22 ستمبر 1979ء کو امریکہ کے شہر بفیلو میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی وفات کے بعد جماعت اسلامی کے اولین ارکان اور بانیوں میں شامل مولانا محمد منظور نعمانی نے ماہ نامہ ’الفرقان‘ کی نومبر، دسمبر 1979ء تا جنوری، فروری 1980ء کی اشاعت میں ’’مولانا مودودی کے ساتھ میری رفاقت کی سر گزشت اور اب میرا موقف‘‘ کے عنوان سے قسط وار مضامین شائع کیے جو دراصل مولانا مودودیؒ کی حیات ہی میں لکھے جا چکے تھے مگر ان کی اشاعت ان کی وفات کے بعد ممکن ہو سکی۔ چند ماہ بعد یہی مضامین، جب الفرقان بک ڈپو، نظیرآباد، لکھنؤ سے مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کے پیش لفظ کے ساتھ باضابطہ کتابی صورت میں منظر عام پر آئے تو اس ’فردِ جرم‘ سے لاہور اور دارالاسلام، پٹھان کوٹ میں مولانا مودودیؒ کے نوجوان شاگرد خواجہ اقبال احمد ندویؒ کے دل پر چوٹ لگی۔ اضطراب اور کرب کے عالم میں ان کا ساکت و جامد قلم حرکت میں آیا اور انہوں نے ایک چشم دید گواہ کی حیثیت سے مولانا ابوالحسن علی ندویؒ اور سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی رفاقت میں گزارے ماہ و سال کے چشم دید احوال اور تلخ و شیریں یادوں پر مبنی مضامین کا ایک سلسلہ شروع کیا جو ماہ نامہ ’زندگی‘، رام پور میں دسمبر 1983ء سے مئی 1985ء تک 14 قسطوں میں شائع ہوئے۔ کچھ عرصے بعد سید احمد عروج قادری نے ’زندگی‘ میں شائع خواجہ اقبال ندویؒ کے مضامین کو مارچ 1986ء کی خصوصی اشاعت میں ’’میں بھی حاضر تھا وہاں‘‘ کے عنوان سے کتابی شکل میں یکجا کر دیا۔ ’زندگی‘ کی اسی خصوصی اشاعت کو حرا پبلیکیشنز، لاہور نے 1987ء میں ’’بدلتے نصب العین‘‘ کے نام سے شائع کیا۔
یہ مضامین شائع ہوئے تو مولانا محمد منظور نعمانیؒ اور مولانا ابوالحسن علی ندویؒ باحیات تھے، مگر ان کی طرف سے کسی ردِ عمل یا اختلاف کا اظہار نہیں کیا گیا۔ یہ کتاب خواجہ اقبال ندویؒ کے ایمانی تقاضے، جذبۂ شہادتِ حق اور تحریکی حمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس مجموعے کا مطالعہ تحریکِ اسلامی سے وابستہ ہر خرد و کلاں کو لازماً کرنا چاہیے۔
1998ء میں جناب سلیم منصور خالد نے خواجہ اقبال ندویؒ کے مضامین اور تحریروں کا ایک دوسرا مجموعہ کچھ اضافے کے ساتھ شائع کیا جس کا نام تھا ’’مولانا مودودی کی رفاقت میں‘‘۔ ہندوستان میں یہ کتاب پہلی بار ملت پبلیکیشنز، سری نگر نے نومبر 2020ء میں شائع کی ہے۔
خواجہ صاحب کے متعلق ’زندگی‘ کے سابق مدیر سید احمد عروج قادری نے لکھا ہے:
’’دنیا میں ایسے بہت سے جوہر و گوہر ہوئے ہیں جو اپنی جگہ چھپے رہتے ہیں اور لوگ ان کی قدر و قیمت سے ناواقف رہ جاتے ہیں، حکیم خواجہ اقبال احمد ندوی بھی ایسے ہی ایک جوہر ہیں۔ ہندوستان میں ایسے لوگ شاید ہی موجود ہوں جنہوں نے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی خدمت میں ان کے ایک شاگرد کی حیثیت سے کچھ وقت گزارا ہو۔ حکیم صاحب غیر منقسم جماعت اسلامی کے پہلے بحرانی دور میں مولانا مودودیؒ کے پاس ہی مقیم تھے۔ وہ تشکیلِ جماعت سے کچھ پہلے ہی مولانا مودودیؒ کی خدمت میں پہنچ گئے تھے اور دو سال سے کچھ زیادہ عرصہ مولانا کی خدمت میں رہے۔‘‘
گھریلو اور تعلیمی پس منظر
ضلع سلطان پور کی تحصیل جگدیش پور میں واقع موضع کِشنی خواجہ اقبال احمد ندویؒ کا وطن ہے۔ ولادت 4 جنوری 1923ء کو ہوئی۔ والد خواجہ اشفاق احمد (وفات 1975ء) حافظِ قرآن تھے۔ ان کا سلسلہ نسب لکھنؤ کے معروف علمی خانوادے ’فرنگی محل‘ سے ملتا ہے۔ اردو اور فارسی کی ابتدائی گھریلو تعلیم کے بعد نزدیکی موضع زینب گنج کے گورنمنٹ اسکول سے مڈل، یعنی آٹھویں جماعت، تک تعلیم حاصل کی۔ 1938ء میں دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ میں عربی اوّل میں داخلہ ہوا۔ وہاں وہ مولانا ابوالحسن علی ندویؒ سے صرف عربی ادب کی کتابیں نہیں پڑھ رہے تھے بلکہ جمعرات کو ظہر کے بعد ان کے ساتھ تبلیغی مشن پر نکل جاتے اور جمعہ کی شام تک واپس آتے۔ مولانا الیاسؒ کے نہج پر تبلیغ کے اس کام میں خواجہ صاحب تقریباً ڈیڑھ برس تک مولانا علی میاں کی رہنمائی میں کام کرتے رہے۔ اسی زمانے میں وہ مولانا عبد الماجد دریابادی کی عصری مجالس میں بھی شریک ہوا کرتے تھے۔
خواجہ صاحب اپنی یادداشتوں میں رقم طراز ہیں:
’’یہ تبلیغی سفر ہم لوگوں کے لیے چلتا پھرتا مدرسہ بھی تھا اور متحرک تربیت گاہ بھی۔ راستے میں مولانا موصوف کبھی ہم لوگوں کو صحابہ کرامؓ کی زندگیوں کے ایمان افروز واقعات سناتے اور کبھی سید صاحب اور دوسرے مجاہدین کی سر فروشی اور جاں سپاری کے کارنامے۔ کبھی جذبہ جہاد بیدار کرنے والی آیات و احادیث کی تشریح فرماتے اور کبھی خانقاہوں کے شب و روز پر جہاد کی تیاریوں کی فضیلت بتاتے۔ کبھی اپنے پسندیدہ مصنفین کی کتابوں کے پسندیدہ مقامات کی نشان دہی فرماتے، کبھی خارج میں ہم لوگوں کے مطالعے کے لیے کتابیں تجویز فرماتے اور کبھی ہم لوگوں کے زیرِمطالعہ کتابوں کے مشکل مقامات کی تشریح فرماتے۔ اور مجھے یاد ہے کہ ندوہ پہنچنے کے دوسرے سال ہی مولانا کی حوصلہ افزائیوں کے سہارے میں نے خود سے ابن جوزی کی ’تلبیس ابلیس‘ اور ’صفوۃ الصفوۃ‘ کا مطالعہ کر لیا تھا۔‘‘
خواجہ صاحب ندوہ میں پہلے ہی سال ’ترجمان القرآن‘ کے ذریعے مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ اور ان کی فکر سے متعارف ہوئے اور جنوری 1941ء میں مولانا کے سفرِ لکھنؤ کے موقع پر ان سے بالمشافہ ملاقات، تفصیلی گفتگو اور استفادہ کا موقع ملا۔
ندوہ میں خواجہ اقبال صاحب نے درجات کے باہر دارالاقامہ میں مولانا جلیل احسن ندویؒ سے ’دیوان الحماسہ‘ کے علاوہ منفلوطی کی ’العبرات‘ اور ’النظرات‘ بھی پڑھیں۔ اس کے علاوہ مولانا علی میاں کی خصوصی اجازت سے ادب کے درجات میں بیٹھ کر سبقاً سبقاً ’نہج البلاغہ‘ اور ’مختارات‘ پڑھا کرتے تھے۔
’ترجمان القرآن‘ کی ستمبر 1939ء کی اشاعت میں جب مولانا مودودیؒ کا مضمون ’’ایک اہم دینی تحریک کا تعارف‘‘ شائع ہوا تو مولانا علی میاں کے دل میں مولانا الیاسؒ کے کام کو سمجھنے کا اشتیاق پیدا ہوا۔ چنانچہ اپنے متعدد شاگردوں کے ساتھ ان سے ملاقات کے لیے سہارنپور کا سفر کیا۔ خواجہ صاحب بھی ان کے ساتھ تھے۔ وہاں انہیں مولانا الیاسؒ اور ان کی دعوت کو قریب سے دیکھنے، سمجھنے اور ان کی خدمت کا موقع ملا۔ ایک روز موقع دیکھ کر انہوں نے مولانا الیاسؒ سے مولانا مودودیؒ کی دعوت کے متعلق سوال کیا تو وہ اٹھ کر بیٹھ گئے اور آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو بہنے لگے۔ جب مولانا موصوف کی طبیعت سنبھلی تو فرمایا: ’’اصل کام تو وہی ہے جس کی مولانا مودودی دعوت دے رہے ہیں، یہ تو ابتدائی کام ہے۔ ان شاء اللہ اس کا بھی وقت آئے گا۔‘‘ ان کے رفیق مولانا عبدالغفار ندوی (سابق سکریٹری جماعت اسلامی ہند، یوپی) بھی اس سفر میں ان کے ساتھ تھے۔(ماہ نامہ ’زندگی نو‘، نئی دہلی، 2 مارچ 1986ء، صفحہ نمبر: 44)
اسی دوران خواجہ صاحب کا اپنے استاد مولانا ابوالحسن علی ندویؒ سے مولانا الیاسؒ کی دعوت، مولانا مودودیؒ، ان کی فکر اور ان کی دینی تعبیرات کے موضوع پر باضابطہ مباحثہ ہونے لگا۔ کچھ دنوں کے بعد جب ماحول زیادہ خوش گوار نہ رہا تو خواجہ صاحب ندوہ کے دارالاقامہ سے نکل کر محلہ پان دریبا میں مقیم مولانا مودودیؒ کے ایک معتقد اور پُرجوش حامی محمد سرور صاحب کے گھر منتقل ہوگئے جو لکھنؤ میں ٹی ٹی آئی تھے۔ تقریباً دو ماہ ان کے گھر سے ہی سبق پڑھنے کے لیے ندوہ جاتے رہے اور پھر ایک روز اپنے استاد مولانا علی میاں ندویؒ کی مرضی کے خلاف سید مودودیؒ کی خدمت میں حاضری کے لیے لکھنؤ سے ٹرین میں سوار ہو کر لاہور پہنچ گئے۔
یہ مضمون خواجہ صاحب کے قیامِ لاہور کی تفصیلات کا متحمل نہیں، بس ان کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’مولانا مودودی کے دسترخوان پر یا ان کی مجلس میں جہاں پر ذی حیثیت لوگ بھی موجود رہتے تھے، میری کم حیثیتی میرے لیے کبھی کسی خفت کا باعث نہیں بنی۔ مولانا کبھی کسی تقریب میں جاتے تو مجھے ساتھ لے جاتے اور اپنے قریب ہی بٹھاتے، کوئی میرے متعلق دریافت کرتا تو وہ ہمیشہ یہ فرماتے: یہ میرے سفرِ ندوہ کی یادگار ہیں۔‘‘
26 اگست 1941ء کو جماعت اسلامی کے قیام سے قبل ہی وہ لاہور اور پھر جون 1942ء میں مولانا مودودیؒ کے ساتھ دارالاسلام، پٹھان کوٹ چلے گئے۔ وہاں انہوں نے مولانا کی صحبت اور ان کی نگرانی میں باضابطہ ایک نصاب کے تحت مطالعے کا آغاز کیا۔ وہ ظہر سے عصر تک ’ترجمان القرآن‘ کے دفتر میں کام کرتے اور باقی اوقات مطالعے میں صرف کرتے۔ انہیں ذاتی اخراجات اور بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لیے 15 روپے ماہانہ کی رقم بھی ملتی تھی۔ اس زمانے میں وہاں مقیم مستری محمد صدیقؒ، قمرالدین خانؒ، مولانا محمد منظور نعمانیؒ (ایڈیٹر ’الفرقان‘، بریلی) اور شاہ محمد جعفر پھلوارویؒ صاحبان کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا، جو کچھ عرصے بعد ہی جماعت سے علیحدہ ہو کر اس کے خلاف پروپیگنڈے میں مصروف ہوگئے تھے۔
1943ء میں مولانا مودودیؒ نے ’ترجمان القرآن‘ کے منیجر سید محمد شاہ کو ذمہ داری سے سبکدوش کیا تو عارضی طور پر منیجر کی ذمہ داری خواجہ اقبال ندوی کے سپرد کی۔ یہ وہی زمانہ ہے جب جنگِ عظیم دوم کے سبب مولانا نے کاغذ کی قلت بلکہ عدم دستیابی کے سبب ’ترجمان‘ کو عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
مولانا عروج احمد قادری کے نام اپنے ایک خط میں انہوں نے اس زمانے کے احوال لکھے ہیں:
’’تشکیلِ جماعت سے چند ماہ قبل مولانا نے مجھے اپنے پاس بلایا تھا اور یہ میری خوش نصیبی تھی کہ وہ ساری مدت جو مولانا کی خدمت میں گزری، مجھے ان کی ذات سے زیادہ سے زیادہ استفادے کے مواقع حاصل رہے اور مولانا کو ہمیشہ اس کا احساس رہا کہ جس طالب علم کو انہوں نے اپنے پاس خود بلایا ہے اس کا وقت ضائع نہ ہونے پائے۔ میں نے مولانا کی رہنمائی میں شاہ ولی اللہؒ، ابن تیمیہؒ، ابن قیمؒ اور سیرت و تاریخ کی بعض کتابوں کا مطالعہ کیا، پھر ان سے سبقاً سبقاً قرآن کا کافی حصہ پڑھا۔ مطالعے کے علاوہ میرے ذمہ دفتر کا کچھ کام رہتا تھا۔ اہم خطوط کی نقل بھی میرے ذمہ تھی اور وقتاً فوقتاً مولانا کے دیے ہوئے جوابات کی نقل بھی کرتا تھا۔ یہ میرا بہت بڑا نقصان تھا کہ پٹھان کوٹ کی آب و ہوا مجھے راس نہیں آئی اور شدید علالت کے باعث مجھے وطن واپس آنا پڑا۔‘‘
ڈاکٹر عبدالباری (شبنم سبحانی) کے ایک سوال کے جواب میں خواجہ صاحب نے وہاں اپنی تعلیمی مصروفیات کے بارے میں بتایا:
’’اپنی شدید مصروفیات کے عالم میں بھی مولانا مودودی مہینوں میرے لیے کس طرح وقت نکالتے رہے، یہ تو مجھے معلوم نہیں، البتہ پڑھاتے وقت مولانا جس سکون اور اطمینان کے ساتھ بیٹھ کر پڑھاتے تھے، اس سے یہی معلوم ہوتا تھا کہ اب پڑھانے کے سوا مولانا کا کوئی اور کام باقی نہیں ہے۔ جب تک میں سوالات کرتا رہتا، مولانا بیٹھے رہتے اور اٹھنے سے پہلے ایک بار پھر دریافت کر لیتے کہ ’کوئی چیز سمجھنے کی باقی تو نہیں رہ گئی ہے؟‘‘
مولانا دس بجے کے قریب تشریف لاتے اور درس ختم ہوتے ہوتے بالعموم دوپہر کے کھانے کا وقت ہو جاتا تھا۔ مولانا کو اس بات کا بڑا احساس تھا کہ ایک طالب علم جو اپنی تعلیم مکمل کیے بغیر ان کی خدمت میں حاضر ہو گیا ہے، اس کی تعلیم نامکمل نہ رہنے پائے۔ میں جب بھی مولانا کی خدمت میں کوئی مبحث سمجھنے کے لیے حاضر ہوتا اور اپنی دشواری پیش کرتا تو مولانا کتاب کو ہاتھ لگائے بغیر تشریح و توضیح فرمادیتے۔ معلوم ہوتا کہ مولانا نے شاہ ولی اللہ، ابن تیمیہ اور ابن قیم وغیرہ کی کتابوں کو اس قدر توجہ اور انہماک سے پڑھا تھا کہ ان کتابوں کے پورے پورے مباحث انہیں یاد تھے۔ درس میں ناغہ صرف انہی ایام میں ہوتا جب مولانا لاہور سے باہر گئے ہوتے یا کبھی ناسازی طبع میں مبتلا ہوتے تھے۔ کئی بار ایسا ہوا کہ درس کے وقت کوئی دوسرا پروگرام بن جاتا تو مجھے شام کو ہی بتا دیتے کہ ’کل صبح آپ آٹھ بجے ہی اپنی کتابیں لے کر آجائیے گا۔‘‘
لاہور اور دارالاسلام میں قیام کے دوران خواجہ صاحب کو مولانا عبیداللہ سندھی اور جوش ملیح آبادی جیسی متعدد ذی علم شخصیات سے ملاقاتوں کا موقع ملا۔ خواجہ اقبال صاحب ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہیں جو 26 اگست 1941ء کو تشکیلِ جماعتِ اسلامی کے وقت وہاں موجود تھے۔ لکھتے ہیں:
’’اس اجلاس میں میں نے لوگوں کے شدتِ جذبات کی یہ کیفیت دیکھی تھی کہ بڑے بڑے علماء اور دانشوروں کی ڈاڑھیاں آنسوؤں سے تر ہو گئی تھیں۔‘‘
خواجہ صاحب نے لاہور اور پٹھان کوٹ میں تقریباً ڈھائی برس مولانا کے ساتھ گزارے۔ 1944ء میں وہ اپنے وطن واپس لوٹے۔ ملک کی تقسیم سے قبل 5 تا 7 اپریل 1946ء کو الٰہ آباد میں ہروارہ کے مقام پر منعقدہ کل ہند اجتماع سے قبل خواجہ صاحب ضلع بارہ بنکی کے قصبہ سوبیہا کے باشندے جناب یعقوب صاحب کی دختر صفیہ صاحبہ کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہو چکے تھے۔ خواجہ صاحب نے اس سلسلے میں ایک دلچسپ واقعہ لکھا ہے:
’’دارالاسلام سے میرے واپس آنے کے بعد ہروارہ، الٰہ آباد کے اجتماع میں جب مجھے مولانا مودودی کی والدہ کی تشریف آوری کی اطلاع ملی اور میں نے انہیں سلام کہلا بھیجا تو وہ دروازے کے قریب تشریف لائیں اور دیر تک خیریت دریافت کرتی رہیں۔ دورانِ گفتگو جب انہوں نے مجھ سے میری شادی کے بارے میں دریافت کیا اور میں نے اثبات میں جواب دیا تو فرمانے لگیں: ’’بیٹا اقبال! تم نے اچھا نہیں کیا جو اپنی بیوی کو یہاں ساتھ نہیں لائے۔ تم اسے یہاں لائے ہوتے تو ملاقات ہو جاتی، اب اسے کیا دیکھوں گی، اب اس سے کیا ملاقات ہو گی؟‘‘ میں نے عرض کیا: اماں جان! ایسا نہ فرمائیے، جیسے ہی موقع ملا اسے لے کر حاضر ہوں گا۔ لیکن وہ اپنی بات دہراتی رہیں، پھر جتنی دیر کھڑی رہیں، تاسف کا اظہار کرتی رہیں۔ میرے گاؤں کا راستہ اتنا خراب تھا کہ میں وہاں جا کر مولانا کی والدہ محترمہ کی روانگی سے قبل واپس نہیں آ سکتا تھا۔ ورنہ دل اماں جان کی اس محبت، شفقت اور اپنائیت کو دیکھ کر یہی چاہ رہا تھا کہ اجتماع چھوڑ کر بیوی کو لے آؤں، مگر دل مسوس کر رہ گیا۔‘‘
ملک کی تقسیم کے بعد الٰہ آباد میں جماعت اسلامی کے رکن حکیم محمد خالد صاحب کے یہاں کچھ عرصہ مقیم رہے اور ان کی صحبت میں طب و حکمت کی عملی تعلیم حاصل کی۔ 1950ء کے بعد مستقل رہائش کے لیے سلطان پور منتقل ہوئے اور محلہ خیرآباد میں رہائش اختیار کی۔
6 دسمبر 1992ء کو شہادتِ بابری مسجد کے بعد جماعتِ اسلامی پر پابندی عائد ہوئی تو گرفتاری کے لیے پولیس ان کے گھر آ گئی۔ انسپکٹر اور محکمۂ خفیہ کے اہل کار جو ان کی شرافت، ایمانداری اور بزرگی کے قائل تھے، پریشان ہو گئے۔ انہوں نے یہ مطالبہ رکھا کہ ’’خواجہ صاحب لکھ کر دے دیں کہ وہ جماعتِ اسلامی سے اتفاق نہیں رکھتے اور آئندہ اس کے پروگراموں میں شرکت نہیں کریں گے۔‘‘ بچوں نے بمشکل جب یہ مطالبہ ان کے سامنے رکھا تو انہوں نے اس نازک موقع پر عزیمت کی راہ اختیار کی اور صاف انکار کرتے ہوئے بولے: ’’لاؤ میری شیروانی اور ٹوپی۔‘‘ پھر فوراً تیار ہو کر انسپکٹر کے ساتھ چلے گئے۔
خواجہ اقبال ندویؒ غالباً تنہا ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے ابوالحسن علی ندویؒ اور سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ جیسے عبقری اساتذہ سے طویل عرصے تک باضابطہ تعلیم حاصل کی اور ان کے شاگرد رہے۔ یہ شرف ان کے علاوہ کسی دوسرے فرد کو شاید حاصل نہ ہو سکا۔ قومی اور ملکی سطح پر ان کی تحریکی سرگرمیوں اور خدمات کا سراغ زیادہ نہیں ملتا، مگر مقامی طور پر سلطان پور کی سطح پر ایک رہنما، مدرس، مفکر اور اسلامی حلقے کے ایک سرپرست کی حیثیت سے اپنی ناسازیٔ طبع کے باوجود تاحیات اپنی موجودگی درج کرواتے رہے۔ ’زندگی‘، رام پور، اور ’زندگی نو‘، دہلی میں شائع ہونے والے ان کے قسط وار مضامین کے سبب ہی عالمی سطح پر پہلی بار ان کی شخصیت متعارف ہوئی۔
متعلقین کے تاثرات
خواجہ صاحب کی بیٹی محترمہ ثمینہ خواجہ (مقیم لکھنؤ) نے فون پر گفتگو کے دوران مجھے بتایا:
’’ابو ہم لوگوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے بہت فکر مند رہا کرتے تھے۔ انہیں مغرب کے بعد گھر سے باہر نکلنا بالکل پسند نہیں تھا، بھائیوں کو بھی اس کی تاکید کرتے تھے۔ وہ اپنی بہنوں اور دوسرے رشتہ داروں کے حقوق کے بارے میں بہت محتاط تھے۔ ایک غیر مسلم یتیم بچے کی ہمارے گھر پرورش ہوئی تھی، اس نے باضابطہ اسلام قبول کر لیا تھا۔ ابو نے اس کی دینی تعلیم کا انتظام کیا، حتیٰ کہ اس نے حفظ بھی کر لیا تھا۔ دینی کتابوں کے علاوہ ’دعوت‘ اخبار کا مطالعہ بہت پابندی سے کرتے تھے۔ ان کے مطب میں مریضوں سے زیادہ علم دوست احباب اور اہلِ علم و دانش کی محفل جمی رہتی۔ بہت سے لوگ اخبارات و رسائل وہیں آ کر پڑھتے تھے۔‘‘
فرزند خواجہ شعیب اقبال نے اپنے والد کا تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے بتایا:
’’وہ ایک عملی انسان تھے، ٹو دی پوائنٹ (مختصر اور دوٹوک انداز میں) بات کرتے تھے۔ مولانا مودودیؒ سے بے پناہ عقیدت تھی، لاہور اور پٹھان کوٹ میں گزارے ایام کو ہمیشہ یاد کرتے رہے۔ لکھنؤ میں جماعتِ اسلامی کے ذمہ دار مولانا عبدالغفار ندوی ان کے ہم عمر ساتھی تھے، لکھنؤ جاتے تو ان سے ضرور ملاقات کرتے۔ مولانا ابوالحسن علی ندویؒ ابو کے استاد تھے، مگر ان سے بہت محبت کرتے تھے۔ ہمیشہ ان کی خیریت دریافت کرتے رہتے، اور ابو لکھنؤ جاتے تو مولانا انہیں تحفہ ضرور دیتے تھے۔ ڈاکٹر عبدالباری شبنم سبحانی سے بھی بڑی قربت تھی، وہ اکثر ابو کے پاس آیا کرتے تھے۔ عامر عثمانی سے بڑے اچھے مراسم رہے، ان کی ’تجلی‘ کا ہمارے گھر میں بڑا انتظار رہتا تھا۔ ابو ہم لوگوں کو کبھی پوسٹ مین کے پاس اور کبھی اس کے لیے ڈاک خانے بھیجتے۔ مولانا عبدالمہاجد دریابادی سے خط و کتابت رہتی تھی۔ ان کے اخبار کے مستقل قاری تھے۔‘‘
سلطان پور میں جماعتِ اسلامی کے مقامی امیر ڈاکٹر کمال الدین خاں کہتے ہیں:
’’خواجہ صاحب کا مطب شہر میں تحریک کا مرکز تھا۔ اہلِ علم کی وہاں روزانہ بیٹھک ہوتی تھی، ہر قسم کے امور و مسائل وہاں زیرِ بحث آتے۔ تقریر اور درس وغیرہ کا ملکہ تو ان کے اندر نہیں تھا، مگر ان کے مشورے بہت ٹھوس اور مستحکم ہوتے تھے۔ جماعت کے لوگوں کی سرپرستی کرتے اور سبھی لوگوں سے مستقل ربط و ضبط رکھتے تھے۔ لوگوں کو، اور بطورِ خاص علماء کو، تحریک کا لٹریچر مطالعے کے لیے دینا ان کا معمول تھا۔ علومِ قرآنی سے خاص شغف تھا، قرآن کی تفسیر ہمیشہ ان کے مطالعے میں رہتی تھی۔ درس اور مطالعۂ قرآن کی نشستوں میں پابندی سے شریک ہوتے تھے۔ اردو، فارسی، عربی اور انگریزی زبانوں پر انہیں عبور حاصل تھا۔
خواجہ اقبال ندویؒ عوامی زندگی میں ایک حکیم اور نبّاض کی حیثیت سے معروف تھے۔ مریضوں کے لیے دوائیں خود تیار کرتے تھے۔ جگر (Liver) سے متعلق بیماریوں کا شافی و کافی علاج کرتے۔ بواسیر اور جگر کی بیماریوں کے علاج کے لیے ان کے پاس ایک مجرب اور کارگر نسخہ تھا، جس کے ذریعے بیشتر مریضوں کو افاقہ ہوتا تھا۔ یونانی طریقہ علاج میں تحقیق کرتے رہتے اور دیگر مقامات کے بڑے حکماء سے رابطے میں رہتے تھے۔‘‘
دارالمصنفین، اعظم گڑھ اور مدرسۃ الاصلاح سے خصوصی تعلق تھا۔ آمد و رفت کے علاوہ وہاں سے کتابیں منگوایا کرتے تھے۔ عامر عثمانی اور ان کے رسالے ’تجلی‘ کے بڑے دلدادہ تھے۔ سلطان پور شہر میں چوک کے نزدیک میجر گنج میں ان کا مطب تھا جہاں مریضوں کے لیے جڑی بوٹیاں کوٹ پیس کر دوائیں تیار کرتے تھے۔ خواجہ صاحب کو اللہ نے تین بیٹوں اور بیٹیوں سے نوازا تھا۔ اہلیہ نے 13 اکتوبر 1989ء کو وفات پائی۔ بچوں میں اس وقت ماشاء اللہ خواجہ زبیر اقبال (مقیم بھوپال) خواجہ شعیب اقبال (مقیم ممبئی) اور بیٹی ثمینہ خواجہ (مقیم لکھنؤ) موجود ہیں۔
عمر کے آخری پڑاؤ میں جب خواجہ صاحب کے اعضا و جوارح کمزور ہو گئے تو اپنی بڑی بیٹی کے پاس رائے بریلی منتقل ہو گئے تھے۔ پی جی آئی، لکھنؤ میں علاج جاری تھا مگر 9 اپریل 2007ء کو رائے بریلی ہی میں اللہ کو پیارے ہوئے۔ تدفین کے لیے سلطان پور لے جایا گیا اور وہیں عیدگاہ قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
سب کہاں، کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
nomanbadaralig@gmail.com
حکیم خواجہ اقبال ندویؒ: تاریخِ جماعت کا ایک چشم دید کردار

مولانا علی میاںؒ اور مولانا مودودیؒ کی صحبت و شاگردی سے سلطان پور تک

