بی جے پی کی حکومت بنگال میں اپنے ابتدائی سو دن مکمل ہونے کا جشن منا رہی ہے اور اسے ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ کسی بھی نئی حکومت کی کارکردگی جانچنے کے لیے سو دن کا عرصہ ناکافی ہوتا ہے، تاہم حکومت کی ترجیحات اور مستقبل کے عزائم کو سمجھنے کے لیے یہ مدت خاصی اہم ہوتی ہے۔
تقریباً چار دہائیوں کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ بنگال اور مرکز میں ایک ہی سیاسی جماعت کی حکومت قائم ہوئی ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران مرکز اور ریاست کے درمیان جاری کشمکش کی ریاست کے عوام نے بھاری قیمت چکائی ہے۔ یہ امید کی جا رہی تھی کہ اب مرکز سے بنگال کے واجب الادا بقایاجات جاری ہوں گے اور ریاست کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے بڑے اقدامات کیے جائیں گے۔ تاہم، حکومت کے ان سو دنوں میں ایسی کوئی بڑی پہل نظر نہیں آئی جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ نئی حکومت بنگال کی ہمہ جہت ترقی کے لیے سنجیدہ اور پرعزم ہے۔
اس کے برعکس، ان سو دنوں میں حکومت نے نظریاتی طور پر جارحانہ رخ اختیار کرتے ہوئے اپنے سیاسی مخالفین پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ ریاست کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت، جو گزشتہ پندرہ برسوں سے اقتدار میں تھی اور بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کر رہی ہے، اس کے رہنماؤں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے بجائے سیاسی بنیادوں پر نمٹنے کو ترجیح دی گئی ہے۔
دوسری جانب ان سو دنوں کے دوران حکومت کے اقدامات سے یہ تاثر بھی مضبوط ہوا ہے کہ مسلم مخالف بیانیے کو نظریاتی سطح پر آگے بڑھایا جائے گا۔ قربانی اور نماز جیسے مذہبی شعائر کو موضوعِ بحث بنانے کے علاوہ، مسلمانوں کے پسماندہ طبقات کو ریزرویشن سے محروم کرنے کے اقدامات، یکساں سول کوڈ کے لیے کمیٹی کے قیام اور دیگر متنازع بیانیوں کو فروغ دینے کے اعلانات اسی سمت اشارہ کرتے ہیں۔
بنگال میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً تیس فیصد ہے اور ریاست کی تہذیب و تمدن، تاریخ اور سماجی تشکیل پر ان کے گہرے اثرات ہیں۔ ایسے میں ریاست کی تاریخی یادداشت کو ازسرِنو تشکیل دینے اور بعض تاریخی کرداروں کو متنازع بنانے کی کوششیں بھی تشویش کا باعث ہیں۔ ہندوتوا کے حامی حلقوں کے نشانے پر بنگال کی وہ تاریخی شخصیات بھی آ رہی ہیں جنہیں طویل عرصے سے ریاست کے اجتماعی ورثے کا حصہ سمجھا جاتا رہا ہے، جن میں سبھاش چندر بوس اور رابندر ناتھ ٹیگور جیسی عظیم شخصیات شامل ہیں۔
نوآبادیاتی دور میں کسانوں کی مزاحمت اور برطانوی مظالم کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والے شہید تیتو میر کی یاد میں قائم ’’تیتو میر بھون‘‘ پر حملہ اور اس کا نام تبدیل کرکے ’’شیاما پرساد مکھرجی بھون‘‘ رکھنے کا فیصلہ اسی سلسلہ وار پالیسی کا تازہ ترین قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ شہید تیتو میر کو گزشتہ ایک دہائی سے مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کی تاریخ و جدوجہد کو فراموش کرانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
مگر بنیادی سوال یہ ہے کہ انیسویں صدی میں بنگال میں کسانوں کی ابتدائی مسلح مزاحمت کی قیادت کرنے والے شہید تیتو میر آخر ہندوتوا کے حامی حلقوں کے نشانے پر کیوں ہیں؟ یہی وہ سوال ہے جو بی جے پی حکومت کے سو دنوں کی کارکردگی سے آگے بڑھ کر اس کے نظریاتی ایجنڈے اور بنگال کی تاریخ و شناخت کے بارے میں اس کے تصور کو سمجھنے کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔
نوآبادیاتی بھارت میں کسانوں کی دو ایسی بڑی تحریکیں برپا ہوئیں جنہوں نے نہ صرف برطانوی استعمار اور ان کے پروردہ زمینداروں کی مخالفت کی بلکہ ان کی طاقت کو چیلنج کرتے ہوئے متبادل حکم رانی کا مظاہرہ کیا اور ٹیکس دینے سے انکار کر کے خود ٹیکس وصولی کا اعلان کر دیا۔ یہ دونوں تحریکیں کیرالا کی مالابار بغاوت (جسے موپلا تحریک بھی کہا جاتا ہے) اور بنگال میں تیتو میر تحریک کے نام سے مشہور ہیں۔ اتفاق سے ان دونوں تحریکوں کے قائدین مسلمان تھے۔ مالابار بغاوت ایک مسلح تحریک تھی جسے موپلا مسلمانوں نے1921میں برطانوی حکام اور ان کے اتحادی زمینداروں کے خلاف برپا کیا تھا، جبکہ تیتو میر کی قیادت میں یہ تحریک کئی سالوں تک برطانوی استعمار اور ان کے معاون (ہندو اور مسلم) زمینداروں کے خلاف جاری رہی۔ بالآخر نومبر 1831 میں ایک مسلح مقابلے میں تیتو میر اور ان کے رفقائے کار ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔
تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ یہ دونوں بغاوتیں بنیادی طور پر غریب کسانوں کی انگریزوں اور ان کے وفادار زمینداروں کے خلاف جنگ تھی، جو جاگیردارانہ جبر و تشدد کے شکار تھے۔ تاریخ کی کتابیں اس دور کے برطانوی حکم رانوں اور زمینداروں کے بے رحم کردار کو اجاگر کرتی ہیں۔ زمینداروں کی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو قتل کر دیا جاتا تھا اور غریب کسانوں پر ہر حالت میں زمین کا کرایہ ادا کرنا لازمی تھا، چاہے خشکسالی یا سیلاب کی وجہ سے فصل ہی کیوں نہ برباد ہو گئی ہو۔ کرایہ ادا کرنے کے لیے کسانوں کو ساہوکاروں سے سود پر رقم لینی پڑتی تھی، جس کے نتیجے میں وہ مسلسل قرض کے جال میں پھنس کر دہرے مظالم کا شکار ہوتے رہے۔
1757 میں جنگِ پلاسی کے بعد بنگال کے آخری نواب سراج الدولہ کی شہادت سے ایسٹ انڈیا کمپنی کے اثر و رسوخ میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ نئی انتظامی و اقتصادی پالیسیوں نے زمینداروں اور پیشہ ور اشرافیہ کا ایک نیا طبقہ پیدا کیا۔ مسلم حکومت کے زوال اور کمپنی کی پالیسیوں کی وجہ سے مسلم عوام اور اشرافیہ پسماندگی کا شکار ہوئے اور کمپنی انتظامیہ و اعلیٰ طبقات کا گٹھ جوڑ عام کسانوں اور مزدوروں (خواہ ہندو ہوں یا مسلم) کے لیے شدید مصیبت کا سبب بن گیا۔
نامور بنگالی مصنفہ مہاشویتا دیوی اپنی کتاب تیتو میر میں 1770 کے ہولناک ’’بنگال قحط‘‘ کی عکاسی کرتے ہوئے لکھتی ہیں:
قدرتی آفات اور حاکموں کی بے حسی نے پسماندہ طبقات کو تباہ کر دیا۔ لوگ بھوک سے مر رہے تھے لیکن امیر لوگ سستے داموں خریدا گیا چاول ذخیرہ کر کے مہنگے داموں بیچنے کی فراق میں تھے۔ بنگال کے اس قحط میں لاکھوں لوگ لقمہ اجل بن گئے۔ لیکن ان حالات میں بھی گورنر جنرل وارن ہیسٹنگز زیادہ سے زیادہ محصول اکٹھا کرنے میں لگا رہا اور کسانوں کا خون نچوڑ کر زمینداروں کے ذریعے ریکارڈ ٹیکس جمع کیا۔"اس قحط کے بعد کسانوں اور عام لوگوں نے فقیروں اور سنیاسیوں کی قیادت میں برطانوی راج کے خلاف آواز اٹھائی۔ اس بغاوت میں فقیر، سادھو، بنکر، کسان اور مزدور سب شریک تھے۔
سید میر نثار علی (تیتو میر) کی ابتدائی زندگی اور اصلاحی سفر
اسی دور میں کلکتہ سے ۷۰ کلومیٹر دور، شمالی ۲۴ پرگنہ کے نارکل بیڑیا پرگنہ (حیدرپور گاؤں) میں ۱۷۸۲ء میں سید میر نثار علی عرف تیتو میر کی پیدائش ہوئی۔ تیتو میر کا تعلق ایک علمی و شریف خاندان سے تھا۔ انہوں نے کم عمری میں قرآن پاک حفظ کیا، مقامی مدرسے سے اسلامی علوم میں مہارت حاصل کی اور بنگلہ، عربی و فارسی زبانوں پر عبور حاصل کیا۔ وہ ایک ماہر پہلوان بھی تھے۔ ۱۸۲۲ء میں تیتو میر حج کے سفر پر مکہ مکرمہ روانہ ہوئے، جہاں ان کا قیام چند سال رہا۔ وہاں ان کا رابطہ سید احمد شہیدؒ اور حاجی شریعت اللہ سے ہوا۔ ۱۸۲۷ء میں وطن واپسی کے بعد ان کی زندگی میں نمایاں انقلاب آ چکا تھا اور وہ کسانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف متحرک ہوگئے۔ انہوں نے اپنے علاقے میں اصلاحی اور بیداری مہم شروع کی، جس کی وجہ سے وہ کسانوں اور بنکروں میں بے حد مقبول ہوگئے۔ ان کے پیروکاروں میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ مقامی ہندو کسان اور پسماندہ طبقات بھی شامل تھے، کیونکہ وہ سب انگریزوں اور مقامی زمینداروں کے مظالم سے یکساں طور پر متاثر تھے۔
گوبر ڈانگہ، تاراگونیا اور دیگر علاقوں کے زمینداروں نے مسلمانوں کی بیداری اور اصلاحی تحریکوں کو دبانے کے لیے ڈاڑھی رکھنے، مساجد اور عبادت گاہوں پر غیر انسانی ٹیکس عائد کردیے تھے۔ تیتو میر نے اس ناانصافی کے خلاف کسانوں کو منظم کیا۔
نامور مورخ پروفیسر گوتم بھدرا کے مطابق، تیتو میر کی جرأت مندانہ روش نے ہزاروں افراد کو ان کی تحریک میں شامل کردیا، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔ تیتو میر کی تحریک اس قدر مضبوط ہوگئی کہ انہوں نے شمالی ۲۴ پرگنہ، ندیہ اور فریدپور کے علاقوں میں برطانوی حاکمیت کو چیلنج کیا اور اکتوبر ۱۸۳۱ء میں نارکل بیڑیا میں بانس کا قلعہ (Bansher Kella) تعمیر کیا۔ زمینداروں کی درخواست پر ایسٹ انڈیا کمپنی نے مداخلت کی، لیکن ابتدائی جھڑپوں میں کمپنی اور زمینداروں کو شکست ہوئی۔ اس کے بعد گورنر جنرل لارڈ ولیم بینٹک کے حکم پر لیفٹیننٹ کرنل سٹیورٹ کی قیادت میں ایک بڑی منظم فوج، مع توپ خانہ، بھیجی گئی۔ ۱۴ نومبر ۱۸۳۱ء کو انگریز فوج نے حملے کا آغاز کیا اور بمباری کرکے بانس کے قلعے کو تباہ کردیا۔ ۱۹ نومبر ۱۸۳۱ء کو تیتو میر اپنے متعدد رفقا کے ساتھ میدانِ جنگ میں شہید ہوگئے۔ کمانڈر غلام معصوم سمیت ۳۵۰ مجاہدین کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے غلام معصوم کو سزائے موت اور دیگر کو قید کی سزائیں دی گئیں۔
تیتو میر کی شہادت کے تقریباً دو صدیوں بعد ان کی قربانیوں کو فرقہ وارانہ رنگ دینے اور بدنام کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ۲۰۱۷ء میں جب نصابی کتابوں اور دیگر تحریروں میں تیتو میر کی تحریک پر مندروں پر حملے یا پجاریوں کے قتل کے الزامات عائد کیے گئے تو سنجیدہ مورخین نے برطانوی اور مقامی دستاویزات کی روشنی میں ان دعوؤں کی حقیقت واضح کی۔
پروفیسر گوتم بھدرا کے مطابق، یہ دعویٰ کہ تیتو میر کی قیادت میں مندر تباہ کیے گئے یا پجاری ہلاک کیے گئے، بے بنیاد ہے۔ ایک واقعے میں زمیندار دیب رائے کا ایک ملازم، جو پجاری بھی تھا کسانوں پر ٹیکس وصولی اور مظالم میں براہِ راست شامل تھا۔ کسانوں اور زمیندار کے کارندوں کے تصادم میں وہ مارا گیا۔ اس واقعے کو فرقہ واریت کا رنگ دینا تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہے۔
پروفیسر اتیس داس گپتا (انڈین اسٹیٹسٹیکل انسٹیٹیوٹ) اپنے مقالے ’’تیتو میر کی بغاوت: ایک پروفائل‘‘ (۱۹۸۳ء) میں رقم طراز ہیں:
تیتو میر نوآبادیاتی نظام اور زمینداروں کے استحصالی رویے کے سخت مخالف تھے۔ ان کے خلاف محاذ آرائی میں ہندو اور مسلمان دونوں طبقوں کے زمیندار شامل تھے، جنہوں نے مشترکہ طور پر انگریزوں سے مدد مانگی تھی۔ ۱۸ نومبر ۱۸۳۱ء کی فوجی کارروائی میں تیتو میر اور ان کے ساتھیوں نے آخری وقت تک مقابلہ کیا۔ تیتو میر اور ان کے پیروکار نوآبادیاتی مخالف کسان تحریک کی تاریخ میں جبر و استحصال کے خلاف ایک مثال قائم کر کے گئے ہیں۔ برطانوی مصنفین، مثلاً جان رسل کولون نے تقسیم کرو اور حکومت کرو (Divide and Rule) کی پالیسی کے تحت تیتو میر کو ڈاکو یا شدت پسند قرار دے کر انگریزی حکومت کے مظالم کو چھپانے اور اس کسان تحریک کو ہندو مسلم تنازع کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔
تیتو میر کی تحریک بنیادی طور پر برطانوی استعمار اور ان کے وفادار زمینداروں کے خلاف غریب کسانوں کی طبقاتی اور قومی جدوجہد تھی۔ اس تحریک میں مسلم کسانوں کے ساتھ غیر مسلم پسماندہ طبقات بھی شامل تھے اور اس کے خلاف محاذ آرائی میں مسلم زمیندار بھی انگریزوں کے ساتھ کھڑے تھے۔ لہٰذا تیتو میر کی اس عظیم الشان تاریخی قربانی کو مذہبی تعصب کی عینک سے دیکھنا یا اسے فرقہ وارانہ رنگ دینا تاریخ کی تحریف کے مترادف ہے۔
موجودہ سیاسی و فکری تناظر میں بعض حلقوں کی جانب سے تیتو میر کی تحریک کو فرقہ واریت یا مندروں کی تباہی سے تعبیر کرکے ان کے تاریخی کردار کو مسخ کرنے اور ان سے منسوب یادگاروں کے نام تبدیل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ تاہم، نامور مورخین، مثلاً گوتم بھدرا اور اتیس داس گپتا نے برطانوی اور مقامی دستاویزات کے ذریعے یہ حقیقت واضح کی ہے کہ یہ الزامات انگریزوں کی ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کا تسلسل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تیتو میر کی جنگ خالصتاً برطانوی استعمار اور استحصالی جاگیردارانہ نظام کے خلاف کسانوں کی قومی و طبقاتی جدوجہد تھی جس نے بعد میں ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کی راہ ہموار کی۔
تیتو میر کی تاریخ کا جب بھی مطالعہ کیا جائے گا بنگال کے ان زمینداروں کا تذکرہ ازخود سامنے آئے گا جو انگریزوں کے ساتھ سازباز کرکے عام ہندوستانیوں پر مظالم ڈھاتے اور انہیں قحط کی آغوش میں دھکیلتے رہے۔ چونکہ فرقہ وارانہ و ہندوتوا ذہنیت دراصل اسی جاگیردارانہ اور استحصالی سوچ کا تسلسل ہے، اس لیے وہ اپنی نام نہاد عظمت کو بچانے کے لیے تاریخ کو مسخ (Historical Revisionism) کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، من گھڑت کہانیوں اور پروپیگنڈے کے ذریعے کچھ عرصے کے لیے ذہنوں کو مسموم تو کیا جا سکتا ہے مگر تاریخی حقائق کو ہمیشہ کے لیے پوشیدہ نہیں رکھا جا سکتا۔ سچائی یہ ہے کہ بنگال اور پورے ہندوستان میں جب بھی عام شہریوں کے حقوق اور استعمار کے خلاف طبقاتی جدوجہد کی بات ہوگی، شہید تیتو میر کا نام تاریخ کے صفحات پر پوری آب و تاب کے ساتھ چمکتا رہے گا۔
بنگال میں بی جے پی حکومت کے سو دن: ترقی سے زیادہ نظریاتی ایجنڈا؟

نوآبادیاتی بھارت کی پہلی مسلح کسان تحریک کے قائد شہید تیتو میر بنگال میں ہندوتوا وادیوں کے نشانے پر کیوں ہیں؟

