یہ کہانی ہے فیسوں میں اضافے کے خلاف طلبا کے پُرامن احتجاج کی جن کے مطالبات خود یونیورسٹی انتظامیہ نے تسلیم کر لیے تھے۔ ایک طالب علم کی اٹھارہ منٹ کی تعلیمی تقریر اور اس تقریر میں سے چنے گئے وہ دس پندرہ سیکنڈ پر مشتمل سادہ اور بے ضرر الفاظ جنہیں ایک قومی نیوز چینل نے ’’ملک دشمن سازش‘‘ میں تبدیل کر دیا۔ یہ بظاہر ایک واقعہ معلوم ہوتا ہے مگر درحقیقت یہ ہمارے میڈیا کے پورے بگاڑ کا آئینہ ہے۔ نیوز براڈکاسٹنگ اینڈ ڈیجیٹل اسٹینڈرڈز اتھارٹی (NBDSA) نے 11؍ ستمبر 2026 کو اپنے حکم نامے نمبر 230/2026 کے ذریعہ زی نیوز پر دو لاکھ روپے جرمانہ اور متنازع نشریات کو ہٹانے کا حکم دے کر اس حقیقت پر قانونی مہر ثبت کر دی جسے کروڑوں ناظرین پہلے ہی محسوس کر رہے تھے کہ خبر کے نام پر یہاں اکثر پروپیگنڈا پھیلایا جاتا ہے۔
کیس کی حقیقت
یہ معاملہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (AMU) میں 12؍ اگست 2025 کو ہونے والے ایک احتجاج کا ہے، جو فیسوں میں اضافے کے خلاف اور اسٹوڈنٹس یونین کی بحالی کے لیے منعقد ہوا۔ یہ احتجاج مکمل طور پر پُرامن تھا اور اس کی سب سے بڑی سند یہ کہ اس کے اختتام پر انتظامیہ نے طلبا کے مطالبات مان لیے تھے۔ شکایت کنندہ طلحہٰ منان جو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (MANUU) میں پی ایچ ڈی اسکالر، علی گڑھ کے سابق طالب علم، اور اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن (SIO) کے قومی سکریٹری ہیں۔ انہوں نے اس احتجاج میں تقریباً اٹھارہ منٹ کی تقریر کی جس کا محور تعلیمی مسائل تھے۔ مگر 16؍ اگست کو زی نیوز نے اپنے پروگراموں ’’دیش ہت‘‘ اور ’’ڈی این اے‘‘ میں اس احتجاج کو ’’فلسطین پریمی گینگ‘‘ کی مذہبی انتہا پسندی کے طور پر پیش کیا۔ اتھارٹی نے واضح طور پر یہ محسوس کیا کہ چینل نے احتجاج کے اصل مقصد یعنی فیس اضافے کو یکسر حذف کر کے، محض فلسطین کے حق میں یکجہتی کے چند نعروں کو نمایاں کیا اور یہ تاثر دیا کہ گویا یہ سارا احتجاج ہی کسی جنگ سے متعلق تھا۔
نفرت کی تکنیک: اشتعال انگیز فقرے، ڈوگ وہسل اور سلیکٹو ایڈیٹنگ
اس کیس کا سب سے قابلِ غور پہلو وہ ’’تکنیک‘‘ ہے جس سے ایک پُرامن واقعے کو خطرناک بنا کر پیش کیا گیا۔ نشریات کے دوران ’’فلسطین پریمی گینگ‘‘، ’’یوگی اسٹائل میں ہوگا علاج‘‘ اور ’’وچارک پردوشن‘‘ (نظریاتی آلودگی) جیسے اشتعال انگیز فقرے چلائے گئے۔ ’’ڈی این اے‘‘ میں ’’وشیش ورگ‘‘ (خاص طبقہ) جیسی مبہم مگر معنی خیز اصطلاح استعمال ہوئی جو کہ دراصل ایک مخصوص کمیونٹی کو نشانہ بنانے والی وہ ’’ڈوگ وہسل‘‘ زبان ہے جسے سنتے ہی ہدف پہچان لیا جاتا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اٹھارہ منٹ کی تقریر میں سے صرف دس پندرہ سیکنڈ کا کلپ منتخب کیا گیا۔ حکم نامے میں اتھارٹی نے یہ بات خاص طور پر نوٹ کی کہ احتجاج 12؍ اگست کو ہوا اور نشریات 16؍ اگست کو یعنی اس دوران چار دن کا وقفہ موجود تھا جس میں چینل پوری تقریر دیکھ کر سیاق و سباق سمجھ سکتا تھا مگر اس نے دانستہ ایسا نہیں کیا۔ یہ محض غلطی نہیں تھی بلکہ ایک بد نیتی پر مبنی ادارتی فیصلہ تھا۔ ’’گینگ‘‘ اور ’’علاج‘‘ جیسے الفاظ ایک طالب علم کو مجرم اور قابلِ سزا باور کرانے کی شعوری کوشش تھے۔
اتھارٹی کے تبصرے اور فیصلہ
این بی ڈی ایس اے نے جس کی سربراہی سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس اے کے سیکری کر رہے ہیں، ان نشریات کو نفرت انگیز تقاریر کی روک تھام سے متعلق رہنما خطوط (30؍ جنوری 2023) اور اینکرز کے لیے مخصوص ہدایات (28؍ اکتوبر 2022) کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ اتھارٹی نے یہ بھی واضح کیا کہ اس کا دائرہ اختیار نعروں کی ’’مناسبت‘‘ پر فیصلہ دینا نہیں یے بلکہ نشریاتی معیارات کی جانچ ہے اور اسی حد کے اندر رہتے ہوئے اس نے دو لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا ہے اور چینل کو حکم دیا کہ سات دن کے اندر یوٹیوب، فیس بک، ویب سائٹ اور تمام سوشل میڈیا سے یہ ویڈیو اور اس تک رسائی کے تمام لنکس حذف کر دے اور تعمیل کی تحریری تصدیق پیش کرے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اتھارٹی نے شکایت میں ہونے والی تاخیر کو بھی اس بنیاد پر معاف کیا کہ شکایت کنندہ کا رویہ نیک نیتی پر مبنی رہا۔ وہ نشریات کے بعد ذہنی دباؤ، قانونی مشاورت اور اپنے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر جیسے حالات سے نبرد آزما تھا۔ یہ تفصیل بذاتِ خود بتاتی ہے کہ اس ’’خبر‘‘ کی قیمت ایک طالب علم نے کس صورت میں چکائی ہے۔
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں
اس فیصلے کو محض لغزش کے طور پر دیکھنا اصل بیماری سے نظریں چرانا ہے۔ دراصل یہ ایک منظم رجحان کی تازہ کڑی ہے۔ اسی زی نیوز کو اکتوبر 2025 میں ’’مہندی جہاد‘‘ جیسی رپورٹنگ پر اتھارٹی کی سرزنش کا سامنا کرنا پڑا تھا (اسی نوعیت کے ’’لو جہاد‘‘ مواد پر ٹائمز ناؤ نو بھارت کو بھی) اور فروری 2026 میں اسی چینل پر ایک ایسی جھوٹی خبر کے لیے ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد ہوا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سری نگر-جموں شاہراہ پر ایک ٹرک ڈرائیور کے چھت پر نماز پڑھنے سے ٹریفک جام ہوا۔ ’’لو جہاد‘‘، ’’لینڈ جہاد‘‘، ’’کورونا جہاد‘‘، ’’مہندی جہاد‘‘ وغیرہ اصطلاحات دراصل ایک ایسی سڑی گلی ذہنیت کی پیداوار ہیں جو رات دن ایک پوری کمیونٹی کے خلاف شک، خوف اور نفرت کا میٹیریل تیار کرتی رہتی ہے۔ علی گڑھ کا یہ کیس اسی بڑے منصوبے کا ایک نمونہ ہے، جس میں ایک عام شہری کے جائز اختلافِ رائے کو ’’ملک دشمنی‘‘ میں بدل دیا جاتا ہے اور فلسطین سے یکجہتی جیسے عالمی مؤقف کو جو کبھی خود بھارت کی سرکاری پالیسی رہا، انتہا پسندی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
احتساب کی خامیاں
یہ فیصلہ خوش آئند ضرور ہے مگر اسے احتساب کی مکمل فتح سمجھنا خام خیالی ہوگی۔ سب سے پہلے، دو لاکھ روپے کا جرمانہ ایک بڑے نیوز نیٹ ورک کے لیے کوئی مؤثر تدارک نہیں؛ جب نفرت خود ایک منافع بخش ’’بزنس ماڈل‘‘ بن چکی ہو تو یہ معمولی رقم اسے روکنے کے بجائے مزید ڈھیٹ بنا دیتی ہے۔ دوسرے، فیصلہ نشریات کے ایک سال سے زائد بعد آیا، اس وقت تک وہ نقصان ہو چکا جو ہونا تھا، طالب علم پر ایف آئی آر، اس کی ساکھ کی پامالی اور ناظرین کے ذہنوں میں بٹھایا گیا، تب تک فرقہ وارانہ بیانیہ تو اپنا کام کر گیا۔ جھوٹ منٹوں میں پوری دنیا کا چکر لگا لیتا ہے جبکہ تصحیح لنگڑاتی ہوئی بہت دیر بعد پہنچتی ہے۔ تیسرے، این بی ڈی ایس اے ایک رضاکارانہ، خود ضابطہ کار (Self- Regulatory) ادارہ ہے جس کے اختیارات محدود ہیں؛ یہ اس ریاستی مشینری کو نہیں روک سکتا جس نے اس طالب علم کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ سب سے بڑی ستم ظریفی یہی ہے کہ جس نے پُرامن احتجاج کیا اور جس کی کردار کشی ہوئی، اسی کو ریاست نے ملزم بنا دیا؛ اور جس چینل نے یہ حرکت کی، اسے محض دو لاکھ کی ہلکی سی سرزنش ملی۔ سوال یہ ہے کہ قیمت آخر کون چکا رہا ہے؟
اصل سوال: جمہوریت اور چوتھا ستون
میڈیا کو جمہوریت کا چوتھا ستون اسی لیے کہا جاتا ہے کہ وہ حکومت کا احتساب کرے اور شہریوں کو سچ سے باخبر رکھے۔ مگر جب یہی ستون اقتدار کی خوشنودی اور کمزور کی کردار کشی کرنے لگے، اختلافِ رائے کو جرم اور کیمپس کو ’’سازش کا اڈہ‘‘ بنا کر پیش کرے تو وہ جمہوریت کو باہر سے نہیں اندر سے کھوکھلا کرتا ہے۔ فیسوں کے خلاف طلبا کے احتجاج کو ’’ملک دشمن سازش‘‘ بنا دیا جانا دراصل عام شہری کی جائز آواز کو مجرمانہ بنا دینا ہے اور اس کا سب سے زیادہ نشانہ اقلیتیں بنتی ہیں۔
اسی لیے این بی ڈی ایس اے کا یہ فیصلہ ایک مہیب تاریکی میں جلنے والی چھوٹی سی شمع ہے جو کہ قابلِ قدر تو ہے مگر نا کافی ہے۔ اصل ضرورت ایک ایسے مضبوط، آزاد اور بر وقت نظامِ احتساب کی ہے جس کے جرمانے حقیقی معنوں میں تدارک بنیں، جو اینکروں اور ادارتی ذمہ داروں کو بھی جواب دہ ٹھیرائیں اور جو نقصان ہونے سے پہلے حرکت میں آئیں۔ اسی کے ساتھ ناظرین کو بھی چاہیے کہ وہ پروپیگنڈے اور خبر کے فرق کو پہچانیں۔ آزادیِ صحافت کی اصل کسوٹی یہ نہیں ہے کہ وہ کمزور شہری کو بدنام کرنے میں کتنی آزاد ہے بلکہ یہ ہے کہ اقتدار کو آئینہ دکھانے میں کتنی بے خوف ہے۔ جو ادارے اس کے برعکس کام کریں اور اقتدار کو خوش کرنے کے لیے کمزور شہریوں کو نشانہ بنائیں، وہ صحافت اور جمہوریت دونوں سے غداری کرتے ہیں۔
جب خبر ہتھیار بن جائے: میڈیا کے بگاڑ پر ایک قانونی مہر

این بی ڈی ایس اے کا زی نیوز کے خلاف فیصلہ ، امید کی ایک کرن، مگر خرابی بہت گہری ہے

