بھارتیہ جنتا پارٹی پچھلے بارہ سال سے اپنی کارکردگی کے سبب نہیں بلکہ تگڑم بازی کی وجہ سے اقتدار میں ہے۔ سماج میں ہر محاذ پر ناکام ہونے والے نریندر مودی نے اپنی جملہ بازی سے پہلے دو انتخابات جیتے اور پھر تیسری بار ناکام ہوئے تو جوڑ توڑ کی مخلوط حکومت بنالی۔ اس کے بعد سرکاری اداروں خصوصاً الیکشن کمیشن کے بے جا استعمال سے ریاستی الیکشن لوٹ رہے ہیں۔ بی جے پی رام مندر کے چندہ چوری سے پہلے ووٹ اور بالآخر مخالفین کے ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی کو خریدنا شروع کر دیا تاکہ کسی طرح دو تہائی اکثریت حاصل کر کے شتر بے مہار کی طرح آئین میں من مانی تبدیلیاں کرے اور اقتدار پر ہمیشہ کے لیے قابض رہ سکے۔ مغربی بنگال میں جبر و استبداد کا ننگا ناچ جاری ہی تھا کہ اچانک کاکروچ نکل آئے اور فرعون وقت کی حالت نمرودِ ماضی کی طرح ہوگئی۔ سنا ہے کہ حضرتِ ابراہیمؑ کو آگ میں پھینکے والے نمرود کے دماغ میں ایک لنگڑا مچھر گھس گیا تھا جو اسے ہر دوسرے تیسرے دن شدید قسم کی خارش سے دو چار کر دیتا۔ مودی سرکار پر مسلط ہونے والے کاکروچوں نے بھی یہی کیا۔ نمرود کو جیسے ہی خارش ہوتی اس کے مقرر کردہ غلام کو سر میں تڑا تڑ جوتے رسید کرنے کا حکم تھا جس سے اسے سکون آ جاتا۔ جنتر منتر تحریک کے دوران مودی سرکار بھی ہر دوسرے تیسرے دن اپنی رسوائی کا نیا سامان کرتی یہاں تک کہ دھرمیندر پردھان استعفیٰ دے کر ذلیل ہوگئے۔ بقول غالب:
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے تھے لیکن
بڑے بے آبرو ہوکر ترے کوچے سے ہم نکلے
کاکروچ جنتا پارٹی کی سب سے بڑی کامیابی نوجوانوں کے اس معنیٰ خیز نعرے میں چھپی ہوئی ہے کہ ’جب جب مودی ڈرتا ہے، ہندو مسلم کرتا ہے‘۔ نئی نسل یعنی جین-زی نے جب ہندو مسلم کی لڑائی کو ختم کیا تو وہ ’ہندو ہندو‘ ٹکراو میں بدل گئی۔ اس معاملے کو ستیم پانڈے کی مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔ غازی آباد کے رہائشی اس ہندوتوا نواز پنڈت کی فیس بک پروفائل پر وہ خود کو 'ہندو ویر سینا' کا صدر ظاہر کرتا ہے۔ وہ بی جے پی کی حمایت میں کاکروچ جنتا پارٹی کے خلاف دھرم یدھ چھیڑ کر ہندو طلبا سے الجھ گیا جبکہ اگست 2024 میں اسے بنگلہ دیشی اور روہنگیا برادریوں کو ہدف بنا کر اشتعال انگیز تقاریر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ امسال فروری میں منگل کے روز گوشت کی دکانیں زبردستی بند کروانے کی کوشش کے دوران قصائی برادی پر حملہ کرنے کی پاداش میں غازی آباد پولیس نے اس کے خلاف کارروائی کی تھی۔ ستیم کی ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ اس نے بریلی کے دو ہندو نوجوانوں کے ساتھ گالی گلوچ کرنے والے ویڈیو بنا کر خود شیئر کر دیے تاکہ کسی کو الزام لگا کر ثبوت پیش کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ اس طرح وہ خود اقراری مجرم بن گیا اور اب یوگی سے (معمولی ترمیم کے ساتھ ) قمر جلالوی کا یہ شعر سناکر فریاد کر رہا ہوگا؎
میں مجرم ہوں، مجھے اقرار ہے جرمِ سیاست کا
مگر ویڈیو پہ پہلے غور کر لو پھر سزا دینا
یہ واقعہ 23؍ جولائی کا ہے۔ بریلی کے رہائشی بی ایس سی کے طالب علم آیوش رنجن اور اس کے دوست راہل کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ دونوں دہلی میں سی جے پی کے مظاہرے میں شامل ہونے کے لیے گئے تھے۔ آیوش کے مطابق جب وہ اپنے دوست کے ساتھ دہلی کے بنگلہ صاحب گرودوارے سے، جہاں وہ ٹھیرا ہوا تھا 25 جولائی کی صبح تقریباً پانچ بجے جنتر منتر کے لیے نکلا تو تقریباً 200 میٹر آگے ستیَم پنڈت نے اپنی گاڑی میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس کا راستہ روکا اور پوچھا کہ کیا تم CJP کے مظاہرے میں جا رہے ہو؟ جیسے ہی اس نے ہاں کہا، وہ بھڑک گیا اور راہل کو تھپڑ مارتے ہوئے گالی گلوچ کرنے لگا۔ اس کی گاڑی میں بیٹھا ہوا ایک نوجوان اس پوری واردات کی ویڈیو بناتا رہا۔ ستیم کیمرے پر راہل سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرنے لگا۔ آیوش نے بھاگ کر آس پاس کے لوگوں سے مدد مانگی تو ستیم وہاں سے رفو چکر ہو گیا۔آیوش اور راہل کو تو معلوم نہیں تھا کہ یہ بد تمیزی کرنے والا بدمعاش کون ہے؟ ستیم پنڈت کی شامت اعمال نے 25 جولائی کی شام کو اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر یہ شرم ناک ویڈیو کو پوسٹ کروادی۔ اس نے فخر سے لکھا تھا کہ "جنتر منتر جا کر کچھ کاکروچوں کا علاج کیا، جو کہتے ہیں وہ کر کے بھی دکھاتے ہیں"۔ سوال یہ ہے کہ کیا یوگی کی پشت پناہی کے بغیر ایسی مذموم اور بزدلانہ حرکت ممکن ہے؟
اس ویڈیو میں طالب علم اور ملزم نوجوان کے درمیان گفتگو نے پہلگام حملے کی یاد دلادی۔ وہاں بھی نام اور مذہب پوچھ کر حملہ کیا گیا تھا لیکن دو فرق ہیں۔ پہلگام میں سیاحوں کو تو جان سے مارا گیا مگر ان دہشت گردوں نے ایسی ویڈیو بنانکر پھیلانے کی جرأت نہیں کی جس میں ستیم پنڈت طلبا سے پوچھتا ہے "کیا تم سی جے پی کی حمایت کر رہے ہو؟" دونوں جواب میں ہاں کہتے ہیں تو وہ نام پوچھتا ہے۔ پہلا طالب علم اپنا نام آیوش بتاتا ہے۔ پھر وہ اس سے اس کا مذہب پوچھتا ہے۔ آیوش کے "ہندو" بتانے پر وہ پوچھتا ہے "پھر بھی اس پارٹی کی حمایت کیوں کر رہے ہو؟ وہاں ملک مخالف نعرے لگ رہے ہیں، شرم نہیں آتی؟" آیوش جواب نہیں میں دیتا ہے، اس کے بعد وہ ان کے ساتھ موجود دوسرے طالب علم کا نام اور رہائش کی جگہ پوچھتا ہے۔ دونوں بتاتے ہیں کہ وہ بریلی کے رہنے والے ہیں اور بنگلہ صاحب گردوارے میں ٹھیرے تھے۔ دوسرا طالب علم جب اپنا نام راہل بتاتا ہے تو ویڈیو میں وہ اسے گالی دے کر مظاہرے میں شامل ہونے کی وجہ پوچھتا ہے۔ اس کے بعد طلبا کو دھمکاتے ہوئے معافی مانگنے کے لیے کہتا ہے۔ دونوں طالب علم معافی مانگتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ راہل نامی طالب علم کو پکڑ کر مارنے لگتا ہے۔ اس دوران وہ اسے کئی تھپڑ مار دیتا ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس ویڈیو کے بعد بھی سرکاری داماد ستیم پانڈے آزاد گھوم رہا ہے مگر یوگی سرکار دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں کھانا کھلانے والے رضاکار محمد جنید کے اہل خانہ کو حراست میں لے لیتی ہے۔ یہ سب اسی غازی آباد میں ہوتا ہے جہاں ستیم پانڈے نے نام پوچھ کر ہندو طلبا کو زدو کوب کیا تھا۔ سی جے پی کے دھرنے میں کھانا اور پانی فراہم کرنے والے رضا کار محمد جنید نے الزام لگایا کہ اتر پردیش پولیس نے ان کے گھر پر چھاپہ مار کر والد اور نابالغ بھائی کو حراست میں لے لیا۔ ان ظالموں نے میرٹھ جاکر محمد جنید کی بہن کے سسر اور دیور کو بھی حراست میں لے لیا اور ان کی ذاتی دستاویزات ضبط کرلیں۔ اس طرح حزب اختلاف اور خاص طور پر سماجوادی پارٹی کو نوجوانوں کی گمراہی کا مجرم قرار دینے والے یوگی کا منہ اس وقت کالا ہوگیا جب مودی خود جھک گئے اور نوجوانوں کی تعریف کرتے ہوئے اپنے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ لے لیا۔ بالآخر اس تنازعہ کے بعد محمد جنید اور ان حراست شدہ اہل خانہ کو رہا کر دیے گئے اور اب وہ سب محفوظ ہیں۔ لیکن یوگی کی اس حماقت نے گم نام جنید کو مزاحمت کا ہیرو بنا دیا اور سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے محمد جنید کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ "ہم سے بڑےدیش بھکت جنید بھائی ہیں۔" یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ احتجاج میں مسلمان جنید اور دلت ابھیجیت ساتھ ساتھ تھے ۔
کاکروچ جنتا پارٹی نے جہاں غیر فسطائی عناصر میں کمال درجہ کی خود اعتمادی پیدا کی وہیں بی جے پی کو بھی اپنی غلطی کا احساس دلایا ہے۔ اس کا پہلا ثبوت تو دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ تھا مگر وہ تو دباو میں مجبوری کا ردعمل تھا۔ بی جے پی کے ذریعہ اب مسلمانوں کی جانب سے ایک بڑے مسلم آؤٹ ریچ (بلوے) خبر بھی ذرائع ابلاغ میں گردش کر رہی ہے۔ 'سلام کلام' نامی اس مہم کے تحت سابق صدرِ مملکت اے پی جے عبدالکلام کو یاد کیا جائے گا نیز، نوجوانوں پر خاص توجہ کی جائے گی۔سوشل میڈیاکے مطابق 27 جولائی سے سابق صدرِ جمہوریہ اور بھارت رتن ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی یاد میں ملک گیر "سلامِ کلام" مہم کا آغاز ہوگا۔ بی جے پی اقلیتی مورچہ کے قومی صدر جمال صدیقی کی قیادت میں ملک بھر کے ضلعی ہیڈکوارٹروں پر اتحاد مارچ، فکری نشستیں، میڈیکل کیمپ، دعائیہ و خراجِ عقیدت کی تقریبات اور دیگر پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ ان میں بڑی تعداد میں عوام کی شرکت متوقع ہے۔ بی جے پی کے مطابق اس مہم کا بنیادی مقصد نوجوانوں اور جنریشن زی کو ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی سائنسی سوچ، قومی خدمت کے جذبے اور وزیر اعظم نریندر مودی کے "وکست بھارت" (ترقی یافتہ بھارت) کے وژن سے جوڑنا ہے۔ اس موقع پر ملک بھر کی متعدد معروف شخصیات بھی مختلف تقریبات میں شرکت کر کے "میزائل مین" ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کو خراجِ عقیدت پیش کریں گی۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ یہ مہم ڈاکٹر عبدالکلام کی شخصیت، ان کی خدمات اور نوجوان نسل کے لیے ان کے پیغام کو عام کرنے کی ایک کوشش ہے۔
یہ حسنِ اتفاق ہے کہ اے پی جے عبدالکلام ہندوستان کے ایک ایسے مقبول صدر تھے جنہیں بی جے پی سمیت تمام جماعتوں کی مدد سے ملک کا گیارہواں صدر بنایا گیا۔ بی جے پی کی قیادت والے اتحاد (این ڈی اے) نے جب 2002 میں ان کے نام کی تجویز پیش کی تو کانگریس سمیت دیگر جماعتوں نے ان کی حمایت کی تھی۔ ڈاکٹر کلام کسی سیاسی جماعت سے نہیں تھے بلک وہ ایک نامور سائنس داں تھے جو آگے چل کر عوامی صدر کہلائے۔ تمل ناڈو میں بی جے پی کے سابق ریاستی صدر انا ملائی نے جب استعفیٰ دے کر الگ پارٹی بنائی تو اس کے لیے نمونے کے طور پر عبدالکلام ہی کو پیش کیا تھا۔ اب بی جے پی اقلیتی سیل ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس مہم نے یاد دلایا کہ بی جے پی کا ایک اقلیتی مورچہ بھی ہے اس کے باوجود ابھی حال میں بی جے پی کے واحد عیسائی وزیر جارج کورین اور ان کے ساتھ ایک سکھ وزیر رنویت سنگھ بٹو کا استعفیٰ لے لیا گیا۔ اس سے یہ اشارہ ملا کہ بی جے پی کے عدم برداشت کا دائرہ وسیع تر ہوگیا ہے اور اسے مسلمانوں و عیسائیوں کے ساتھ سکھوں سے بھی پرخاش ہے۔
اس تناظر میں ’سلامِ کلام‘ مہم ایک خوش گوار تبدیلی ہے۔
بی جے پی، اقلیتی رہنماوں کو کس طرح استعمال کرکے پھینک دیتی ہے اس کی زندہ مثال مذکورہ بالا وزراء ہیں۔ سابق اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مملکت جارج کورین بی جے پی قیام سے ہی پارٹی سے جڑے رہے۔ پچھلی مرتبہ ان کو مدھیہ پردیش سے بلا مقابلہ کامیاب کرکے ایوان بالا کا رکن بنایا گیا اور اقلیتی امور کے علاوہ ماہی پروری، حیوانات اور ڈیری کی وزارت کا اضافی چارج بھی دیا گیا لیکن اب انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا کیونکہ ایوانِ بالا میں ان کی مدت کار کے ختم ہونے پر پارٹی نے دوبارہ نامزد ہی نہیں کیا۔ موصوف مودی کابینہ میں واحد عیسائی چہرہ اور اقلیتی برادری کے نمایاں رہنما تھے۔ پچھلے ریاستی انتخاب میں کیرالا کے عیسائیوں کو رجھانے میں ناکامی کے بعد تنظیمی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کرنے کے بہانے ان کی چھٹی کردی گئی۔ اسی طرح رونیت سنگھ بٹو کا بھی راجستھان سے ٹکٹ کاٹ دیا گیا اس لیےا نہیں ریلوے وزیرِ مملکت کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔ بٹو کو پنجاب کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کے لیے فعال کردار ادا کرنے اور انتخابی مہم پر پوری توجہ دینے کے بہانے بھگا دیا گیا۔ ویسے رنویت سنگھ اسی سلوک کے مستحق تھے کیونکہ تین مرتبہ کانگریس کے ٹکٹ پر ایوان زیریں کا انتخاب جیتنے کے باوجود وہ 2024 کے انتخابات سے قبل بی جے پی میں شامل ہو کر لوک سبھا کا الیکشن ہار گئے۔ مگر چونکہ ان سے وزارت کا وعدہ کیا گیا تھا اس لیے راجیہ سبھا میں لا کر وزیر بنا دیا گیا مگر ’چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات‘ کی مصداق اب وہ جھنجھنا ان سے چھین لیا گیا ہے۔ وہ وزیر بھی نہیں رہے اور پارلیمنٹ کی رکنیت بھی گنوا بیٹھے۔
آئیے! کاکروچ پارٹی کی جانب لوٹیں اس نے بی جے پی کے پچھلے بارہ سالوں میں گھڑے جانے والے سارے بیانیوں کے غباروں کو ایک ایک کرکے پھو ڑدیا ہے۔ بھگوائیوں کا پہلا مقبولِ عام بیانیہ یہ تھا کہ آر ایس ایس نے سو سالوں تک بے حد محنت کرکے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان سیسہ پلائی ہوئی دیوار کھڑی کردی ہے۔ اس کے اندر سیندھ مارنا اب نا ممکن ہے۔ کاکروچ پارٹی نے ایک ماہ کے اندر اس دیوار کو گرا کر سنگھ کی سو سالہ محنت و مشقت پر پانی پھیر دیا۔ ایک اور بھرم یہ پھیلایا گیا تھا کہ ہندوستان کا پڑھا لکھا متوسط طبقہ اب پوری طرح سنگھ پریوار کے دامِ فریب میں آ چکا ہے۔ میڈیا کے ذریعہ اس کا ’برین واش‘ ہوچکا ہے اور وہ کبھی کبھی بی جے پی کے خلاف نہیں جائے گا۔ اس لیے ان کے ووٹ اور نوٹ کی مدد سے بی جے پی صدیوں تک ہندوستان پر حکومت کرے گی اور اس کا کوئی بال بیکا نہیں کر سکتا۔ موجودہ جنتر منتر کی تحریک میں ویسے تو سب لوگ شامل تھے مگر ان میں وہی خوشحال ہندو آگے آگے تھے جن کے بچے کوچنگ سنٹروں پر لاکھوں روپے خرچ کرکے مقابلہ جاتی اور نیٹ امتحانات میں شریک ہوتے ہیں۔ اس لیے بی جے پی نے اب کی بار اس شاخ کو زور و شور سے کاٹنے کی کوشش کی جس پر اس کا آشیانہ تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس طبقے کے اوپر سے ہندوتوا کا بخار اتر گیا اور بھگوائیوں کو برا بھلا کہنے لگا۔
ملک میں یہ جھوٹ بھی پھیلایا گیا تھا کہ مسلمان بی جے پی کو ووٹ نہیں دیتے، اور اسے اس کی ضرورت بھی نہیں ہے اس لیے ان پر مظالم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔ لیکن اس بار تو امیت شاہ، دہلی پولیس اور ان کے غنڈے بلا تفریق مذہب و ملت سبھی پر ٹوٹ پڑے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بی جے پی کے اندر اختلاف برداشت کرنے کا یا تنقید سننے کا مادہ پوری طرح سے ختم ہو چکا ہے۔ بی جے پی کو ان تمام لوگوں سے دشمنی ہے جو اس کے اقتدار کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ ان کی راہوں کا روڑا اگر مسلمان ہیں تو ان کو مظالم کا شکار کرنے کے لیے پاکستان نواز یا بنگلہ دیشی درانداز کہا جائے گا۔ بی جے پی جب اشتراکیوں یا دلتوں سے پریشان ہوگی تو ان کو اربن نکسل کے نام سے بدنام کر کے ان کا جینا دوبھر کردے گی لیکن اگر سناتن دھرم کے ماننے والا تعلیم یافتہ ہندو بھی اس کے خلاف بولے گا تو اس پر بھی چڑھائی ہو جائے گی۔ اس تحریک نے واضح کر دیا ہے کہ میڈیا کے ذریعہ پھیلائے جانے والے اس غبارے کی ہوا نکالنے کے لیے نوجوانوں کی ایک انگلی کا اشارہ کافی ہے۔ کاکروچ کا مذاق اڑانے والے وزیر اعظم کا ٹویٹ بے کار گیا تو نصف شب میں ریل بنا کر مودی، بھائیو اور بہنو کے بجائے فرینڈز کہہ کر مخاطب کر رہے ہیں۔ ایک دھرمیندر پردھان کو بچانے کے لیے ملک و قوم کو ڈرایا دھمکایا گیا مگر بالآخر اس بزدل سرکار نے اپنی ساکھ کو داؤ پر لگانے کے بعد ذلیل ہو کر اسے ہٹا دیا۔ ملک کی نئی نسل نے ثابت کر دیا کہ؎
آج بھی میرے خیالوں کی تپش زندہ ہے
میرے گفتار کی دیرینہ روش زندہ ہے
آج بھی ظلم کے ناپاک رواجوں کے خلاف
میرے سینے میں بغاوت کی خلش زندہ ہے
(ڈاکٹر سلیم خان نیوکلیر کیمسٹری میں پی ایچ ڈی ہیں جن کی تحریریں ملک و بیرونِ ملک بڑے پیمانے پر پڑھی جاتی ہیں۔)
***
جنتر منتر: جب انقلاب کے لہجے میں بے زباں بولا

ہندو-مسلم خلیج اور متوسط طبقے کی وفا داری: سنگھ پریوار کے دو بڑے سیاسی مفروضے زمین بوس

