بھارتی ریاستوں میں مذہب تبدیلی مخالف قوانین کی آڑ میں اقلیتوں کے خلاف کارروائیاں
’گھر واپسی‘ کے نام پر مذہبی تبدیلی کو الگ چشمے سے دیکھنے کا رجحان
حالیہ برسوں میں بھارت میں ’’فرد کی آزادی‘‘ اور ’’اپنی پسند کے مطابق زندگی گزارنے کے حق‘‘ کے تصور کو مذہب کی تبدیلی کے تنازع نے ایک پیچیدہ قانونی اور سیاسی مسئلے میں تبدیل کر دیا ہے۔ مذہب تبدیل کرنا اب محض ایک شخص کے ذاتی عقیدے یا ضمیر کا معاملہ نہیں رہا بلکہ کئی ریاستوں میں تبدیلیِ مذہب کو فوجداری قانون، انتظامی نگرانی اور سیاسی بیانیے کے دائرے میں لا کھڑا کیا گیا ہے۔ مختلف ریاستوں میں ’’جبری تبدیلیِ مذہب‘‘، ’’فریب‘‘ اور ’’لالچ‘‘ کے نام پر بنائے گئے قوانین کا بنیادی مقصد بظاہر شہریوں کو زبردستی یا دھوکے سے مذہب تبدیل کرانے سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ جب یہی قوانین رضاکارانہ طور پر مذہب تبدیل کرنے والے بالغ افراد کی زندگی میں ریاستی مداخلت کا ذریعہ بن جائیں تو آئینی آزادی اور فرد کے حقِ انتخاب کا کیا ہوگا؟
اس پورے معاملے میں ملک کی اعلیٰ عدالتوں کا رویہ اگرچہ متضاد رہا ہے، تاہم اگست 2026 کے پہلے ہفتے میں دو بہنوں کے مذہب کی تبدیلی اور والد کے ذریعے انہیں قید رکھنے کے معاملے میں سنایا گیا فیصلہ فرد کی آزادی اور اپنی مرضی کے مطابق عقیدہ اختیار کرنے کے حق سے متعلق ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مگر بڑا سوال یہی ہے کہ کیا عدالتوں کے ایسے فیصلوں کے تناظر میں ریاستیں اپنے رویے میں تبدیلی لائیں گی اور فرد کی آزادی کا احترام کریں گی یا پھر اپنے سیاسی ایجنڈے پر ہی عمل پیرا رہیں گی؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ بھارت کے آئین نے مذہبی آزادی کو بنیادی حقوق کا حصہ بنایا ہے۔ آئین کا آرٹیکل 25 ہر شخص کو آزادیِ ضمیر اور اپنے مذہب کو ماننے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کا حق دیتا ہے، اگرچہ یہ حق عوامی نظم، اخلاقیات، صحت اور آئین کی دیگر دفعات کے تابع ہے۔ آرٹیکل 26 مذہبی فرقوں کو اپنے مذہبی امور کے انتظام کا حق دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 27 اور 28 بھی مذہب اور ریاست کے تعلق سے اہم آئینی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہو جاتا ہے جب ’’جبری تبدیلی‘‘ روکنے کے نام پر قوانین کی تشریح اتنی وسیع کردی جائے کہ رضاکارانہ مذہبی انتخاب بھی ریاستی نگرانی کا موضوع بن جائے۔
بھارتی آئین کی روح یہ تصور پیش کرتی ہے کہ ریاست کسی شہری کے مذہبی عقیدے کی نگران نہیں بلکہ اس کے بنیادی حقوق کی محافظ ہے۔ مذہب کا تعلق محض عبادت کے طریقے سے نہیں بلکہ فرد کی شناخت، ضمیر، فکری آزادی اور ذاتی زندگی سے بھی ہوتا ہے۔ اسی لیے کسی بالغ فرد کا یہ فیصلہ کہ وہ کس مذہب کو مانے، کس مذہب کو چھوڑے یا کسی مذہب سے وابستہ نہ رہے، بنیادی طور پر اس کے ضمیر اور ذاتی آزادی کا معاملہ ہونا چاہیے۔ تاہم اس آزادی کا یہ مطلب بھی نہیں کہ کسی شخص کو طاقت، دھوکے یا غیر قانونی ذرائع کے ذریعے دوسرے شخص کا مذہب تبدیل کرنے کا حق حاصل ہے۔ ریاست کو جبری یا دھوکے پر مبنی تبدیلی کے خلاف کارروائی کا اختیار حاصل ہے لیکن اصل سوال اس اختیار کی حدود کا ہے۔ ریاست جبری تبدیلی کو روکنے کے نام پر رضاکارانہ تبدیلیِ مذہب میں کس حد تک مداخلت کر سکتی ہے؟
بھارت میں مذہبی تبدیلی کا معاملہ کوئی نیا یا محض جدید سیاسی مسئلہ نہیں ہے۔ برصغیر کی تاریخ میں مذہبی عقائد اور وابستگیوں کی تبدیلی کا ایک طویل اور پیچیدہ سلسلہ ہے جو قدیم بھارت سے شروع ہو کر قرونِ وسطیٰ، نوآبادیاتی دور اور پھر آزادی کے بعد تک پھیلا ہوا ہے۔ تاہم مختلف ادوار میں مذہبی تبدیلی کے محرکات، طریقۂ کار اور اس کے سماجی و سیاسی اثرات مختلف رہے ہیں۔ کہیں تبدیلی فکری اور روحانی کشش کا نتیجہ تھی، کہیں سماجی مساوات کی تلاش نے لوگوں کو نئے مذہبی راستوں کی طرف متوجہ کیا، جبکہ بعض ادوار میں سیاسی اقتدار، معاشی حالات اور ریاستی سرپرستی نے بھی مذہبی وابستگیوں کو متاثر کیا۔
قدیم بھارت میں بدھ مت اور جین مت کا ظہور مذہبی اور سماجی تاریخ میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ دونوں مذاہب نے ویدک مذہبی روایت کے بعض پہلوؤں سے مختلف راستہ اختیار کیا اور اخلاقی زندگی، عدم تشدد، تزکیۂ نفس اور ذاتی ادراک پر زور دیا۔ بدھ مت نے خاص طور پر وسیع سماجی حلقوں میں اثر پیدا کیا اور موریہ عہد میں اشوک کی سرپرستی کے بعد ہندوستان کے مختلف علاقوں اور بیرونِ ہند تک پھیل گیا۔ جین مت نے بھی صدیوں تک ہندوستان کے مختلف علاقوں میں مضبوط مذہبی اور سماجی اثرات قائم کیے۔ اس دور کی مذہبی تبدیلیوں کو صرف ’’تبلیغ‘‘ کے تناظر میں دیکھنا درست نہیں ہوگا؛ مذہبی فلسفہ، شاہی سرپرستی، خانقاہی و تعلیمی مراکز، تجارت اور مختلف سماجی گروہوں کے باہمی روابط بھی مذہبی وابستگیوں کی تشکیل میں اہم عوامل تھے۔
قرونِ وسطیٰ میں اسلام کی آمد اور اس کے بعد مسلم سلطنتوں کے قیام نے بھی ہندوستان کے مذہبی منظرنامے کو نمایاں طور پر تبدیل کیا۔ اسلام کی ہندوستان میں موجودگی صرف سیاسی اقتدار کے ذریعے نہیں پھیلی؛ صوفی خانقاہوں، علما، تاجروں اور مختلف سماجی و ثقافتی روابط نے بھی اسلام کے پھیلاؤ میں کردار ادا کیا۔ خصوصاً برصغیر کے مختلف علاقوں میں صوفی روایت نے مقامی زبانوں، ثقافتوں اور سماجی طبقات کے ساتھ گہرا تعلق قائم کیا۔ بنگال اور دیگر پسماندہ علاقوں میں سماجی عدم مساوات نے بھی ایک بڑی تعداد کو اسلام کی طرف راغب کیا۔ اگرچہ ہندوتوا کے نظریہ ساز یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مسلم دورِ حکومت میں ہندوؤں کو تبدیلیِ مذہب کے لیے مجبور کیا گیا، تاہم کوئی بھی مورخ اس سلسلے میں کوئی ایسا تاریخی شواہد پیش نہیں کرتا کہ حکومت کی سرپرستی میں تبدیلیِ مذہب کرایا گیا ہو اور مسلم حکم رانوں نے اس پر توجہ دی ہو۔ ایک مسلمہ تاریخی حقیقت ہے کہ مسلم حکم رانوں کے طویل دورِ اقتدار (تقریباً چھ صدیوں) کے باوجود برصغیر میں مسلمان ہمیشہ اقلیت میں رہے اور اکثریت نے اپنے آبائی مذاہب کو ہی برقرار رکھا، جو اس دعوے کی نفی کرتا ہے کہ ریاستی سطح پر زبردستی یا جبراً مذہب تبدیل کرایا گیا تھا جب کہ دنیا کے کئی دیگر خطوں (جیسے مشرق وسطیٰ یا شمالی افریقہ) کی تاریخ اس کے برعکس رہی ہے جہاں اسلام کی آمد کے بعد بڑی آبادی نے نسبتاً کم مدت میں اسلام قبول کر لیا، جب کہ ہندوستان کا کثیر الثقافتی اور کثیر المذہبی تانے بانے اس سے مختلف رہے۔
برطانوی نوآبادیاتی دور میں مذہبی تبدیلی کا معاملہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا۔ عیسائی مشنری اداروں نے تعلیم، صحت، طباعت اور سماجی خدمت کے شعبوں میں وسیع سرگرمیاں شروع کیں۔ ابتدائی دور میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے مشنری سرگرمیوں کے بارے میں نسبتاً محتاط رویہ اختیار کیا، کیونکہ اسے خدشہ تھا کہ مذہبی مداخلت مقامی آبادی میں سیاسی بے چینی پیدا کر سکتی ہے۔ تاہم 1813 کے چارٹر ایکٹ کے بعد برطانوی بھارت میں عیسائی مشنری سرگرمیوں کے لیے زیادہ گنجائش پیدا ہوئی اور مشنری اداروں نے تعلیمی و طبی خدمات کے ذریعے اپنا اثر وسیع کیا۔ بنگال اس عمل کا ایک اہم مرکز بن کر سامنے آیا۔ ولیم کیری اور دیگر مشنریوں نے تعلیم، طباعت، زبان اور ترجمے کے شعبوں میں نمایاں کام کیا۔ مشنری اسکولوں، کالجوں، طبی مراکز اور طباعتی اداروں نے ہندوستانی معاشرے میں نئے فکری مباحث کو جنم دیا۔ ان سرگرمیوں کا ایک پہلو مذہبی تبلیغ بھی تھا اور بعض افراد نے عیسائیت قبول کی، لیکن ان تبدیلیوں کے اسباب کو صرف ’’لالچ‘‘ یا ’’مشنری سازش‘‘ کے فریم میں بیان کرنا تاریخی پیچیدگی کو نظر انداز کرنا ہوگا۔ خصوصاً دلت اور قبائلی برادریوں کے ایک حصے کے لیے عیسائی مشنری ادارے تعلیم، طبی سہولت اور سماجی تحفظ کے ایسے مراکز بنے جہاں انہیں بعض حالات میں اس وقت کے سخت ذات پات کے نظام کے مقابلے میں زیادہ سماجی وقار اور مساوات کا احساس دلایا جاتا تھا۔ لیکن یہاں بھی صورت حال تمام علاقوں میں یکساں نہیں تھی۔ مذہب تبدیل کرنے کے فیصلوں کے پیچھے مقامی سماجی حالات، ذات پات کا دباؤ، معاشی محرومی، تعلیم تک رسائی، مشنری سرگرمیاں، خاندانی عوامل اور ذاتی مذہبی رحجانات سب نے اپنا اپنا کردار ادا کیا۔
1947 میں آزادی کے بعد مذہبی تبدیلی کا سوال ایک نئے آئینی اور سیاسی تناظر میں سامنے آیا۔ آئین نے مذہبی آزادی کو بنیادی حقوق کا حصہ بنایا اور آرٹیکل 25 کے ذریعے آزادیِ ضمیر اور مذہب کو ماننے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کا حق تسلیم کیا۔ لیکن اسی کے ساتھ ریاست کو عوامی نظم، اخلاقیات، صحت اور دیگر آئینی حدود کے تحت مذہبی سرگرمیوں کو منظم کرنے کا اختیار بھی حاصل رہا۔ آزادی کے بعد مذہبی تبدیلی کے بارے میں تشویش کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ مختلف سیاسی اور مذہبی حلقوں میں یہ خدشہ موجود تھا کہ بڑے پیمانے پر مذہبی تبدیلیاں سماجی توازن اور مذہبی آبادی کے تناسب کو متاثر کر سکتی ہیں۔ یہ بحث صرف عیسائی مشنری سرگرمیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ بعد میں مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں سے متعلق سیاسی مباحث کا حصہ بھی بن گئی۔1956 میں ڈاکٹر امبیڈکر کا بدھ مت قبول کرنا اس بحث میں ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔ امبیڈکر نے اپنے لاکھوں پیروکاروں کے ساتھ بدھ مت اختیار کیا۔ ان کی تبدیلی کسی مشنری تنظیم کی سرگرمی کے بجائے ذات پات، سماجی امتیاز اور انسانی وقار کے سوال سے جڑی ہوئی ایک بڑی سماجی و سیاسی تحریک تھی۔ اس واقعے نے یہ واضح کیا کہ مذہب کی تبدیلی بعض اوقات صرف روحانی عقیدے کی تبدیلی نہیں ہوتی بلکہ سماجی شناخت، عزتِ نفس اور مساوات کے مطالبے کا اظہار بھی بن سکتی ہے۔
یہی وہ پس منظر تھا جس میں آزادی کے بعد مذہبی تبدیلی کو منظم کرنے کے لیے ریاستی سطح پر قانون سازی کا آغاز ہوا۔ اڑیسہ نے 1967 میں ’’اڈیشہ فریڈم آف ریلیجن ایکٹ‘‘ نافذ کیا، جبکہ مدھیہ پردیش نے 1968 میں مذہبی آزادی سے متعلق قانون بنایا۔ ان قوانین کا بنیادی مقصد طاقت، فریب یا لالچ کے ذریعے مذہب تبدیل کروانے کو روکنا تھا۔ بعد کے برسوں میں کئی دوسری ریاستوں نے بھی اسی نوعیت کے قوانین بنائے۔ حالیہ برسوں میں جھارکھنڈ، اتراکھنڈ، ہماچل پردیش، اتر پردیش، گجرات، مدھیہ پردیش، ہریانہ، کرناٹک اور راجستھان سمیت متعدد ریاستوں نے مذہبی تبدیلی کو منظم کرنے کے لیے قوانین نافذ کیے یا ان میں سخت دفعات شامل کیں۔ ان قوانین میں ریاست بہ ریاست فرق ضرور ہے، لیکن ایک مشترک رجحان نمایاں ہے مذہب تبدیل کرنے والے افراد اور مذہبی تنظیموں کے لیے اطلاع، اجازت یا سرکاری نگرانی کی شرائط، اور بعض صورتوں میں مبینہ ’’غیر قانونی تبدیلی‘‘ کے لیے سخت سزائیں۔ یہیں سے ایک بنیادی آئینی سوال پیدا ہوتا ہے—اگر کوئی بالغ شخص اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرتا ہے تو کیا اسے اپنے فیصلے کے لیے ریاستی اجازت کی ضرورت ہونی چاہیے؟
مذہب تبدیلی کے معاملے میں سپریم کورٹ کا اسٹیٹ آف مدھیہ پردیش بنام اسٹینسٹاس (1977) کا فیصلہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ سپریم کورٹ نے آرٹیکل 25 میں استعمال ہونے والے لفظ ’’propagate‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ مذہب کی تبلیغ یا اپنے مذہب کے عقائد دوسروں تک پہنچانے کا حق کسی دوسرے شخص کو لازماً اپنے مذہب میں تبدیل کرنے کا حق نہیں دیتا۔ عدالت کے مطابق کسی دوسرے شخص کو زبردستی، فریب یا لالچ کے ذریعے تبدیل کرنا اس شخص کی آزادیِ ضمیر کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس فیصلے نے ایک اہم فرق واضح کیا کہ مذہب کی تبلیغ کا حق اور کسی دوسرے شخص کو زبردستی تبدیل کرنے کا حق ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مذہب تبدیلی مخالف قوانین کے حامی اس فیصلے کو اپنی قانونی پوزیشن کے لیے بنیادی نظیر کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ لیکن موجودہ بحث اس سے آگے بڑھ چکی ہے۔ آج سوال صرف یہ نہیں کہ کسی دوسرے شخص کو زبردستی تبدیل کیا جا سکتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا ایک بالغ فرد کو اپنی مرضی سے اپنا مذہب تبدیل کرنے کے بعد بھی ریاست، خاندان یا سماجی گروہوں کی مداخلت کا سامنا کرنا چاہیے؟ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے مذکورہ فیصلے میں بھی یہ واضح تھا کہ ان دو بہنوں نے اپنی مرضی کے مطابق اسلام قبول کیا تھا اس کے باوجود پولس اور والدین نے انہیں قید میں رکھا ۔
گزشتہ ایک دہائی میں مذہب تبدیلی مخالف قوانین کی بحث کو ’’لَو جہاد‘‘ کے سیاسی بیانیے سے بھی جوڑا گیا ہے۔ بعض ریاستوں میں بین المذاہب شادیوں اور مذہب کی تبدیلی کو ایک ہی قانونی اور سیاسی فریم میں دیکھنے کا رجحان پیدا ہوا ہے۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ قوانین خواتین، کمزور طبقات اور مذہبی اقلیتوں کو دھوکے یا دباؤ سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔ ان کے مطابق اگر کوئی شخص شادی یا مالی فائدے کے نام پر دوسرے شخص کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کرتا ہے تو ریاست کو مداخلت کرنی چاہیے۔ لیکن ناقدین کا سوال مختلف ہے۔اگر دو بالغ افراد اپنی مرضی سے شادی کرتے ہیں اور ان میں سے کوئی ایک اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرتا ہے تو کیا ریاست کو اس ذاتی فیصلے کی تفتیش کرنی چاہیے؟ یہ سوال بالخصوص خواتین کی خود مختاری کے حوالے سے اہم ہے، کیونکہ کسی بالغ عورت کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنی زندگی، شادی اور عقیدے کے بارے میں آزادانہ فیصلہ کرے۔"اس تناظر میں ماضی کے بعض ہائی پروفائل مقدمات (جیسے ہادیہ کیس) کی یاد تازہ ہو جاتی ہے، جہاں بالغ افراد کی طرف سے عدالت میں یہ اعتراف کیے جانے کے باوجود کہ انہوں نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کیا ہے، سپریم کورٹ یا عدالتوں کی جانب سے این آئی اے (NIA) جیسی اعلیٰ سطحی ایجنسیوں سے جانچ کرائی گئی۔ یہیں سے یہ سوال شدت سے جنم لیتا ہے کہ جب ایک بالغ شخص اپنے ہوش و حواس میں خود اپنے مذہب کا فیصلہ کر رہا ہو، تو اس کے بیان پر شبہ کرتے ہوئے ریاستی تفتیش کا دائرہ کار پھیلا دینا کیا عدالتی رویوں کا ایک تضاد نہیں ہے؟
اسی تناظر میں مسلم مبلغین—جیسے ڈاکٹر ذاکر نائیک، مولانا کلیم صدیقی اور عمر گوتم وغیرہ—کے مقدمات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ ایک طرف جہاں آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک اور دیگر ہندتو تنظیمیں کھلے عام ’گھر واپسی‘ اور ’شدھی‘ کی مہمات چلاتی ہیں، مسلمانوں کو ہندو سماج کا حصہ ماننے کا سماجی دباؤ بناتی ہیں اور انہیں اس کی مکمل چھوٹ حاصل ہے؛ وہیں دوسری طرف مذکورہ مسلم مبلغین اور فلاحی شخصیات کو مختلف بہانوں سے قانونی شکنجے میں کسا گیا ہے۔ دوسری جانب، پارلیمنٹ میں زیرِ بحث ایف سی آر اے (FCRA) قانون اور اس سے متعلقہ ترامیم کو لے کر بھی یہ خدشات ظاہر کیے جاتے رہے ہیں کہ اس کا اصل ہدف عیسائی اور مسلم فلاحی ادارے ہیں، کیونکہ ماہرین کے مطابق اس قانون کا مقصد بنیادی طور پر اس خوف کو کنٹرول کرنا ہے کہ غیر ملکی چندے یا فنڈز اقلیتی اداروں (بالخصوص عیسائی مشنریوں) کے ذریعے سرگرمیوں میں استعمال ہوتے ہیں۔"
الٰہ آباد ہائی کورٹ کے سامنے دو بالغ بہنوں کا معاملہ آیا جنہوں نے ہندو مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کیا تھا۔ ان کے بارے میں الزام تھا کہ ان کے والد نے انہیں ان کی مرضی کے خلاف گھر میں محدود کر رکھا تھا۔ عدالت نے پہلے دونوں خواتین کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا۔ بعد ازاں عدالت نے ان کی آزادی اور اپنی پسند کے مطابق زندگی گزارنے کے حق کو اہمیت دیتے ہوئے والد اور ریاستی حکومت کو مجموعی طور پر 25 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت کے سامنے خواتین نے اپنے مذہب کی تبدیلی کو رضاکارانہ قرار دیا تھا۔ یہ فیصلہ اس بنیادی اصول کی یاد دہانی کراتا ہے کہ بالغ فرد کی آزادی کو صرف اس بنیاد پر محدود نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے ایسا مذہبی فیصلہ کیا ہے جسے اس کا خاندان یا سماج ناپسند کرتا ہے۔ یہاں مسئلہ صرف اسلام قبول کرنے یا ہندو مذہب چھوڑنے کا نہیں، اصول اس سے کہیں وسیع ہے: اگر ایک بالغ شخص اپنی مرضی سے اپنا مذہب منتخب کرتا ہے تو ریاست اور خاندان دونوں کو اس کی شخصی آزادی کا احترام کرنا ہوگا۔
کسی شخص کو زبردستی، فریب یا دھوکے سے مذہب تبدیل کرانے سے روکنا ریاست کی ذمہ داری ہے، لیکن کیا ریاست کو ایک بالغ فرد کے رضاکارانہ مذہبی انتخاب کی نگرانی کا بھی حق حاصل ہونا چاہیے؟یہ فرق بہت اہم ہے۔ اگر مذہب تبدیلی کے خلاف قانون کا مقصد کسی فرد کو طاقت، دھوکے یا استحصال سے بچانا ہے تو اس کا مرکز ’’فرد کی حفاظت‘‘ ہونا چاہیے۔ لیکن اگر یہی قانون کسی بالغ فرد کے رضاکارانہ فیصلے کو مشکوک بنا دے، اس کے مذہبی انتخاب کی تفتیش شروع کر دے یا اسے اپنے فیصلے کے لیے ریاست کے سامنے جواب دہ بنا دے، تو معاملہ فرد کی آزادی اور ریاستی اختیار کے درمیان ایک نئے تنازع میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
یہی تنازع آگے چل کر بھارت میں مذہب تبدیلی مخالف قوانین کی تشکیل، ان کی عدالتی تشریحات اور ان کے سیاسی استعمال کی بنیاد بنا۔ بعد کے برسوں میں ’’جبری تبدیلی‘‘، ’’لالچ‘‘، ’’فریب‘‘ اور ’’اثر و رسوخ‘‘ جیسے الفاظ قانونی اور سیاسی مباحث کا حصہ بنے، جبکہ ’’گھر واپسی‘‘، بین المذاہب شادی اور ’’لَو جہاد‘‘ جیسے تصورات نے اس بحث کو مزید سیاسی رنگ دیا۔ لہٰذا بھارت میں مذہب تبدیلی مخالف قوانین کو سمجھنے کے لیے صرف موجودہ قانون یا حالیہ سیاسی بیانات کا مطالعہ کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لیے قدیم مذہبی تحریکوں، قرونِ وسطیٰ کی صوفی اور بھکتی روایت، نوآبادیاتی دور کی مشنری سرگرمیوں، ذات پات کے نظام، دلت اور قبائلی برادریوں کی سماجی جدوجہد، امبیڈکر کی بدھ مت میں تبدیلی اور آزادی کے بعد کی آئینی و سیاسی بحث—ان تمام مراحل کو ایک تاریخی تسلسل میں دیکھنا بھی ضروری ہے۔
اسی تاریخی پس منظر سے یہ بنیادی سوال بھی سامنے آتا ہے کہ کیا مذہب تبدیلی مخالف قوانین واقعی ہر فرد کو جبری تبدیلی سے تحفظ فراہم کرتے ہیں، یا عملی طور پر ان کا نفاذ مذہبی اقلیتوں اور بین المذاہب تعلقات کے خلاف ایک مختلف نوعیت کی ریاستی نگرانی کا ذریعہ بن رہا ہے؟ اور اس سوال کا اگلا پہلو اس سے بھی زیادہ اہم ہے: اگر ایک مذہبی تبدیلی کو ’’گھر واپسی‘‘ کہ کر جائز، فطری یا قابلِ قبول قرار دیا جائے، تو کیا یہی معیار کسی شخص کے دوسرے مذہب اختیار کرنے پر بھی لاگو ہوتا ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں آئینی مساوات اور زمینی حقیقت کے درمیان فاصلہ نمایاں ہونا شروع ہوتا ہے۔
سوال صرف قانون کا نہیں، دوہرے معیار کا بھی ہے۔ بھارت میں مذہب تبدیلی کی بحث کا سب سے پیچیدہ پہلو ’’دوہرے معیار‘‘ کا سوال ہے۔ اگر ایک مذہب چھوڑ کر دوسرے مذہب کو اختیار کرنے کو ’’غیر قانونی تبدیلی‘‘، ’’سازش‘‘ یا ’’لالچ‘‘ کے زاویے سے دیکھا جاتا ہے تو سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ ’’گھر واپسی‘‘ کے نام پر ہونے والی مذہبی تبدیلیوں کو کس قانونی اور اخلاقی معیار پر پرکھا جائے؟ آئینی اصول کا تقاضا یہ ہے کہ قانون سب کے لیے یکساں ہو۔ اگر جبری یا دھوکے سے تبدیلی جرم ہے تو یہ جرم اس وقت بھی جرم ہونا چاہیے جب تبدیلی ایک
اکثریتی مذہب کی طرف ہو اور اس وقت بھی جب تبدیلی اقلیتی مذہب کی طرف ہو۔ اسی طرح اگر رضاکارانہ مذہبی تبدیلی ایک بالغ فرد کا بنیادی حق ہے تو یہ حق بھی مذہب کی بنیاد پر تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ آئینی مساوات کا مطلب یہی ہے کہ قانون کا معیار مذہب نہیں بلکہ عمل ہونا چاہیے۔
مذہب تبدیلی مخالف قوانین کے بارے میں عیسائی تنظیموں اور دیگر اقلیتی گروہوں نے بارہا خدشات کا اظہار کیا ہے کہ ان قوانین کا استعمال مذہبی سرگرمیوں، دعائیہ اجتماعات، مشنری سرگرمیوں اور بین المذاہب تعلقات کو مشکوک بنانے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ فروری 2026 میں نیشنل کونسل آف چرچز اِن انڈیا نے سپریم کورٹ میں بارہ ریاستوں کے مذہب تبدیلی مخالف قوانین کو چیلنج کیا۔ درخواست میں ان قوانین کی آئینی حیثیت پر سوال اٹھایا گیا۔ یہ قانونی تنازع اس بات کی علامت ہے کہ بحث اب محض سیاسی بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ آئینی عدالتوں کے سامنے بھی بنیادی حقوق اور ریاستی اختیارات کے درمیان توازن کا سوال بن چکی ہے۔ مسلمانوں کے معاملے میں یہ مسئلہ مزید حساس ہو جاتا ہے، کیونکہ بین المذاہب شادی، اسلام قبول کرنے اور ’’لَو جہاد‘‘ کے بیانیے کو کئی ریاستوں میں سیاسی اور قانونی مباحث سے جوڑ دیا گیا ہے۔ اس صورت حال میں کسی بھی قانون کا غیر جانبدارانہ نفاذ بنیادی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ اگر قانون صرف ایک مخصوص مذہبی برادری کی سرگرمیوں پر زیادہ سختی سے لاگو ہو تو قانون کی غیر جانب داری پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی شخص کو زبردستی مذہب تبدیل کرنے، دھوکہ دینے یا استحصال کا شکار ہونے سے محفوظ رکھے۔ لیکن ریاست کی یہ ذمہ داری اس وقت مسئلہ بن جاتی ہے جب تحفظ اور نگرانی کے درمیان فرق ختم ہونے لگے۔ اگر ایک بالغ شخص کو یہ ثابت کرنے کے لیے کہ اس نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کیا ہے، بار بار سرکاری اداروں، پولیس یا عدالتوں کے سامنے پیش ہونا پڑے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کیا ریاست فرد کے ضمیر کی محافظ بن رہی ہے یا اس کی نگران؟ ریاست کو یہ فیصلہ نہیں کرنا چاہیے کہ کسی شخص کے لیے کون سا مذہب بہتر ہے۔ اس کا کام صرف یہ یقینی بنانا ہے کہ کسی شخص پر طاقت، دھوکے یا غیر قانونی دباؤ کا استعمال نہ ہو۔
بھارت کی سیکولر جمہوریت کی کامیابی کا انحصار اس بات پر نہیں کہ اکثریت کس مذہب پر عمل کرتی ہے یا اقلیتیں کتنی تعداد میں ہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ ریاست ایک ایسے شخص کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہے جو اپنی برادری کے غالب مذہبی رجحان سے مختلف راستہ اختیار کرتا ہے۔ اگر ایک ہندو اسلام یا عیسائیت اختیار کرتا ہے، ایک مسلمان ہندو مذہب یا عیسائیت اختیار کرتا ہے، یا کوئی عیسائی کسی دوسرے مذہب کو اختیار کرتا ہے، تو قانون کا بنیادی معیار ایک ہی ہونا چاہیے۔ اسی طرح ’’گھر واپسی‘‘ ہو یا کسی دوسرے مذہب میں تبدیلی، اگر اس میں زبردستی، دھوکہ یا غیر قانونی دباؤ شامل ہے تو اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ لیکن اگر کوئی بالغ فرد آزادانہ طور پر اپنا مذہب تبدیل کرتا ہے تو محض اس تبدیلی کی وجہ سے اسے مجرم یا مشتبہ سمجھنا آئینی آزادی کے بنیادی تصور سے متصادم ہوگا۔عدالتیں وقتاً فوقتاً فرد کی آزادی، رازداری، ذاتی خودمختاری اور مذہبی آزادی کے حق کو واضح کرتی رہی ہیں۔ لیکن عدالتی فیصلے اس وقت تک محدود اثر رکھتے ہیں جب تک ریاستی ادارے اور معاشرہ ان اصولوں کو عملی طور پر قبول نہ کریں۔ مذہب تبدیلی مخالف قوانین کی آئینی حیثیت پر بحث ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ 2026 میں متعدد ریاستوں کے قوانین عدالتوں میں چیلنج ہو رہے ہیں، جبکہ نئی ریاستیں بھی اسی نوعیت کی قانون سازی کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ اس لیے آنے والے برسوں میں اصل سوال یہ نہیں ہوگا کہ بھارت میں مذہب تبدیلی کے خلاف قوانین رہیں گے یا نہیں، بلکہ یہ ہوگا کہ ان قوانین کو کس طرح نافذ کیا جاتا ہے اور ان کے ذریعے فرد کی آزادی اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کو کس حد تک تحفظ ملتا ہے۔
ایک جمہوری اور سیکولر ریاست کے لیے اصول سادہ ہونا چاہیے کہ جبری تبدیلی جرم ہے، لیکن رضاکارانہ مذہبی انتخاب جرم نہیں۔قانون کو مذہب دیکھ کر نہیں بلکہ عمل دیکھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔ اگر ’’گھر واپسی‘‘ کو رضاکارانہ مذہبی انتخاب کہا جاتا ہے تو یہی اصول ہر دوسری مذہبی تبدیلی پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ اور اگر کسی تبدیلی کو زبردستی، فریب یا لالچ کی بنیاد پر غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے تو یہی معیار ہر مذہب اور ہر برادری کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔
مذہبی آزادی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ اکثریت کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی حاصل ہو۔ اس کا اصل مطلب یہ ہے کہ ہر فرد کو اپنے ضمیر کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی ہو—چاہے اس کا فیصلہ اکثریت کو پسند آئے یا نہ آئے۔ یہی آئینی مساوات کا حقیقی امتحان ہے اور یہی بھارتی سیکولر جمہوریت کے مستقبل کا بھی بنیادی سوال ہے۔


