گجرات کے شہر سورت میں واقع ویر نرمد ساؤتھ گجرات یونیورسٹی میں طلبا کی حفاظت کے لیے 388 خصوصی پنکھوں کی تنصیب بظاہر ایک تکنیکی خبر ہے لیکن اس کے پیچھے ایک ایسا سوال پوشیدہ ہے جس پر ہمارے تعلیمی اداروں، حکومت اور معاشرے کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ انڈیا ٹوڈے کی 23 اکتوبر 2026 کی خبر کے مطابق یونیورسٹی نے اپنے نو ہاسٹلوں میں ایسے پنکھے نصب کیے ہیں جن کے ہینگروں میں اسپرنگ کا نظام موجود ہے جس کے نتیجے میں غیر معمولی وزن پڑنے پر پنکھا نیچے جھک جاتا ہے اور بجلی کی فراہمی منقطع ہو جاتی ہے۔ اس اقدام کا مقصد طلبا کی حفاظت کو بہتر بنانا ہے۔ اس مقصد کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ کسی بھی تعلیمی ادارے کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہاں تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان محفوظ ماحول میں رہیں اور اپنی زندگی کے اہم ترین مرحلے کو اطمینان کے ساتھ گزار سکیں۔ لیکن خبر پڑھتے ہوئے ذہن میں ایک سوال ضرور ابھرتا ہے کہ کیا پنکھوں کی ساخت بدل دینے سے طلبا کی خودکشی کا مسئلہ حل ہو جائے گا؟ یقیناً نہیں۔ یہ ایک احتیاطی تدبیر ہے اور اگر اس سے کسی کی جان بچ سکتی ہے تو اسے خوش آئند سمجھنا چاہیے۔ حفاظتی انتظامات اپنی جگہ اہم ہیں اور ان حالات کو سمجھنا بھی ضروری ہے جو کسی طالب علم کو شدید ذہنی پریشانی میں مبتلا کر سکتے ہیں۔ ہمیں دونوں پہلوؤں پر بیک وقت توجہ دینی ہوگی۔ محض پنکھے بدلنے پر اعتراض کرنا بھی درست نہیں ہے لیکن اس اقدام کو مسئلے کا مکمل حل سمجھ کر مطمئن ہو جانا بھی مناسب نہیں ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہم اس خبر کو ایک وسیع تر تعلیمی اور سماجی مسئلے پر غور کرنے کا موقع بنائیں۔ ملک میں طلبا کی خودکشیوں کا مسئلہ نیا نہیں ہے لیکن اس کی سنگینی کے باوجود اس پر ہونے والی گفتگو اکثر چند دنوں تک محدود رہتی ہے۔ کوئی افسوس ناک واقعہ پیش آتا ہے، اس پر تشویش ظاہر کی جاتی ہے، ذمہ داروں سے سوال کیے جاتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ سب کچھ معمول کے مطابق ہو جاتا ہے۔ اگلے واقعے تک ہماری توجہ کسی دوسرے موضوع کی طرف منتقل ہو چکی ہوتی ہے۔ ہمیں طلبا کی زندگیوں سے متعلق خطرات کو صرف واقعات کے بعد یاد کرنے کے بجائے ان کی روک تھام کو مستقل ترجیح بنانا ہوگا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم جذباتی ردِ عمل سے آگے بڑھیں اور دستیاب شواہد، ادارہ جاتی ذمہ داریوں اور تعلیمی پالیسیوں کا جائزہ لیں۔
اخبار فرنٹ لائن نے اپنی تحریر
"India’s student suicide crisis and the data gap"
میں طلبا کی خودکشیوں کے مسئلے اور اس سے متعلق اعدادوشمار میں موجود خلا کی طرف توجہ دلائی ہے۔ یہ ایک اہم نکتہ ہے کیونکہ کسی مسئلے کی سنگینی سمجھنے کے لیے صرف واقعات کی تعداد جاننا کافی نہیں ہوتا بلکہ یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اعدادوشمار کن افراد سے متعلق ہیں، ان کی درجہ بندی کس بنیاد پر کی گئی ہے اور ان سے کن نتائج تک پہنچا جا سکتا ہے۔
نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (NCRB) کے 2024 کے اعدادوشمار کے مطابق بھارت میں اس سال طلبا کی خودکشیوں کے 14,488 واقعات درج ہوئے، جب کہ 2023 میں یہ تعداد 13,892 تھی۔ اس طرح ایک سال کے دوران درج شدہ واقعات میں تقریباً 4.3 فیصد اضافہ ہوا۔ 2024 میں طلبا سے متعلق واقعات ملک میں ریکارڈ ہونے والی مجموعی خودکشیوں کا تقریباً 8.5 فیصد تھے۔ یہ اعدادوشمار یقیناً تشویش ناک ہیں لیکن ان کا درست مفہوم سمجھنا بھی ضروری ہے۔ ان میں مختلف تعلیمی سطحوں کے طلبا شامل ہو سکتے ہیں؛ اس لیے ان اعداد کو صرف کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبا کی خودکشیوں کی تعداد قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ اسی طرح ان اعداد کی بنیاد پر یہ نتیجہ بھی نہیں نکالا جا سکتا کہ ہر واقعے کا سبب امتحانی دباؤ یا تعلیمی نظام تھا۔ یہیں اعدادوشمار کا خلا ایک اہم مسئلہ بن جاتا ہے۔ ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ مختلف تعلیمی سطحوں پر صورتِ حال کیا ہے، طلبا کو کن مسائل کا سامنا ہے اور ان کی مدد کے لیے موجود انتظامات کس حد تک مؤثر ہیں۔ اگر ہمیں صرف یہ معلوم ہو کہ کتنے طلبا کی خودکشی کے واقعات درج ہوئے لیکن یہ سمجھنے کے لیے کافی معلومات نہ ہوں کہ مختلف حالات میں کون سے عوامل نمایاں تھے اور بروقت مدد کہاں میسر نہیں آ سکی، تو مؤثر پالیسی بنانا مشکل ہوگا۔ اعدادوشمار کا مقصد محض ایک تشویش ناک عدد پیش کرنا نہیں بلکہ ان کی بنیاد پر مسئلے کو سمجھنا اور اس کی روک تھام کے لیے بہتر اقدامات کرنا ہے۔ اسی لیے اخبار فرنٹ لائن میں اٹھایا گیا ڈیٹا کا سوال اس بحث میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔
یہاں ایک بات واضح رہنی چاہیے کہ خودکشی ایک پیچیدہ انسانی مسئلہ ہے۔ اس کے پیچھے ذہنی صحت، خاندانی حالات، معاشی مشکلات، سماجی دباؤ، تنہائی اور تعلیمی مسائل سمیت مختلف عوامل ہو سکتے ہیں۔ ہر واقعے کی صورتِ حال الگ ہوتی ہے، اس لیے کسی ایک وجہ کو تمام واقعات پر لاگو کرنا درست نہیں ہے۔ لیکن اس حقیقت کو بنیاد بنا کر تعلیمی اداروں کی ذمہ داری سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی طالب علم کو تعلیمی ماحول میں مشکلات پیش آ رہی ہوں، اس کی شکایت نہیں سنی جا رہی ہو، اسے مسلسل تضحیک کا سامنا ہو یا اسے اپنی پریشانی بیان کرنے کا کوئی قابلِ اعتماد راستہ نہ ملے تو ادارے کو اپنے کردار کا جائزہ ضرور لینا چاہیے۔ ہر واقعے کی مکمل وجہ جاننا ممکن نہ بھی ہو، تب بھی ان حالات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے جن پر ادارے کا اختیار ہے۔ ہمارے نظامِ تعلیم میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کامیابی کا پیمانہ اکثر چند نمبروں، گریڈ یا ڈگری تک محدود ہو جاتا ہے۔ طالب علم نے کتنے نمبر حاصل کیے، اس کا سی جی پی اے کتنا ہے، وہ کتنی جلدی ڈگری مکمل کرتا ہے اور اسے ملازمت کب ملتی ہے وغیرہ۔ یہ سوالات اہم ہیں لیکن کیا یہی کسی نوجوان کی پوری صلاحیت اور مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے کافی ہیں؟ تعلیم کا مقصد صرف امتحان میں کامیابی حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ سوچنے، سمجھنے، سوال اٹھانے، غلطیوں سے سیکھنے اور زندگی کے مسائل کا سامنا کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا بھی ہے۔ اگر ہم طالب علم کی قدر و قیمت کو صرف اس کی تعلیمی کارکردگی سے جوڑ دیں تو ہم تعلیم کے وسیع تر مقصد کو محدود کر دیتے ہیں۔ کسی مضمون میں ناکامی یا توقع سے کم نمبر حاصل ہونا طالب علم کے لیے پریشانی کا سبب بن سکتا ہے۔ لیکن اسے اپنی پوری زندگی کی ناکامی سمجھ لینا ایک الگ مسئلہ ہے۔ طالب علم کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ایک امتحان اس کی قابلیت کا مکمل فیصلہ نہیں کرتا اور زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے ایک سے زیادہ راستے موجود ہوتے ہیں۔ یہ بات کہنا آسان ہے، لیکن اسے عملی طور پر ممکن بنانے کے لیے تعلیمی اداروں اور خاندانوں دونوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر والدین بچے کا موازنہ دوسروں سے کرتے رہیں، اساتذہ ناکامی کو تضحیک کا ذریعہ بنائیں اور ادارے طالب علم کو صرف نتائج کی بنیاد پر پرکھیں تو محض نصیحت کرنے سے صورتِ حال تبدیل نہیں ہوگی۔
یونیورسٹی کی سطح پر یہ مسئلہ خاص توجہ چاہتا ہے۔ اس مرحلے پر نوجوان اپنی تعلیم کے ساتھ مستقبل کی منصوبہ بندی بھی کر رہے ہوتے ہیں۔ بہت سے طلبا گھر سے دور رہتے ہیں، خاندان کی مالی قربانیوں کا احساس اپنے ساتھ رکھتے ہیں اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار حاصل کرنے کی فکر میں مبتلا رہتے ہیں۔ بعض طلبا کے لیے ڈگری محض تعلیمی سند نہیں بلکہ اپنے خاندان کے معاشی حالات بہتر بنانے کی امید بھی ہوتی ہے۔ ایسے میں تعلیمی مشکلات، مالی پریشانیوں اور مستقبل کی غیر یقینی کیفیت کا ایک ساتھ سامنا کرنا ان کے لیے دشوار ہو سکتا ہے۔ اس لیے یونیورسٹی انتظامیہ کو طلبا کے مسائل کو محض انفرادی شکایات سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
امتحانات، نتائج، بیک لاگ، حاضری، اسکالرشپ، فیس اور ڈگری کی تکمیل سے متعلق معاملات طلبا کی زندگی پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر نتائج میں غیر ضروری تاخیر ہو، قواعد واضح نہ ہوں، فیصلوں میں شفافیت نہ ہو یا کسی شکایت کا ازالہ طویل عرصے تک نہ کیا جائے تو طالب علم کی پریشانی بڑھ سکتی ہے۔ ان مسائل کا حل تعلیمی معیار کم کرنا نہیں بلکہ انتظامی نظام کو زیادہ منصفانہ اور مؤثر بنانا ہے۔ طالب علم کو پہلے سے معلوم ہونا چاہیے کہ امتحانی قواعد کیا ہیں، ناکامی کی صورت میں دوبارہ کوشش کا طریقہ کار کیا ہوگا اور کسی غلطی یا ناانصافی کی شکایت کہاں کی جا سکتی ہے۔ واضح قواعد اور بروقت فیصلے کسی ادارے کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی ذمہ دارانہ کارکردگی کی علامت ہیں۔ اسی طرح، استاد اور طالب علم کا تعلق محض نصاب اور امتحان تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ استاد کا بنیادی کام تعلیم دینا ہے، لیکن اس کے رویے کا اثر طالب علم کے اعتماد اور تعلیمی تجربے پر بھی پڑتا ہے۔ کسی مشکل مضمون کو سمجھانے کے لیے مناسب رہنمائی، کمزور کارکردگی پر تعمیری تنقید اور طالب علم کی بات سننے کا حوصلہ ایک بہتر تعلیمی ماحول پیدا کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، سب کے سامنے تضحیک، تحقیر آمیز تبصرے یا شکایت کرنے والے طالب علم کو نظرانداز کرنا اس کے اعتماد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ استاد نظم و ضبط قائم نہ کرے یا تعلیمی معیار پر سمجھوتہ کرے! بلکہ مطلب صرف یہ ہے کہ سختی اور توہین میں فرق ہونا چاہیے۔ علمی معیار برقرار رکھتے ہوئے بھی طالب علم کے وقار کا احترام کیا جا سکتا ہے۔
یونیورسٹیوں میں شکایات کے ازالے کا مؤثر نظام بھی ضروری ہے۔ اگر کسی طالب علم کو استاد، شعبے یا انتظامیہ سے متعلق مسئلہ درپیش ہو تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اپنی بات کہاں پیش کرے گا اور اس کی شکایت کس طریقے سے دیکھی جائے گی۔ محض شکایت کا دفتر قائم کر دینا کافی نہیں؛ اس نظام پر طلبا کا اعتماد بھی ضروری ہے۔ اگر طالب علم کو یہ خوف ہو کہ شکایت کرنے سے اس کے نمبر یا مستقبل متاثر ہوں گے تو وہ اپنی بات سامنے لانے سے گریز کر سکتا ہے۔ ایک ذمہ دار ادارہ ایسا ماحول پیدا کرتا ہے جہاں شکایت کو ذاتی مخالفت نہیں، بلکہ مسئلے کی نشاندہی اور اصلاح کا موقع سمجھا جائے۔
ہاسٹل کے ماحول کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہاسٹل صرف رہائش کی جگہ نہیں؛م ہے بلکہ یہ طالب علم کی روزمرہ زندگی کا اہم حصہ ہوتا ہے۔ وہاں صفائی، خوراک، پانی، تحفظ، مطالعے کے لیے مناسب ماحول، نجی زندگی کا احترام اور انتظامیہ تک رسائی جیسے معاملات اہم ہیں۔ گھر سے دور رہنے والے طالب علم کے لیے ہاسٹل کے ساتھیوں اور عملے کا رویہ خاص معنی رکھتا ہے۔ اگر کوئی طالب علم تنہائی یا کسی ذاتی مشکل سے گزر رہا ہو تو اسے مدد حاصل کرنے کا راستہ معلوم ہونا چاہیے۔ ہاسٹل انتظامیہ کو صرف قواعد نافذ کرنے تک محدود رہنے کے بجائے طلبا کی فلاح و بہبود کے لیے بھی حساس ہونا چاہیے۔
ذہنی صحت کی سہولتیں ہر بڑی یونیورسٹی کی بنیادی ضرورت ہیں۔ کونسلنگ سنٹر کا بورڈ لگا دینا کافی نہیں؛ وہاں تربیت یافتہ ماہرین، مناسب وقت، رازداری اور ضرورت پڑنے پر مزید پیشہ ورانہ مدد تک رسائی موجود ہونی چاہیے۔ طالب علم کو یہ خوف نہیں ہونا چاہیے کہ مشاورت حاصل کرنے سے اس کی ساکھ خراب ہوگی یا اس کے تعلیمی مستقبل پر منفی اثر پڑے گا۔ ذہنی دباؤ اور جذباتی پریشانی کے بارے میں بات کرنا کمزوری نہیں، بلکہ اپنی کیفیت کو سمجھنے اور مدد حاصل کرنے کا ایک اہم قدم ہے۔ لیکن ذہنی صحت کی مشاورت (کاؤنسلنگ) کو بھی تمام مسائل کا واحد حل نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگر ایک طرف طالب علم کو مشاورت کی سہولت فراہم کی جائے اور دوسری طرف اس کے تعلیمی مسئلے کا حل نہ نکلے، شکایت پر کارروائی نہ ہو یا غیر ضروری انتظامی رکاوٹیں برقرار رہیں تو ادارہ اپنی بنیادی ذمہ داری پوری نہیں کر رہا ہوگا۔ انفرادی مدد اور ادارہ جاتی اصلاح ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔ یونیورسٹیوں کو طلبا کی ذہنی صحت کا خیال رکھنے کے ساتھ اپنے قواعد، تدریسی طریقوں اور انتظامی رویوں کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔
حکومت اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کی نگرانی کرنے والے اداروں کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ یونیورسٹیوں کو صرف عمارتوں، داخلوں، امتحانی نتائج اور ڈگریوں کی تعداد کی بنیاد پر نہیں پرکھنا چاہیے۔ طلبا کی فلاح و بہبود، شکایات کے ازالے، ہاسٹلوں کے تحفظ اور ذہنی صحت کی سہولتوں کو بھی ادارہ جاتی معیار کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ پالیسی بنانا پہلا قدم ہے؛ اس پر عمل درآمد کی نگرانی اور خامیوں کی اصلاح اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ اگر کوئی ضابطہ موجود ہے لیکن اس پر عمل نہیں ہو رہا تو محض اس کے وجود کو کامیابی نہیں کہا جا سکتا۔
حکومت کو طلبا کی خودکشیوں کے بارے میں مستند اور تفصیلی اعدادوشمار کی دستیابی بہتر بنانے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ مختلف تعلیمی سطحوں پر صورتِ حال کو سمجھنا، موجودہ معاونت کے نظام کا جائزہ لینا اور مؤثر اقدامات کی شناخت کرنا پالیسی سازی کے لیے ضروری ہے۔ اس نوعیت کی تحقیق میں طلبا اور متاثرہ خاندانوں کی رازداری اور انسانی وقار کا پورا خیال رکھا جانا چاہیے۔ مقصد کسی فرد کی نجی زندگی کو موضوعِ بحث بنانا نہیں، بلکہ ایسے حالات کو بہتر طور پر سمجھنا ہے جن میں مستقبل میں نقصان کے امکانات کم کیے جا سکیں۔
اس مسئلے میں والدین اور معاشرے کا کردار بھی اہم ہے۔ اکثر نوجوانوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر امتحان میں اچھے نمبر حاصل کریں، دوسروں سے بہتر کارکردگی دکھائیں اور تعلیم مکمل کرتے ہی روزگار حاصل کر لیں۔ لیکن زندگی کا سفر ہر شخص کے لیے یکساں نہیں ہوتا۔ کسی کو اپنی منزل تک پہنچنے میں زیادہ وقت لگتا ہے، کسی کو مضمون یا پیشہ ورانہ راستہ بدلنا پڑتا ہے اور کسی کو معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان حالات کو ذاتی ناکامی سمجھنے کے بجائے زندگی کی حقیقت کے طور پر قبول کرنا چاہیے۔ نوجوانوں کو یہ احساس ملنا ضروری ہے کہ ان کی قدر صرف نمبروں، ڈگری یا ملازمت سے طے نہیں ہوتی اور مشکل وقت میں مدد مانگنا کوئی شرم کی بات نہیں۔
میڈیا کو بھی ایسے واقعات کی رپورٹنگ میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ خودکشی سے متعلق خبروں میں سنسنی خیزی، غیر ضروری تفصیلات اور غیر مصدقہ دعوؤں سے گریز خرنا چاہیے۔ توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ مسئلے کو بہتر طور پر کیسے سمجھا جائے، دستیاب مدد کے راستے کیا ہیں اور ادارے مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔ کسی واقعے کو ایک ہی سبب سے جوڑ دینا آسان ہے لیکن حقیقت اکثر اس سے زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔ سنجیدہ صحافت کا کام صرف واقعہ بیان کرنا نہیں بلکہ معاشرے کو اس پر ذمہ داری سے غور کرنے کا موقع فراہم کرنا بھی ہے۔
اب پھر شہر سورت کی یونیورسٹی میں نصب کیے گئے خصوصی پنکھوں کی طرف واپس آتے ہیں۔ اس اقدام کو غیر ضروری قرار دینا مناسب نہیں، کیونکہ حفاظتی انتظامات اپنی جگہ اہم ہیں لیکن یہ سمجھ لینا بھی درست نہیں کہ اس سے طلبا کی خودکشی کا مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ پنکھوں کی تنصیب ایک فوری احتیاط ہے؛ طلبا کے لیے محفوظ اور معاون ماحول پیدا کرنا ایک مسلسل ذمہ داری ہے۔ دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ یونیورسٹیوں کو یہ دیکھنا ہوگا کہ طلبا کو بروقت تعلیمی رہنمائی مل رہی ہے یا نہیں، ان کی شکایات سنی جا رہی ہیں یا نہیں، ذہنی صحت کی سہولتیں واقعی دستیاب ہیں یا نہیں اور ہاسٹلوں کا ماحول ان کی ضروریات کے مطابق ہے یا نہیں۔ ہمیں ایسا نظامِ تعلیم درکار ہے جو طلبا سے محنت کا تقاضا کرے، لیکن ان کی مشکلات کو بھی سمجھے؛ جو معیار برقرار رکھے، مگر انصاف کو نظرانداز نہ کرے؛ جو ناکامی پر رہنمائی دے، مگر طالب علم کی عزتِ نفس مجروح نہ کرے۔ تعلیم کا مقصد صرف امتحانات میں کامیابی اور ڈگری کا حصول نہیں، بلکہ نوجوانوں میں علم، شعور، خود اعتمادی اور زندگی کے مسائل کا سامنا کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا بھی ہے۔ اگر تعلیمی ادارے اس مقصد کو بھول جائیں تو بہتر عمارتیں اور جدید آلات بھی تعلیم کی بنیادی انسانی ذمہ داری پوری نہیں کر سکتے۔ طلبا کی زندگیوں کا تحفظ کسی ایک پنکھے، کسی ایک ضابطے یا کسی ایک مشاورتی مرکز سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں نوجوان اپنی پریشانی بیان کر سکیں، ناکامی کے بعد آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کر سکیں اور ضرورت پڑنے پر قابلِ اعتماد مدد حاصل کر سکیں۔ سورت میں خصوصی پنکھوں کی تنصیب ایک احتیاطی قدم ہے لیکن اس خبر سے اٹھنے والا بڑا سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا ہمارے تعلیمی ادارے طلبا کو صرف کامیاب ہونے کے لیے تیار کر رہے ہیں یا مشکل وقت میں انہیں سنبھلنے اور دوبارہ کوشش کرنے کے مواقع بھی فراہم کر رہے ہیں؟ یہ بھی واضح رہے کہ ملک کے بدلتے ہوئے منظرنامے میں طلبا کی بے چینی کو مزید بڑھا دیا ہے ۔ طلبا سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں وہ بہتر مستقبل کی تلاش میں اور پُرامن معاشرے کی جستجو میں ہیں ایسے میں ان میں ذہنی اضطراب بڑھنا بھی عین ممکن ہے ۔ ان حالات میں سیاسی و سماجی اصلاحات کی بھی اشد ضرورت ہے ۔
پنکھے بدلنا ایک حفاظتی اقدام ہے لیکن نظامِ تعلیم میں انسانی حساسیت، انصاف اور جواب دہی پیدا کرنا کہیں وسیع تر ذمہ داری ہے۔ طلبا کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے ہمیں دونوں محاذوں پر کام کرنا ہوگا۔
اینٹی سوسائیڈ فیان۔۔۔

پنکھے بدلنے کے ساتھ نظامِ تعلیم میں اصلاحات بھی ضروری۔مسئلہ کی جڑ تک پہنچنا ہوگا

