آل انڈیا ملی کونسل کی مجلسِ عاملہ کا اہم اجلاس نئی دلی کے جامعہ نگر میں واقع انسٹیٹیوٹ آڈیٹوریم میں کارگزار صدر مولانا انیس الرحمن قاسمی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں ملک بھر سے مجلسِ عاملہ کے اراکین، مختلف ریاستوں کے نمائندوں اور تنظیم کے مختلف شعبوں کے ذمہ داران نے شرکت کی۔ اجلاس میں موجودہ قومی و ملی حالات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے دستورِ ہند، جمہوری اقدار، مذہبی آزادی، اقلیتی حقوق، وقف املاک، یکساں سول کوڈ (UCC) مدارس، مساجد، انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی (SIR) عدالتی انصاف، تعلیم، نوجوانوں کی قیادت سازی اور تنظیمی استحکام سمیت متعدد اہم موضوعات پر غور کیا گیا اور کئی اہم قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی گئیں۔
اجلاس کا آغاز مفتی نادر القاسمی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ استقبالیہ خطاب میں ڈاکٹر پرویز میاں نے موجودہ حالات کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملی مسائل کے حل کے لیے باہمی مشاورت، اتحاد اور سنجیدہ حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔ معاون جنرل سکریٹری سلیمان خان نے اجلاس کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس نشست کا مقصد ملک و ملت کو درپیش چیلنجوں کا جائزہ، تنظیمی کارکردگی کا محاسبہ اور آئندہ کے لیے مؤثر لائحۂ عمل مرتب کرنا ہے۔
اجلاس میں ڈاکٹر محمد منظور عالم، مولانا عبداللہ مغیثی اور دیگر مرحومین کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے تعزیتی قرارداد منظور کی گئی۔ افتتاحی خطاب میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ موجودہ حالات ملت سے اتحاد، بصیرت اور منظم اجتماعی جدوجہد کا تقاضا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق مذہبی آزادی، اوقاف، دینی اداروں اور اقلیتی حقوق کے تحفظ کے لیے آئینی، قانونی اور جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اپنے صدارتی خطاب میں مولانا انیس الرحمن قاسمی نے کہا کہ ڈاکٹر محمد منظور عالم اور مولانا عبداللہ مغیثی کی رحلت کے بعد کونسل ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی ہے، تاہم افراد کے انتقال سے مشن ختم نہیں ہوتے بلکہ اداروں کی ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ انہوں نے ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی، مذہبی آزادی کو درپیش مسائل، وقف، مدارس، مساجد، تعلیمی اداروں اور اقلیتی حقوق سے متعلق بڑھتے ہوئے چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کونسل آئینی، قانونی اور پُرامن ذرائع سے نہ صرف ملت بلکہ ہر مظلوم اور انصاف کے متلاشی شہری کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم رہے گی۔ انہوں نے تنظیمی استحکام، قانونی بیداری، نوجوانوں کی تعلیم، معاشی خود کفالت، میڈیا، تحقیق، سیاسی شعور، عوامی رابطے اور بین المذاہب ہم آہنگی کو آئندہ کی بنیادی ترجیحات قرار دیا۔
سینئر ایڈووکیٹ یوسف حاتم مچھالہ نے اس موقع پر زور دیا کہ قومی اور عدالتی سطح پر مؤثر جدوجہد کے لیے مستند اعداد و شمار اور حقائق پر مبنی دستاویزی مواد ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین طلاق کے معاملے میں مسلم معاشرے کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ قابلِ اعتماد ڈیٹا کی کمی تھی، اس لیے آئندہ ہر اہم مسئلے میں تحقیق اور مستند معلومات کے ذخیرے کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔
اجلاس میں یکم جنوری 2026 کو بنگلورو میں منعقدہ مجلسِ عاملہ کی کارروائی کی توثیق کی گئی جبکہ خازن پروفیسر حسینہ حاشیہ نے یکم فروری تا 30 جون 2026 کے مالی حسابات پیش کیے جنہیں منظور کر لیا گیا۔ مختلف شعبوں کی کارکردگی رپورٹوں پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا اور متعدد تنظیمی تجاویز منظور کی گئیں۔ معاون جنرل سکریٹری شیخ نظام الدین نے مختلف ریاستوں میں تنظیمی پیش رفت سے آگاہ کیا جبکہ آئندہ مجلسِ عمومی کے انعقاد، تنظیمی توسیع، خالی نشستوں پر نئے اراکین کے انتخاب اور دیگر انتظامی امور سے متعلق بھی اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس کے اختتام پر منظور کی گئی قراردادوں میں دستورِ ہند کی بالادستی، جمہوری اقدار، مذہبی آزادی، ملی اتحاد اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ وقف املاک، مساجد، مدارس، مکاتب اور دیگر مذہبی اداروں کے تحفظ کو ملت کا بنیادی مسئلہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ تمام معاملات میں آئین اور عدالتی اصولوں کی مکمل پاسداری کی جائے۔
مجلسِ عاملہ نے یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی کوششوں پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان جیسے کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی معاشرے میں شخصی قوانین کا تحفظ آئین کی روح سے ہم آہنگ ہے، اس لیے اس حساس معاملے میں یکطرفہ قانون سازی کے بجائے وسیع قومی مشاورت اختیار کی جانی چاہیے۔
اجلاس نے مختلف ریاستوں میں مدارس، مساجد اور اقلیتی اداروں کے خلاف انہدامی کارروائیوں، سروے اور انتظامی اقدامات پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ہر کارروائی قانون، عدالتی نگرانی اور قدرتی انصاف کے اصولوں کے مطابق انجام دی جائے۔
انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی (SIR) کے دوران ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کی شکایات پر اجلاس نے تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ ہر شہری کے حقِ رائے دہی کا تحفظ یقینی بنایا جائے، نیز عوام میں انتخابی بیداری کی مہم چلائی جائے تاکہ کوئی بھی شہری اپنے بنیادی جمہوری حق سے محروم نہ رہے۔
مجلسِ عاملہ نے بے بنیاد شبہات کی بنیاد پر مسلم نوجوانوں کی گرفتاری، برسوں تک مقدمات زیرِ التوا رہنے اور انصاف میں تاخیر کو بھی سنگین مسئلہ قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ گرفتاریاں صرف مضبوط شواہد کی بنیاد پر ہوں، مقدمات کی فوری سماعت یقینی بنائی جائے اور بے گناہ افراد کے مستقبل کو متاثر ہونے سے بچایا جائے۔
اجلاس میں تعلیم، تکنیکی مہارت، معاشی خود کفالت، نوجوانوں کی قیادت سازی، خواتین کی تعلیم و قیادت، میڈیا کی مضبوطی، قانونی بیداری، عوامی شعور، آئینی حقوق کے فروغ، قومی یکجہتی اور بین المذاہب مکالمے کو تنظیم کی آئندہ ترجیحات میں شامل کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
اختتامی نشست میں مولانا عبدالعلیم قاسمی بھٹکلی اور ڈاکٹر یاسین علی عثمانی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آل انڈیا ملی کونسل آئندہ بھی دستورِ ہند کے دائرے میں رہتے ہوئے مذہبی آزادی، آئینی حقوق، سماجی انصاف، قومی یکجہتی اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ اجلاس کا اختتام اظہارِ تشکر اور ملک میں امن، بھائی چارے، عدل و انصاف اور انسانیت کی فلاح کے لیے دعا پر ہوا۔
دستور، جمہوری حقوق اور ملی ترجیحات پر آل انڈیا ملی کونسل کی مشاورت

وقف، یکساں سول کوڈ، مدارس و مساجد، ایس آئی آر، نظام انصاف اور تعلیم کو درپیش چیلنجوں پر قراردادیں منظور

