اردو اور سائنسی ادب نیز سائینس کی تعلیم پر سیر حاصل گفتگو
سائنسی ادب کے معروف ادیب محمد خلیل سے خاص بات چیت
( اردو کے سائنسی ادب میں محمد خلیل کا نام سب سے نمایاں ہے۔ محمد خلیل نے نئی نسل میں سائنسی شعور پروان چڑھانے میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ گزشتہ پچاس برسوں کے دوران ان کے تین سو سے زیادہ سائنسی مضامین اور نو کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔ محمد خلیل مرکزی حکومت کے ادارے ’Council for Scientific and Industrial Research (CSIR) سے شائع ہونے والا اردو کا سائنسی رسالہ ’سائنس کی دنیا ‘ کے 27 سال تک ایڈیٹر رہے۔ محمد خلیل یو پی کے تاریخی شہر جونپور میں 1944 میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم جونپور کے محمد حسن انٹر کالج سے حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا جہاں سے انہوں نے بائیولوجی میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ محمد خلیل کا پسندیدہ موضوع سائنس رہا ہے۔ ادب اطفال میں ان کی پہچان سائنسی ادب کے تخلیق کار کی حیثیت سے مسلّم ہے۔ ملک کے قدیم سائنسی ادارے ’وگیان پریشد پریاگ‘ (قائم شدہ 1913) نے خلیل احمد کی غیر معمولی سائنسی خدمات کے اعتراف میں خصوصی مجلہ شائع کیا ہے۔ سینئر صحافی مشتاق عامر نے محمد خلیل سے ان کی رہائش واقع دہلی میں بات چیت کی۔ اس گفتگو کے اہم حصے پیش کیے جا رہے ہیں)
سوال: نظام حیدر آباد کے زمانے میں جامعہ عثمانیہ میں میڈیکل سائنس، سائنس، ریاضی اور انجینئرنگ جیسے عصری مضامین کی اعلیٰ تعلیم اردو میں ہوتی تھی۔ لیکن کیا وجہ رہی کہ سقوط حیدر آباد کے بعد اردو میں سائنسی اور تکنیکی مضامین کی درس و تدریس کا زوال ہو گیا؟
جواب: دیکھیے ارود میں سائنسی مشن کی باقاعدہ شروعات بابائے اردو مولوی عبدالحق نے کی تھی، اس سے پہلے سرسید نے کی تھی۔ مولوی عبدالحق نے پہلا پرچہ ’سائنس‘ کے نام سے اردو میں نکالا۔ یہ رسالہ پہلے سہ ماہی تھا بعد میں دو ماہی ہو گیا۔ یہ رسالہ ٹائپ کی چھپائی میں نکلتا تھا لیکن اس سلسلے میں سب سے بڑا کام عثمانیہ یونیورسٹی کا ہے۔ نظام حیدر آباد میر عثمان علی خان نے اردو کو ذریعہ تعلیم بنایا اور میڈیکل سائنس کی تعلیم اردو میں کامیابی کے ساتھ شروع کرائی۔ لیکن افسوس کہ سقوط حیدر آباد کے بعد یہ سلسلہ ختم ہو گیا۔ اگر ہم سائنس کی بات کریں یا جس سے میرا تعلق ہے یعنی پاپولر سائنس کی، تو میں انہیں خطوط پر اردو میں سائنسی مضامین کو رائج کرنے اور نئی نسل میں اس کو پروان چڑھانے کا کام کر رہا ہوں۔
سوال: جامعہ عثمانیہ کے بعد اردو میں سائنسی ادب کا کام ٹھپ کیوں ہو گیا ہے؟
جواب: اس کی سب سے بڑی وجہ یہ رہی کی اردو والوں نے اپنی زبان کی قدر نہیں کی۔ جن لوگوں کی مادری زبان اردو تھی انہوں نے بھی اپنے بچوں کو اردو کی تعلیم نہیں دلائی۔ بنیادی تعلیم سے اردو کو خارج کر دینے سے ایک پوری نسل اردو سے دور ہو گئی جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ اردو زبان میں سائنسی اور تکنیکی تعلیم کی اہمیت کو سر سید اور بابائے اردو مولوی عبدالحق نے سمجھا تھا لیکن بعد میں اس مشن کو فراموش کر دیا گیا۔
سوال: اس کا ذمہ دار کون ہے، حکومت کی پالیسی یا خود اردو والے؟
جواب: دونوں ہی اس کے ذمہ دار ہیں۔ لیکن اس کے لیے اردو والے زیادہ ذمہ دار ہیں۔ اگر اردو والے اس تسلسل کو بنائے رکھتے اور اپنے بچوں کو اردو تعلیم دلاتے تو اردو کا یہ حال نہ ہوتا، جس کا ذکر ہم یہاں کر رہے ہیں۔
سوال: آپ اردو کے سب سے بڑے سائنسی رسالے ’سائنس کی دنیا‘ کے 27 برس تک اڈیٹر رہے۔ آپ نے اس میں سیکڑوں مضامین اور اداریے لکھے۔ آپ اس میدان میں کیسے آئے؟
جواب: 1975 میں سی ایس آئی آر (CSIR) نے سائنسی علوم پر تین زبانوں میں مجلہ نکالنے کا فیصلہ کیا۔ انگریزی میں سائنس رپورٹر، ہندی میں وگیان پرگتی اور اردو میں سائنس کی دنیا کے نام سے ۔’سائنس کی دنیا‘ کے لیے میرا باقاعدہ انٹرویو ہوا تھا۔ انٹرویو پینل میں اردو کے مشہور شاعر اور ادیب پنڈت آنند نارائن ملا اور مشہور سائنس داں پروفیسر اے رحمان تھے۔ اس طرح اردو میں میرا سائنسی سفر شروع ہوا۔
سوال: کیا آپ ’سائنس کی دنیا‘ سے پہلے بھی اردو میں سائنسی مضامین لکھتے تھے؟ سائنسی مضامین لکھنے کی شروعات کب سے ہوئی؟
جواب: اردو میں سائنسی مضامین لکھنے کی شروعات جونپور میں کالج کے زمانے سے ہی ہو گئی تھی۔ کالج میں میرے ایک سینئر ساتھی سید غلام صمدانی تھے، انہوں نے سائنسی مضامین کی طرف ترغیب دلائی اور یہیں سے مضامین لکھنے کی ابتدا ہوئی۔
سوال: آپ نے سائنس کو کیوں منتخب کیا جب کہ عام طور سے اردو کے ادیب رائج الوقت اصناف پر لکھنے کو فوقیت دیتے ہیں؟
جواب: مجھے سائنس سے دلچسپی شروع سے ہی تھی۔ جونپور میں کالج کے دوران مجھے بہت اچھے استاذ اور ٹیچر ملے، جن سے میں نے بنیادی سائنس اور ریاضی کی تعلیم حاصل کی۔ اشتیاق صاحب سائنس کے پہلے ٹیچر تھے جن سے میں نے یہ جانا کہ سائنس کیا ہوتی ہے۔ ان ٹیچروں نے میری صلاحتیوں کو پروان چڑھایا اور اس قابل بنایا کہ میں علی گڑھ جیسے ادارے میں داخلہ لے سکوں۔ میں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے حیاتیاتی سائنس میں ایم ایس سی کیا۔ وہاں مجھے عالمی شہرت یافتہ اساتذہ سے استفادہ کا موقع ملا۔ ان میں پروفیسر حبیب اور لندن کی رائل سوسائٹی کے دو بار نائب صدر رہ چکے پروفیسر شفیق اور پروفیسر ابرار مصطفیٰ جو نباتاتی سائنس میں عالمی شہرت رکھتے تھے۔ پروفیسر ایس کے سکسینہ سے علم نباتات کی تعلیم حاصل کی۔ اس طرح سائنس میرے مزاج میں رچ بس گئی اور میں سائنس کے مختلف گوشوں پر لکھنے لگا۔
سوال: بالعموم سائنسی مضامین انگریزی میں لکھے جاتے ہیں۔ پھر سائنسی مضامین لکھنے کے لیے آپ نے اردو زبان کا انتخاب کیا اس کی کوئی خاص وجہ؟
جواب: میں نے انگریزی اور ہندی میں بھی سائنسی مضامین لکھے ہیں۔ میرے ہندی مضامین کی پزیرائی پروفیسر نامور سنگھ اور وشنو بربھاکر نے کی تھی۔ ہندی میں لکھے ہوئے میرے مضامین بچوں کے معیاری رسالوں میں شائع ہوئے ہیں۔ ’سائنس کی دنیا‘ کی ادارت سے مجھے اردو دنیا میں پہچان ملی۔ اگرچہ اس سے پہلے میں مضامین لکھنے لگا تھا۔ اس طرح اردو کے ادب اطفال میں سائنسی ادیب کی حیثیت سے میری شناخت قائم ہوئی۔ ویسے میرا خیال ہے کہ زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ اسی اصول کی بنیاد پر میں اردو کے ساتھ ساتھ دیگر زبانوں میں بھی لکھتا رہا۔
سوال: آپ رسالہ ’سائنس کی دنیا‘ کے ایک طویل عرصے تک ایڈیٹر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ نے مختلف سائنسی مضامین پر کتابیں بھی تحریر کیں۔ ان کتابوں کے قارئین صرف بچے ہیں یا بڑی عمر کے لوگ بھی ہیں؟
جواب:دیکھیے، اردو میں میری متعدد کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ان میں عجیب و غریب جانور، انوکھے پرندوں کی دنیا، چچا جان کی سائنسی کہانیاں، سائنس اور ہم، ڈاکٹر سی وی رمن، نہرو اور سائنس، سائنس دانوں کی دل چسپ باتیں، سائنس کے دل چسپ مضامین اور سائنسی ایجادوں کی کہانی شامل ہیں۔ ان میں کچھ کتابوں کے کئی ایڈیشن منظر عام پر آ چکے ہیں۔ چوں کہ میں نے پاپولر سائنس پر کافی کچھ لکھا ہے اس لیے میری کتابیں ہر عمر کے لوگوں میں مقبول رہی ہیں۔ میرا مقصد سائنسی علوم کو اردو داں طبقے تک پہنچانا ہے اور میں اس میں بڑی حد تک کامیاب رہا۔
سوال: جب آپ نے ’سائنس کی دنیا‘ شروع کی تو کیا آپ کے ذہن میں کوئی خاکہ بھی تھا اور کس طرح کے قارئین آپ کے پیش نظر تھے؟
جواب: میں نے بچوں پر فوکس کیا کیوں کہ بچے ہی ملک کا مستقبل ہیں۔ میں نے ایسے مضامین لکھے اور شائع کیے جس سے اردو طبقے کے بچوں میں سائنس کی طرف رجحان بڑھے۔ میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ دیگر زبانوں کے مقابلے اردو میں بچوں کے لیے سائنسی مواد بہت کم ہے، بالکل نہیں کے برابر۔ اور جو مضامین موجود ہیں وہ کافی پرانے ہیں یا اصل کا ترجمہ ہیں۔ میں نے یہ کیا کہ بعض سائنس دانوں سے اردو میں مضامین لکھوائے تاکہ نئی نسل سائنس کی تازہ ترقیوں سے استفادہ کر سکے۔ رسالہ ’سائنس کی دنیا‘ میں ایسے دل چسپ سائنسی مضامین بھی شائع ہوتے تھے جو بچوں کے علاوہ عام قارئین کے لیے بھی معلوماتی ہوتے تھے۔ اس میں خواتین کے لیے بھی ایک گوشہ ہوتا تھا۔ نئی سائنسی ایجادات پر خبریں ہوتی تھیں۔ مراسلے شائع ہوتے تھے وغیرہ۔ میں نے اردو میں سائنس پر مضامین لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی۔ اس طرح ہمیں اردو میں بھی سائنسی مضامین ملنے لگے۔
سوال: آپ نے سیکڑوں سائنسی مضامین لکھے اور متعدد کتابیں تحریر کیں لیکن اردو کے دوسرے ادیبوں نے اس کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی، اس کی کیا وجہ رہی؟
جواب :میں نے کئی اردو ادیبوں کو اس جانب توجہ دلانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے کہا کہ اس سے کیا فائدہ ہوگا؟ ایک بار علی سردار جعفری اور کیفی اعظمی سے بچوں کے لیے کچھ لکھنے کو کہا تو انہوں نے مذاقاً جواب دیا کہ اگر بچوں کے لیے لکھیں گے تو چھوٹے مضمون نگار بن جائیں گے۔ لیکن کئی ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے میری حوصلہ افزائی کی۔ ان میں سابق گورنر پروفیسر اخلاق الرحمان قدوائی کا نام سب سے اہم ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں میری کافی حوصلہ افزائی کی اور مضامین بھی لکھے۔ میں نے ماہر اقتصادیات پروفیسر ایم خسرو سے بھی ’سائنس کی دنیا‘ کے لیے مضامین لکھوائے۔ پروفیسر محمد شفی جغرافیہ کے عالم تھے۔ سائنس داں ایم اے قریشی نے بھی ’سائنس کی دنیا‘ کے لیے مضامین لکھے۔
سوال: جو بچوں کے ادیب کے طور پر جانے جاتے ہیں، انہوں نے بھی بچوں کے لیے سائنسی مضامین کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی- ایسا کیوں؟
جواب:ادب اطفال سے وابستہ ادیبوں نے میری پزیرائی تو خوب کی لیکن سائنسی مضامین لکھنے سے وہ دور بھاگتے رہے۔ ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ جو سائنس کے لوگ تھے وہ اردو نہیں لکھ سکتے تھے، جو اردو کے ادیب تھے ان کو سائنس سے کوئی دل چسپی نہیں تھی۔ جبکہ میری کوشش یہ ہوتی تھی کہ ترجمہ کے بجائے طبع زاد مضامین شائع کیے جائیں۔
سوال: اردو کتابوں کی اشاعت بھی ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ آپ کی کتابوں کی اشاعت میں کس طرح کی دشواریاں پیش آئیں؟
جواب: اب میں آپ سے کیا بتاؤں۔ مختلف زبانوں میں اب تک تقریباً اٹھارہ کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔ چار کتابیں زیر طبع ہیں لیکن ان کتابوں کی اشاعت میں کافی دشواریاں پیش آ رہی ہیں۔ پہلے اردو کے سرکاری ادارے کتابوں کی اشاعت کے لیے مالی امداد فراہم کیا کرتے تھے لیکن اب اردو اداروں کے پاس اتنا فنڈ نہیں ہے کہ وہ دوسروں کی کتابوں کے لیے امداد مہیا کرا سکیں۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان میں میری کتابیں مالی امداد کی منتظر ہیں۔ دیکھیے کب چھپنے کا وقت آتا ہے۔
سوال: عام خیال یہ ہے کہ مسلمان سائنس میں بہت پیچھے ہیں۔ اسکولوں میں بھی مسلم بچے سائنسی مضامین میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پاتے۔ آپ ان باتوں سے کس حد تک متفق ہیں؟
جواب: یہ بات درست نہیں ہے۔ جب ہم نے پاپولرسائنس کو اردو میں لکھنا شروع کیا تو اردو داں طبقے پر اس کا خاطر خواہ اثر پڑا۔ میری کئی کتابوں کے تین تین ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ میری پہلی کتاب ’عجیب و غریب جانور‘ جو بہت مشہور ہے، اس کے متعدد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ اصولی بات یہ ہے کہ سائنس رٹنے سے سمجھ میں نہیں آتی بلکہ سائنس سمجھنے سے آگے بڑھتی ہے۔
سوال: اردو زبان اور سائنسی ادب کے مستقبل کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟
جواب: ہم بچپن سے سنتے آ رہے ہیں کہ ہندوستان سے اردو ختم ہو رہی ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اردو صرف مسلمانوں کی زبان نہیں ہے اور نہ ہی اس کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ بلکہ میرا تو تجربہ ہے کہ اردو میں سائنس زیادہ آسان ہو جاتی ہے۔ اردو میں سائنسی اصطلاحات کی تشریح بہت آسانی کے ساتھ کی جا سکتی۔ صرف اس کو عمل میں لانے کی ضرورت ہے۔ نیز، بنیادی سائنس کو اپنی مادری زبان میں پڑھایا جانا چاہیے۔
سوال: اردو میڈیم سرکاری اسکولوں میں جو سائنسی نصاب پڑھایا جا رہا ہے اس سے آپ کس حد تک مطمئن ہیں؟
جواب: نصاب تو بہت اچھا ہے لیکن اس کو پڑھانے والے لائق ٹیچر دستیاب نہیں ہیں۔ کانوینٹ اسکولوں میں جس طرح لائق ٹیچر ہوتے ہیں اس طرح اردو میڈیم اسکولوں میں نہیں ہوتے۔ اردو ٹیچروں کو احساس کمتری کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ انہیں پہلے خود نصاب کا مطالعہ کرنا چاہیے اور پوری تیاری کے ساتھ بچوں کو سائنس کی تعلیم دینی چاہیے۔ ساتھ ہی پریکٹکل پر زور دینا چاہیے۔ مجھے یقین ہے کہ ہماری درس گاہوں میں سائنسی تعلیم کو لے کر ماحول میں مثبت تبدیلی آئے گی۔