صرف ایک تعلیمی سال میں 8 ہزار سے زائدسرکاری اسکولوں کو تالے لگ گئے
اسکولی سطح پر مسلم طلبا کی تعداد میں اضافہ، تعلیم میں شمولیت کا مثبت رجحان
نور اللہ جاوید،کولکاتا
قومی دارالحکومت دلی میں مانسون کی بارشوں کے درمیان گزشتہ کئی ہفتوں سے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد جنتر منتر پر احتجاج کر رہی ہے۔ اگرچہ اس احتجاج کا آغاز نیٹ (NET/NEET) امتحانات میں بد عنوانی کے خلاف ہوا تھا مگر اب یہ ملک کے تعلیمی نظام، انتظامی ناکامیوں اور روزگار سے متعلق گہرے بحران کے خلاف ایک وسیع بے چینی میں تبدیل ہو گیا ہے۔ اگرچہ قومی میڈیا اس احتجاج کو وہ اہمیت نہیں دے رہا ہے جس کا یہ مستحق ہے، اور ایک بڑے حلقے کو اس تحریک کو لے کر بہت سارے تحفظات بھی ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس احتجاج نے تعلیمی نظام میں موجود بنیادی خامیوں کو قومی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ اسی دوران لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے مختلف جامعات اور طلبا کے درمیان تعلیمی نظام کی خامیوں کو اجاگر کرتے ہوئے اس کو بہتر کرنے کی جو مہم شروع کی ہے، وہ ایک ایسے ماحول میں جہاں سیاسی مباحث کا مرکزی موضوع زیادہ تر مذہبی اور شناختی مسائل ہیں، ایک خوشگوار تبدیلی کہی جا سکتی ہے۔ تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا یہ مباحث اور سیاسی سرگرمیاں تعلیمی اصلاحات کی صورت اختیار کریں گی یا محض وقتی سیاسی بیانات اور مہم بن کر رہ جائیں گی؟
یہ سوال اس لیے بھی زیادہ اہم ہے کہ حالیہ سرکاری اور نیم سرکاری رپورٹس بھارت کے تعلیمی منظر نامے کی ایک تشویشناک تصویر پیش کرتی ہیں۔ یونیفائیڈ ڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم فار ایجوکیشن پلس (UDISE+) نیتی آیوگ اور وزارتِ تعلیم کی مختلف رپورٹوں کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک بھر میں تقریباً ایک لاکھ سرکاری اسکول بند یا ضم کیے جا چکے ہیں۔ اسی عرصے میں لاکھوں بچے سرکاری اسکولوں سے نکلے ہیں جبکہ نجی اسکولوں کی تعداد اور ان میں داخلوں کا تناسب مسلسل بڑھ رہا ہے۔ حکومت اس عمل کو ’’ریشنلائزیشن‘‘ (Rationalisation) یعنی وسائل کے مؤثر استعمال، کم داخلے والے اسکولوں کے انضمام اور بہتر تعلیمی سہولتوں کی فراہمی کی حقیقت پسندانہ پالیسی قرار دیتی ہے۔ دوسری طرف متعدد ماہرینِ تعلیم، تعلیمی کارکنان اور سماجی محققین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کے نتیجے میں تعلیم بتدریج نجی شعبے کے حوالے کی جا رہی ہے، جس سے غریب، دیہی، دلت، آدیواسی اور دیگر پسماندہ طبقات کے بچوں کے لیے معیاری تعلیم تک رسائی مزید دشوار ہو رہی ہے۔
ان متضاد دعوؤں کے درمیان اصل سوال یہ ہے کہ حقیقت کیا ہے؟ اگر تعلیمی نظام پہلے سے زیادہ بہتر ہوا ہے تو پھر اتنی بڑی تعداد میں بچے سرکاری اسکول کیوں چھوڑ رہے ہیں؟ اب بھی ڈراپ آؤٹ کی شرح بہت ہی زیادہ کیوں ہے؟ اگر سرکاری اسکولوں کا انضمام صرف انتظامی اصلاح ہے تو ملک میں نجی اسکولوں کی تیز رفتار توسیع کیوں ہو رہی ہے؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ وہ لاکھوں بچے کہاں جا رہے ہیں جو تعلیمی نظام سے غائب ہو رہے ہیں؟ کیا وہ نجی اسکولوں میں منتقل ہو رہے ہیں یا غربت، معاشی دباؤ اور سماجی رکاوٹوں کے باعث ہمیشہ کے لیے تعلیم سے محروم ہو رہے ہیں؟
ان سوالوں کے جوابات تلاش کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مشترکہ ضلعی معلوماتی نظام پلس (UDISE+) نیتی آیوگ، وزارتِ تعلیم، اقتصادی سروے، ASER اور دیگر تحقیقی مطالعات کا مشترکہ تجزیہ کیا جائے۔ ان اعداد و شمار سے صرف اسکولوں کی تعداد میں تبدیلی ہی سامنے نہیں آتی بلکہ یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ بھارت کا تعلیمی نظام ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں تعلیم کا مقصد، اس کی رسائی، معیار اور سماجی انصاف سبھی نئے سوالات کی زد میں ہیں۔ اس پس منظر میں سب سے بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا موجودہ سیاسی اور انتظامی نظام اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے کہ تعلیم محض ایک خدمت یا بازار کی شے نہیں بلکہ آئینی حق، سماجی انصاف اور جمہوریت کے مستقبل کی بنیاد ہے؟ اور کیا حکومت ایسا تعلیمی ڈھانچہ تشکیل دینے کے لیے سنجیدہ ہے جو معاشی حیثیت، مذہب، ذات اور جغرافیہ سے بالاتر ہو کر ہر بچے کو یکساں اور معیاری تعلیم کی ضمانت دے سکے؟ سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا تعلیم کی فراہمی جو کہ دراصل حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے، وہ اس فریضے کو ادا کرنے کے لیے تیار ہے؟ کیونکہ تمام تر وعدوں کے باوجود تعلیم کے شعبے میں کل بجٹ کا چھ فیصد خرچ کرنے کا ہدف اب تک مکمل نہیں کیا جا سکا ہے۔
سرکاری رپورٹیں: متضاد دعوے اور حقائق
کسی بھی نظام کا جائزہ اور اس کے حقائق کا صحیح ادراک مختلف سرکاری ایجنسیوں اور غیر سرکاری اداروں کی تحقیقاتی رپورٹوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ چناں چہ ملک کے تعلیمی نظام کی کارکردگی کا اگر جائزہ لیا جائے تو متضاد تصویر سامنے آتی ہے۔ ایک طرف بنیادی ڈھانچے، اساتذہ کی تعداد اور بعض تعلیمی اشاریوں میں بہتری دکھائی دیتی ہے، تو دوسری طرف سرکاری اسکولوں کی بندش، طلبہ کے اندراج میں کمی، ثانوی سطح پر بڑھتے ہوئے ڈراپ آؤٹ، نجی تعلیم کی توسیع اور تعلیمی عدم مساوات جیسے سنگین مسائل بھی واضح ہوتے ہیں۔ وزارتِ تعلیم کے سرکاری ڈیٹا بیس 'یو ڈی آئی ایس ای پلس (UDISE+) کو بھارت کے اسکولی نظام کا سب سے معتبر ریکارڈ سمجھا جاتا ہے۔ حکومت اس کے بعض پہلوؤں کو مثبت اشاریوں کے طور پر پیش کرتی ہے مگر یہ رپورٹ سماجی عدم مساوات کی طرف بھی واضح اشارہ کرتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق جہاں شیڈولڈ کاسٹ (SC) اور دیگر پسماندہ طبقات (OBC) کے طلباء کے داخلوں کی شرح گزشتہ چھ سالوں میں اپنی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، وہیں صرف ایک تعلیمی سال میں آٹھ ہزار سے زیادہ سرکاری اسکولوں کو تالے لگ گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اب ایس سی کے داخلے 4 .38 کروڑ اور او بی سی (اوبی سی) کے داخلے 11.09 کروڑ رہ گئے ہیں، جو کہ 2024-2025 کے اعداد و شمار میں بالترتیب 4 .39 کروڑ اور 11.16 کروڑ تھے۔ دوسری طرف ایک اور پسماندہ گروپ یعنی شیڈولڈ ٹرائب (ایس ٹی ) کے داخلوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، لیکن پچھلے چھ سالوں کے ڈیٹا کے مقابلے میں یہ کوئی بڑا اضافہ نہیں ہے۔اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ جہاں شیڈولڈ کاسٹ (SC) اور دیگر پسماندہ طبقات (OBC) کے طلبا کے داخلوں کی شرح پچھلے چھ سالوں میں اپنی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ دوسری طرف ایک اور پسماندہ گروپ یعنی شیڈولڈ ٹرائب (ایس ٹی) کے داخلوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، لیکن پچھلے چھ سالوں کے ڈیٹا کے مقابلے میں یہ کوئی بڑا اضافہ نہیں ہے۔ سرکاری اسکولوں سے 26 لاکھ طلبا کا غائب ہونا ایک اور تشویشناک رجحان سرکاری اسکولوں میں داخلوں کی مسلسل گھٹتی ہوئی تعداد ہے۔ اس کے برعکس نجی (پرائیویٹ) اسکولوں میں داخلوں کی تعداد میں 30 لاکھ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ طلبا کی گھٹتی ہوئی یہ تعداد بڑے پیمانے پر سرکاری اسکولوں کی بندش کا اشارہ ہے۔ سال 2026-25 میں سرکاری اسکولوں کی کل تعداد 10,50,245 رہ گئی ہے، جب کہ 2024-25 میں یہ تعداد 10,13,322 تھی—جو ظاہر کرتی ہے کہ ایک سال میں 8،077 سرکاری اسکول مستقل طور پر بند ہوئے ہیں (جبکہ اس سے پچھلے سال یہ تعداد 4,338 تھی
قومی سطح پر، یو ڈی آئی ایس ای پلس میں رجسٹرڈ کل طلبا میں سے 27.5 فیصد جنرل کیٹیگری سے،17.7 فیصد ایس سی، 10فیصد ایس ٹی اور 44.9 فیصد او بی سی کیٹیگری سے ہیں۔ تاہم، پچھلے چھ سالوں کے مقابلے میں اقلیتی اور مسلم طلبا کے داخلے اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں، جو بالترتیب 5. 03 کروڑ اور 3.99 ہیں۔
مجموعی طور پر 2025-26 میں اسکولوں میں کل داخلے بڑھ کر 24.72 کروڑ ہو گئے ہیں جو پچھلے سال 26.69 کروڑ تھے۔ لیکن مڈل اسٹیج (چھٹی سے آٹھویں جماعت) میں اسکول چھوڑنے والے بچوں کی شرح 5.3 فیصد سے بڑھ کر 6.3 فیصد ہو گئی ہے۔ اس مرحلے پر لڑکیوں کے اسکول چھوڑنے کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے جو پچھلے سال کے 2.9 فیصد سے بڑھ کر3.4 فیصد ہو گئی ہے۔ ریاستوں کے لحاظ سے اتر پردیش، راجستھان، میگھالیہ، مدھیہ پردیش، ہریانہ، بہار، آسام اور اروناچل پردیش میں اسکول چھوڑنے کی شرح قومی اوسط سے زیادہ ہے۔ بہار میں یہ شرح نو فیصد ہے، جبکہ اتر پردیش میں گزشتہ برس کے مقابلہ تین فیصد سے بڑھ کر6.7 فیصد ہو گئی ہے۔ سیکنڈری اسٹیج (نویں سے بارہویں جماعت) میں داخلوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، لیکن یہاں اسکول چھوڑنے کی شرح بھی سب سے زیادہ یعنی سات فیصد ہے۔ لداخ میں سیکنڈری سطح پر اسکول چھوڑنے کی شرح میں خوفناک اضافہ ہوا ہے، جو 2024-25 کے 6.2 فیصد سے چھلانگ لگا کر 18 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ مغربی بنگال نے اس معاملے میں سب سے بہترین کارکردگی دکھائی ہے، جہاں ڈراپ آؤٹ کی شرح 1.5 فیصد رہ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق رائٹ ٹو ایجوکیشن (RTE) کے بعد پرائمری سطح پر تو بڑے پیمانے پر اسکول قائم کیے گئے لیکن سیکنڈری سطح پر اس کے متناسب اسکول نہیں بن پائے۔ اسکولوں کی دستیابی میں یہ عدم توازن ہی اعلیٰ کلاسوں میں بڑے پیمانے پر بچوں کے اسکول چھوڑنے کی اہم وجہ بن رہا ہے۔
تعلیم: حق یا خریدی جانے والی خدمت؟
یو ڈی آئی ایس ای پلس کے اعداد و شمار کی جتنی بھی مثبت تشریح کی جائے ایک حقیقت اپنی جگہ برقرار رہتی ہے کہ ہندوستان کا تعلیمی نظام تیزی سے ایک ایسے ماڈل کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں تعلیم ایک بنیادی حق کے بجائے خریدی جانے والی خدمت بنتی جا رہی ہے۔ سرکاری اسکولوں کی تعداد میں مسلسل کمی، نجی تعلیمی اداروں میں اضافہ، اور اعلیٰ تعلیم کے بڑھتے ہوئے اخراجات اس تبدیلی کی واضح علامت ہیں۔ اس تبدیلی کا سب سے بڑا اثر سماجی مساوات پر پڑ رہا ہے۔ آج معیاری تعلیم تک رسائی بتدریج معاشی حیثیت سے مشروط ہوتی جا رہی ہے۔ خوشحال اور مراعات یافتہ طبقہ مہنگے نجی اسکولوں، کوچنگ اداروں اور بین الاقوامی معیار کی تعلیم تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ متوسط، نچلے متوسط اور غریب خاندانوں کے لیے معیاری تعلیم حاصل کرنا روز بروز دشوار ہوتا جا رہا ہے۔ MoSPI (وزارتِ شماریات) کے تازہ سروے کے مطابق ایک نجی اسکول میں ایک طالب علم پر سالانہ اوسط خرچ سرکاری اسکول کے مقابلے میں تقریباً نو گنا زیادہ ہے، جبکہ کوچنگ، ٹرانسپورٹ، ڈیجیٹل آلات اور دیگر تعلیمی اخراجات اس بوجھ کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔
یہ صورتِ حال اس وقت مزید تشویش ناک ہو جاتی ہے جب حکومت ایک طرف سرکاری جامعات، کالجوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے مالی وسائل محدود کرتی ہے تو دوسری طرف نجی یونیورسٹیوں، خود مختار اداروں اور نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ حالیہ برسوں میں آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم، این آئی ٹی اور دیگر مرکزی تعلیمی اداروں میں فیسوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں اعلیٰ تعلیم عام خاندانوں کی پہنچ سے مزید دور ہوتی جا رہی ہے۔ نیتی آیوگ، ASER اور دیگر تحقیقی اداروں کی حالیہ رپورٹیں بھی مختلف زاویوں سے اسی بحران کی نشاندہی کرتی ہیں۔ کہیں سرکاری اسکولوں کے انضمام (School Consolidation) اور بندش پر سوالات اٹھائے گئے ہیں، کہیں ثانوی سطح پر طلبہ کے بڑھتے ہوئے ڈراپ آؤٹ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور کہیں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ ابتدائی داخلے میں بہتری کے باوجود تعلیم کے اگلے مراحل تک طلبہ کو برقرار رکھنا سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
کوچنگ انڈسٹری کا متوازی نظام اور اکیڈمک آزادی پر قدغن
اگر صرف اسکولی تعلیم تک ہی معاملہ محدود ہوتا تو شاید صورتِ حال اتنی تشویش ناک نہ ہوتی مگر حقیقت یہ ہے کہ پورا تعلیمی ڈھانچہ ایک بڑی تبدیلی سے گزر رہا ہے۔ اسکول کے بعد اب کوچنگ سنٹروں کا ایک متوازی تعلیمی نظام وجود میں آچکا ہے۔ آج نیٹ (NEET) جے ای ای (JEE) یو پی ایس سی اور دیگر مقابلہ جاتی امتحانات کے گرد کھڑی ہونے والی پوری صنعت اس بات کی علامت ہے کہ اسکول کی تعلیم اب اعلیٰ تعلیم اور روزگار کے لیے ناکافی سمجھی جانے لگی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں ہزاروں کروڑ روپے کی کوچنگ انڈسٹری وجود میں آچکی ہے۔ تعلیم جسے کبھی سماجی خدمت اور قوم سازی کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا اب ایک بڑی تجارتی سرگرمی میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ کوچنگ اداروں کے درمیان شدید مسابقت، بھاری فیسیں، اشتہاری مہمات اور کامیابی کی شرح کو کاروباری انداز میں پیش کرنے کا رجحان اس تبدیلی کی واضح مثالیں ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں امتحانی نظام میں پیپر لیک اور بے ضابطگیوں نے اس پورے ماڈل کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔
لیکن بحران صرف اسکولوں یا کوچنگ مراکز تک محدود نہیں ہے بلکہ ملک کے اعلیٰ تعلیمی ادارے بھی گہرے دباؤ کا شکار نظر آتے ہیں۔ متعدد مرکزی یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کے بجٹ میں کمی، خود مالی انحصار (Self-financing) کی پالیسی، فیسوں میں مسلسل اضافہ اور نجی یونیورسٹیوں کی حوصلہ افزائی نے اعلیٰ تعلیم کو غریب طبقے کی پہنچ سے دور کر دیا ہے۔ اسی کے ساتھ ایک اور اہم سوال اکیڈمک آزادی (Academic Freedom) کا ہے۔ بین الاقوامی اداروں کی مختلف رپورٹوں میں ہندوستان میں علمی آزادی اور آزاد تحقیق کے ماحول میں کمی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ متعدد اساتذہ اور ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ جامعات میں تحقیقی آزادی، نصاب سازی اور علمی مباحث پر انتظامی اور سیاسی اثر و رسوخ بڑھا ہے، جس کے نتیجے میں یونیورسٹیوں کی خود مختاری متاثر ہوئی ہے۔
وِکست بھارت شِکشا ادھیشتھان بل 2025: مرکزیت کا نیا تنازع
اسی تناظر میں حکومت کا مجوزہ قانون ’’وکست بھارت شکشا ادھیشتھان بل 2025‘‘ بھی شدید بحث اور تنازعات کا موضوع بنا ہوا ہے۔ یہ بل یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC) آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن (AICTE) اور نیشنل کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن (NCTE) کو ختم کر کے ان کی جگہ ایک واحد ہائر ریگولیٹری باڈی قائم کرنے کی وکالت کرتا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ اس کا مقصد اعلیٰ تعلیم کے معیار کو یکساں بنانا اور ضابطہ کاری کو آسان کرنا ہے۔ تاہم، پارلیمنٹ کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (JPC) میں اس بل کو شدید مخالفت کا سامنا ہے۔ نہ صرف اپوزیشن بلکہ خود حکومت کی اتحادی جماعتوں (جیسے TDP) اور بی جے پی کے زیرِ اقتدار ریاستوں (جیسے مدھیہ پردیش) نے بھی اس کی شقوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ناقدین اور اپوزیشن ارکان کا الزام ہے کہ یہ بل تعلیم کے شعبے میں حد سے زیادہ مرکزیت (Over-centralisation) پیدا کرتا ہے جو وفاقی ڈھانچے پر حملہ اور ریاستوں کے اختیارات پر آئینی تجاوز ہے۔ بنارس ہندو یونیورسٹی سمیت ملک کی کئی نامور ریاستی اور مرکزی یونیورسٹیوں نے اس بل کی مرکزیت پسند شقوں کی مذمت کی ہے۔ ترنمول کانگریس (TMC) اور کانگریس کے رہنماؤں نے جے پی سی کی مشاورت کے دوران واضح کیا کہ یہ مجوزہ قانون اعلیٰ تعلیم کو صرف امیروں کی جاگیر بنا دے گا، اکیڈمک آزادی کو تباہ کرے گا اور 'بھارتیہ علمی نظام' کے نام پر صرف ایک مخصوص نظریے کی تنگ تشریح کو نافذ کرنے کی کوشش کرے گا۔ ان متنازع شقوں اور اپوزیشن کے سخت دباؤ کے باعث حال ہی میں جے پی سی کو اس بل پر اپنی ڈرافٹ رپورٹ منظور کرنے کا اجلاس بھی منسوخ کرنا پڑا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعلیمی ڈھانچے کی اس زبردستی تبدیلی کے خلاف مزاحمت کتنی گہری ہے۔
یوں آج بھارت کے تعلیمی نظام کے سامنے بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ کتنے اسکول کھل رہے ہیں یا کتنے بند ہو رہے ہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا تعلیم ایک عوامی حق (Public Good) کے طور پر برقرار رہے گی یا رفتہ رفتہ ایک ایسی منڈی میں تبدیل ہو جائے گی جہاں معیاری تعلیم صرف وہی حاصل کر سکے گا جو اس کی بھاری قیمت ادا کرنے کی استطاعت رکھتا ہوگا۔
قوموں کا مستقبل کلاس رومس میں لکھا جاتا ہے
’’تعلیم دنیا کو بدلنے کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔‘‘ نیلسن منڈیلا کے اس تاریخی قول کی روشنی میں اگر ہندوستان کے تعلیمی ڈھانچے کا جائزہ لیا جائے تو کئی بنیادی سوالات سامنے آتے ہیں۔ کیا ملک کے تعلیمی نظام کو شعوری طور پر اس نہج پر پہنچایا جا رہا ہے جہاں معیاری تعلیم صرف معاشی طور پر مضبوط طبقے کی دسترس میں رہ جائے؟ کیا سرکاری تعلیمی نظام کی کمزوری، بڑھتی ہوئی نجکاری، مہنگی تعلیم اور تحقیقی آزادی پر بڑھتی پابندیاں مستقبل کے ہندوستان کی سمت متعین کر رہی ہیں؟ ایسے حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک بھر میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے بلند ہونے والی آوازوں کو مزید مضبوط کیا جائے اور ایک ایسے نظامِ تعلیم کی راہ ہموار کی جائے جو مساوات، یکساں رسائی، سماجی انصاف، سائنسی فکر، تنقیدی شعور اور آئینی اقدار پر مبنی ہو۔ کیونکہ تعلیم صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک باشعور، آزاد اور جمہوری معاشرے کی بنیاد ہے۔ آئین ساز ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے کہا تھا کہ ’’تعلیم حاصل کرو، منظم ہو اور جدوجہد کرو‘‘۔ یہ پیغام آج بھی اتنا ہی معنی خیز ہے کیونکہ سماجی انصاف، شہری آزادی اور جمہوریت کا استحکام تعلیم ہی سے وابستہ ہے۔ اسی حقیقت کی طرف امریکی ماہرِ تعلیم جان ڈیوی نے بھی اشارہ کیا تھا کہ ’’جمہوریت کی بقا کا انحصار تعلیم پر ہے، کیونکہ تعلیم ہی باشعور اور ذمہ دار شہری پیدا کرتی ہے‘‘۔ اس لیے اگر بھارت کو واقعی ایک مضبوط، منصفانہ اور ترقی یافتہ جمہوری ریاست بنانا ہے تو سب سے پہلے اس کے تعلیمی نظام کو مضبوط، آزاد، مساوی اور سب کے لیے قابلِ رسائی بنانا ہوگا، کیونکہ قوموں کا مستقبل پارلیمنٹ سے پہلے کلاس روموں میں لکھا جاتا ہے۔
***
تعلیمی نظام کا بدلتا ڈھانچہ: اصلاح یا نجکاری کا جال؟

بند ہوتے سرکاری اسکول، بڑھتی فیسیں: تعلیم اب حق یا بازار کی شے!

