ان ہی کالموں میں شائع ہونے والے پچھلے چند مضامین میں ہم نے نوجوانوں کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی تھی۔ جس میں یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی تھی کہ ہر نوجوان کے اندر اللہ تعالیٰ نے بے شمار صلاحیتیں رکھی ہیں جنہیں دریافت کرنا اس کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس کے بعد یہ عرض کیا گیا تھا کہ اکیسویں صدی صرف خواب دیکھنے والوں کی نہیں بلکہ علم، مہارت اور مسلسل سیکھنے والوں کی صدی ہے۔ پھر اس حقیقت پر گفتگو ہوئی تھی کہ مستقبل کی قیادت ان لوگوں کے ہاتھ میں آئے گی جو اپنی صلاحیتوں کو اجتماعی خدمت میں ڈھالنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ اس سلسلے کی ایک کڑی مسلم بچیوں اور خواتین کے نام تھی، کیوں کہ کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی کی شاہ راہ پر گامزن نہیں ہو سکتی جب تک اس کی نصف آبادی علم، شعور اور کردار کے زیور سے آراستہ نہ ہو۔ اب اس پوری گفتگو کا حاصل ہمارے سامنے ہے۔ اگر علم حاصل ہو جائے، مہارتیں بھی پیدا ہو جائیں اور قیادت کے مواقع بھی مل جائیں لیکن کردار مجروح ہو جائے، نیت میں کھوٹ آ جائے، زبان اپنی شائستگی کھو دے اور اخلاقی وقار ختم ہو جائے تو یہ تمام کامیابیاں اپنی اصل روح سے محروم ہو جاتی ہیں۔
علامہ اقبال نے نوجوانی کو صرف قوت، جوش اور حرکت کا نام نہیں دیا بلکہ اس کے باطن کی پاکیزگی کو اس کی سب سے بڑی دولت قرار دیا۔ ان کی دعا تھی:
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے تیری جوانی رہے بے داغ
یہ صرف ایک خوب صورت شعر نہیں بلکہ پوری نسل کے لیے ایک فکری منشور ہے۔ اقبال جانتے تھے کہ علم انسان کو ذہین، مہارت اسے کامیاب، دولت اسے با اثر اور اقتدار اسے طاقت ور بنا سکتا ہے لیکن اگر جوانی اپنے کردار کی پاکیزگی کھو دے تو یہی نعمتیں انسان کو بلندی کے بجائے زوال کی طرف بھی لے جا سکتی ہیں۔ اسی لیے انہوں نے کامیاب نوجوان نہیں بلکہ بے داغ نوجوان کی دعا کی۔
آج کا نوجوان ایک غیر معمولی دور میں جی رہا ہے۔ دنیا بھر کا علم چند لمحوں میں اس کی دسترس میں ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، عالمی روابط اور اظہار کے بے شمار ذرائع اس کے سامنے نئے امکانات کھول رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ملتِ اسلامیہ کے نوجوان تعلیم، تحقیق، سماجی خدمت، رفاہی سرگرمیوں، قانونی جدوجہد، میڈیا، ٹیکنالوجی اور عوامی مسائل کے حل میں پہلے کی نسبت کہیں زیادہ سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ یہ ایک خوش آئند تبدیلی ہے کیوں کہ زندہ قوموں کے نوجوان اپنے زمانے کے مسائل سے بے تعلق نہیں رہتے۔
لیکن اسی منظر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ ہم نے نوجوانوں میں بے باکی تو دیکھی ہے مگر بعض اوقات بے باکی اور بد اخلاقی کے درمیان موجود باریک لکیر دھندلی ہوتی جا رہی ہے۔ حق کے لیے آواز بلند کرنے کا جذبہ قابلِ قدر ہے لیکن جب اس آواز میں تہذیب کی مٹھاس کم اور غصے کی تلخی زیادہ ہو جائے یا احتجاج کی زبان اور طرزِ اظہار خود مقصد کی عظمت کو مجروح کرنے لگیں تو یہ تشویش کا باعث بن جاتا ہے۔ یہ مسئلہ کسی ایک تنظیم یا شہر تک محدود نہیں بلکہ ہماری اجتماعی نوجوانی کے مزاج کا ایک قابلِ توجہ پہلو بنتا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا نے اس صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ کسی بھی واقعے پر فوری ردِ عمل، سخت ترین الفاظ، مخالف کی تحقیر اور اشتعال انگیز زبان کو جرأت و بہادری سمجھنا ایک عام رویہ بنتا جا رہا ہے۔ نوجوان یہ سمجھنے لگے ہیں کہ جتنا سخت لہجہ ہوگا اتنی ہی زیادہ ان کی بات سنی جائے گی، جب کہ حقیقت اس کے بر عکس ہے۔ سخت زبان وقتی طور پر ہلچل تو پیدا کر سکتی ہے مگر دلوں میں جگہ نہیں بنا سکتی۔ آواز کی بلندی سے زیادہ کردار کی بلندی انسان کو مؤثر بناتی ہے۔
قرآنِ مجید نے اہلِ ایمان کی جو تصویر پیش کی ہے اس میں زبان اور کردار کو ایمان سے الگ نہیں کیا گیا۔ مسلمان صرف اپنے عقائد سے نہیں بلکہ اپنی گفتگو، اپنے معاملات، اپنے رویے اور اپنے اخلاق سے پہچانا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی پوری دعوت اس حقیقت کی زندہ تفسیر ہے کہ بہترین کردار سب سے مضبوط دعوت ہوتی ہے۔ مکہ کے تیرہ برسوں میں ظلم، تمسخر، بہتان اور اذیت کے باوجود آپؐ کی زبان سے کبھی ایسا لفظ ادا نہیں ہوا جس نے اخلاقی وقار کو مجروح کیا ہو۔ یہی وجہ تھی کہ مخالفین بھی آپ کو صادق اور امین کہنے پر مجبور تھے۔
آج ملتِ مسلمہ کے نوجوانوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ علم اور کردار، دونوں کو ساتھ لے کر چلیں۔ علم دیانت کے بغیر فساد کا ذریعہ بن سکتا ہے، قیادت اخلاص کے بغیر ذاتی مفاد میں بدل جاتی ہے اور خطابت حکمت کے بغیر آگ تو لگا سکتی ہے مگر روشنی پیدا نہیں کر سکتی۔ اسی طرح اگر سوشل میڈیا پر لاکھوں لوگ کسی نوجوان کو سن رہے ہوں لیکن اس کی گفتگو تہذیب، حلم اور سچائی سے خالی ہو تو اس کی مقبولیت عارضی ہو گی، اثر دیرپا نہیں ہو گا۔
اسی لیے قرآنِ مجید نے حضرت یوسف علیہ السلام کی شخصیت کو صرف ایک نبی کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ایسے نوجوان کے طور پر ہمارے سامنے رکھا ہے جس نے جوانی کی شدید ترین آزمائشوں میں بھی اپنے کردار کو داغ دار نہیں ہونے دیا۔ حُسن تھا، جوانی تھی، تنہائی تھی، اقتدار کے دروازے کھل سکتے تھے اور گناہ کے تمام اسباب موجود تھے مگر انہوں نے اپنے نفس کی خواہش پر اپنے رب کی رضا کو ترجیح دی۔ یہی وہ "یوسفی کردار" ہے جس کی آج کی نوجوان نسل کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ آنے والا زمانہ صرف ذہین نوجوان نہیں مانگتا بلکہ ایسے نوجوان چاہتا ہے جن کے علم پر اعتماد کیا جا سکے، جن کی نیت پر بھروسا کیا جا سکے اور جن کے کردار کو دیکھ کر لوگ اسلام کے حُسن کو محسوس کر سکیں۔
یہی یوسفی کردار اصل مشعلِ راہ ہے۔ اسی کی روشنی میں مسلمان نوجوان جب اختلاف کرتا ہے، احتجاج کرتا ہے، کسی تحریک کا حصہ بنتا ہے یا معاشرے میں تبدیلی کی جدوجہد کرتا ہے تو اس کی زبان، اس کا لہجہ، اس کا اخلاق اور اس کا وقار اس کی سب سے بڑی طاقت بن جاتے ہیں، کمزوری نہیں۔
اختلاف ہو مگر اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے
زندہ معاشروں کی ایک نمایاں علامت یہ ہے کہ وہاں نوجوان اپنے گرد و پیش سے بے تعلق نہیں رہتے۔ وہ ظلم پر بے چینی محسوس کرتے ہیں، نا انصافی کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں، معاشرتی برائیوں کے خلاف مہم چلاتے ہیں، مظلوموں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں اور اپنے ضمیر کی آواز کو دبنے نہیں دیتے۔ اسی لیے گزشتہ چند برسوں میں ملتِ مسلمہ کے نوجوانوں میں بیداری کا ایک خوش آئند رجحان پیدا ہوا ہے۔ مختلف شہروں، جامعات اور عوامی فورموں پر انہوں نے جس جرأت اور اعتماد کے ساتھ اپنے حقوق اور سماج کے مسائل کے لیے آواز بلند کی ہے وہ اس بات کی علامت ہے کہ امت کا نوجوان اب لاتعلق تماشائی بن کر جینا نہیں چاہتا۔ یہ جذبہ یقیناً قابلِ قدر ہے کیوں کہ اسلام نے ظلم کے سامنے خاموش رہنے کے بجائے حق کا ساتھ دینے کی تعلیم دی ہے۔
کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعجازِ سخن
ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے
لیکن ہر اچھی چیز اس وقت اپنی تاثیر کھو دیتی ہے جب اخلاقی حدود نظر انداز کر دی جائیں۔ حق کی آواز اگر اپنی شائستگی کھو دے تو اپنے مقصد کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ احتجاج اگر تہذیب سے محروم ہو جائے تو اصلاح کے بجائے ردِ عمل پیدا کرتا ہے اور اختلاف اگر گالی، تحقیر اور تضحیک میں بدل جائے تو اپنی اخلاقی قوت کھو دیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مسلمان نوجوان کی شناخت نمایاں ہونی چاہیے، کیوں کہ اس کی پہچان صرف اس کے مطالبات سے نہیں بلکہ انہیں پیش کرنے کے انداز سے بھی ہوتی ہے۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج احتجاج اور اظہارِ رائے کے بعض مواقع پر ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں جو اسلامی اخلاق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ کہیں نعرے بازی میں شائستگی کی حدیں پار کی جاتی ہیں، کہیں مخالفین کی کردار کشی کو بہادری سمجھ لیا جاتا ہے اور کہیں سوشل میڈیا پر اختلاف ذاتی حملوں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ جنتر منتر ہو، کسی جامعہ کا کیمپس ہو، کسی سرکاری دفتر کے سامنے احتجاج ہو یا ڈیجیٹل دنیا کا کوئی پلیٹ فارم، ہر جگہ یہ اصول یکساں رہنا چاہیے کہ مسلمان کی زبان اس کے کردار کا آئینہ ہوتی ہے۔ اگر زبان آلودہ ہو جائے تو نیت کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو، پیغام کی تاثیر کمزور پڑ جاتی ہے۔
تیرے غصہ سے جو انشاؔ ہو خفا ناحق ہے
ہاں تجھے چاہیے نادان یہ گالی دینا
یہاں ایک بنیادی نفسیاتی پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ غصہ انسان کو فوری ردِ عمل پر آمادہ کرتا ہے جب کہ کردار اسے ذمہ دارانہ عمل کی طرف لے جاتا ہے۔ جنریشن زی ایسے دور میں پروان چڑھی ہے جہاں ہر خبر لمحوں میں پھیل جاتی ہے اور ہر واقعہ فوری تبصرے کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس تیز رفتار ماحول نے تحمل کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔ نوجوان اکثر سمجھتے ہیں کہ سخت لہجہ ہی مؤثر ہوتا ہے، حالانکہ انسانی نفسیات اس کے بر عکس ہے۔ غصہ وقتی اثر پیدا کر سکتا ہے مگر احترام ہمیشہ متوازن، با وقار اور مدلل گفتگو سے ہی حاصل ہوتا ہے۔
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
تمہیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے
رہی نہ طاقتِ گفتار اور اگر ہو بھی
تو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے
قرآنِ مجید نے دعوت اور اختلاف دونوں کے آداب سکھائے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں سے اچھی بات کہنے اور برائی کو بہترین طریقے سے دفع کرنے کی تعلیم دی ہے۔ یہ ہدایت صرف دعوت و تبلیغ کے لیے نہیں بلکہ اجتماعی زندگی کے ہر میدان کے لیے ہے۔ مسلمان کی گفتگو اس کے ایمان کی ترجمان ہوتی ہے۔ اگر اس کے الفاظ خیر خواہی، انصاف اور وقار سے خالی ہوں تو اس کی دعوت بھی کم زور پڑ جاتی ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مومن نہ طعنہ دینے والا ہوتا ہے، نہ لعنت کرنے والا، نہ فحش گو اور نہ بد زبان۔ اس ایک حدیث میں اسلامی معاشرت کا پورا اخلاقی دستور سمٹ آیا ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آج نوجوانوں کی ہر تقریر، ہر احتجاج، ہر تبصرہ اور ہر ویڈیو مستقل ریکارڈ کا حصہ بن جاتی ہے۔ زمانہ صرف یہ نہیں دیکھتا کہ مسلمان نوجوان کس مسئلے پر کھڑا تھا بلکہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ اس نے کس زبان میں بات کی تھی، اختلاف کے باوجود اپنے اخلاق کو کس حد تک محفوظ رکھا تھا۔ بعض اوقات ایک نا مناسب جملہ برسوں کی محنت کو پس منظر میں دھکیل دیتا ہے، جب کہ ایک با وقار رویہ مخالفین کے دل میں بھی احترام پیدا کر دیتا ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہم ہر حال میں اسلام کی نمائندگی کرنے والے ہیں؛ جامعات میں، کمپنیوں میں، بازاروں میں، کاروبار و معاملات میں، حتیٰ کہ احتجاج کرتے وقت بھی۔ اس لیے ہماری زبان، ہمارا لہجہ اور ہمارا کردار ہر موقع پر اسلام کے اخلاق کا آئینہ ہونا چاہیے۔
یوسفی کردار ہی ملت کا اصل سرمایہ ہے
سورۂ یوسف میں ایک لطیف نکتہ نوجوانوں کے لیے بڑی رہنمائی رکھتا ہے۔ جب حضرت یوسف علیہ السلام کو بادشاہ نے جیل سے بلایا تو انہوں نے فوری رہائی کو ترجیح دینے کے بجائے فرمایا:
"اپنے بادشاہ کے پاس واپس جاؤ اور اس سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ تھا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔" (سورۂ یوسف: 50)
گویا ان کا با وقار احتجاج یہ تھا کہ جب تک میرے خلاف لگائے گئے شبہات کی حقیقت واضح نہ ہو اور میری بے گناہی ثابت نہ ہو، میں دربار میں حاضر نہیں ہوں گا۔ چنانچہ حقیقت آشکار ہوئی اور حضرت یوسف علیہ السلام عزت، وقار اور بے داغ کردار کے ساتھ جیل سے باہر آئے۔
ملتِ مسلمہ کو آج ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو جرأت اور حلم کو یکجا کر سکیں؛ ظلم کے سامنے جھکیں نہیں، مگر زبان کو ظلم کا آلہ نہ بنائیں؛ حق کی حمایت میں ثابت قدم رہیں، مگر انصاف اور تہذیب کی حدود سے باہر نہ نکلیں۔ یہی وہ توازن ہے جس نے ابتدائی مسلم نسل کو دنیا کی مؤثر ترین نسل بنایا تھا۔
درحقیقت تہذیبِ اختلاف کم زوری نہیں بلکہ اعلیٰ کردار کی دلیل ہے۔ جذبات کے طوفان میں خود کو قابو میں رکھنا، اشتعال کے ماحول میں بھی انصاف کی بات کرنا اور مخالفت کے باوجود شائستگی برقرار رکھنا آسان نہیں ہوتا۔ اسی لیے مسلمان نوجوان کی اصل شناخت صرف اس کی للکار نہیں بلکہ اس کا وقار، صرف اس کی جرات نہیں بلکہ اس کا ضبطِ نفس اور صرف اس کی آواز نہیں بلکہ اس کے الفاظ کی پاکیزگی بھی ہے۔
اسی لیے نوجوانی کی اصل کامیابی کسی تحریک میں نمایاں ہونے یا شہرت حاصل کرنے میں نہیں بلکہ حضرت یوسف علیہ السلام کی طرح ایسی پاکیزہ شخصیت تعمیر کرنے میں ہے جس پر دوست بھی اعتماد کریں اور دشمن بھی انگلی نہ اٹھا سکیں۔
قرآنِ مجید نے حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ صرف ایک تاریخی داستان کے طور پر نہیں بلکہ نوجوان نسل کی فکری اور اخلاقی تربیت کے لیے ایک دائمی نمونہ بنا کر پیش کیا ہے۔ بھائیوں کی سازش، جوانی کی آزمائش، بے گناہی کے باوجود قید، اقتدار اور اختیار— کسی بھی مرحلے پر حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے کردار کو داغ دار نہیں ہونے دیا۔ اسی لیے قرآن نے ان کی کامیابی کو اقتدار سے پہلے تقویٰ، صبر اور امانت سے جوڑا۔ گویا حقیقی کامیابی صلاحیت سے پہلے کردار اور اختیار سے پہلے امانت کا نام ہے۔
آج کا مسلم نوجوان بھی اپنی نوعیت کی مختلف آزمائشوں سے گزر رہا ہے۔ موبائل فون کی ایک اسکرین اسے ایسی دنیا تک پہنچا دیتی ہے جہاں نگاہ، زبان، فکر اور وقت ہر لمحہ امتحان میں ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے ہر نوجوان کو اظہار کا ایک پلیٹ فارم دیا ہے مگر اس کے ساتھ ہر لفظ اور ہر عمل کی جواب دہی بھی بڑھا دی ہے۔ ایسے ماحول میں یوسفی کردار صرف ایک مذہبی اصطلاح نہیں بلکہ ایک عملی ضرورت بن چکا ہے۔
یوسفی کردار کا مطلب صرف گناہوں سے بچنا نہیں بلکہ نیت، مقصد، ذرائع اور منزل—سب کا رضائے الٰہی سے وابستہ ہونا ہے۔ خدمت شہرت کے لیے نہ ہو، دعوت داد و تحسین کے لیے نہ ہو اور قیادت اقتدار کی خواہش سے آلودہ نہ ہو۔ اسلام نے ہمیشہ عمل سے پہلے نیت کی اصلاح پر زور دیا ہے، کیوں کہ اخلاص ہر نیکی کی بنیاد ہے۔
آج ملتِ مسلمہ کے نوجوان تعلیم، تحقیق، مصنوعی ذہانت، قانون، طب، صحافت، نفسیات، سماجی خدمت اور کاروبار سمیت مختلف میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں اور نوجوان خواتین بھی اس علمی سرمایہ میں قابلِ قدر اضافہ کر رہی ہیں۔ یہ خوش آئند ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ ان کامیابیوں کے ساتھ دیانت، انکساری، حیا، امانت، سچائی اور حسنِ اخلاق بھی برقرار رہیں۔ اگر علم تکبر پیدا کر دے، شہرت خود پسندی میں بدل جائے یا کامیابی دوسروں کی تحقیر سکھائے تو وہ امت کے لیے رحمت کے بجائے آزمائش بن جاتی ہے۔
ملت کے پاس بان صرف ذہین نہیں بلکہ قابلِ اعتماد افراد ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر، وکیل، صحافی، سماجی کارکن، دینی کارکن یا طلبا لیڈر—ہر شعبے میں اصل اثر اس شخصیت کا ہوتا ہے جس کا کردار اس کی صلاحیت سے بلند ہو۔ لوگ تقریروں سے پہلے انسان کے رویے اور دعوؤں سے پہلے اس کے اخلاق کا وزن کرتے ہیں۔
اسی لیے نوجوانی کا اصل حسن لباس، شہرت یا سوشل میڈیا کی مقبولیت میں نہیں بلکہ اس اعتماد میں ہے جو لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے۔ جب کسی نوجوان کے بارے میں یہ کہا جائے کہ اس کی زبان سچی، اس کا وعدہ قابلِ اعتماد، اس کا اختلاف مہذب، اس کا کردار پاکیزہ اور اس کی نیت بے کھوٹ ہے تو یہی اس کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
آج ہماری ضرورت ایسے نوجوان نہیں جو صرف مجمع کو گرما دیں بلکہ ایسے نوجوان ہیں جو معاشرے کا درجۂ حرارت کم کر سکیں؛ ایسے مقرر جو مخالفین کو خاموش کرنے کے بجائے اپنے اخلاق سے دل جیت لیں؛ اور ایسے کارکن جنہیں دیکھ کر لوگ اسلام کے حسن کا اندازہ کریں۔ یہی وہ نسل ہوگی جو آنے والے ہندوستان میں ملتِ مسلمہ کی بہترین نمائندہ اور مستقبل کی مضبوط عمارت کا اصل سرمایہ بنے گی۔
خدا کرے تیری جوانی رہے بے داغ

علم، مہارت اور قیادت کے ساتھ کردار، اخلاص اور اخلاق ۔ مسلم نوجوان کی اصل پہچان

