بعض اوقات ایک کتاب محض کتاب نہیں رہتی بلکہ وہ دو مختلف دنیاؤں کے درمیان گفتگو کا دروازہ کھول دیتی ہے۔ چناں چہ بنگلورو میں ایسا ہی ایک لمحہ اس وقت سامنے آیا جب جماعت اسلامی ہند کرناٹک کے ریاستی سکریٹری اکبر علی اُڈپی اور اسسٹنٹ سکریٹری ریاض احمد رون نے کرناٹک کی سابق وزیر بی ٹی للیتا نائک سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ مزاج پرسی ہوئی، گفتگو ہوئی اور انہیں سیرت پر کتابیں پیش کی گئیں۔
بات نکلی تو خواتین کے حقوق تک پہنچی۔
عوامی زندگی میں طویل عرصہ گزارنے والی بی ٹی للیتا نائک نے رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے اسی پہلو کو موضوع بنایا۔ ان کے الفاظ غیر معمولی تھے:
’’خواتین کے حقوق اور ان کی ترقی کے لیے حضرت محمد (ﷺ) نے جو کام کیا وہ واقعی تاریخی تھا۔ وہ خواتین کے نجات دہندہ تھے۔ اس کے لیے ہمیں ہمیشہ ان کا احسان مند رہنا چاہیے۔‘‘
یہ محض کسی کتاب کا شکریہ یا رسمی ملاقات میں کہے جانے والے تعریفی کلمات نہیں تھے۔ ایک ایسی خاتون سیاست داں کی زبان سے جو دہائیوں تک کرناٹک کی سماجی اور عوامی زندگی کا حصہ رہی ہیں، یہ بات ایک بڑے سوال کی طرف توجہ دلاتی ہے: چودہ سو برس پہلے کی سیرت آج کے انسان کے سوالات سے کس طرح گفتگو کرتی ہے؟
بی ٹی للیتا نائک سے یہ ملاقات جماعت اسلامی ہند کرناٹک کی آئندہ ریاست گیر سیرت مہم کے پس منظر میں ہوئی۔ جماعت نے 26 اگست سے 6 ستمبر 2026 تک ’’انقلاب کے علم بردار۔ حضرت محمد ﷺ‘‘ کے عنوان سے ریاست بھر میں مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں امیر حلقہ ڈاکٹر محمد سعد بلگامی اور ریاستی سکریٹریوں نے مہم کے پوسٹر کی رو نمائی کی۔
جماعت اسلامی ہند کرناٹک ہر سال سیرتِ رسول ﷺ کے کسی ایسے پہلو کو مہم کا موضوع بناتی ہے جو موجودہ سماج اور اس کے مسائل سے براہِ راست تعلق رکھتا ہو۔ منتخب موضوع پر نیا لٹریچر بھی تیار کیا جاتا ہے۔ لہٰذا اس مرتبہ بھی کنڑ زبان میں نئی کتابیں تیار کی گئی ہیں تاکہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی اور ان کے پیغام کو کرناٹک کے وسیع تر سماج تک اسی کی زبان میں پہنچایا جاسکے۔
اس مہم کو محض جماعت کی تنظیمی سرگرمی تک محدود رکھنے کے بجائے ہر سال یہ کوشش کی جاتی ہے کہ مقامی سطح پر علماء، مسلم تنظیموں، سماجی شخصیات اور دیگر حلقوں کو بھی ساتھ لیا جائے اور ان کی شمولیت سے پروگرام ترتیب دیے جائیں تاکہ سیرت کا پیغام زیادہ وسیع حلقوں تک پہنچ سکے۔
مہم کے دوران خطابات ہوں گے، اجتماعات منعقد ہوں گے، کتابوں کی نمائش اور تقسیم بھی ہوگی مگر ان سب کے درمیان شاید سب سے دیرپا اثر اس کوشش کا ہو کہ سیرت کی کتاب لے کر خود لوگوں تک پہنچا جائے—کسی ادیب، استاد، مذہبی پیشوا یا سماجی کارکن کے ساتھ بیٹھ کر رسول اللہ ﷺ کی سیرت کے اس پہلو پر گفتگو کی جائے جو اس کے اپنے میدانِ عمل اور آج کے سماجی سوالات سے تعلق رکھتا ہو۔ یوں مقصد محض ایک کتاب پہنچانا نہیں، بلکہ کتاب کے ذریعے ایک بامعنی گفتگو کا آغاز کرنا ہے۔
بی ٹی للیتا نائک سے ملاقات نے اسی امکان کی ایک جھلک دکھائی۔ وہاں گفتگو خواتین کے مقام اور حقوق تک پہنچی۔ کسی دوسری ملاقات میں موضوع عدل ہو سکتا ہے، کہیں انسانی مساوات، کہیں پڑوسی کے حقوق، کہیں تجارت میں دیانت، کہیں نوجوانوں کی تربیت اور کہیں مختلف مذاہب کے درمیان تعلقات۔یہیں سیرت ماضی کے واقعات کا بیان رہنے کے بجائے حال سے گفتگو کرنے لگتی ہے۔
ربیع الاول قریب آتا ہے تو رسول اللہ ﷺ کی زندگی، تعلیمات اور شخصیت پر گفتگو بڑھ جاتی ہے۔ جلسے ہوتے ہیں، خطابات ہوتے ہیں، مضامین لکھے جاتے ہیں اور کتابیں تقسیم ہوتی ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ اہم ہیں لیکن اس کے ساتھ ایک سوال اور بھی ہے کہ سیرت ان لوگوں تک کیسے پہنچے جو ہمارے جلسوں میں نہیں آتے، ہماری کتابیں خود تلاش نہیں کرتے اور ہماری مذہبی مجالس کا حصہ نہیں ہوتے؟کرناٹک میں شروع ہونے والی یہ مہم شاید اسی سوال کا ایک عملی جواب تلاش کرنے کی کوشش ہے۔
ریاست گیر مہم کے آغاز میں ابھی کچھ دن باقی ہیں۔ لیکن بنگلورو کے ایک گھر میں پیش کی گئی سیرت کی ایک کتاب نے اپنا سفر پہلے ہی شروع کر دیا ہے۔
اس نے ایک گفتگو شروع کر دی ہے۔