بیشتر مورخین کے نزدیک ہندو و بدھ نقوش مندر کا انہدام نہیں بلکہ تعمیراتی مواد کے دوبارہ استعمال کی مثال
ماہرین کے مطابق آدینہ مسجد سلطنتِ بنگال کی سیاسی خودمختاری اور اسلامی فنِ تعمیر کی عظیم علامت
1990 کی دہائی میں جب بابری مسجد اور رام جنم بھومی تنازعہ اپنے عروج پر تھا تو بعض لبرل دانش وروں اور سیاسی مبصرین کا خیال تھا کہ اگر مسلمان رضاکارانہ طور پر بابری مسجد کے دعوے سے دستبردار ہو جائیں تو شاید تاریخی عبادت گاہوں کے گرد جاری کشیدگی ختم ہو جائے، بھارت میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو فروغ ملے اور ہندوتوا سیاست کی شدت بھی کم ہو جائے۔ نومبر 2019 میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بابری مسجد کی متنازع زمین ہندو فریق کے حوالے کر دی گئی اور بعد ازاں رام مندر بھی تعمیر ہو گیا لیکن اس کے باوجود تاریخی مساجد اور اسلامی یادگاروں کو متنازعہ بنانے کا سلسلہ نہیں رکا۔ بابری مسجد کے بعد کاشی، متھرا، سنبھل اور دھار کی بھوج شالہ جیسے مقامات نئے تنازعات کا مرکز بنے جب کہ حالیہ برسوں میں دیوبند کی نئی تعمیر شدہ مسجدِ رشید پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے۔ اسی سلسلے کی تازہ کڑی مغربی بنگال کے ضلع مالدہ میں واقع آدینہ مسجد ہے جو کبھی پورے بر صغیر کی سب سے بڑی مسجد سمجھی جاتی تھی اور سلطنتِ بنگال کی سیاسی، تہذیبی اور مذہبی عظمت کی ایک غیر معمولی علامت ہے۔ تقریباً ساڑھے چھ سو برس قبل تعمیر ہونے والی یہ عظیم الشان مسجد آج محکمۂ آثارِ قدیمہ ہند (ASI) کے تحفظ میں ہے۔ یہاں کئی دہائیوں سے با قاعدہ نماز ادا نہیں کی جاتی اور یہ ایک محفوظ تاریخی یادگار کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے باوجود بعض ہندوتوا تنظیموں اور نظریاتی حلقوں نے یہ دعویٰ کرنا شروع کر دیا ہے کہ آدینہ مسجد کسی قدیم ہندو مندر کو منہدم کرکے تعمیر کی گئی تھی، اس لیے اس کی مذہبی حیثیت پر از سرِ نو غور کیا جانا چاہیے۔
اس مہم میں بی جے پی کے بعض رہنما بھی شامل ہو چکے ہیں۔ دسمبر 2025 میں مغربی بنگال بی جے پی کے صدر شیامک بھٹاچاریہ نے راجیہ سبھا میں یہ معاملہ اٹھایا جب کہ سابق رکنِ پارلیمنٹ راہل سنہا نے یہاں تک کہا کہ "آدینہ مسجد ہمارے لیے بابری مسجد سے کم اہم نہیں ہے۔ رام مندر کے لیے ہندوؤں کے جو جذبات تھے، وہی جذبات آدینہ مسجد کی جگہ آدی ناتھ مندر اور شیولنگ کے قیام کے لیے بھی ہیں۔"
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر آدینہ مسجد واقعی متنازع مذہبی مقام تھی تو آزادی کے بعد سات دہائیوں تک یہ کبھی عوامی یا سیاسی تنازع کا موضوع کیوں نہیں بنی؟ نوآبادیاتی دور کے برطانوی ماہرینِ آثارِ قدیمہ، بنگال کے ممتاز مورخین اور جدید محققین نے آدینہ مسجد پر تفصیلی تحقیق کی ہے لیکن ان میں سے کسی نے بھی اسے بابری مسجد یا متھرا طرز کے مذہبی تنازع کے طور پر پیش نہیں کیا۔ پھر آخر آج اسے متنازعہ کیوں جا رہا ہے اور اس کے پس منظر میں کون سے سیاسی، نظریاتی اور ثقافتی عوامل کارفرما ہیں؟
یہ بحث صرف ایک تاریخی عمارت کی ملکیت یا مذہبی شناخت تک محدود نہیں، بلکہ بنگال کی تاریخ، سلطنتِ بنگال کی سیاسی خود مختاری، اسلامی فنِ تعمیر کے ارتقا اور برصغیر کی مشترکہ تہذیبی وراثت سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔ آدینہ مسجد صرف ایک عبادت گاہ نہیں بلکہ چودھویں صدی کے بنگال کی سیاسی خود اعتمادی، تہذیبی شناخت اور شاہی تصورِ اقتدار کی نمائندہ یادگار ہے۔
اس تنازع کے تناظر میں ایک اور اہم سوال بھی سامنے آتا ہے۔ آدینہ مسجد میں ایسے ستون، سنگی تختے اور آرائشی عناصر موجود ہیں جن پر ہندو اور بدھ فنِ تعمیر کے اثرات نمایاں ہیں۔ جبکہ اسلامی عقیدہ بت پرستی اور مورتی پوجا کی واضح نفی کرتا ہے تو پھر مسجد جیسی خالص توحیدی عبادت گاہ میں ایسے اجزا کیوں استعمال کیے گئے؟ کیا یہ واقعی کسی مندر کے انہدام کا ثبوت ہیں یا ان کی کوئی دوسری تاریخی اور تعمیراتی توضیح موجود ہے؟
اس مضمون میں ہم آدینہ مسجد کی تاریخ، فنِ تعمیر، آثارِ قدیمہ کے شواہد، برطانوی اور بنگالی مورخین کی آرا اور حالیہ سیاسی دعووں کا تنقیدی جائزہ لیں گے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ آدینہ مسجد کے بارے میں تاریخ کیا کہتی ہے اور معاصر سیاست اس تاریخ کو کس زاویے سے پڑھنے اور پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
سلطنتِ بنگال کا ظہور اور آدینہ مسجد کی تعمیر کا تاریخی پس منظر
انگریز مؤرخ رچرڈ ایم ایٹن (Richard M. Eaton) اپنی معروف کتاب The Rise of Islam and the Bengal Frontier, 1204–1760 میں سلطنتِ بنگال کے قیام اور آدینہ مسجد کی تعمیر کا پس منظر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ 1258ء میں ہلاکو خان کی قیادت میں منگول افواج نے بغداد فتح کر لیا اور عباسی خلیفہ المستعصم کو قتل کر دیا۔ اس واقعے کے ساتھ اسلامی دنیا میں سیاسی جواز کے سب سے بڑے مرکز کا خاتمہ ہوگیا۔ تاہم اس عظیم سانحے کےکئی دہائیوں بعد بھی ہندوستان میں جاری ہونے والے بعض سکوں پر ’’خلیفہ المستعصم کے عہد میں‘‘ جیسے الفاظ درج کیے جاتے رہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برصغیر کے مسلم حکم راں عباسی خلافت کو اب بھی اپنے اقتدار کے مذہبی اور سیاسی جواز کا بنیادی سرچشمہ سمجھتے تھے۔
بالآخر 1320ء میں دہلی کے سلطان قطب الدین مبارک شاہ نے روایت سے ہٹ کر خود کو ’’خلیفۂ اسلام‘‘ قرار دیا۔ اگرچہ اس دعوے کو عالمِ اسلام میں وسیع قبولیت حاصل نہ ہوسکی، لیکن اس نے یہ تصور ضرور مضبوط کیا کہ سیاسی اقتدار اور خلافت کا مرکز صرف عرب دنیا تک محدود نہیں ہے بلکہ مختلف خطوں میں بھی خود مختار مسلم سلطنتیں اپنے اقتدار کے لیے مذہبی و سیاسی جواز پیدا کر سکتی ہیں۔
اسی فکری اور سیاسی پس منظر میں 1342ء میں شمس الدین الیاس شاہ نے دہلی سلطنت کی بالادستی سے بنگال کو آزاد کرکے ایک خود مختار سلطنت کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے دارالحکومت کو لکھنوتی سے منتقل کرکے موجودہ ضلع مالدہ کے پانڈوا میں قائم کیا جو دہلی سے سیاسی اور علامتی علیحدگی کا واضح اظہار تھا۔
ابتدا میں دہلی سلطنت نے بنگال کی آزادی تسلیم نہیں کی۔ 1353ء میں سلطان فیروز شاہ تغلق ایک بڑی فوج کے ساتھ بنگال پر حملہ آور ہوا۔ اگرچہ وہ عارضی طور پر پانڈوا پر قابض ہوگیا لیکن پورے بنگال پر اپنا تسلط قائم نہ کرسکا۔ چند برس بعد اس نے دوبارہ حملہ کیا مگر اس بار سلطان سکندر شاہ نے اس کی پیش قدمی روک دی۔ ان ناکام مہمات کے بعد دہلی نے بنگال پر دوبارہ قبضے کی کوشش ترک کر دی اور یوں بنگال تقریباً دو صدیوں تک شمالی ہند کی فوجی مداخلت سے محفوظ رہا۔
بنگالی شناخت اور الیاس شاہی سلطنت
الیاس شاہی سلطنت کا قیام محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں تھا بلکہ بنگال کی دیرینہ ثقافتی شناخت اور علاقائی خود مختاری کا اظہار بھی تھا۔ تیرہویں صدی کے اواخر میں سیاح مارکو پولو نے ’’بنگالہ‘‘ کا ذکر ایک ایسے خطے کے طور پر کیا ہے جس کی اپنی جداگانہ شناخت، زبان اور ثقافت تھی۔
چودھویں صدی کے مؤرخ شمسِ سراج عفیف نے شمس الدین الیاس شاہ کو ’’سلطانِ بنگالیان‘‘ اور ’’شاہِ بنگال‘‘ کے القاب سے یاد کیا ہے۔ ان کے جاری کردہ سکوں اور بعد کے حکم رانوں کی تعمیرات میں بھی بنگال کی سیاسی خود مختاری کا یہی جذبہ نمایاں نظر آتا ہے۔
الیاس شاہ کے سکوں پر درج القابات بھی ان کے سیاسی عزائم کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک جانب ’’العادل السلطان شمس الدنیا والدین ابوالمظفر الیاس شاہ السلطان‘‘ اور دوسری جانب ’’السکندر الثانی، یمین الخلافۃ، ناصر امیر المؤمنین‘‘ درج تھا۔ یہ القابات ظاہر کرتے ہیں کہ الیاس شاہی حکم راں خود کو محض ایک علاقائی فرماں روا نہیں بلکہ وسیع اسلامی سیاسی روایت کا حصہ سمجھتے تھے۔
سکندر شاہ اور آدینہ مسجد
شمس الدین الیاس شاہ کے جانشین سلطان سکندر شاہ نے اس سیاسی تصور کو مزید وسعت دی۔ ’’سکندرِ ثانی‘‘ کا لقب اختیار کرکے انہوں نے نہ صرف شاہی عظمت کا اظہار کیا بلکہ اپنے اقتدار کو وسیع اسلامی سلطنتوں کی روایت سے بھی وابستہ کیا۔
اگرچہ وہ سکندرِ اعظم جیسی فتوحات حاصل نہ کرسکے لیکن چودھویں صدی میں الیاس شاہی حکم رانوں نے غیر معمولی سیاسی کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے دہلی سلطنت کی پیش قدمی کو روکا اور چمپارن، تِرہت، نیپال، جاج نگر (اڑیسہ) اور کامروپ (آسام) سمیت متعدد علاقوں میں اپنا اثر و رسوخ قائم کیا۔
اسی سیاسی اعتماد اور سلطنتی وقار کا سب سے عظیم اظہار آدینہ مسجد کی صورت میں سامنے آیا، جس کی تعمیر 1375ء میں پانڈوا میں مکمل ہوئی۔
آدینہ مسجد: سلطنتی وقار کی علامت
آدینہ مسجد صرف ایک عبادت گاہ نہیں تھی بلکہ خود مختار سلطنتِ بنگال کے سیاسی اقتدار، تہذیبی تشخص اور شاہی عظمت کی علامت بھی تھی۔ اپنے حجم، منصوبہ بندی اور تعمیراتی شان و شوکت کے اعتبار سے یہ اپنے عہد کی عظیم مساجد میں شمار ہوتی تھی۔
اگرچہ اس کی تعمیر میں قبل از اسلام عمارتوں سے حاصل شدہ بعض پتھر اور تعمیراتی اجزا استعمال کیے گئے، لیکن جدید مؤرخین اور ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی اکثریت اسے محض مذہبی غلبے کی علامت نہیں سمجھتی۔ ان کے نزدیک یہ عمل ایک طرف دستیاب تعمیراتی مواد کے استعمال کی عملی ضرورت تھی اور دوسری طرف مقامی فنی روایت کے تسلسل کی مثال بھی۔ مسجد کی آرائش میں پالا اور سینا عہد کے فنِ تعمیر کے اثرات نمایاں ہیں جو بنگال کی مقامی ثقافت اور اسلامی فنِ تعمیر کے امتزاج کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ریچرڈ ایم ایٹن کے مطابق آدینہ مسجد کا طرزِ تعمیر دہلی سلطنت کی روایتی مساجد سے نمایاں طور پر مختلف ہے۔ اس کی مغربی دیوار، بلند محرابی ساخت اور مرکزی منصوبہ بندی قبل از اسلام ساسانی ایران کی شاہی عمارتوں، خصوصاً طاقِ کسریٰ کی یاد دلاتی ہے۔ مسجد کے مرکزی حصے میں تعمیر کیا گیا عظیم الشان بیرل والٹ (Barrel Vault) برصغیر کی اسلامی تعمیرات میں اپنی نوعیت کی منفرد مثال ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ الیاس شاہی حکم راں اپنے اقتدار کو صرف دہلی کی روایت سے نہیں بلکہ وسیع ایرانی اور اسلامی شاہی ورثے سے بھی جوڑنا چاہتے تھے۔
مسجد اور شاہی اقتدار
مسجد کے اندر ایک بلند چبوترہ تعمیر کیا گیا تھا، جسے ’’بادشاہ کا تخت‘‘ کہا جاتا تھا۔ روایت کے مطابق سلطان یہاں عام نمازیوں سے بلند مقام پر کھڑے ہو کر عبادت کرتا تھا اور اس تک رسائی کے لیے ایک الگ نجی راستہ بھی موجود تھا۔ اس انتظام سے واضح ہوتا ہے کہ آدینہ مسجد صرف مذہبی مرکز نہیں بلکہ سلطنتی اقتدار اور شاہی وقار کے اظہار کا بھی ایک اہم ذریعہ تھی۔
مسجد کے ایک کتبے میں سلطان سکندر شاہ کی مدح میں درج عبارت انہیں عرب و فارس کے ممتاز سلاطین کی صف میں پیش کرتی ہے، جو اس دور کی شاہی خود اعتمادی کی عکاس ہے۔
عالمی اسلامی دنیا سے تعلق
الیاس شاہی حکم رانوں کی سیاسی اور ثقافتی وابستگیاں دہلی تک محدود نہیں تھیں۔ سلطان غیاث الدین اعظم شاہ نے مکہ اور مدینہ میں علمی اداروں کی سرپرستی کی اور شیراز کے معروف شاعر حافظ شیرازی سے روابط استوار کرنے کی کوشش کی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سلطنتِ بنگال خود کو وسیع اسلامی دنیا کا حصہ سمجھتی تھی اور اس کی فکری نگاہیں دہلی سے زیادہ مکہ، مدینہ، شیراز اور ایرانی تہذیبی مراکز کی طرف مرکوز تھیں۔
پندرہویں صدی کے اوائل میں بنگال آنے والے ایک چینی سفیر نے پانڈوا کے شاہی دربار کی شان و شوکت کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ اس کے مطابق شاہی محل اینٹوں سے تعمیر شدہ تھا، ستونوں پر سونے اور پیتل کی آرائش تھی، ہزاروں سپاہی زرہیں پہنے کھڑے رہتے تھے، ہاتھیوں کی قطاریں موجود تھیں اور بادشاہ جواہرات سے مزین تخت پر جلوہ افروز ہوتا تھا۔ مورپنکھ کے چھتر، طلائی برتن، سونے کی کمربندیں اور دیگر شاہی علامات اس دربار کو ایرانی اور ساسانی شاہی روایات سے قریب تر بناتی تھیں۔
یہ تمام شواہد اس حقیقت کی تائید کرتے ہیں کہ آدینہ مسجد اور الیاس شاہی سلطنت محض ایک علاقائی حکومت کی نمائندہ نہیں تھیں، بلکہ خود کو ایک خود مختار، با وقار اور عالمی اسلامی سلطنت کے طور پر پیش کرنا چاہتی تھیں۔ یہی تاریخی پس منظر آدینہ مسجد کی اصل اہمیت کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ اسے محض موجودہ سیاسی تنازعات کے محدود دائرے میں نہیں، بلکہ بنگال کی وسیع تہذیبی، سیاسی اور تاریخی روایت کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
آدینہ مسجد میں ہندو و بدھ نقوش: مندر انہدام کا ثبوت یا تعمیراتی مواد کا دوبارہ استعمال؟
آدینہ مسجد سے متعلق موجودہ تنازع بنیادی طور پر اس حقیقت سے جنم لیتا ہے کہ مسجد کے مختلف حصوں میں ایسے ستون، سنگی تختے اور آرائشی اجزا موجود ہیں جن پر ہندو اور بدھ فنِ تعمیر کے واضح اثرات دکھائی دیتے ہیں۔ بعض ستونوں پر کنول، بیل بوٹے، گھنٹی اور زنجیر کے نقوش ہیں، جبکہ چند پتھروں پر ایسی تراش خراش بھی ملتی ہے جو غالباً قبل از اسلام مندروں یا بدھ عبادت گاہوں سے تعلق رکھتی تھی۔ انہی آثار کی بنیاد پر بعض ہندوتوا حلقے دعویٰ کرتے ہیں کہ آدینہ مسجد کسی قدیم مندر کو منہدم کرکے تعمیر کی گئی تھی۔
تاہم تاریخ اور آثارِ قدیمہ کے نقطۂ نظر سے صرف تعمیراتی اجزا کی موجودگی کسی عمارت کے ماخذ یا اس کی تعمیر کے طریقۂ کار کا قطعی ثبوت نہیں سمجھی جاتی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا قدیم، نو آبادیاتی یا جدید تحقیقات اس دعوے کی تائید کرتی ہیں؟ اسی طرح ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر واقعی کسی مندر کو منہدم کرکے مسجد تعمیر کی گئی تھی تو پھر انہی ستونوں اور پتھروں کو، جن پر مورتیوں اور ہندو و بدھ نقوش کی تراش خراش موجود تھی، مسجد میں نمایاں طور پر استعمال کیوں کیا گیا؟ یہی سوال اس پورے تنازع کو تاریخی تناظر میں پرکھنے کی ضرورت پیدا کرتا ہے۔
رچرڈ ایم ایٹن بنگال میں اسلام کے فروغ اور مسلم اقتدار کا تجزیہ کرتے ہوئے اس عام تصور کو چیلنج کرتے ہیں کہ مسلم حکم رانوں کی تمام بڑی تعمیرات محض مذہبی غلبے یا مندروں کی تباہی کی علامت تھیں۔ ان کے مطابق بنگال میں معیاری تعمیراتی پتھر کی قلت تھی اور اینٹ بنیادی تعمیراتی مواد تھی، اس لیے قدیم عمارتوں سے حاصل شدہ پتھر اور دیگر اجزا دوبارہ استعمال کرنا ایک عملی ضرورت بھی تھا۔ ان کے نزدیک ہندو اور بدھ عمارتوں کے تعمیراتی اجزا کا استعمال لازماً اس بات کا ثبوت نہیں کہ کسی مخصوص مندر کو منہدم کرکے مسجد تعمیر کی گئی ہو۔
ایٹن آدینہ مسجد میں موجود ہندو اور بدھ طرز کے عناصر کو بنگال کی مقامی تہذیبی روایت اور اسلامی فنِ تعمیر کے باہمی تعامل کی مثال قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ عمارت مقامی فنی ورثے اور اسلامی سیاسی اقتدار کے امتزاج کی نمائندہ ہے، نہ کہ صرف مذہبی تصادم کی علامت۔ اسی لیے متعدد جدید مورخین آدینہ مسجد کو بنیادی طور پر سلطنتِ بنگال کے سیاسی اور تہذیبی اظہار کے طور پر دیکھتے ہیں۔
مشہور بنگالی مورخ اور ماہرِ آثارِ قدیمہ رکھال داس بنرجی نے اپنی کتاب History of Bengal میں لکھا ہے کہ آدینہ مسجد کی تعمیر میں قدیم ہندو مندروں سے حاصل شدہ مواد استعمال ہوا، لیکن انہوں نے بھی اسے کسی ایک عظیم مندر کی تباہی کا حتمی ثبوت قرار نہیں دیا۔ اسی طرح ماہرِ آثارِ قدیمہ احمد حسن دانی نے اپنی معروف کتاب Muslim Architecture in Bengal میں واضح کیا ہے کہ مسجد کے کئی آرائشی عناصر اور سنگی اجزا مقامی قبل از اسلام روایت سے اخذ کیے گئے تھے۔ ان کے نزدیک بنگال کے مسلم معماروں نے مقامی فنِ تعمیر کو اسلامی طرزِ تعمیر میں جذب کیا جس سے ثقافتی امتزاج کی ایک منفرد مثال سامنے آئی۔
فنِ تعمیر کے مؤرخ پرسی براؤن نے بھی آدینہ مسجد کو بنگال کی اسلامی تعمیرات کا شاہکار قرار دیتے ہوئے اس کے ستونوں اور پتھروں میں ہندو اثرات کا ذکر کیا، لیکن اسے کسی مندر کی جگہ تعمیر ہونے والی مسجد کے طور پر پیش نہیں کیا۔ اسی طرح ریچرڈ ایٹن، فنبار بیری فلڈ، آندرے ونک اور دیگر محققین کے مطابق پرانے مندروں کا تعمیراتی مواد ضرور استعمال ہوا مگر اس دور میں بنگال میں پتھر کی قلت کے باعث یہ ایک عملی ضرورت بھی تھی جسے محض مذہبی دشمنی کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا تھا۔
اس لیے اب تک کوئی ایسا قطعی آثارِ قدیمہ کا ثبوت سامنے نہیں آیا جو یہ ثابت کرے کہ آدینہ مسجد کسی مخصوص مندر کو منہدم کرکے اسی مقام پر تعمیر کی گئی تھی۔ ماہرین کے نزدیک مسجد میں موجود ہندو اور بدھ نقوش کی چند ممکنہ وجوہ یہ ہیں: قدیم عمارتوں کے تعمیراتی اجزا کا دوبارہ استعمال، مقامی سنگ تراشوں کی خدمات اور اسلامی معماروں کی جانب سے مقامی آرائشی روایت کو نئے تناظر میں اختیار کرنا۔ کنول، بیل بوٹے، زنجیر اور گھنٹی جیسے نقوش اسی مقامی فنی روایت کے تسلسل کی مثال ہیں۔
دستیاب تاریخی اور آثارِ قدیمہ کے شواہد سے یہ بات ضرور ثابت ہوتی ہے کہ آدینہ مسجد میں قبل از اسلام عمارتوں کے تعمیراتی اجزا استعمال ہوئے لیکن اب تک ایسا کوئی ناقابلِ تردید ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے یہ ثابت ہو کہ مسجد کسی مخصوص مندر کو منہدم کرکے اسی مقام پر تعمیر کی گئی تھی یا یہ مقام ہندوؤں کے لیے کوئی ثابت شدہ مقدس مقام تھا۔ اسی لیے زیادہ تر مورخین ان نقوش کو تعمیراتی مواد کے دوبارہ استعمال (Spolia) مقامی فنی روایت کے تسلسل اور اسلامی و بنگالی ثقافتوں کے باہمی تعامل کے تناظر میں دیکھتے ہیں، نہ کہ لازماً مندر انہدام کے ثبوت کے طور پر!
تاریخ، سیاست اور نئی تعبیر
اگر آدینہ مسجد واقعی ایک متنازع مذہبی مقام تھی تو پھر اس کی تعمیر کے تقریباً ساڑھے چھ سو برس بعد اور آزادی کے سات عشروں تک اس کی مذہبی حیثیت پر کوئی بڑا تنازع کیوں سامنے نہیں آیا؟ آخر اب اسے مندر اور شیولنگ کے دعووں سے کیوں جوڑا جا رہا ہے؟
یہ سوال صرف آثارِ قدیمہ یا تاریخ کا نہیں بلکہ معاصر سیاست، شناخت اور تاریخ کی تعبیر سے بھی وابستہ ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ایسے تنازعات اکثر انتخابی سیاست، سماجی پولرائزیشن اور اکثریتی ووٹ بینک کی تشکیل کے وسیع تر عمل سے جڑے ہوتے ہیں۔ مغربی بنگال جیسے صوبے میں جہاں مذہبی اور ثقافتی تنوع ایک تاریخی حقیقت رہا ہے، ماضی کی یادگاروں کے گرد نئے سیاسی بیانیے تشکیل دیے جا رہے ہیں۔
تاہم اس تنازع کو صرف انتخابی سیاست تک محدود کرنا بھی درست نہیں ہوگا۔ اس کے پس منظر میں تاریخ، تہذیب اور قومی شناخت سے متعلق ایک وسیع نظریاتی کشمکش کارفرما دکھائی دیتی ہے۔ ہندوتوا فکر کے بعض نظریہ ساز ایسی تاریخی تعبیر پیش کرتے ہیں جس میں ہندوستانی قومیت کو بنیادی طور پر ہندو تہذیبی ورثے تک محدود کیا جاتا ہے۔ اسی تناظر میں مسلم دورِ حکومت، اسلامی فنِ تعمیر اور برصغیر کی مشترکہ تہذیبی روایت کو بار بار سیاسی مباحث کا موضوع بنایا جاتا ہے۔
لیکن تاریخی حقیقت یہ ہے کہ بھارت کی تاریخ کو مسلم عہد، اسلامی فنِ تعمیر، صوفی روایت، فارسی و اردو ادب اور مختلف مسلم سلطنتوں کے سیاسی و ثقافتی کردار کے بغیر نہ مکمل طور پر سمجھا جا سکتا ہے اور نہ دیانت داری کے ساتھ بیان کیا جا سکتا ہے۔ آدینہ مسجد، قطب مینار، تاج محل، فتح پور سیکری، گول گنبد اور بے شمار دوسری یادگاریں اسی مشترکہ تہذیبی ورثے کا حصہ ہیں جس نے ہندوستانی تہذیب کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
اس لیے آدینہ مسجد کا تنازع صرف ایک تاریخی عمارت کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ اس سوال سے بھی جڑا ہے کہ ہم تاریخ کو کس زاویے سے پڑھتے ہیں، اپنے ماضی کو کس طرح یاد کرتے ہیں اور اپنی مشترکہ تہذیبی میراث کو کس حد تک محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔ ایسے حالات میں محققین، مورخین، صحافیوں اور علمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جذباتی نعروں اور سیاسی دعووں کے بجائے مستند تاریخی شواہد، آثارِ قدیمہ کی تحقیقات اور علمی مطالعات کی بنیاد پر حقائق عوام کے سامنے رکھیں۔ تاریخ کا تحفظ صرف عمارتوں کا تحفظ نہیں بلکہ سچائی، علمی دیانت اور اجتماعی یادداشت کے تحفظ کا بھی نام ہے۔
بھارت کی سب سے بڑی آدینہ مسجد پر نیا تنازع

تاریخی شواہد، آثارِ قدیمہ کی تحقیقات اور معاصر سیاسی دعووں کا جائزہ

