جین زی کی تحریک کا پہلا مرحلہ مکمل، اب تعلیمی نظام میں اصلاح کی باری
نوجوانوں نے’گودی میڈیا‘ کو آئینہ دکھایا اور اپنا بیانیہ خود لکھا
ہندو-مسلم سے ہٹ کرتعلیم و روزگار کا نیا بیانیہ۔ نفرت نہیں،مستقبل چاہیے، نئی نسل کا اعلان
وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے ساتھ ہی گزشتہ دو ہفتوں سے زائد عرصے سے دہلی میں جاری طلبا اور نوجوانوں کا احتجاج ختم ہو چکا ہے اور ملک بھر سے آئے ہوئے نوجوان اپنے اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔ اس دھرنے نے اپنے پیچھے کئی ایسے سوالات چھوڑے ہیں جن سے اس ملک کا مستقبل وابستہ ہے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا محض استعفیٰ ہی اس تحریک کا بنیادی مقصد تھا یا پھر تعلیمی نظام میں حقیقی اصلاح؟ پیپر لیک کی بنیادی ذمہ داری طے کرنے کے لیے دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ ضروری تھا، مگر یہ مسئلے کا حتمی حل ہرگز نہیں ہے۔ ہم اس سوال پر آگے تفصیلی بات کریں گے لیکن دو ہفتوں سے زائد عرصے تک چلنے والے اس احتجاج کا سب سے خوش آئند پہلو نوجوانوں کا ’’ہندو مسلم نفرت انگیز بیانیے‘‘ کو کھل کر رد کرنا تھا۔ دھرنے کے دوران گونجنے والا یہ اعلان کہ ’’ہندو مسلم کے نام پر نفرت کا کاروبار اب نہیں چلے گا‘‘ محض ایک نعرہ نہیں تھا، بلکہ نفرت انگیز ماحول میں ہوا کا ایک ایسا خوشگوار جھونکا تھا جس کی خنکی ایک عرصے تک محسوس کی جائے گی۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران حکم راں جماعت، میڈیا اور ہندوتوا تنظیموں نے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف تفریق اور زہر گھولنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ یہ دھرنا جن زی (Gen Z) یعنی اس نئی نسل کا تھا جس نے اسی زہریلے ماحول میں ہوش سنبھالا۔ جب وہ جوان ہو رہے تھے تو ان کے گھروں، آس پاس کے ماحول اور ٹی وی اسکرینوں پر چیختے ہوئے اینکروں نے ان کے ذہن و دماغ کو آلودہ کرنے کی پوری کوشش کی۔ اندیشہ یہ تھا کہ شاید ان نوجوانوں کے دل و دماغ سے یہ نفرت کبھی ختم نہیں ہوگی اور یہ نسل سماج کے لیے خطرناک ثابت ہوگی۔ مگر اے آئی (AI) کے اس دور میں ان نوجوانوں نے اس نفرت کے خلاف اعلانِ بغاوت کرتے ہوئے ایک ہی جھٹکے میں اس دیوار کو منہدم کر دیا۔ اقتدار کی خاطر نفرت کو ہوا دینے والوں نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا کہ انہوں نے اپنی سیاسی بقا کے لیے نفرت کی جو دیواریں کھڑی کی تھیں، وہ ریت کی ثابت ہوں گی۔ نئی نسل کا یہی وہ کمال ہے جو ایک عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔ یہ سیاست دانوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ تم بنیادی مسائل کو زیادہ دنوں تک نظر انداز کر کے اپنی سیاسی مقبولیت قائم نہیں رکھ سکتے۔
ایسا نہیں ہے کہ اس دھرنے کو نفرت کی سیاست کی بھینٹ چڑھانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ ماضی کی غلطیوں سے سبق لینے کے بجائے مین اسٹریم میڈیا اسی پرانی روش پر قائم رہا۔ گزشتہ ایک ہفتے کے ٹی وی مباحثوں (Debates) میں طلبا کے حقیقی مسائل، دھرنے کی بنیادی وجوہات یا پھر 20؍ جولائی کو پولیس کی بربریت کو دکھانے کے بجائے خود طلبا ہی کو مجرم بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ غیر منطقی طور پر اس دھرنے کے تار پاکستان، بنگلہ دیش، چین اور امریکہ سے جوڑ کر عوام کی توجہ اصل موضوع سے ہٹانے کا ڈراما رچایا گیا۔
نیوز روموں میں بیٹھے ہوئے ٹی وی اینکروں کے اس غیر ذمہ دارانہ رویے کا خمیازہ زمینی سطح پر فیلڈ رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو بھگتنا پڑا۔ مین اسٹریم میڈیا کے اس رویے کے خلاف نئی نسل کے نوجوانوں نے اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی، یہاں تک کہ بعض جگہوں پر بد سلوکی اور دھکم پیلی تک کی نوبت آ گئی۔
ظاہر ہے کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں تشدد یا بد سلوکی کی کوئی گنجائش نہیں ہو سکتی۔ سوال یہ ہے کہ جو نئی نسل اب ٹی وی چینلز دیکھتی ہی نہیں اور خبروں کے لیے سوشل میڈیا کا رخ کرتی ہے وہ آخر ٹی وی چینلوں سے اس قدر نالاں کیوں ہے؟ میڈیا اہلکاروں سے عوام کا اعتماد کیوں ختم ہوتا جا رہا ہے؟ اور عوام کا ترجمان بننے کے بجائے میڈیا اقتدار کا پاسبان اور سرکار کا ترجمان کیوں بن گیا ہے؟
یہ وہ لمحہ ہے جب میڈیا اہلکاروں کو کسی اور پر ملبہ ڈالنے کے بجائے خود اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ کیا وہ واقعی عوام سے عزت اور احترام پانے کے مستحق ہیں؟ کیا جن نوجوانوں پر روزانہ ’’دہشت گرد‘‘اور ’’غیر ملکی ہاتھوں کا آلہ کار‘‘ ہونے کے الزامات عائد کیے جائیں ان سے عزت و احترام کی امید رکھی جا سکتی ہے؟ یقیناً نہیں!
پیپر لیک کا معاملہ سامنے آنے کے بعد سے ہی ملک کے نوجوان مسلسل سراپا احتجاج ہیں۔ یوتھ کانگریس سمیت مختلف تنظیموں کے کارکنوں نے ملک بھر میں مظاہرے کیے اور پولیس کی لاٹھیاں کھائیں لیکن مین اسٹریم میڈیا نے اس پورے عمل کو سرے سے غائب کر دیا۔ آخری چند دنوں کو چھوڑ کر مین اسٹریم میڈیا سے یہ خبر یا تو بالکل غائب رہی یا پھر اسے منفی اور پروپیگنڈے کے طور پر ہی پیش کیا گیا۔
اس تمام تر بائیکاٹ اور منفی پروپیگنڈے کے باوجود اگر یہ احتجاج کامیاب ہوا اور ملک بھر کے نوجوان اتنی بڑی تعداد میں سڑکوں پر اترے تو اس کے پیچھے ’’متبادل میڈیا‘‘ (Alternative Media) کا انتہائی اہم کردار رہا ہے۔
ماضی میں ’’انا ہزارے تحریک‘‘ کو میڈیا کی مکمل سر پرستی حاصل تھی اور 24 گھنٹے اس کی کوریج کر کے انہیں نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ اس کے برعکس طلبا کی یہ حالیہ تحریک مین اسٹریم میڈیا کی حمایت کے بغیر ہی کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ یہ اس بات کا واضح پیغام ہے کہ اب اس ملک کی نئی نسل مین اسٹریم میڈیا کی محتاج نہیں رہی۔
مین اسٹریم میڈیا انہیں جگہ دے یا نہ دے، ذرائع ابلاغ کے متبادل ذرائع کے اس دور میں اب اس کی اجارہ داری ختم ہو چکی ہے۔ اب یہ خود مین اسٹریم میڈیا کو طے کرنا ہے کہ سوشل میڈیا کے اس جدید دور میں وہ اپنی باقی ماندہ بقا اور اہمیت کو کس طرح قائم رکھ پاتا ہے۔
گزشتہ ایک دہائی میں جن شعبوں کو مکمل طور پر کنٹرول کر کے ان کی روح سے محروم کیا گیا ان میں سے ایک بھارتی سنیما بھی ہے۔ رائے عامہ کو ہموار کرنے میں سنیما اور انٹرٹینمنٹ پلیٹ فارمز کا کردار ہمیشہ سے اہم رہا ہے۔ ہندوتوا نظریات کی حامل موجودہ حکومت نے پہلے دن سے ہی فلم انڈسٹری کو اپنے تابع کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اس نے نہ صرف فلمی مواد کو سنسر اور کنٹرول کیا بلکہ اختلافی آوازوں اور حکومت کی منشا کے برعکس کام کرنے کی آزادی بھی سلب کر لی۔ بالی ووڈ کے پاس بنیادی طور پر دو ہی راستے بچے تھے: یا تو وہ سرکار کی جی حضوری کرے یا پھر فلمی دنیا میں کام سے محروم ہو جائے۔
لیکن نوجوانوں اور طلبا کی اس حالیہ تحریک نے بالی ووڈ کو بھی اس دباؤ اور خوف کے ماحول سے باہر نکلنے اور برسوں کے جمود کو توڑنے کا ایک سنہری موقع فراہم کیا۔ اگرچہ روایتی سپر اسٹارز ماضی کی طرح اس بار بھی خاموش رہے اور سامنے نہیں آئے لیکن بالی ووڈ کے وہ نوجوان اداکار اور فن کار کھلم کھلا میدان میں اترے جو نئی نسل کے حقیقی نمائندے ہیں۔ انڈسٹری میں جگہ بنانے کے لیے جدوجہد کرنے والے ان نووارد (Newcomers) فن کاروں نے اپنے مستقبل کی پروا کیے بغیر اپنے ضمیر کی آواز پر نہ صرف طلبا کی کھل کر حمایت کی بلکہ احتجاج کا عملی حصہ بھی بنے اور گرفتاریاں بھی دیں۔
ایک دہائی سے زائد عرصے سے خوف و دہشت کے شکار بالی ووڈ میں یہ ارتعاش اور ہلچل انتہائی خوش آئند ہے۔ اس نے یہ امید جگائی ہے کہ بالی ووڈ اب سرکاری دباؤ سے آزاد ہو کر، پروپیگنڈے سے بالاتر اور اچھی کہانیوں پر مبنی ایسی فلم سازی کی طرف قدم بڑھائے گا جو ملک کی نوجوان نسل کی حقیقی ترجمانی اور رہنمائی کر سکے۔
طلبا تحریک کے یہ وہ مثبت پہلو ہیں جن کے اثرات گہرے اور دور رس مرتب ہوئے ہیں۔ اب یہ سول سوسائٹی اور خود کو سیکولر اقدار کا حامل بتانے والی سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس جذبے کو پروان چڑھانے میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔ کیونکہ اخلاقی قوت سے عاری طاقتیں اگرچہ اس وقت مصلحت پسندی کی خاطر خاموش ہو گئی ہیں اور انہوں نے ایک قدم پیچھے ہٹایا ہے لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائیں گی۔ جب صرف اقتدار کا حصول ہی کسی نظریے کا واحد مقصد بن جائے تو اس سے اخلاقیات اور اعلیٰ کردار کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔
چنانچہ نوجوانوں کی اس نئی نسل نے فرقہ پرستی اور نفرت کی دیوار میں جو مضبوط شگاف ڈالا ہے اور بنیادی مسائل پر آواز اٹھانے کی جو جرأت دکھائی ہے، ان کے ساتھ پوری قوت کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی ملک اور سماج کے لیے نوجوان محض ایک عددی قوت نہیں بلکہ وہ حقیقی سرمایہ ہوتے ہیں جو معاشی، سماجی اور ثقافتی زندگی کو نئی سمت دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہوگا کہ اس ملک کی سول سوسائٹی اور خود کو سیکولر بتانے والی سیاسی جماعتیں اس نڈر اور باشعور جذبے کی سرپرستی کس طرح کرتی ہیں اور اسے کس طرح پروان چڑھاتی ہیں۔
اخلاقی اقدار سے عاری اقتدار کا مستقبل نریندر مودی کی زیر قیادت حکومت نے خود کو ایک مضبوط اور مستحکم حکومت کے طور پر پیش کرنے کے لیے پہلے دن سے ہی یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی کہ وہ ’’عوامی دباؤ میں فیصلے نہیں کرتی۔‘‘ گودی میڈیا کے ایک بڑے حلقے نے بھی اس آمرانہ سوچ کی خوب پذیرائی کی اور اسے مودی حکومت کی سب سے بڑی ’’خوبی‘‘ کے طور پر پیش کیا۔
لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا جمہوری نظام میں شفافیت، جواب دہی اور ذمہ داری قبول کرنا کوئی عیب اور حکومت کی کمزوری کی علامت ہے؟ اخلاقی اقدار کی حامل قومیں اور ان کے باضمیر حکم راں معمولی واقعات پر بھی اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے کر خود کو محاسبے کے لیے پیش کر دیتے ہیں۔ اس کے برعکس گزشتہ ایک دہائی میں ملک کے اندر درجنوں بڑے بڑے حادثات اور بحران رونما ہوئے لیکن حکومت نے ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے سوال پوچھنے والوں کو ہی خاموش کرنے کا کام کیا۔
 ملک میں مسلسل بڑے بڑے ریلوے حادثے ہوتے رہے جن میں سیکڑوں شہری جان سے گئے لیکن وزیرِ ریلوے سوشل میڈیا پر ریلز (Reels) بنا کر خود نمائی میں مصروف رہے۔ پیپر لیک کا واقعہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا۔ درجنوں امتحانات کے پرچے لیک ہوئے لیکن کوئی بھی وزیر یا اعلیٰ افسر ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوا۔
منی پور گزشتہ تین برسوں سے تشدد کی آگ میں جل رہا ہے، درجنوں جانیں تلف ہو چکی ہیں، کوکی اور میتی قبائل کی رسہ کشی ایک خونریز جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، لیکن اس کے باوجود وزیرِ داخلہ کا موازنہ سردار پٹیل سے کرنے کا سلسلہ نہیں رکا کیونکہ وہ مخالف سیاسی جماعتوں میں سیندھ لگانے اور حکومتیں گرانے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔
ملک کا کسان مسلسل مقروض ہو کر خود کشی کر رہا ہے مگر وزیرِ زراعت کے پاس ان کے لیے وقت نہیں ہے۔ اربوں روپے کے بجٹ سے سڑکیں اور پل بنتے ہیں جو بارش کے ایک ہی ریلے میں بہہ جاتے ہیں، لیکن وزیرِ ٹرانسپورٹ خود ستائی اور پبلسٹی میں مصروف ہیں۔ دفاعی نظام میں سیندھ لگا کر دہشت گرد ملک میں داخل ہوتے ہیں اور فوج و شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں لیکن وزیرِ دفاع سے کوئی جواب طلبی نہیں ہوتی۔ کورونا وبا کے دوران گنگا کے کنارے لاشوں کے انبار لگ گئے مگر وزیرِ صحت کی کوئی اخلاقی ذمہ داری طے نہیں کی گئی۔
ملک معاشی بحران کی طرف گامزن ہے، روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہو رہے ہیں، یہی ابتر صورتِ حال وزارتِ تعلیم کی بھی ہے۔ ملک کا پورا تعلیمی نظام زمین بوس ہو رہا ہے۔ تعلیم کی تیز رفتاری سے نج کاری (Privatization) کی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں ہر سال غریب اور متوسط طبقے کے لاکھوں بچے تعلیمی دوڑ سے باہر ہو رہے ہیں اور اعلیٰ تعلیم پر صرف مراعات یافتہ طبقے کا قبضہ ہوتا جا رہا ہے۔ موجودہ تعلیمی ڈھانچہ باصلاحیت اور مارکیٹ کے مطابق ہنر مند نوجوان پیدا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہو رہا ہے۔ اس کے باوجود وزیرِ تعلیم سے اس لیے جواب دہی نہیں کی گئی کیونکہ ان کا بنیادی کام آر ایس ایس کے ایجنڈے کو نافذ کرنا، تعلیمی اداروں کو مخصوص نظریاتی رنگ میں رنگنا اور نصاب سے آزادانہ فکری و تخلیقی صلاحیتوں کو ختم کرنا تھا۔
چنانچہ پیپر لیک اور تعلیمی بد عنوانی کا معاملہ سامنے آنے کے بعد بھی حکومت نے وہی روایتی اور ظالمانہ طریقۂ کار اپنایا جو اس اقتدار کی اصل ذہنیت کو بے نقاب کرتا ہے:
پہلا مرحلہ: معاملے کی سنگینی اور پیپر لیک سے صاف انکار۔
دوسرا مرحلہ: طلبا کے غصے اور احتجاج کو نظر انداز کرنے کی حکمتِ عملی۔
تیسرا مرحلہ: 20؍ جولائی جیسی بربریت کا مظاہرہ اور طاقت کا بے جا استعمال۔
یہ سب اس کوشش کا حصہ تھے کہ کسی طرح اس تحریک کو ڈرا دھمکا کر کچل دیا جائے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جو استعفیٰ ایک مہینے کے شدید ہنگامے اور تشدد کے بعد لیا گیا، وہ پہلے ہی دن کیوں نہیں لیا گیا؟
استعفیٰ میں اس تاخیر کی اصل وجہ تعلیمی نظام کی اصلاح کی فکر نہیں بلکہ حکم راں طبقے کی وہ سیاسی اَنا (Ego) تھی جو عوام کے سامنے جھکنے کو اپنی شکست تصور کرتی ہے۔
جمہوریت میں حکومتیں عوام کے ذریعے تشکیل پاتی ہیں اور عوام ہی کی فلاح کے لیے کام کرتی ہیں۔ عوام کے جائز مطالبات کے آگے جھکنا کوئی کمزوری یا معیوب بات نہیں ہے بلکہ یہ اعلیٰ اخلاقی اقدار اور آئینی حلف کی پاسداری کا ثبوت ہے۔ لیکن مودی حکومت نے پہلے دن سے ہی عوامی مطالبات کو ماننے کو اپنی سیاسی نا کامی سمجھا۔
سوال یہ بھی ہے کہ 20؍ جولائی کو جس طریقے سے بے رحمی کے ساتھ اس پوری تحریک کو کچلنے کی کوشش کی گئی، کیا وزارتِ داخلہ سے جس کے تحت دہلی پولیس کام کرتی ہے، جواب طلبی نہیں ہونی چاہیے؟ کیا اس سوال کا جواب نہیں مانگا جانا چاہیے کہ پُرامن اور غیر مسلح نوجوانوں پر پیلٹ گنز (Pellet Guns) اور بلاوجہ تشدد کا استعمال کیوں کیا گیا؟
اخلاقی ذمہ داری قبول کرنا اور عوام کے سامنے جواب دہ ہونا کسی بھی حکومت کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی اخلاقی اور جمہوری قوت کا مظاہرہ ہے۔ اور جس اقتدار سے یہ اخلاقیات ختم ہو جائیں اس کا زوال طے ہو جاتا ہے۔
اب ہم اس پہلے سوال کی طرف لوٹتے ہیں کہ کیا تعلیمی نظام میں اصلاح محض ایک شخص کے استعفیٰ سے ممکن ہے؟ اور کیا کاکروچ جنتا پارٹی کی اس پوری تحریک کا مقصد صرف ایک شخص کا استعفیٰ تھا یا پھر تعلیمی نظام میں مکمل اصلاح تھی؟ اگر مقصد تعلیمی نظام میں اصلاح اور نوجوانوں کو انصاف فراہم کرنا ہے تو کیا اس جماعت کے پاس، جس میں بڑی تعداد میں ایسے نوجوان شامل ہیں جنہوں نے دنیا کی معیاری درسگاہوں سے علم حاصل کیا ہے، کوئی واضح لائحہ عمل ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات میں اس تحریک کی اصل کامیابی مضمر ہیں۔ بلاشبہ جواب دہی سے فرار ہونے والی اور اَنا پرست حکومت سے دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ طلب کرنا ضروری تھا مگر اس سے نظام تو خود بخود درست نہیں ہو سکتا۔ حکومت نے جو نئے بل لانے اور پیپر لیک کے مجرموں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتوں اور بھاری جرمانے کا انتظام کیا ہے، وہ ایک ابتدائی قدم ضرور ہے مگر مکمل حل نہیں ہے۔
کوچنگ مافیا، نج کاری (Privatization) اور تعلیمی اداروں کی خود مختاری پر حملوں نے ہمارے تعلیمی نظام کو خستہ حالی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ ہماری دانش گاہیں یک رخی ہوتی جا رہی ہیں، مخصوص نظریہ اور فکر کے حاملین کو تعلیمی نظام پر مسلط کیا جا رہا ہے، اختلافی آوازیں اور اکیڈمک آزادی ختم ہو رہی ہے اور تعلیمی اداروں میں آزادانہ بحث و مباحثے کی گنجائش سمٹتی جا رہی ہے۔
حالیہ چند برسوں میں NEET-UG 2024 اور کئی ریاستی سطح کے امتحانات (مثلاً راجستھان اور اتر پردیش میں بھرتی کے امتحانات) کے پیپر لیکس نے کروڑوں طلبا کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ بھارت میں گزشتہ پانچ برسوں میں ستر سے زائد پیپر لیک کے واقعات ہوئے ہیں جن سے تقریباً ڈیڑھ کروڑ سے زائد امیدوار متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اگر تعلیمی بجٹ کا جائزہ لیا جائے تو نیشنل ایجوکیشن پالیسی (NEP) کے طے شدہ جی ڈی پی کے چھ فیصد ہدف کے برعکس حکومت کی طرف سے تعلیم پر خرچ فی الوقت 1.3 سے 2.8 فیصد کے درمیان ہی ہے جو سرکاری تعلیمی اداروں کو معاشی بحران کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ہمارے تعلیمی نظام کی یہ وہ بنیادی خامیاں ہیں جن پر خاطر خواہ بات نہیں ہو رہی ہے۔ تعلیمی نظام کو حد سے زیادہ مرکوز (Centralized) کرنے کی سوچ نے بد عنوانی کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ ایک مہینے سے زائد عرصے تک جاری رہنے والے اس احتجاج کے ذریعے ملک کی نئی نسل نے ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے اور حکومت کے اس تکبر کو توڑ دیا ہے کہ حکومت عوام کے دباؤ میں آنے والی نہیں ہے۔ لیکن طلبا کی یہ کامیابی ابھی صرف جزوی کامیابی ہی کہی جا سکتی ہے۔
دھرنے کا یہ خاتمہ تحریک کا خاتمہ نہیں ہے بلکہ ایک نئے باب کی شروعات ہے۔ نوجوانوں کو صرف سڑکوں پر مظاہرہ کرنے کے بجائے اب تعلیمی پالیسی (Policy Framing) کی تشکیل میں بھی اپنی تجاویز حکومت کے سامنے رکھنی چاہیے۔ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) جیسے اداروں کی مکمل ساختِ نو کی جائے اور امتحانات کے انعقاد کے لیے ایک آزاد اور شفاف ریگولیٹری باڈی قائم کی جائے۔ کوچنگ سنٹروں کی من مانی فیس اور غیر منصفانہ اشتہار بازی پر قانونی پابندی لگائی جائے اور اسکولوں اور کالجوں کی بنیادی تعلیم کو مضبوط کیا جائے تاکہ کوچنگ کی ضرورت ہی باقی نہ رہے۔ تعلیم کے شعبے میں جی ڈی پی کا کم از کم چھ فیصد بجٹ مختص کرنے کا قانونی ضمانتی نظام بنایا جائے۔ تعلیمی پالیسیوں، نصاب اور امتحانی قوانین کی تدوین میں اکیڈمکس کے ساتھ ساتھ طلبا اور اساتذہ کی یونینوں کی رائے کو قانونی طور پر شامل کیا جائے۔
یہ دھرنا ثابت کرتا ہے کہ نئی نسل اب تعلیمی اور جمہوری مطالبات کے لیے ایک الگ، منظم اور غیر سیاسی (Non-partisan) پلیٹ فارم پر متحد ہو سکتی ہے۔ اس جذبے کو قائم رکھنا اور اس پر مسلسل کام کرنا اصل چیلنج ہے۔ اگر اس میں کامیابی حاصل کر لی گئی جن زی (Gen Z) کی اس تحریک کو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔