق خطرے میں ہیں؟

دہلی پولیس کی تردید کے باوجود زخمیوں، عینی شاہدین اور سیاسی جماعتوں کے الزامات برقرار

