تلنگانہ میں گزشتہ کچھ ہفتوں سے ’’22 اے‘‘ ایک ایسے قانونی اور انتظامی مسئلے کے طور پر سامنے آیا ہے جس نے ہزاروں بلکہ بعض سیاسی دعوؤں کے مطابق لاکھوں جائیداد مالکین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ کئی خاندان ایسے ہیں جن کے پاس برسوں پرانے رجسٹری دستاویزات، پٹہ پاس بکس، ٹیکس کی رسیدیں، بلڈنگ پرمیشن، قبضے کے ثبوت اور دیگر قانونی کاغذات موجود ہیں لیکن اچانک ان کی زمین یا مکان کو 22 اے سیکشن کے تحت "پرواہی بیٹیڈ پراپرٹی" یعنی ممنوعہ جائیداد کی فہرست میں ڈال دیا گیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ مالک اپنی ہی جائیداد کو فروخت، رہن یا بعض صورتوں میں منتقل نہیں کر پائے گا۔ یہ مسئلہ محض زمین کی رجسٹری کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے تلنگانہ کے زمین کے ریکارڈ، دھرانی اور بھو بھارتی کے ذریعے ریکارڈز، ای ڈیجیٹلائزیشن، سرکاری اور نجی زمین کے تنازعات، اسائنڈ لینڈز، انڈومنٹ اور وقف جائیدادیں، عدالتوں میں زیرِ سماعت معاملات اور انتظامیہ کی جانب سے منموعہ فہرستوں کی تیاری کا پورا نظام موجود ہے۔
حالیہ دنوں میں حیدرآباد، رنگاریڈی، میڑچل-ملکاجگیری، وقارآباد اور دیگر اضلاع میں ایسی شکایات سامنے آئی ہیں، کہ باقاعدہ منظور شدہ کالونیاں، پرانے اپارٹمنٹس، آزاد مکانات اور نجی پلاٹس بھی 22 اے فہرست میں شامل ہوگئے ہیں، بعض مالکین کا کہنا ہے کہ انہیں پیشگی اطلاع تک نہیں دی گئی۔
 آخر 22 اے ہے کیا؟
سیکشن 22 اے دراصل رجسٹریشن ایکٹ 1908 کی وہ شق ہے جس کے تحت بعض مخصوص اقسام کی جائیدادوں سے متعلق دستاویزات کی رجسٹریشن پر پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔ قانون کے تحت بنیادی طور پر پانچ قسم جائیدادیں اس دائرے میں آسکتی ہیں:
-1 ایسی زمین جس کی منتقلی کسی ریاستی یا مرکزی قانون کے تحت ممنوع ہو۔
-2 سرکاری ملکیت کی زمین جسے فروخت یا منتقل کرنے کا اختیار متعلقہ شخص کے پاس نہ ہو۔
-3 مذہبی و خیراتی اداروں اور وقف کی بعض جائیدادیں جنہیں مجاز اتھارٹی کے علاوہ کوئی شخص منتقل نہیں کرسکتا۔
-4 بعض ایسی جائیدادیں جن پر عدالت، اتھارٹی یا قانونی پابندی موجود ہو۔
-5 وہ جائیدادیں جن پر حکومت کا کوئی موجودہ حق یا مفاد ہو اور جنہیں قانون کے مطابق ممنوعہ فہرست میں شامل کیا گیا ہو۔
اس کا مقصد اصولی طور پر یہ ہے کہ کوئی شخص سرکاری زمین، اسائنڈ لینڈز، وقف یا انڈومنٹ کی زمین یا ایسی جائیداد جس پر قانونی تنازع یا پابندی ہو، اسے جعلی یا غیر مجاز دستاویز کے ذریعے فروخت نہ کرسکے۔ اس لحاظ سے 22 اے کا بنیادی تصور عوام کے خلاف نہیں بلکہ عوامی اور قانونی ملکیت کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے تو پھر مسئلہ کہاں پیدا ہوا؟ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں یہ شق غلط زمین پر لاگو ہوجائے۔
یہاں اصل خطرہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر کسی سروے نمبر یا جائیداد کو ممنوعہ فہرست میں ڈال دیا جائے تو سب رجسٹرار اس زمین سے متعلق سیل ڈیڈ، لیز، ایکسچینج، گفٹ ڈیڈ یا مورٹگیج وغیرہ کی رجسٹریشن سے انکار کرسکتا ہے۔ یعنی کاغذ پر تو آپ مالک ہوسکتے ہیں، آپ کے پاس پرانی رجسٹرڈ سیل ڈیڈ بھی ہو سکتی ہے، آپ نے پراپرٹی ٹیکس بھی ادا کیا ہو گا لیکن اگر زمین 22 اے کی ممنوعہ فہرست میں آگئی تو عملی طور پر آپ کے لیے اس جائیداد کی آزادانہ خرید و فروخت رک جائے گی۔
حیدرآباد اور آس پاس کے علاقوں میں حالیہ شکایات کی یہی نوعیت ہے۔ بعض اپارٹمنٹس اور گھروں کے مالکین کا کہنا ہے کہ ان کے پاس جی ایچ ایم سی یا ایچ ایم ڈی اے کی منظوری، اکوپنسی سرٹیفکیٹ اور دوسرے دستاویزات موجود ہیں مگر پھر بھی ان کی زمین یا جائیداد ممنوعہ کیٹیگری میں ظاہر ہو رہی ہے۔
 یہ صورت حال اس لیے بھی سنگین ہے کہ آج کی شہری معیشت میں جائیداد صرف رہائش نہیں بلکہ خاندان کی سب سے بڑی مالی پونجی بنی ہوئی ہے۔ ایک شخص اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے مکان بیچنا چاہتا ہے، کسی کو کاروبار میں سرمایہ لگانا ہے، کسی کو قرض چکانا ہے، کسی کو علاج یا شادی کے لیے رقم درکار ہے۔ اگر اچانک رجسٹری رک جائے تو قانونی ملکیت موجود ہونے کے باوجود اس اثاثے کی لکویڈیٹی ختم ہوجاتی ہے۔
اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ غلطی ہوئی کیسے؟ یہی اس پورے تنازع کا بنیادی سوال ہے۔
تلنگانہ میں کئی برسوں سے زمین کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن اور ان کی اصلاح کا عمل جاری ہے، دھرانی کے بعد اب بھو بھارتی نظام کے ذریعے زمین کے ریکارڈ کو درست کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن جب پرانے ریوینیو ریکارڈز، سروے ریکارڈز، اسائنمنٹ ریکارڈز، کورٹ ریکارڈز، گورنمنٹ لینڈ ریکاڈرز اور موجودہ رجسٹرڈ ٹرانزیکشنز کو ایک دوسرے کے ساتھ ملایا جا رہا ہے تو کئی پرانے اختلافات سامنے آنے لگے ہیں، کسی زمین کا پرانا ریکارڈ اسے سرکاری زمین بتاتا ہے جبکہ بعد میں وہ نجی افراد کو منتقل ہوچکی ہوتی ہے، کسی زمین کو کبھی اسائنڈ لینڈ قرار دیا گیا تھا لیکن بعد میں کئی مرتبہ اس کی خرید و فروخت ہو چکی ہوتی ہے، کسی سروے نمبر کے ایک حصے پر حکومت کا دعویٰ ہے تو دوسرے حصے پر نجی مالکان کا قبضہ اور رجسٹرڈ ٹائٹس موجود ہیں۔
اس صورت میں اگر پورے سروے نمبر کو ممنوعہ فہرست میں ڈال دیا جائے تو اس کا اثر صرف اصل متنازع زمین پر نہیں بلکہ اس کے اندر آنے والی دیگر لیجیٹی نیٹ پراپرٹیوں پر بھی پڑسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیکشن 22 اے کی فہرست تیار کرتے وقت انتہائی باریک، پارسل لیول ویری فیکیشن ضروری ہے۔
تلنگانہ ہائی کورٹ نے واضح کیا ہے کہ محض کسی زمین کو سرکاری زمین قرار دے دینا کافی نہیں ہے؛ اگر حکومت کی ملکیت ہی ڈسپیوٹیڈ فیکٹ ہو تو اس کا قانونی تعین ضروری ہے۔ اپریل 2026 کے ایک فیصلے میں تلنگانہ ہائی کورٹ نے ایسے معاملے میں سیکشن 22 اے کے تحت زمین کو ممنوعہ فہرست میں شامل کرنے کے اقدام پر غور کیا جہاں حکومت کی ملکیت کا دعویٰ خود متنازع تھا۔ عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر زمین کو کسی مخصوص قانونی بنیاد کے تحت 22-A(1) (e) میں شامل کیا گیا ہے تو متعلقہ قانونی طریقہ کار اور نوٹیفکیشن کی پابندی ضروری ہے۔ عدالتوں نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ سیکشن 22 اے بذاتِ خود ملکیت کا فیصلہ نہیں کرتا، یعنی کسی پراپرٹی کا 22 اے کی لسٹ میں ہونا اس بات کا حتمی ثبوت نہیں کہ حکومت ہی اس کی مالک ہے، یہ سیکشن بنیادی طور پر رجسٹریشن کو ریگولیٹ کرنے والا میکانزم ہے، یہ فرق انتہائی اہم ہے۔
عوام پر اس کے ممکنہ اثرات کیا ہوں گے؟
اس کا سب سے فوری اثر یہ ہوگا کہ جائیداد کی خرید وفروخت رک سکتی ہے، مالک پراپرٹی بیچ نہیں سکتا اور خریدار رجسٹریشن نہیں کراسکتا۔
جس پراپرٹی کا ٹائٹل واضح نہ ہو، اس کا مارکیٹ ویلیو گر سکتا ہے۔ خریدار بھی ایسی پراپرٹی لینے سے گریز کرے گا۔
اگر کسی پراپرٹی پر مورٹگیج یا سیکورٹی انٹرسٹ پیدا کرنا مشکل ہو جائے تو گھر یا زمین کے مالک کے لیے بینک سے قرض حاصل کرنا بھی مشکل ہوسکتا ہے۔
اگر حکومت کا دعویٰ ہو اور شہری کا ٹائٹل بھی ہو تو معاملہ ریوینیو آفسوں، اپیلوں اور عدالتوں تک پہنچ سکتا ہے، اس میں وقت اور پیسہ دونوں خرچ ہوتے ہیں۔
یہ مسئلہ خاص طور پر شہری علاقوں میں سنگین ہوسکتا ہے۔ اگر ایک پرانے اپارٹمنٹس کی زمین ممنوعہ فہرست میں چلی جائے تو اس کے اندر موجود کئی فلیٹس کے مالکین بیک وقت متاثر ہوسکتے ہیں۔ ایسی مثالوں کی شکایات حیدرآباد میں سامنے آچکی ہیں۔
تلنگانہ کی معیشت میں حیدرآباد کا ریئل اسٹیٹ سیکٹر اہم ہے۔ اگر بڑی تعداد میں پراپرٹیوں کی رجسٹریشن میں غیر یقینی پیدا ہوجائے تو بلڈر، ڈیولپر، بائیر اور فائنانشیل انسٹیٹیوشنس سب متاثر ہوں گے۔
بڑے ڈیولپر کے پاس وکیل، سروئیر، ریونیو ایکسپرٹ اور لیٹی گیشن کے لیے وسائل ہوسکتے ہیں، لیکن ایک متوسط یا غریب خاندان جس کی زندگی بھر کی جمع پونجی ایک چھوٹے سے پلاٹ یا مکان کی شکل میں ہے، اگر وہ 22 اے میں پھنس جائے تو اس کے لیے سرکاری دفاتر کے چکر لگانا ہی بڑی آزمائش بن جاتا ہے۔ یہیں سے یہ مسئلہ صرف ایڈمنسٹریٹیو ایرر نہیں رہتا بلکہ سوشل جسٹس کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
اب یہ مسئلہ سیاسی رنگ بھی اختیار کر گیا ہے، بی آر ایس کے رہنما ٹی ہریش راؤ نے کانگریس حکومت زمینوں کو ہڑپنے، کرپشن اور عوام کو ہراساں کرنے کا الزام لگایا اور مطالبہ کیا کہ دسمبر 2023 سے یعنی کانگریس اقتدار میں آنے کے بعد 22 اے کے تحت ممنوعہ فہرست میں شامل کی گئی تمام زمینوں پر وائٹ پیپر جاری کرے اور ساتھ میں انہوں نے ریونیو منسٹر کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا۔
ریوینیو منسٹر پی سرینواس ریڈی نے ان الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حقیقی جائیداد مالکین کے حقوق متاثر نہیں ہونے دیے جائیں گے اور ڈسپیوٹیڈ کیسس کا جائزہ لیا جائے گا۔ حالیہ دنوں میں وزیر نے متاثرہ لوگوں کو ہونے والی پریشانی پر معذرت خواہی بھی کی اور یقین دلایا کہ حقیقی مالکین کے معاملات جلد حل کیے جائیں گے۔ اس طرح 22 اے اب محض ریونیو اڈمنسٹریشن کا معاملہ نہیں رہا بلکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک بڑا سیاسی تنازع بھی بن گیا ہے۔
یہاں سیاسی دیانت کا تقاضا ہے کہ معاملے کو صرف کانگریس بمقابلہ بی آر ایس کے چشمے سے نہ دیکھا جائے۔ دھرانی کے دور میں بھی ممنوعہ پراپرٹی ریکارڈز، لینڈ ریکارڈز اور رجسٹریشن کے حوالے سے متعدد شکایات سامنے آتی رہی ہیں، سی اے جی کی رپورٹ نے بھی تلنگانہ کے ممنوعہ پراپرٹی ڈیٹا میں ہم آہنگی اور ریکارڈ مینیجمینٹ کے مسائل کی نشاندہی کی تھی۔
لہٰذا اگر آج بی آر ایس حکومت سے جواب مانگ رہی ہے تو کل اسے اپنے دور کی لینڈ ریکارڈ منیجمنٹ کی خامیوں پر بھی جواب دینا ہوگا۔ عوام کا اصل سوال یہ نہیں کہ غلطی کانگریس نے کی یا بی آر ایس نے، اصل سوال یہ ہے کہ میری زمین کا صحیح ریکارڈ کون دے گا؟
اس کے حل کے لیے حکومت کو پانچ فوری اقدامات کرنے چاہئیں:
اول: ہر 22 اے کی انٹری کے ساتھ واضح کیا جائے کہ پراپرٹی کس قانونی شق کے تحت ممنوعہ ہے۔
دوم: شہری کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی پراپرٹی کس بنیاد پر فہرست میں شامل کی گئی۔
سوم: کسی نجی پراپرٹی کو شامل کرنے سے قبل معقول جانچ اور جہاں قانون تقاضا کرے وہاں نوٹس اور سماعت کا انتظام ہو۔
چہارم: غلط اندراج ختم کرنے کے لیے وقت مقرر کیا جائے۔
پنجم: پوری ممنوعہ پراپرٹی کا ڈیٹا بیس عوامی جانچ کے لیے مہیا ہو۔
ہائی کورٹ کے فیصلوں میں بھی متاثرین کے لیے اخراج یا اصلاح و ترامیم کی درخواست اور متعلقہ عہدیداران کے ذریعے  شکایات کو ٹھیک کرنے کا راستہ تسلیم کیا گیا ہے۔
ہریش راؤ کا وائیٹ پیپر کا مطالبہ سیاسی سکتا ہے لیکن انتظامی اعتبار سے یہ ایک معقول مطالبہ بھی ہے۔ حکومت اگر واقعی یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ 22 اے کا استعمال قانون کے مطابق ہوا ہے تو اسے ضلع واری ڈیٹا سامنے لانا چاہیے کہ معلوم تو ہو آخر کتنی پراپرٹیاں 22 اے میں شامل ہوئیں؟ کس کیٹگری کے تحت شامل ہوئیں؟ گورنمنٹ لینڈز کتنی ہیں؟ اسائینڈ لینڈز کتنی ہیں؟ وقف یا انڈومنٹ پراپرٹیاں کتنی ہیں؟ کورٹ ڈسپیوٹ کرنے ہیں؟ کتنی نجی پراپرٹیاں غلطی سے شامل ہوئیں؟ کتنی اپلیکیشنس اخراج کے لیے موصول ہوئیں؟ کتنے کیسیس حل ہوئے اور کتنے ابھی پنڈنگ ہیں؟ کتنے معاملات میں عدالت نے حکومت کے اقدام کو غلط قرار دیا؟
یہ اعداد و شمار سامنے آجائیں تو سیاسی الزام اور سرکاری دفاع، دونوں کی حقیقت عوام کے سامنے آجائے گی۔