جنتر منتر پر مظاہرین کو کھانا کھلانے والے جنید کو یو پی پولیس کی ہراسانی کا سامنا
رام مندر چڑھاوا چوری کا معاملہ پیچھے رہ گیا، مقامی سادھو سنتوں کو ٹرسٹ کی ذیلی کمیٹی میں ملی مزید نمائندگی
مسلمانوں کے مسائل پر مشترکہ لائحہ عمل کی تیاری، دلی میں مسلم قیادت کا اہم اجلاس
اوقاف کے تحفظ پر جمیعت علماء ہند کا دلی میں اجلاس، متولیوں کا امید پورٹل سے اظہارِ نا امیدی
قومی دارالحکومت دلی میں کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاجی دھرنا ختم ہو گیا ہے۔ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد سی جے پی نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ نیٹ امتحانات پرچہ لیک ہونے کے خلاف شروع ہوا احتجاج بہت تیزی سے جین۔زی کی تحریک میں بدل گیا۔ احتجاج کو پورے ملک میں پھیلتا ہوا دیکھ حکومت کو احتجاجی مظاہرین کے تینوں مطالبات تسلیم کرنے پڑے۔ کسان تحریک کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب مرکزی حکومت کو عوامی مطالبات کے سامنے جھکنا پڑا۔ اپوزیشن جماعتوں نے طلبا کی جیت پر خوشی واطمینان کا اظہار کیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلبا کے ساتھ مار پیٹ اور بربریت کے لیے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ انہوں نے خاطی سیکورٹی فورسز کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کا پہلا ہفتہ ہنگامے کی نذر ہو گیا۔ اجلاس کی بقیہ مدت میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مزید ٹکراؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے قریب دھرنا دے کر حکومت پر دباؤ ڈالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ حکومت کو جنتر منتر پر بیٹھے کاکروچ جنتا پارٹی کی احتجاجی مظاہرین کی شرائط ماننی پڑیں۔ ماحولیاتی و سماجی کارکن سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال تو 26ویں دن ہی ختم ہو گئی لیکن دھرنا ختم ہونے میں 36 دن لگ گئے۔ سونم وانگچک کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے انہیں پارلیمنٹ میں بحث کروانے کے ساتھ ساتھ امتحانات کی گڑبڑیوں کو دور کرنے کی تحریری ضمانت دی ہے تاہم احتجاجی طلبا وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر اڑے رہے اور اپوزیشن جماعتیں بھی طلبا کے مطالبات کی حمایت کرتی رہیں۔ جنتر منتر کے علاوہ ملک کے دیگر مقامات پر بھی جین-زی کی احتجاجی مظاہرے ہوئے جس میں سول سوسائٹی کے ساتھ وکیل اور کسان بڑی تعداد میں شامل رہے۔ سب سے پہلے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دیا اس کے بعد جے پی نڈا اور جتندر سنگھ کی موجودگی میں سی جے پی کے لیڈروں نے پریس کانفرنس میں احتجاجی طلبا سے تمام کیس واپس لینے اور معاوضہ دینے کی شرط پر دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
احتجاجی تحریک اور حکومت کے اندازے
کاکروچ جنتا پارٹی کے کارکنوں نے جب جنتر منتر پر احتجاجی دھرنا شروع کیا تو شاید حکومت کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ احتجاج ملک گیر تحریک میں بدل جائے گا۔ سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال ختم کرنے کے بعد بھی احتجاجی طلبا دھرنا ختم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئے، مرکزی حکومت کے نمائندوں نے سی جے پی کارکنوں سے تین دور کی بات چیت بھی کی لیکن بات چیت کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی۔ وزیر اعظم نے پرچہ لیک سے ناراض طلبا کو منانے کے لیے کئی اقدامات کرنے کا اعلان کیا۔ این ٹی اے کے 47 آفیسروں کو برخاست کر دیا گیا، پیپر لیک ترمیمی بل کو کابینہ سے منظوری مل گئی جس میں جرمانوں کے ساتھ ساتھ سخت سزا کا اہتمام کیا گیا ہے۔ پیپر لیک سے متعلق کیسوں کو فاسٹ ٹریک عدالتوں میں چلانے کا بھی اعلان ہوا، نیٹ پرچہ لیک سے مایوس ہو کر خود کشی کرنے والے طلبا کے وارثوں کو معاوضہ دینے پر بھی بات ہوئی ہے۔
کانگریس نے وزیر تعلیم کے استعفیٰ کے بغیر سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال ختم کرنے پر سوالات اٹھائے تھے۔ کانگریس لیڈر عمران مسعود نے سونم وانگچک کو نشانہ بناتے ہوئے کہا "سونم وانگچک انا ہزارے پارٹ-ٹو ہیں۔ پچھلے بارہ سالوں سے ہزارے ملک کے اہم مسائل پر پوری طرح سی مون ہیں۔ اب ٹھیک اسی طرح سونم وانگچک بھی حکومت سے سمجھوتہ کر کے خاموش بیٹھ جائیں گے‘‘ ادھر اپوزیشن کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنے کے بعد سونم وانگچک نے وضاحت پیش کی اور کہ ان کے سوچنے کا انداز تھوڑا مختلف ہے۔
راہل گاندھی نے احتجاج کو دبانے کے لیے پیلٹ گنوں کے استعمال پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ 20؍ جولائی کے احتجاجی مظاہرے میں جس بے رحمی اور بربریت سے مظاہرین کو پیٹا گیا اس کی چو طرفہ مذمت ہو رہی ہے۔ درجنوں نوجوانوں کو زخمی ہونے کے بعد ہسپتال میں علاج کرانا پڑا۔ چار نوجوانوں کو پیلٹ گن سے نشانہ بنانے کی بات سامنے آئی ہے، ان میں سے ایک ارشاد احمد نام کے طالب علم کے چہرے پر کئی زخم ہیں۔ اس کی آنکھ میں بھی چوٹ لگی ہے۔ راہل گاندھی نے ساحل نام کے طالب علم کو اس کانفرنس میں پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسے پیلٹ گن سے نشانہ بنایا گیا ہے جس سے اس کی آنکھ کی بینائی جا سکتی ہے۔ دلی پولیس نے پیلٹ گن کے استعمال سے انکار کیا ہے جب کہ اے آر ایف اس معاملے کی اندرونی جانچ کروا رہی ہے۔ واضح رہے کہ پیلٹ گن کا سب سے پہلے جموں و کشمیر میں استعمال کیا گیا تھا جس کی وجہ سے کئی احتجاجی مظاہرین زخمی اور معذور ہو گئے تھے۔ اس واقعے پر حقوق انسانی کی تنظیموں نے سوالات اٹھائے تھے۔
دلی میں پہلی بار پیلٹ گن کے استعمال کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ اگر یہ بات سچ ثابت ہوئی تو مرکزی حکومت کو مزید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلبا پر بربریت کرنے کے حوالے سے سیکیورٹی فورسز کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو اس کے لیے ذمہ دار ٹھیرایا ہے اور مرکزی حکومت سے بھی معافی کا مطالبہ کیا ہے۔
محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کی مہم
رام پور میں واقع مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو آر ڈی اے کی انہدامی کارروائی سے بچانے کی مہم تیز ہو گئی ہے۔ یونیورسٹی کے طلبہ گیٹ پر دھرنا دے رہے ہیں۔ سیاسی اور سماجی تنظیمیں یونیورسٹی کو بچانے کے لیے طلبا کے دھرنے کی حمایت کر رہی ہیں۔
گزشتہ ہفتہ جماعت اسلامی ہند کے وفد نے نائب امیر ملک معتصم خان کی قیادت میں یونیورسٹی انتظامیہ سے ملاقات کے بعد اپنی حمایت کی پیش کش کی۔ وفد نے ضلع انتظامیہ کو میمورنڈم پیش کیا۔
آل انڈیا ائیڈیل ٹیچرس اسوسی ایشن "آیئٹا" کے وفد نے بھی دھرنے میں شرکت کی تھی۔ آیئٹا کے قومی سکریٹری شکیل احمد کی قیادت میں ریاستی یونٹ کے عہدیداروں نے سٹی مجسٹریٹ کے ذریعے یو پی کے گورنر کو میمورنڈم بھیجا جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ جوہر یونیورسٹی ایک اقلیتی تعلیمی ادارہ ہے جہاں مختلف مذاہب اور طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبا زیر تعلیم ہیں، اس لیے ادارے کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور آر ڈی اے کی انہدامی کارروائی پر فوری روک لگائی جائے۔ الٰہ آباد یونیورسٹی کے طلبا لیڈر نے جنتر منتر کے دھرنے میں جوہر یونیورسٹی کا بھی مسئلہ اٹھایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جوہر یونیورسٹی کو صرف اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ اسے اعظم خان نے بنوایا ہے۔ انہوں نے نالندہ یونیورسٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ یو پی کے وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم تعلیمی ادارے برباد کرنے والے حملہ آوروں کی پیروی کرنا چھوڑ دیں۔
اوقاف کو بچانے کی مہم
مسلم اوقاف کو بچانے کے لیے جمیعت علماء ہند نے دلی میں متولیان کانفرنس کا اہتمام کیا۔ اس میں اوقافی زمینوں کے متولیوں سے اپیل کی گئی کہ وہ اوقافی جائیدادوں کو اپنی ذاتی ملکیت نہ سمجھیں بلکہ اللہ کی امانت سمجھیں۔ جمیعت کے صدر سید محمود اسعد مدنی نے تولیت میں موروثی نظام نافذ کرنے کو کئی خرابیوں کی جڑ قرار دیا۔ انہوں نے ٹرسٹوں کی ملکیت کو بھی اوقاف کے درجے میں رکھنے کی وکالت کی۔ مولانا مدنی نے مرکزی حکومت کے امید پورٹل سے نا امیدی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ابھی بھی بہت سے اوقاف پورٹل پر رجسٹر نہیں ہو سکے ہیں۔ ناقص نظام کی وجہ سے بہت سی اوقافی جائیدادوں کو خطرہ ہے، ان کے تحفظ کے لیے بروقت اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ اوقاف کا تحفظ ایک بڑا مسئلہ ہے، کئی مسلم تنظیمیں ان کی حفاظت کے لیے سرگرم ہیں، بہت سی اوقافی جائیدادیں کرائے داروں کے قبضے میں ہیں۔ حکومت انہیں آزاد کرنے کے بجائے ان کی جائیدادوں پر نظریں گاڑے بیٹھی ہے۔ کچھ اوقافی جائیدادوں کو سرکاری زمین بتا کر تحویل میں لیا جا چکا ہے۔ وقف ٹریبونل اور عدالتوں میں بہت سے معاملے زیر التوا ہیں۔ اگر ان اوقافی جائیدادوں کے انتظامات کو درست کر دیا جائے تو مسلمان بہت سے معاملوں میں خود کفیل ہو سکتے ہیں۔ اصلاح کے نام پر قبضے کی کوشش قابل مذمت ہے۔
رام مندر چڑھاوا چوری کا مسئلہ پیچھے چلا گیا
جین زی کی احتجاجی تحریک نے رام مندر میں چڑھاوا چوری کے واقعات کو پس پشت ڈال دیا ہے
یو پی حکومت نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر نئی ایس آئی ٹی بنا دی ہے۔ رام مندر ٹرسٹ میں خالی عہدوں کو بھرنے کے فیصلے کو دو ستمبر تک ٹال دیا گیا ہے۔ مقامی سادھو سنتوں کی ناراضگی دور کرنے کے لیے ٹرسٹ کے ماتحت مذہبی امور کی ذیلی کمیٹی بنائی گئی جس میں مقامی سادھو سنتوں کو مزید نمائندگی دی گئی ہے۔ اپوزیشن پہلے ہی الزام لگا چکی ہے کہ حکومت ایس آئی ڈی جانچ کی آڑ میں صرف لیپا پوتی کا کام کر رہی ہے۔ اصل سوال ابھی بھی برقرار ہے کہ چندہ چوروں پر کیا کارروائی ہوئی؟ کیا ذمہ داروں کو صرف عہدوں سے ہٹا دینا ہی کافی ہے یا ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی ہو گی؟ ریاستی حکومت کو سپریم کورٹ میں ان سوالوں کے جوابات دینا ہوگا۔
مسلمانوں کے مسائل پر اجلاس
مسلم قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش میں راجیہ سبھا کے سابق رکن محمد ادیب نے مسلمانوں کو در پیش مسائل پر غور کرنے کے لیے دلی کے کانسٹیٹیوشن کلب میں نمائندہ اجلاس منعقد کیا ہے۔ اجلاس میں ملت اسلامیہ کو درپیش چیلنجز اور مسائل پر مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنے کے لیے 51 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو مختلف شعبوں میں عملی اقدامات اور عوامی رابطے کے کام دیکھے گی۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ آئندہ تین ماہ بعد ایک اور نمائندہ اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں پیش رفت کا جائزہ لینے اور آئندہ کا لائحہ عمل تیار کرنے پر غور کیا جائے گا۔ اسلامک کلچرل سنٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں اس کا اعلان کیا گیا۔ اس میں جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان سمیت کئی سیاسی جماعتوں و مسلم تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ میٹنگ میں سیاسی جماعتوں کے اہم رہنماؤں کے علاوہ ملی وسماجی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ تاہم، میٹنگ میں جمیعت علماء ہند کے دونوں دھڑوں کے ساتھ ایم ائی ایم کے صد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے شرکت نہیں کی۔ میٹنگ کے باہر موجود صحافیوں نے تشویش ظاہر کی کہ ایسے وقت میں جب کہ ملک کے مختلف حصوں میں مسلم شناخت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، ماب لنچنگ کے بعد مذہبی اور تعلیمی مراکز بھی نشانے پر ہیں اس کے باوجود مسلم قیادت کا دعویٰ کرنے والے رہنما ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کے لیے تیار کیوں نہیں ہیں؟
تو صاحبو! یہ تھا شمال کا حال، آئندہ ہفتے پھر ملیں گے کچھ تازہ اور دل چسپ احوال کے ساتھ، تب تک کے لیے اللہ اللہ خیر سلا۔