ایک بے گناہ فن کار تین ماہ تک جیل میں! وکاس لوانڈے کی کوششوں سے سامنے آئی انصاف کی چونکا دینے والی کہانی
 کسی بھی جمہوری معاشرے میں قانون کی حکم رانی اور انصاف کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔ عوام اپنے جان و مال اور عزت کے تحفظ کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد کرتے ہیں، لیکن جب یہی ادارے کسی بے گناہ شہری کو غلط شناخت، ناقص تفتیش یا محض شبہ کی بنیاد پر گرفتار کر لیں تو صرف ایک فرد ہی متاثر نہیں ہوتا بلکہ پورا نظامِ انصاف سوالوں کے گھیرے میں آ جاتا ہے۔ مہاراشٹر کے شہر لوناولا میں پیش آنے والے مصور، اقبال حسین جعفری کا دردناک معاملہ بھی ایک ایسا ہی واقعہ ہے جس میں انہوں نے اپنی زندگی کے تین قیمتی ماہ جیل میں گزار دیے۔ اس واقعے نے پولیس کی تفتیش، شہری حقوق اور انصاف کے تقاضوں پر سنجیدہ بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ صرف ایک شخص کی گرفتاری کی کہانی نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کا آئینہ ہے جہاں ایک معمولی سی غلطی یا غفلت کسی بے گناہ انسان کی زندگی کے قیمتی مہینے جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ اس پورے واقعے نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے، جن کے جوابات نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں بلکہ حکومت اور عدلیہ کے لیے بھی انتہائی اہم ہیں۔
اقبال حسین جعفری، جن کا تعلق جموں و کشمیر سے ہے، گزشتہ بیس برس سے مہاراشٹر کے شہر لوناولا میں مقیم ہیں۔گھر والوں سے ناراض ہو کر وہ گھر چھوڑ کر لوناولا منتقل ہو گئے تھے اور یہیں رہنے لگے تھے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے ایک مصور (آرٹسٹ) ہیں اور مختلف مندروں، مذہبی مقامات اور عوامی جگہوں پر اپنی فنکارانہ خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے چھترپتی شیواجی مہاراج اور دیگر مذہبی شخصیات کی بے شمار تصویریں بنائی ہیں اور شہر کے بیشتر لوگ انہیں ایک فنکار کے طور پر جانتے ہیں۔
اس کے مطابق ایک روز انہیں ایک شخص پولیس چوکی لے گیا، جہاں پہلے اس کا نام اور تفصیلات درج کی گئیں۔ اگلے روز انہیں دوبارہ طلب کیا گیا، لیکن اس مرتبہ پولیس نے انہیں بتایا کہ ان کا نام "شیکھر پٹیل" ہے، حالانکہ وہ بار بار اپنا اصل نام اقبال حسین جعفری بتاتے رہے اور اپنا آدھار کارڈ اور دیگر شناختی دستاویزات بھی پیش کرتے رہے اس کے باوجود ان کی بات نہیں سنی گئی اور انہیں ایک ایسے مقدمے میں ملزم بنا دیا گیا، جس سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا۔
اس مقدمے کے قانونی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے ایڈووکیٹ ملند پوار نے کئی اہم حقائق بیان کیے۔ ان کے مطابق لوناولا سٹی پولیس اسٹیشن میں ہریش پروین کمار پرمار کی شکایت پر ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ اس کے پتا پروین پرمار کے جعلی دستخط کر کے فرضی دستاویزات تیار کی گئیں جن کی بنیاد پر جائیداد سے متعلق لین دین انجام دیا گیا۔ ایف آئی آر میں متعدد افراد کو نامزد کیا گیا جن میں آٹھویں ملزم کے طور پر شیکھر پٹیل کا نام درج تھا۔ شکایت کے مطابق پروین پرمار کے جعلی دستخط کرنے کا الزام اسی شیکھر پٹیل پر عائد کیا گیا تھا جس کے بعد پولیس نے ضابطے کے مطابق مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کی، متعدد ملزمین کو گرفتار کیا، جبکہ بعض ملزموں نے گرفتاری سے بچنے کے لیے ممبئی ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔
ایڈووکیٹ ملند پوار کے مطابق تفتیش کے دوران پولیس کو ایف آئی آر میں نامزد آٹھواں ملزم شیکھر پٹیل کہیں بھی نہیں ملا۔ پولیس اس شخص کی شناخت اور موجودگی کا سراغ لگانے میں ناکام رہی، اور یہی وہ مرحلہ تھا جہاں پورا معاملہ ایک نئے رخ پر چلا گیا۔ وکیل کا دعویٰ ہے کہ اصل ملزم تک نہ پہنچ پانے کے بعد پولیس نے لوناولا میں رہنے والے اقبال ہاشم ممتالی جعفری، المعروف اقبال حسین جعفری کو گرفتار کر لیا اور عملی طور پر انہیں ہی شیکھر پٹیل کے طور پر اس مقدمے میں شامل کر دیا۔ ایڈووکیٹ ملند پوار کے مطابق یہی اس مقدمے کا سب سے متنازع اور اہم پہلو ہے، کیونکہ ان کے بقول اصل سوال یہ ہے کہ آخر ایک ایسے شخص کو جس کا نام ایف آئی آر میں درج ہی نہیں تھا کس بنیاد پر اس مقدمے میں ملزم بنا کر گرفتار کیا گیا؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب اب عدالت میں جاری کارروائی اور آئندہ سامنے آنے والے شواہد کی روشنی میں طے ہوگا۔
اقبال جعفری کا کہنا ہے کہ انہیں پولیس حراست میں رکھنے کے بعد یروڑا جیل منتقل کر دیا گیا جہاں جا کر انہیں معلوم ہوا کہ سرکاری ریکارڈ میں ان کا نام ’’شیکھر پٹیل عرف اقبال حسین جعفری‘‘ درج کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے جیل حکام کو بھی اپنی بے گناہی سے آگاہ کیا، مگر انہیں یہی بتایا گیا کہ اب ریکارڈ میں ان کی یہی شناخت موجود ہے۔
تین ماہ تک جیل میں رہنے کے دوران اقبال جعفری شدید ذہنی اذیت سے گزرتے رہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ہر رات یہی سوچتے تھے کہ آخر وہ کس جرم کی سزا بھگت رہے ہیں۔ ان کے مطابق ان سے ملنے والا بھی کوئی نہیں تھا، کیونکہ ان کے زیادہ تر رشتہ دار کشمیر میں رہتے ہیں جبکہ لوناولا میں ان کا کوئی قریبی عزیز موجود نہیں تھا۔
وکاس لاونڈے کی بروقت مداخلت
اقبال حسین جعفری کی رہائی میں سب سے اہم کردار نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار گروپ) کے رہنما وکاس لاونڈے نے ادا کیا۔ اتفاق سے وکاس لاونڈے بھی ایک دوسرے مقدمے میں گرفتار ہو کر اسی جیل میں قید تھے جہاں ان کی ملاقات اقبال حسین جعفری سے ہوئی۔ دورانِ گفتگو اقبال جعفری نے اپنی پوری داستان انہیں سنائی۔ وکاس لاونڈے نے جب ان کی بات سنی اور معاملے کا جائزہ لیا تو انہیں یقین ہو گیا کہ یہ شخص سنگین ناانصافی کا شکار ہوا ہے۔ جیل سے رہائی کے بعد انہوں نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا، اقبال جعفری کے لیے وکیل کا انتظام کیا، قانونی امداد فراہم کی اور ان کی ضمانت کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔ انہی کوششوں کے نتیجے میں تقریباً تین ماہ بعد اقبال حسین جعفری جیل سے باہر آ سکے۔ اگر جیل میں ان کی ملاقات وکاس لاونڈے سے نہ ہوتی تو بعید نہیں تھا کہ وہ مزید کئی ماہ، یا شاید کئی برس تک، اسی مقدمے میں قید رہتے اور ان کی بے گناہی کی داستان جیل کی چار دیواری سے باہر کبھی نہ پہنچ پاتی۔ یہی پہلو اس واقعے کو محض ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ انصاف کی تلاش میں ایک حساس انسان کے کردار کی مثال بھی بنا دیتا ہے۔
جیل سے رہائی کے بعد بھی ان کی مشکلات ختم نہ ہوئیں۔ قید کے دوران ان کا رہائشی مکان ہاتھ سے نکل گیا، روزگار متاثر ہوا اور بعد میں سیلاب کی وجہ سے ان کا کام بھی بری طرح متاثر ہوا۔ آج وہ کرائے کے مکان میں زندگی گزار رہے ہیں۔
اقبال حسین جعفری کی داستان سامنے آنے کے بعد یہ سوال بھی شدت سے اٹھا کہ آخر پولیس کا اس معاملے پر کیا مؤقف ہے؟ کیا واقعی ایک بے گناہ شخص کو محض غلط شناخت کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا یا پھر پولیس کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن کی بنیاد پر اس کارروائی کو درست قرار دیا جا سکتا ہے؟
انہی سوالات کے جواب جاننے کے لیے عثمان آباد کے معروف صحافی راہول کلکرنی نے اس پورے معاملے پر تحقیقی رپورٹنگ کرتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا ہینڈل کے ذریعے نہ صرف اقبال جعفری سے ملاقات کر کے ان کی کہانی منظرِ عام پر لائی بلکہ اس معاملے کی تفتیش کرنے والے پولیس افسران سے بھی رابطہ کیا تاکہ اس معاملے کا دوسرا رخ بھی سامنے آ سکے۔
اس سلسلے میں لوناولا پولیس اسٹیشن کے موجودہ انچارج سے انہوں نے تفصیلی گفتگو کی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ حال ہی میں اس پولیس اسٹیشن میں تعینات ہوئے ہیں، اس لیے یہ کارروائی ان کی تعیناتی سے پہلے کی ہے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ جب اس معاملے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں تو ضلع دیہی پولیس سپرنٹنڈنٹ سندیپ گل نے خود اس کی جانچ کرائی تھی۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ اقبال حسین جعفری ہی اس مقدمے میں مطلوب شخص ہیں اور انہی پر شیکھر پٹیل کے نام سے جعلی دستخط کرنے کا شبہ ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں فرانزک رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے اور اسی رپورٹ کے بعد حقیقت واضح ہوگی کہ جعلی دستخط کس نے کیے تھے۔
دوسری جانب عدالتی کارروائی کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب اقبال جعفری کی جانب سے ضمانت کی درخواست دائر کی گئی تو ان کے وکیل نے چارج شیٹ میں درج معلومات کی بنیاد پر سب سے اہم نکتہ یہ اٹھایا کہ اقبال جعفری اور شیکھر پٹیل دو الگ الگ اشخاص ہیں اور ان دونوں کے درمیان کسی قسم کا تعلق ثابت نہیں کیا جا سکا۔ وکیل نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ صرف شبہ کی بنیاد پر ایک شخص کو دوسرے کے نام سے گرفتار کرنا انصاف کے خلاف ہے۔
ضمانت کی سماعت کے دوران عدالت نے یہ بھی دیکھا کہ اس مقدمے کی فرانزک رپورٹ ابھی تک موصول نہیں ہوئی ہے۔ مزید یہ کہ مقدمے کے دیگر تمام ملزمین پہلے ہی ضمانت پر رہا ہو چکے تھے، جبکہ اقبال جعفری کا کوئی قریبی رشتہ دار مہاراشٹر میں موجود نہیں تھا جو ان کی ضمانت کے لیے آگے آتا۔ وہ جموں و کشمیر کے رہائشی ہیں اور لوناولا میں تنہا زندگی گزار رہے تھے۔ ایسی صورتِ حال میں سماجی کارکن وکاس لاونڈے نے ان کی ضمانت کے لیے قانونی کوششیں کیں، جس کے بعد عدالت نے انہیں بھی ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔
دل چسپ بات یہ ہے کہ پولیس نے اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد عدالت میں چارج شیٹ بھی داخل کر دی لیکن اسی چارج شیٹ نے اس مقدمے کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
اقبال جعفری کی جانب سے مقدمہ لڑنے والے ایڈووکیٹ ملند پوار نے چارج شیٹ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد کئی اہم سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں واضح طور پر آٹھویں ملزم کا نام شیکھر پٹیل درج ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے پروین پرمار کے جعلی دستخط کر کے فرضی دستاویزات تیار کیں۔
وکیل ملند پوار کے اہم دلائل
اس معاملے میں عدالت میں پیروی کرنے والے ایڈووکیٹ ملند پوار کے مطابق تفتیش کے دوران پولیس اصل ملزم شیکھر پٹیل تک پہنچنے میں ناکام رہی اور اس نے لوناولا میں گزشتہ بیس برس سے مقیم مصور اقبال حسین جعفری کو گرفتار کیا اور شیکھر پٹیل کے طور پر پیش کر دیا، حالانکہ پولیس کو اچھی طرح معلوم تھا کہ اقبال جعفری ایک فنکار ہیں، ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں، وہ تنہا زندگی بسر کرتے ہیں اور گزشتہ کئی برسوں سے اسی علاقے میں رہائش پذیر ہیں۔
ایڈووکیٹ ملند پوار کا کہنا ہے کہ اگر چارج شیٹ کا باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے تو اس میں ایسا کوئی مضبوط ثبوت موجود نہیں جس سے ثابت ہو کہ اقبال جعفری کا دیگر ملزموں سے کوئی رابطہ تھا۔ نہ ان کے موبائل فون کے کال ریکارڈ (CDR) سے کسی قسم کا تعلق ظاہر ہوتا ہے، نہ ٹاور لوکیشن سے ان کی موجودگی دوسرے ملزمین کے ساتھ ثابت ہوتی ہے، اور نہ ہی کوئی مالی لین دین سامنے آیا جس سے یہ ظاہر ہو کہ انہوں نے کسی سازش میں حصہ لیا تھا۔
وکیل کے مطابق پولیس نے صرف اس بنیاد پر کارروائی کی کہ اصل ملزم دستیاب نہیں تھا، اس لیے محض شبہ کی بنیاد پر اقبال جعفری کو گرفتار کر لیا گیا۔
اب یہ مقدمہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔
اگر اس مقدمے کی آئندہ تحقیقات، فرانزک رپورٹ اور عدالتی کارروائی کے بعد یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ متعلقہ پولیس اہلکاروں نے جان بوجھ کر اقبال حسین جعفری کو جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا، ان کی شناخت کو غلط انداز میں پیش کیا اور ایک بے گناہ شہری کو مہینوں جیل میں رکھنے کا سبب بنے، تو ایسے ذمہ دار افسروں کے خلاف محض محکمہ جاتی کارروائی کافی نہیں ہوگی بلکہ قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی جانی چاہیے تاکہ یہ واضح پیغام جائے کہ اختیارات کا ناجائز استعمال کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اس واقعے نے پولیس کی تفتیشی کارروائی اور نظامِ انصاف کے بارے میں کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جن کا جواب دینا ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
یہ مقدمہ صرف ایک فرد کی آزادی کا نہیں، بلکہ تفتیشی نظام، شہری حقوق اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داریوں کا بھی امتحان بن چکا ہے۔ اب نظریں عدالت کے آئندہ فیصلے اور فرانزک رپورٹ پر مرکوز ہیں جو اس پورے معاملے کی حقیقت سے پردہ اٹھا سکتی ہیں۔
اس واقعے نے کئی سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔ اگر ایک شہری اپنی اصل شناختی دستاویزات رکھنے کے باوجود غلط شناخت کی بنیاد پر گرفتار ہو سکتا ہے تو عام آدمی کے بنیادی حقوق کس حد تک محفوظ ہیں؟ کیا ایسی غلطیوں کے ذمہ دار اہلکاروں کا احتساب نہیں ہونا چاہیے؟ اور ایسے بے گناہ افراد کو ہونے والے مالی، سماجی اور ذہنی نقصان کا ازالہ کون کرے گا؟
اقبال حسین جعفری کی کہانی صرف ایک شخص کی داستان نہیں ہے بلکہ یہ اس ضرورت کی یاد دہانی بھی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی کارروائی سے پہلے مکمل تصدیق اور احتیاط کو یقینی بنائیں تاکہ کسی بے گناہ کو محض غلط شناخت کی قیمت اپنی آزادی، عزت اور زندگی کے قیمتی مہینوں سے نہ چکانی پڑے۔
چونکہ مہاراشٹر میں محکمہ داخلہ کا قلم دان خود وزیرِ اعلیٰ دیویندر پھڈنویس کے پاس ہے، اس لیے اس معاملے میں ان کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ اب پورے مہاراشٹر کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ اگر تحقیقات میں کسی قسم کی بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال یا جان بوجھ کر کی گئی کوتاہی ثابت ہوتی ہے تو وزیرِ اعلیٰ اور محکمہ داخلہ متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف کیا کارروائی کرتے ہیں، کیونکہ یہی فیصلہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں اہم کردار ادا کرے گا۔