خلیج فارس کی جنگ اب بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب تک پھیلتی دکھائی دے رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے ایران نواز انصاراللہ المعروف حوثیوں نے سعودی حمایت یافتہ یمنی سرکاری فوج کو پیچھے دھکیلتے ہوئے المخا (Mokha) بندرگاہ پر قبضہ کیا اور اگلے ہی روز آبنائے باب المندب کے اہم جزیرے میون (Perim/Mayun) پر بھی اپنا کنٹرول قائم کرلیا۔ یہ پیش رفت محض یمن کی خانہ جنگی کا ایک اور واقعہ نہیں بلکہ عالمی تجارت اور تیل کی رسد کے لیے اہم بحری راستوں کے بدلتے ہوئے جغرافیے کی علامت ہے۔
میون: باب المندب کا جغرافیائی مہرہ
تقریباً اٹھارہ میل چوڑی آبنائے باب المندب ایشیا، خلیج عرب، بحیرہ احمر اور نہرِ سوئز کے درمیان عالمی تجارت کا اہم دروازہ ہے۔ میون اسی آبنائے کے اندر واقع ہے اور اسے دو بحری راستوں میں تقسیم کرتا ہے۔ اس جزیرے پر قابض قوت کو وہاں سے گزرنے والی بحری آمدورفت کی نگرانی اور اسے خطرے میں ڈالنے کے لیے ایک اہم جغرافیائی پوزیشن حاصل ہوجاتی ہے۔
یوں ایک طرف آبنائے ہرمز اور دوسری طرف باب المندب میں ایران اور اس کے اتحادیوں کا دباؤ بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ تاہم میون پر حوثیوں کے قبضے کو ایران کی مکمل بحری بالادستی قرار دینا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ خطے میں امریکی، سعودی اور دوسری بحری و فضائی قوتیں بھی موجود ہیں۔ حوثیوں کو سعودی عرب کی جانب سے شدید جوابی کارروائی کا بھی سامنا ہے۔ اس لیے ان کامیابیوں کو ایران کی فیصلہ کن فتح کے بجائے تہران کی تزویراتی سودے بازی کی قوت میں اضافے کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔
بارود بمقابلہ جغرافیہ
محلِ وقوع اور جغرافیے کے تناظر میں معاملہ اب Ammunition vs Location یعنی گولہ بارود بمقابلہ جغرافیہ تک پہنچ گیا ہے۔ امریکہ کے پاس غیر معمولی فوجی قوت، فضائی طاقت، میزائل، بحری بیڑے اور گولہ بارود ہے۔ ایران کے پاس امریکہ جیسی روایتی فوجی طاقت نہیں، لیکن اس کے پاس ایک ایسی چیز ہے جسے بموں سے تباہ نہیں کیا جاسکتا اور وہ ہے پیچیدہ جغرافیہ۔ امریکہ بم برسا سکتا ہے، میزائل داغ سکتا ہے اور فوجی تنصیبات تباہ کر سکتا ہے لیکن جغرافیہ کو نہیں مٹا سکتا۔ جنگی حکمتِ عملی، جنگجو زیادہ بہتر جانتے ہیں، مگر جغرافیہ کے ہم جسے طالب علموں کے لیے بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا گولہ بارود جغرافیے کو شکست دے سکتا ہے؟
سعودی تیل بھی جنگ کی زد میں
باب المندب کے گرد طاقت کی کشمکش کے ساتھ سعودی تیل کی تنصیبات بھی اس جنگ کے جغرافیائی حصار میں آتی دکھائی دے رہی ہیں۔ گزشتہ ہفتے سعودی عرب کی East-West Pipeline کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد سعودی عرب نے اسے احتیاطاً عارضی طور پر بند کردیا۔ تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل یہ پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی تیل کے میدانوں سے خام تیل بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع تک پہنچاتی ہے۔ اس کی موجودہ گنجائش تقریباً ستر لاکھ بیرل یومیہ ہے، جبکہ حالیہ مہینوں میں اس کے ذریعے تقریباً چالیس سے پچاس لاکھ بیرل یومیہ تیل منتقل کیا جارہا تھا۔
بحیرۂ احمر سے جنوب کی جانب جانے والے تیل بردار ٹینکر باب المندب سے گزر کر بحیرۂ عرب اور بحرِ ہند کے راستے ایشیائی منڈیوں تک پہنچتے ہیں، جبکہ شمال کی راہ اختیار کرنے والے ٹینکر نہرِ سویز عبور کرکے بحیرہ روم کے راستے یورپی منڈیوں کی راہ لیتے ہیں۔ یوں معاملہ صرف ہرمز اور باب المندب تک محدود نہیں رہا بلکہ سعودی عرب کا وہ زمینی راستہ بھی زد میں آگیا جو آبنائے ہرمز کے متبادل کے طور پر اہمیت رکھتا تھا۔
سعودی عرب پر حملہ اور مکہ معاہدہ
آٹھ ستمبر کو حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی شہروں ابہا، خمیس مشیط، نجران اور جازان پر ڈرونز اور میزائلوں سے بڑا حملہ کیا، جس میں کم از کم 73 افراد زخمی ہوئے۔ سعودی حکام کے مطابق توانائی کے بعض مراکز میں آگ لگی اور کچھ کارروائیاں عارضی طور پر روکنا پڑیں۔ یہاں جغرافیے کے ساتھ مکہ دفاعی معاہدے کا امتحان بھی شروع ہوگیا ہے۔اس بڑے حملے سے صرف ایک ماہ پہلے 7؍ اگست کو سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کی بنیادی شق کے مطابق تین میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ، تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا سعودی عرب پر حوثیوں کے یہ حملے مکہ معاہدے کی اجتماعی دفاعی شق کو حرکت میں لا سکتے ہیں؟ فی الحال اس کا جواب ’’نہیں‘‘ کہنا زیادہ محتاط ہوگا، کیونکہ معاہدہ اجتماعی دفاع کا اصول تو واضح کرتا ہے، لیکن یہ سوال الگ ہے کہ حملے کی صورت میں پاکستان اور ترکیہ کے لیے براہِ راست فوجی کارروائی لازم ہوگی یا وہ سیاسی، دفاعی، انٹیلیجنس یا دیگر معاونت کے ذریعے اپنا کردار ادا کر سکیں گے۔ پاکستان کے لیے معاملہ خاصا حساس ہے۔ اسلام آباد ایک طرف سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پر عزم ہے تو دوسری طرف ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار بھی ادا کر رہا ہے۔ ترکیہ کی بھی براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز کی پالیسی پر گامزن ہے۔ تاہم اگر سعودی سرزمین پر حملے مسلسل بڑھتے ہیں، انسانی اور معاشی نقصان وسیع ہوتا ہے یا سعودی فوجی تنصیبات براہِ راست نشانہ بنتی ہیں تو مکہ معاہدے کی اصل آزمائش شروع ہو جائے گی۔
امریکی نقصانات کے متضاد بیانات
خلیج فارس کی جنگ میں امریکی نقصانات کی خبریں بھی سامنے آرہی ہیں۔ دس ستمبر کو ایران نے اردن کے موفق السلطی (Muwaffaq Salti) اڈے پر حملے میں امریکی فوج کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا۔ امریکی ٹیلی ویژن CBS کے مطابق اس حملے میں تقریباً آٹھ F-15 طیاروں کو معمولی نقصان پہنچا جبکہ ایک A-10 Thunderbolt کا ایک بازو ضائع ہوگیا۔ صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حملہ غیر مؤثر رہا اور امریکہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
بحرین کا امریکی بحری اڈہ بھی محفوظ نہ رہا
دوسری طرف امریکی بحریہ کے قائم مقام سکریٹری ہَنگ کاؤ (Hung Cao) نے ایک انٹرویو میں کہا کہ بحرین میں موجود امریکی بحری تنصیبات کو ایرانی حملوں سے ’’بری طرح نقصان پہنچا‘‘۔ ان کے مطابق صورتِ حال یہاں تک پہنچ گئی کہ طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن کے عملے کے لیے وہاں واپس آکر قیام یا جہاز کو لنگر انداز کرنے کی مناسب جگہ بھی باقی نہیں رہی۔ بحرین امریکہ کے لیے خلیج میں محض ایک فوجی اڈہ نہیں بلکہ اس کی بحری حکمتِ عملی کا اہم مرکز ہے۔ اس لیے اگر کسی فوجی کارروائی کے نتیجے میں وہاں امریکی بحری جہازوں کی آمدورفت اور قیام متاثر ہوجائے تو یہ معمولی نقصان نہیں ہوگا۔
ایران کے ’’آنکھوں والے‘‘ میزائل
اسی دوران ایران کی جانب سے جدید electro-optical میزائلوں کے استعمال کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ ان میزائلوں میں ہدف کی شناخت اور نشاندہی کے لیے خصوصی کیمرے اور حساس شعاعِ نور آلات (Light Sensors) استعمال کیے جاتے ہیں۔ امریکی مرکزی کمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی میزائیل ان کے کسی اثاثے تک پہنچننے میں ناکام رہے لیکن الیکٹروآپٹیکل میزائیلوں کے استعمال سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ و اسرائیل کی شدید ترین بمباری، ایرانی فوج کی تحقیقی تنصیبات اور میزائیل فیکٹریوں کو تباہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔
زیرِ آب ڈرون: دعویٰ، پھر امریکی اعتراف
اسی سلسلے میں 8؍ ستمبر کو ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی زیرِ آب ڈرون (underwater drone) پکڑنے کا دعویٰ کیا۔ ابتدا میں امریکی حکام نے اس دعوے کو مسترد کیا، لیکن بعد میں امریکی مرکزی کمان نے تسلیم کیا کہ ایک Anduril Dive-LD زیرِ آب ڈرون سے رابطہ منقطع ہوا تھا۔ امریکی وضاحت کے مطابق یہ نسبتاً پرانا ماڈل تھا جو ایک دن پہلے خراب ہوچکا تھا اور اس میں حساس یا درجہ بند سونار و ریڈار موجود نہیں تھا۔ ڈرون بنانے والی امریکی کمپنی Anduril نے بھی ایک Dive-LD کے ضائع ہونے کی تصدیق کی۔ تقریباً انیس فٹ طویل یہ خود کار زیرِ آب نظام سمندری تہہ کا نقشہ بنانے، بارودی سرنگوں کی تلاش اور زیرِ آب تنصیبات و کیبلز کی نگرانی جیسے کام انجام دے سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ اس میں موجود کوئی انتہائی حساس عسکری ٹیکنالوجی ایرانی ہاتھ نہ لگی ہو، لیکن امریکی اعتراف نے کم از کم یہ ضرور واضح کر دیا کہ ایران کی دفاعی صلاحیت کے مکمل طور پر ختم ہوجانے کا دعویٰ حقیقت سے کہیں زیادہ بڑا تھا۔
ایران اور افغانستان: پابندیوں کا معاشی جواب
عسکری محاذ کے ساتھ ایران معاشی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے پڑوسی ملکوں کے ساتھ تجارت بڑھانے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔ کابل میں ایرانی سفارت خانے کے قائم مقام سربراہ علی رضا بیکدلی نے طلوع نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور افغانستان باہمی تجارت کا حجم موجودہ تقریباً چار ارب ڈالر سے بڑھا کر دس ارب ڈالر سالانہ کرنے کا ہدف رکھتے ہیں۔ بیکدلی کے مطابق دوغارون، ماہیرود، ابو نصر فراہی، میلک اور ابریشم سرحدی گزرگاہوں کی گنجائش بڑھانے، سڑکوں اور ریل کے نظام کو بہتر بنانے اور تجارتی رکاوٹیں دور کرنے پر کام ہورہا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارت اس بات کی علامت ہے کہ ایران جنگ اور پابندیوں کے ماحول میں اپنے گرد ایک ایسا معاشی حلقہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے جو اس کی بیرونی تجارت کے لیے متبادل راستے فراہم کر سکے۔
خلیج فارس سے باب المندب تک پھیلتی ہوئی جنگ ایک نئی حقیقت سامنے لا رہی ہے، یعنی جدید جنگ صرف میزائل، بم اور طیاروں کی جنگ نہیں ہوتی۔ بندرگاہیں، جزیرے، آبنائے، پائپ لائنیں، تجارتی راستے اور سرحدی گزرگاہیں بھی جنگ کے اہم ہتھیار بن سکتے ہیں۔ امریکہ کے پاس گولہ بارود کی غیر معمولی طاقت ہے، مگر ایران اور اس کے اتحادیوں کے پاس خطے کا پیچیدہ جغرافیہ ہے۔ دیکھنا ہے کہ عسکری قوتِ قاہرہ، جغرافیے کو شکست دے پائے گی یا جغرافیہ گولہ بارود کی طاقت کو مفلوج کرے گا؟