تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، انصاف اور خوش حالی کی بنیاد ہوتی ہے۔ جب تعلیمی نظام پر اعتماد متزلزل ہونے لگے تو صرف طلبا ہی نہیں بلکہ پورا معاشرہ اس کے اثرات سے متاثر ہوتا ہے۔ داخلہ امتحانات میں بے ضابطگیوں، بدعنوانی یا سوالیہ پرچوں کے لیک ہونے کے الزامات لاکھوں محنتی طلبا کی امیدوں پر پانی پھیر دیتے ہیں اور ان کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیتے ہیں۔ ایک غریب باپ کی عمر بھر کی کمائی، ایک ماں کی دعائیں اور ایک طالب علم کی بے شمار جاگی ہوئی راتیں صرف امتحان پاس کرنے کے لیے نہیں ہوتیں، بلکہ ایک روشن مستقبل کی امید کے لیے ہوتی ہیں۔ جب یہی امیدیں مشکوک ہو جائیں تو دراصل پوری قوم کا اعتماد متزلزل ہونے لگتا ہے۔
حالانکہ کاکروچ جتنا پارٹی اور اس کے بانی دیپک کی پوری طلبائی تحریک کے مخفی عزائم اور سونم وانگچوک کی اس کو تائید پر بالغ نظر تجزہ نگار اور غیر جانبدار صحافیوں کی تعداد اب بھی شک کی نظر سے دیکھ رہی ہے لیکن سماجی کارکن سونم وانگچوک کی صحت پر دلی ہائی کورٹ کے اظہار تشویش کے بعد دلی پولیس ان کو جبراً ہڑتال کی جگہ سے اٹھا کر لے گئی ہے۔ سونم وانگچوک نے 28 جون 2026 کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی تھی، وہ سیاسی اور عوامی تائید حاصل کر لینے کے بعد اس تحریک کا چہرہ بن کر ابھرے ہیں۔ لیکن تجزیہ نگار سونم وانگچوک کے ذریعے ماضی میں بر سر اقتدار پارٹی کے ایجنڈے کی سونم وانگچوک کی علانیہ حمایت کو بھلا نہیں سکے ہیں۔ باوجود یہ کہ وہ نوجوانوں کے ساتھ مل کر تعلیمی نظام میں شفافیت، جواب دہی اور بنیادی اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر امتحانی نظام پر عوام کا اعتماد بحال نہ کیا گیا تو محنت، قابلیت اور انصاف جیسے بنیادی اصول کمزور پڑ جائیں گے۔
سونم وانگچوک کا مطالبہ ہے کہ امتحانی بے ضابطگیوں کے الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں، جواب دہی یقینی بنائی جائے اور مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔ تاہم احتجاج کے انیس دن گزر جانے کے باوجود نہ استعفےٰ کا اعلان سامنے آیا ہے اور نہ ہی ایسی مؤثر کارروائی دیکھنے میں آئی ہے جس سے طلبا کے اعتماد کو بحال کیا جا سکے۔
حالانکہ سونم وانگچوک اور سی جے پی بخوبی جانتے ہیں کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی وفاقی وزارت میں کیا حیثیت ہے؟ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی پلکوں کے اشاروں پر چلنے والی کابینہ اپنی مرضی سے پر بھی نہیں مار سکتی۔ اصولاً تو وزیر اعظم کا استعفیٰ طلب کرنا چاہیے تھا لیکن اس کے بجائے ایک پردھان جیسے پیادے کو بَلی کا بکرا بنانے اور پوری مہم کو اسی ایک نکتے پر مرکوز کر دینے کے بعد ان پر اعتماد کرنے کو جی نہیں چاہتا۔
مشہور صحافی اور تجزیہ نگار راجو پرولیکر نے جنتر منتر والی مہم کو ملک کے سلگتے مسائل سے چشم پوشی کی راہ پر دھکیلنے والی ایک سرگرمی قرار دیا ہے۔
سی جے پی نے دوبارہ مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفےٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ 20 جولائی کو منعقد ہونے والے پُرامن ’’پارلیمنٹ مارچ‘‘ میں شرکت کر کے طلبا اور تعلیمی اصلاحات کی حمایت کریں۔
کسی بھی جمہوری معاشرے میں عوام کو پُرامن احتجاج کے ذریعے اپنے مطالبات پیش کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ احتجاج کو دشمنی نہیں بلکہ احتساب کا موقع سمجھنا چاہیے۔ حکومتیں اسی وقت مضبوط ہوتی ہیں جب وہ عوام کے سوالات کا جواب دیں، نوجوانوں کی آواز سنیں اور انصاف کو ہر سیاسی مصلحت پر ترجیح دیں۔
آج سوال صرف ایک امتحان یا ایک پرچے کا نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام کی ساکھ کا ہے۔ اگر نوجوانوں کو یہ احساس ہونے لگے کہ محنت سے زیادہ طاقت، سفارش یا بدعنوانی فیصلہ کرتی ہے تو یہ صرف تعلیمی بحران نہیں بلکہ قومی ضمیر کا بحران ہے۔ ایک قوم کی اصل طاقت اس کے نوجوانوں کے اعتماد، ان کی صلاحیتوں اور ان کی امیدوں میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
یہ وہی سرزمین ہے جس کی آزادی کی جدوجہد میں عوام کی آواز نے بڑی تبدیلیاں پیدا کیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اسی جمہوری روایت کو زندہ رکھا جائے، نوجوانوں کے سوالات کو سنجیدگی سے سنا جائے اور ان کے خدشات کا بروقت اور منصفانہ جواب دیا جائے۔ قومیں اسی وقت ترقی کرتی ہیں جب اقتدار سوالوں سے گھبراتا نہیں بلکہ جواب دیتا ہے، خاموشی اختیار نہیں کرتا بلکہ انصاف فراہم کرتا ہے اور نوجوانوں کے مستقبل کو ہر سیاسی مصلحت سے بالا تر رکھتا ہے۔
تعلیمی نظام کی اصلاح صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ تعلیمی اداروں، امتحانی ایجنسیوں، اساتذہ، والدین اور معاشرے کے ہر فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ایک ایسا نظام تشکیل دینا وقت کی اہم ضرورت ہے جہاں کامیابی کا معیار سفارش یا دولت نہیں بلکہ محنت، دیانت اور قابلیت ہو۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں مگر انصاف، شفافیت اور امانت داری کی ذمہ داری ہمیشہ باقی رہتی ہے۔
تعلیم صرف ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ قوموں کی تعمیر کا ستون ہے۔ اگر اس ستون میں دراڑ پڑ جائے تو مستقبل کی پوری عمارت خطرے میں آ جاتی ہے۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ تعلیمی نظام کو شفاف، منصفانہ اور قابلِ اعتماد بنایا جائے تاکہ نوجوانوں کا اعتماد بحال ہو، ان کی محنت کا حقیقی احترام ہو اور قوم کا مستقبل محفوظ رہ سکے۔
ان وقتی مسائل میں الجھ کر ملک و قوم کے کلیدی مسائل کو عوام نظر انداز نہ کیا جائے اور ان پر اقتدار سے جواب دہی کا سلسلہ جاری رہے، تبھی جمہوری اقدار کی حفاظت ممکن ہے ورنہ وہی بات ہو گی کہ ’’اونٹ نگلے جارہے ہیں اور مچھر چھانے جا رہے ہیں‘‘۔
تعلیم کا بحران نوجوانوں کی تشویش اور جواب دہی کا مطالبہ

اونٹ نگلنے نہیں دینا ہے، اقتدار کی نکیل کسنے پر توجہ مرکوز رہے

