قرض، سود اور غربت: اسلام کا متوازن معاشی نظام کیا کہتا ہے؟
سود نہیں، شراکت: استحصالی معیشت کے خلاف اسلام کا معاشی ماڈل
-10 سود کی لعنت: بھارت میں سودی کاروبار، ساہوکاری اور اس کے معاشی و سماجی نقصانات
سود پر مبنی معاشی نظام دولت کو چند ہاتھوں میں مرتکز کرتا ہے اور غربت کو بڑھاتا ہے۔ یہ ایسا معاشی ظلم ہے جو متوسط طبقے کو بھی غربت کی طرف دھکیل دیتا ہے اور بالآخر ملکی معیشت کو تباہ کر دیتا ہے۔ بھارت میں بالخصوص غیر رسمی قرض دہندگان (Informal Moneylenders) یا ساہوکار غریب خاندانوں کا خون چوس کر ان کے لیے شدید معاشی استحصال کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ AIDIS 2019 کے مطابق دیہی علاقوں کے 24.8 فیصد گھرانوں پر رسمی یا ادارہ جاتی ذرائع سے حاصل کردہ قرض تھا جب کہ 17.2 فیصد گھرانوں پر غیر رسمی ذرائع سے حاصل کردہ قرض تھا۔ اسی طرح شہری علاقوں میں 17.5 فیصد گھرانوں پر رسمی یا ادارہ جاتی ذرائع سے حاصل کردہ قرض تھا جب کہ 7.9 فیصد گھرانوں پر غیر رسمی ذرائع سے حاصل کردہ قرض تھا۔ 2026ء میں یہ اعداد و شمار اور بھی سنگین ہوں گے اس لیے کہ بے روزگاری میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بھارتی معاشرے کے ایک قابلِ ذکر طبقے کے لیے قرض لینا ایک معاشی ضرورت بن چکا ہے۔
دیہی علاقوں میں ساہوکاروں، تاجروں اور غیر رسمی قرض دہندگان سے سودی قرض لینا بہت تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ساہوکار غریبوں کو کیوں نشانہ بناتے ہیں؟ اس لیے کہ غریب آدمی کے پاس رہن رکھنے کے لیے مناسب جائیداد نہیں ہوتی اور بینک کے تقاضے پورے کرنے کے لیے ضروری کاغذات بھی نہیں ہوتے۔ انہیں علاج، شادی، تعلیم یا روزگار کے لیے فوری نقد رقم درکار ہوتی ہے۔ یہی مجبوری ساہوکار کے لیے منافع کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ بعض تحقیقی رپورٹوں کے مطابق دیہی غیر رسمی قرض دہندگان 20 فیصد سے بھی زیادہ سالانہ شرحِ سود وصول کرتے ہیں، جبکہ بعض علاقوں میں اس سے کہیں زیادہ شرح بھی دیکھی گئی ہے۔
قرض دراصل ایک شیطانی جال ہے جس میں پھنس کر قرض دار اصل رقم اور سود دونوں ادا نہیں کر پاتا تو نیا قرض لے کر پرانا قرض ادا کرتا ہے اور سود مسلسل بڑھتا رہتا ہے۔ آمدنی کا بڑا حصہ صرف قرض کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے، بچت ختم ہو جاتی ہے اور غربت نسل در نسل منتقل ہوتی ہے۔ اسی کو معاشیات میں Debt Trap کہا جاتا ہے۔ کئی علاقوں میں قرض واپس نہ کرنے کی صورت میں رہن رکھی ہوئی زمین اور سونا ضبط کر لیا جاتا ہے اور مویشی فروخت کروا دیے جاتے ہیں۔ اس طرح خاندان اپنی معاشی ملکیت سے بھی محروم ہو جاتا ہے اور ایک چھوٹا سا قرض پورے خاندان کو مستقل غربت میں دھکیل دیتا ہے۔ قرض کے بوجھ سے لوگ خودکشی کرتے ہیں، لیکن ساہوکار ان کی اولاد پر بھی اس سودی قرض کا بوجھ ڈال کر انہیں مستقل غربت کے غار میں دھکیل دیتے ہیں۔
زرعی شعبے میں قرض کا مسئلہ خاص طور پر سنگین ہے۔ اگرچہ بیشتر زرعی قرض اب بینکوں سے حاصل کیے جاتے ہیں، لیکن ہنگامی حالات، طبی اخراجات اور گھریلو ضروریات کے لیے بہت سے خاندان اب بھی ساہوکاروں سے رجوع کرتے ہیں۔ سودی نظام کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ سرمایہ دار بغیر محنت کے دولت بڑھاتا ہے اور قرض لینے والا مسلسل غربت کی طرف دھکیلا جاتا ہے۔ اس طرح دولت چند ہاتھوں میں مرتکز ہونے لگتی ہے اور معاشرے میں معاشی عدم مساوات بڑھتی ہے۔ اسلام اسی وجہ سے سود کو معاشرتی ظلم قرار دیتا ہے۔ جو دولت متناسب محنت، پیداواری سرگرمی یا خطرہ مول لیے بغیر مسلسل بڑھتی رہتی ہے وہ اکثر ان لوگوں کی آمدنی میں کمی کا سبب بنتی ہے جن کا ذریعہ معاش ان کی محنت اور پیداواری کوششوں پر منحصر ہوتا ہے۔
سودی استحصال کے سنگین نتائج نکلتے ہیں۔ اس سے غربت بڑھتی ہے، گھریلو جھگڑے بڑھتے ہیں، ذہنی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے، بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے، غذائی قلت پیدا ہوتی ہے، خواتین اپنے زیورات فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں اور کسانوں اور مزدوروں کی معاشی آزادی ختم ہو جاتی ہے۔ اگر معاشرے کا ہر شخص صرف سرمایہ لگا کر سود کھانا شروع کر دے تو انجینئر کون بنے گا، ڈاکٹر کون بنے گا، کسان کون ہوگا، مزدور کون ہوگا، سائنس داں کون ہوگا اور صنعت کون چلائے گا؟ لوگوں کے اندر محنت چھوڑ کر دولت سے دولت کمانے کا رجحان بڑھے گا۔ اس کے مقابلے میں اسلام ایسی معیشت چاہتا ہے جس میں دولت حقیقی محنت، علم، اختراع اور پیداوار سے وابستہ ہو، نہ کہ محض سرمائے سے سرمائے کے خودکار اضافے سے!
اسلامی حل
انسانی تاریخ میں معاشی نظام ہمیشہ اس سوال کے گرد گھومتا رہا ہے کہ دولت کس طرح کمائی جائے، کس طرح تقسیم ہو اور کس طرح اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ معاشرے کے تمام افراد کو باعزت زندگی گزارنے کا موقع ملے۔ دنیا میں دو بڑے معاشی نظریات نمایاں رہے ہیں: سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism) اور اشتراکیت (Socialism/Communism) ایک طرف سرمایہ دارانہ نظام نے ذاتی ملکیت اور آزاد تجارت کو فروغ دیا مگر اس کے ساتھ دولت کے شدید ارتکاز، سودی معیشت اور معاشی عدم مساوات جیسے مسائل بھی پیدا ہوئے۔ دوسری طرف اشتراکیت نے معاشی مساوات کے نام پر ذاتی ملکیت کو محدود یا ختم کر دیا جس سے انسانی آزادی، محنت کی ترغیب اور تخلیقی صلاحیت متاثر ہوئی۔
اسلام ان دونوں انتہاؤں سے الگ ایک متوازن معاشی نظام پیش کرتا ہے۔ اسلام نہ تو ذاتی ملکیت کو ختم کرتا ہے اور نہ ہی سرمایہ کو چند ہاتھوں میں سمٹنے دیتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دولت معاشرے میں گردش کرتی رہے کم زور افراد مضبوط ہوں اور مال صرف مال دار طبقے کے درمیان گردش نہ کرتا رہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں اس اصول کو ان الفاظ میں بیان فرماتا ہے: ’’تاکہ یہ مال تمہارے مال داروں ہی کے درمیان گردش کرتا نہ رہ جائے۔‘‘ (سورۃ الحشر: 7) یہ آیت اسلامی معاشی فلسفے کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے۔
سود کی حرمت کی حکمت کو قرآن مجید اس طرح بیان کرتا ہے: ’’اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے‘‘ (سورۃ البقرۃ: 276) یعنی سود دولت کی گردش کو مال دار طبقے تک محدود کرنے کا ذریعہ بنتا ہے، جب کہ صدقات معاشرے کے کم زور اور ضرورت مند افراد کو بھی دولت کی گردش میں شامل کرتے ہیں۔ اسی طرح فرمایا: ’’اگر تم سود چھوڑ دو تو تمہارے لیے تمہارا اصل سرمایہ ہے، نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔‘‘ (سورۃ البقرۃ: 279) یہ آیت سودی نظام کے بنیادی ظلم کی نشان دہی کرتی ہے کہ ضرورت مند کی مجبوری کو منافع کمانے کا ذریعہ بنایا جاتا ہے۔
مشرکینِ مکہ سود کی قباحت کو سمجھے بغیر یہ کہا کرتے تھے کہ "تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ ’’اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے‘‘ (سورۃ البقرۃ: 275) تجارت میں محنت، سرمایہ کاری اور نفع و نقصان دونوں کا امکان ہوتا ہے جب کہ سودی قرض میں قرض دینے والا پہلے ہی اپنے منافع کو متعین کرلیتا ہے اور کاروباری نقصان کا بنیادی بوجھ قرض لینے والے پر پڑتا ہے۔ قرآنِ مجید نے سود کو صرف ایک معاشی خرابی قرار نہیں دیا بلکہ اسے ایک سنگین جرم قرار دیا ہے یہاں تک کہ اس سے باز نہ آنے والوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کی وعید سنائی گئی: ’’اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کے لیے تیار ہوجاؤ۔‘‘ (سورۃ البقرۃ: 279)۔ یہ قرآن کی سخت ترین تنبیہوں میں سے ایک ہے۔
اسلامی معیشت کا اصل مقصد صرف قومی آمدنی (GDP) میں اضافہ نہیں بلکہ عدل، رحمت، معاشی توازن اور انسانی وقار کا قیام ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ دولت پیدا بھی ہو، گردش بھی کرے، جائز ذرائع سے حاصل ہو، کم زور طبقات تک بھی پہنچے اور کوئی طبقہ معاشی استحصال کی قوت نہ بن سکے۔ اسلام دولت کمانے کے خلاف نہیں بلکہ دولت کے غیر منصفانہ ارتکاز کے خلاف ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام نے صنعت، ٹیکنالوجی اور پیداوار میں حیرت انگیز ترقی پیدا کی لیکن اس کے ساتھ کئی سنگین معاشی اور سماجی مسائل بھی پیدا ہوئے جن میں دولت کا ارتکاز ایک اہم مسئلہ ہے۔ سودی نظام کے ذریعے سرمایہ خود مزید سرمایہ پیدا کرتا رہتا ہے۔ جس شخص کے پاس سرمایہ موجود ہے اس کی دولت مسلسل بڑھتی رہتی ہے جب کہ غریب اپنی محنت کے باوجود معاشی دوڑ میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ اس نظام کے نتیجے میں ایک محدود طبقہ قومی دولت کے بڑے حصے پر قابض ہو جاتا ہے جب کہ دوسری طرف کروڑوں افراد بنیادی ضروریات سے بھی محروم رہ جاتے ہیں۔ اسی طرح دنیا کے بہت سے ممالک میں امیر اور غریب کے درمیان معاشی خلیج وسیع ہوئی ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام میں سودی بینکاری نے بھی ایک وسیع عالمی نظام کی شکل اختیار کرلی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی لوگ گھر خریدنے، علاج، تعلیم اور کاروبار کے لیے بینکوں سے قرض لیتے ہیں، مگر قرض کے ساتھ سود کا بوجھ بھی بڑھتا رہتا ہے۔ قرض لینے والا اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ طویل عرصے تک قرض اور سود کی ادائیگی میں صرف کرتا رہتا ہے، جبکہ سرمایہ فراہم کرنے والا متعین مالی منفعت حاصل کرتا ہے۔ اس اعتبار سے سودی قرض کو Win-Lose Transaction کہا جاسکتا ہے جس میں ایک فریق کا مالی فائدہ دوسرے فریق کی مجبوری اور خطرے سے وابستہ ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں تجارت ایک Win-Win Transaction ہوسکتی ہے کیوں کہ اس میں دونوں فریق اپنی رضامندی سے سودا کرتے ہیں اور نفع و نقصان کے امکانات کاروباری سرگرمی سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اسی لیے قرآن فرماتا ہے: ’’اللہ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا۔‘‘ (سورۃ البقرۃ275:)
اسلام صرف سود کی ظاہری شکل کو حرام نہیں کرتا بلکہ ہر قسم کے معاشی استحصال کی بھی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی غریب کسان کو اچانک مالی ضرورت پیش آئے اور وہ مجبوری میں اپنی دس لاکھ روپے کی فصل پانچ لاکھ روپے میں فروخت کرنے پر آمادہ ہوجائے تو یہ بظاہر تجارت ہے لیکن اگر خریدار اس کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے تو اس میں معاشی نا انصافی کا عنصر موجود ہے۔ اسلامی تجارت انصاف، رضامندی اور اخلاقی ذمہ داری پر قائم ہوتی ہے۔ اس کے برعکس کسی فریق کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر غیر منصفانہ منفعت حاصل کرنا اسلامی معاشی اخلاقیات کے منافی ہے۔
اسلامی نظامِ معیشت میں دولت کی گردش کا مقصد یہ ہے کہ مال دار طبقے سے کم زور اور ضرورت مند طبقات تک بھی وسائل پہنچیں، جس سے معاشرہ معاشی ہمواری کی طرف بڑھے۔ اس کے برعکس جب معاشی وسائل چند ہاتھوں میں مرتکز ہوجائیں تو معاشی ناہمواری بڑھتی ہے۔ اسلامی معیشت کا ایک اہم اصول یہ بھی ہے کہ دولت محنت، علم، صنعت، تجارت اور خدمت کے ذریعے حاصل ہو، نہ کہ محض سرمائے سے سرمائے میں خودکار اضافے کے ذریعے! سودی نظام میں سرمایہ رکھنے والا اپنے سرمائے سے مزید دولت حاصل کرتا رہتا ہے جب کہ قرض لینے والا اصل رقم کے ساتھ اضافی بوجھ بھی برداشت کرتا ہے۔
موجودہ معاشروں میں آمدنی کے ایسے ذرائع بھی موجود ہیں جو نہ صرف ناجائز ہیں بلکہ معاشرے کے لیے نقصان دہ اور معاشی ارتکاز کا سبب بھی بنتے ہیں۔ اسلام نے ایسے ذرائع کی حوصلہ شکنی کی ہے، مثلاً شراب کی صنعت، منشیات، فحاشی (Pornography) دھوکہ دہی، رشوت، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز اجارہ داری۔ اسی طرح جوا اور لاٹری بھی ممنوع قرار دیے گئے ہیں، کیونکہ ان میں دولت محنت اور پیداواری سرگرمی کے بجائے اتفاق اور قسمت کے ذریعے ایک شخص سے دوسرے شخص کی طرف منتقل ہوتی ہے۔ ایک شخص چند لمحوں میں دوسروں کی محنت کی کمائی حاصل کرلیتا ہے، جس سے حسد، نفرت، لالچ اور نفسیاتی دباؤ جیسے منفی جذبات پیدا ہوسکتے ہیں۔ اسی لیے قرآن نے شراب اور جوئے دونوں کو شیطانی عمل قرار دے کر ان سے اجتناب کا حکم دیا ہے۔
اسلام سودی قرض کے مقابلے میں قرضِ حسن کو فروغ دیتا ہے۔ قرضِ حسن کا مقصد منافع کمانا نہیں بلکہ معاشی طور پر کم زور انسان کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دینا ہے۔ قرآن نے اس عمل کو اللہ کو قرض دینے سے تعبیر کرتے ہوئے فرمایا: ’’کون ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے؟‘‘ (سورۃ البقرۃ: 245) قرآن میں عدل و احسان کا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا: ’’بے شک اللہ عدل، احسان اور رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے۔‘‘ (سورۃ النحل: 90) قرض دینا بھی اسی جذبہ احسان اور تعاون کا ایک مظہر ہے۔ اسلام قرض لینے والے کے ساتھ رحم اور ہمدردی کی تعلیم دیتا ہے: ’’اگر مقروض تنگ دست ہو تو اسے آسانی ہونے تک مہلت دو اور اگر معاف کردو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔‘‘ (سورۃ البقرۃ: 280) یہ آیت سودی استحصال کے برعکس رحم، تعاون اور اخوت پر مبنی معاشی رویے کی بنیاد رکھتی ہے۔
اسلام نے قرضِ حسن کی ترغیب کے ساتھ زکوٰۃ اور صدقات کو بھی عبادت کے ساتھ ساتھ معاشی اصلاح کا مستقل ذریعہ بنایا ہے۔ ہر صاحبِ نصاب مسلمان اپنی دولت کا ایک مقررہ حصہ معاشرے کے ضرورت مند افراد کو دیتا ہے جس کے نتیجے میں غربت کم کرنے، دولت کی گردش بڑھانے اور معاشی مواقع پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اسلام صرف زکوٰۃ پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ صدقہ، خیرات، یتیموں کی کفالت، مسافروں کی مدد اور بیماروں کی معاونت جیسے متعدد ذرائع کے ذریعے بھی دولت کو معاشرے کے کم زور طبقات تک پہنچانے کی ترغیب دیتا ہے۔
اسلام میں وراثت کا بھی ایک جامع نظام موجود ہے، جس کے ذریعے دولت اگلی نسلوں میں منتقل ہوتی رہتی ہے اور اسے چند ہاتھوں میں مستقل طور پر مرتکز ہونے سے روکا جاتا ہے۔ اسلامی قانونِ وراثت میں بیٹوں، بیٹیوں، والدین، شریکِ حیات اور دیگر قریبی رشتہ داروں کے حقوق متعین کیے گئے ہیں۔ اس طرح اسلام نے دولت کی منتقلی کو محض چند وارثوں تک محدود رکھنے کے بجائے ایک باقاعدہ نظام کے تحت تقسیم کیا ہے، تاکہ معاشی وسائل وسیع تر خاندان اور معاشرے میں گردش کرتے رہیں۔
اسلامی نظامِ معیشت عدل و احسان کے اصول پر قائم ہوتا ہے جب کہ سرمایہ دارانہ نظام میں لالچ، خود غرضی اور عدم مساوات کو فروغ ملتا ہے۔ اگر کسی ملک کی 90 فیصد دولت صرف 10 فیصد افراد کے پاس ہو تو ایسی معیشت وقتی طور پر بڑی دکھائی دے سکتی ہے، لیکن اندر سے کم زور ہوتی ہے، اس لیے کہ متوسط طبقہ سکڑتا جاتا ہے اور اس کی قوتِ خرید ختم ہوتی چلی جاتی ہے۔ جس سے مصنوعات کی طلب (Demand) کم ہوجاتی ہے۔ نتیجتاً صنعت متاثر ہوتی ہے، روزگار کے مواقع کم ہو جاتے ہیں اور سماجی بے چینی بڑھتی ہے۔ معاشیات کا ایک بنیادی اصول ہے کہ پیداوار اس وقت بڑھتی ہے جب خریدنے والے زیادہ ہوں۔ اگر غریب کی آمدنی بڑھے گی تو وہ کپڑے خریدے گا، گھر تعمیر کرے گا، اس کے بچے تعلیم حاصل کریں گے، وہ علاج کرائے گا، فرنیچر اور گاڑی خریدے گا۔ جس سے مصنوعات کی طلب میں اضافہ ہوگا، صنعت چلے گی، روزگار بڑھے گا، ٹیکس ادا کرنے والے بڑھیں گے اور بالآخر GDP بڑھے گی۔ یعنی غریب کو مضبوط کرنا دراصل پوری معیشت کو مضبوط کرنا ہے۔
اسلام افراط و تفریط کے درمیان معتدل اور متوازن راستہ اختیار کرتا ہے۔ اسلام نہ سرمایہ دارانہ ظلم قبول کرتا ہے اور نہ اشتراکیت کی انتہا۔ سرمایہ دارانہ نظام ذاتی ملکیت اور آزاد تجارت کی اجازت دیتا ہے، لیکن یہ سودی لین دین، دولت کے ارتکاز اور استحصالی منافع کے ذریعے معاشرے میں معاشی ظلم کی راہیں ہموار کرتا ہے جس سے ملک کی بھاری اکثریت معاشی بدحالی کا شکار ہوجاتی ہے۔ اس کے مقابلے میں اشتراکی نظام میں غیر فطری معاشی مساوات کے نام پر ذاتی ملکیت کے حق سے لوگوں کو محروم کر دیا جاتا ہے جس سے مسابقت اور کاروباری آزادی متاثر ہوتی ہے۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے ساتھ اشتراکیت کا نظام بھی دنیا میں شدید زوال کا شکار ہوگیا۔ جب کہ اسلامی نظامِ معیشت ان نقائص سے پاک ہے اور توکل علی اللہ، محنت، تجارت، وراثت، صنعت، عدل و احسان، زکوٰۃ و صدقات اور قرضِ حسن کے اصولوں پر قائم ہے، جہاں دولت مرتکز نہیں بلکہ نچلے طبقات تک منتشر و منقسم ہوتی رہتی ہے۔
یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ہر قسم کے قرض کو ایک ہی زاویے سے نہیں دیکھا جاسکتا۔ بینک اور ساہوکار کے سودی کاروبار میں بہت فرق ہوتا ہے۔ بینک حکومت کے قوانین کے تحت کام کرتے ہیں، RBI کے ضابطوں کے پابند ہوتے ہیں، نسبتاً کم شرحِ سود پر قرض دیتے ہیں، زراعت، صنعت، تعلیم اور رہائش میں مالی معاونت کرتے ہیں اور معیشت میں سرمایہ کاری اور ترقی کو فروغ دیتے ہیں، جبکہ ساہوکار من مانی طریقے سے بہت زیادہ شرحِ سود وصول کرتے ہیں، قرض لینے والے کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور بعض صورتوں میں سماجی دباؤ کے ذریعے مقروض کی جائیداد پر قبضہ کیا جاتا ہے۔ اسلام سودی بینکاری کے مقابلے میں مشارکہ، مضاربہ اور مرابحہ کے اصول پر بینک چلانے کے متبادل اصول پیش کرتا ہے، جس میں سودی نظام کی قباحتیں دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اسلامی معیشت کا مقصد یہ نہیں کہ ہر انسان کی دولت بالکل برابر ہو جائے بلکہ یہ ہے کہ ملک میں کوئی بھوکا نہ رہے، کوئی علاج اور تعلیم سے محروم نہ ہو، محنت کا مناسب صلہ ملے، دولت چند ہاتھوں میں مقید نہ ہو اور معاشی مواقع سب کو حاصل ہوں۔ سرمایہ معاشرے کی خدمت کرے، نہ کہ معاشرہ سرمائے کا غلام بن جائے! اسلام کا معاشی نظام سرمایہ داری اور اشتراکیت کے درمیان ایک متوازن، اخلاقی اور عملی راستہ پیش کرتا ہے۔ یہ انسان کے فطری حقِ ملکیت کو تسلیم کرتا ہے، محنت اور کاروبار کی حوصلہ افزائی کرتا ہے لیکن ساتھ ہی سود، استحصال، قمار، ذخیرہ اندوزی، ناجائز اجارہ داری اور حرام ذرائعِ آمدنی پر پابندی لگا کر دولت کے غیر منصفانہ ارتکاز کو روکتا ہے۔ زکوٰۃ، وراثت، صدقات، قرضِ حسن اور شراکت پر مبنی مالیاتی نظام کے ذریعے اسلام معاشرے کے کم زور طبقات کو مضبوط بناتا ہے تاکہ وہ بھی معیشت کے فعال شریک بن سکیں۔ جب دولت معاشرے کے مختلف طبقات میں گردش کرتی ہے تو قوتِ خرید میں اضافہ ہوتا ہے، صنعت و تجارت کو وسعت ملتی ہے، روزگار کے مواقع بڑھتے ہیں اور قومی معیشت زیادہ مضبوط اور مستحکم ہوتی ہے۔ اس طرح اسلام کا مقصد صرف دولت پیدا کرنا نہیں بلکہ ایسی معاشی تہذیب قائم کرنا ہے جس میں عدل، احسان، انسانی وقار، سماجی ہم آہنگی اور پائیدار خوش حالی ایک ساتھ فروغ پائیں۔ یہی وہ معاشی فلسفہ ہے جو قرآن کے اس ابدی اصول کی عملی تعبیر ہے کہ دولت صرف مال داروں کے درمیان گردش کرنے والی شے نہ بن جائے بلکہ پوری انسانیت کی فلاح کا ذریعہ بنے۔ اسلام حقیقی معیشت (Real Economy) کو فروغ دیتا ہے، جہاں دولت تجارت، صنعت، زراعت اور خدمات کے ذریعے پیدا ہوتی ہے، نہ کہ صرف قرض پر قرض دے کر!


