اساتذہ پر بڑھتا غیر تدریسی بوجھ۔جب استاد ووٹر فہرستیں درست کرے تو طلبہ کو کون پڑھائے؟
مہاراشٹر سمیت ملک کی کئی ریاستوں میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) مہم نے ایک بار پھر یہ بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا انتخابی عمل کی کامیابی کے لیے تعلیمی نظام کو متاثر کرنا ایک مناسب حکمتِ عملی ہے؟ ہزاروں اساتذہ کو ووٹر فہرستوں کی نظر ثانی، گھر گھر جا کر اینومریشن فارم تقسیم کرنے، ان سے فارم واپس وصول کرنے، ان کی جانچ پڑتال اور دیگر انتظامی ذمہ داریوں میں مصروف کیے جانے کے باعث ریاست کے سرکاری اور امداد یافتہ اسکولوں میں تدریسی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ اس صورتِ حال نے نہ صرف اساتذہ بلکہ لاکھوں طلبہ، والدین اور ماہرینِ تعلیم میں بھی شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔ ایک استاد صرف نصاب مکمل کرنے والا سرکاری ملازم نہیں بلکہ نئی نسل کا معمار ہوتا ہے۔ جب اسی استاد کو مہینوں تک اپنی تدریسی ذمہ داریوں سے ہٹا کر غیر تدریسی اور انتظامی کاموں میں لگا دیا جائے تو اس کا سب سے بڑا نقصان طلبا کی تعلیمی استعداد، ذہنی نشوونما اور مستقبل کو ہوتا ہے۔ آج مہاراشٹر کے متعدد اضلاع میں یہی منظر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مختلف اخبارات اور ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ سرکاری اور امداد یافتہ اسکولوں کے اساتذہ کی بڑی تعداد ایس آئی آر مہم میں مصروف ہے۔ اس کے نتیجے میں کئی اسکولوں میں کلاسیں خالی رہتی ہیں، کہیں ایک ہی استاد متعدد جماعتوں کو سنبھالنے پر مجبور ہے اور کہیں طلبا کو خود مطالعہ کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس کا براہِ راست اثر نصاب کی تکمیل، تدریسی معیار اور طلبہ کی تعلیمی کارکردگی پر پڑ رہا ہے۔
حکومت اور الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ انتخابی فہرستوں کی درستگی ایک آئینی اور جمہوری ذمہ داری ہے جس کے لیے سرکاری عملے کی خدمات لینا ضروری ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے لیے درست ووٹر فہرست ناگزیر ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس پوری ذمہ داری کا بوجھ صرف اساتذہ کے کندھوں پر ڈال دینا مناسب ہے؟ کیا اس مقصد کے لیے علیحدہ تربیت یافتہ عملہ، عارضی افرادی قوت یا دیگر انتظامی وسائل فراہم نہیں کیے جا سکتے؟ اساتذہ تنظیمیں مسلسل اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ ریاست کے بیشتر سرکاری اسکول پہلے ہی تدریسی عملے کی شدید کمی کا شکار ہیں۔ ایسے میں جب موجودہ اساتذہ کو بھی طویل عرصے کے لیے غیر تدریسی کاموں میں لگا دیا جاتا ہے تو طلبا کی تعلیم بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ یہ صرف چند دنوں یا چند ہفتوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے تعلیمی سال پر اثر انداز ہونے والا معاملہ ہے۔
ذہنی دباؤ اور افسوسناک واقعات
ایس آئی آر مہم کے دوران پیش آنے والے بعض افسوسناک واقعات نے اساتذہ پر بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ کے مسئلے کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ گزشتہ دنوں ممبئی کے وکھرولی میں ایک خاتون ٹیچر کی مبینہ خود کشی کی کوشش اور ناندیڑ میں ضلع پریشد کے ایک اسکول ٹیچر کی اپنے دو معصوم بچوں کے ساتھ خود کشی جیسے المناک واقعات نے ریاست بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ذرائع ابلاغ میں ان دونوں واقعات کے حوالے سے ایس آئی آر ڈیوٹی، انتظامی دباؤ اور مبینہ ہراسانی کے الزامات سامنے آئے، جبکہ متعلقہ اداروں نے قانونی کارروائی کے ساتھ تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں۔ اگرچہ ان واقعات کی حتمی وجوہات کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا، تاہم انہوں نے ایک اہم سوال ضرور کھڑا کر دیا ہے کہ مسلسل غیر تدریسی ذمہ داریوں اور بڑھتے ہوئے انتظامی دباؤ کا اساتذہ کی ذہنی اور نفسیاتی صحت پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔
اساتذہ کی نفسیاتی کیفیت کا براہِ راست اثر کلاس روم کے ماحول پر بھی پڑتا ہے۔ ذہنی دباؤ کا شکار استاد نہ پوری یکسوئی کے ساتھ تدریس انجام دے سکتا ہے اور نہ ہی طلبا کی تعلیمی و اخلاقی تربیت پر مطلوبہ توجہ دے پاتا ہے۔ تعلیم محض کتابی معلومات کی منتقلی کا نام نہیں بلکہ استاد اور طالب علم کے درمیان اعتماد، رہنمائی اور مسلسل تعلیمی تعامل کا ایک زندہ اور مؤثر رشتہ ہے۔ جب استاد کی صلاحیتیں اور توانائیاں تدریس کے بجائے انتظامی ذمہ داریوں میں صَرف ہونے لگیں تو اس رشتے کا متاثر ہونا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
اس صورتِ حال کا ایک اور اہم پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ مہاراشٹر گزشتہ چند برسوں سے بنیادی خواندگی، عددی مہارت اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے مختلف منصوبوں پر عمل کر رہا ہے۔ حکومت تعلیمی اصلاحات پر کروڑوں روپے خرچ کر رہی ہے، لیکن دوسری جانب انہی اصلاحات کو عملی جامہ پہنانے والے اساتذہ کو مسلسل غیر تدریسی اور انتخابی ذمہ داریوں میں مصروف رکھا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ حکومتی پالیسی اور عملی اقدامات کے درمیان ایک واضح تضاد کی نشاندہی کرتا ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
والدین کی تشویش بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ اپنے بچوں کو اس امید کے ساتھ اسکول بھیجتے ہیں کہ انہیں معیاری اور مسلسل تعلیم حاصل ہوگی لیکن جب بار بار کلاسیں متاثر ہوں، اساتذہ تدریسی فرائض کے لیے دستیاب نہ ہوں اور نصاب بروقت مکمل نہ ہو سکے تو سرکاری تعلیمی نظام پر والدین کا اعتماد متزلزل ہونے لگتا ہے۔ اگر یہ صورتِ حال برقرار رہی تو مستقبل میں سرکاری اسکولوں میں داخلوں پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
خالی اسامیاں، متاثر ہوتی ہوئی تعلیم
مہاراشٹر کا سرکاری تعلیمی نظام پہلے ہی اساتذہ کی شدید قلت کا شکار ہے۔ ریاست کے ہزاروں سرکاری اور ضلع پریشد اسکولوں میں اساتذہ کی متعدد اسامیاں برسوں سے خالی پڑی ہیں، جبکہ نئی بھرتیوں کا عمل بھی طویل عرصے سے تعطل یا سست روی کا شکار ہے۔ نتیجتاً ایک ہی استاد کو بیک وقت کئی جماعتوں کو پڑھانے اور متعدد انتظامی ذمہ داریاں نبھانے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ ایسے نازک حالات میں ایس آئی آر مہم کے لیے انہی محدود تعداد میں موجود اساتذہ کو انتخابی ذمہ داریوں پر تعینات کر دینا تعلیمی بحران کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔ جہاں پہلے ہی طلبا مطلوبہ تعداد میں اساتذہ سے محروم تھے وہاں اب کلاس رومس مزید خالی ہو رہے ہیں، نصاب کی تکمیل متاثر ہو رہی ہے اور طلبا کے سیکھنے کا عمل مسلسل کمزور پڑ رہا ہے۔ اگر حکومت واقعی معیاری تعلیم اور تعلیمی اصلاحات کی خواہاں ہے تو سب سے پہلے اساتذہ کی خالی اسامیوں کو پُر کرنا ہوگا اور انہیں ان کی بنیادی ذمہ داری، یعنی تدریس، پر پوری توجہ دینے کا موقع فراہم کرنا ہوگا۔
سرکاری اور نجی اسکولوں کے درمیان بڑھتا ہوا فرق
ایس آئی آر مہم کا ایک بالواسطہ لیکن نہایت اہم اثر ریاست کے تعلیمی ڈھانچے پر بھی پڑ رہا ہے۔ اس مہم سے بنیادی طور پر سرکاری اور امداد یافتہ اسکولوں کے اساتذہ متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ غیر امدادی نجی اسکول تقریباً اس سے غیر متاثر ہیں اور وہاں تدریسی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔ نتیجتاً والدین میں یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ نجی غیر امدادی اسکولوں میں تعلیمی ماحول زیادہ مستحکم ہے جس کے باعث بہت سے والدین اپنے بچوں کو سرکاری یا امداد یافتہ اسکولوں کے بجائے نجی غیر امدادی اسکولوں میں داخل کرانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس رجحان کا ایک بڑا سماجی اور معاشی اثر یہ ہے کہ متوسط اور غریب خاندان بھی معیاری تعلیم کی امید میں نجی اسکولوں کی بھاری فیس، ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات برداشت کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ اگر یہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہی تو سرکاری تعلیمی اداروں پر عوام کا اعتماد مزید کمزور ہو سکتا ہے۔
آزاد میدان کا احتجاج اور اساتذہ کی آواز
ایس آئی آر مہم کے باعث تعلیمی نظام پر پڑنے والے منفی اثرات کے خلاف ریاست بھر کی مختلف اساتذہ تنظیموں نے شدید احتجاج اور ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ چنانچہ گزشتہ دنوں ممبئی کے آزاد میدان میں مختلف اساتذہ تنظیموں کے زیرِ اہتمام ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ منعقد ہوا، جس میں بڑی تعداد میں اساتذہ نے شرکت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انہیں مسلسل غیر تدریسی اور انتخابی ذمہ داریوں سے آزاد کیا جائے تاکہ وہ اپنی بنیادی ذمہ داری، تدریس پر پوری توجہ مرکوز کر سکیں۔
مظاہرین کا مؤقف تھا کہ سرکاری اسکول پہلے ہی اساتذہ کی کمی اور متعدد تعلیمی چیلنجوں سے دوچار ہیں، ایسے میں ایس آئی آر جیسی طویل انتظامی مہمات کے لیے اساتذہ کی خدمات لینے سے طلبا کی تعلیم بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ اساتذہ تنظیموں نے حکومت اور الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ انتخابی عمل کی اہمیت اپنی جگہ درست ہے لیکن اس کی قیمت طلبہ کے حقِ تعلیم اور تعلیمی معیار کو متاثر کرکے ادا نہیں کی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق اگر اس مسئلے کا بروقت اور مؤثر حل نہ نکالا گیا تو اس کے دور رس منفی اثرات ریاست کے سرکاری تعلیمی نظام پر مرتب ہوں گے۔
بے روزگار نوجوانوں کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں
اس مسئلے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ملک میں تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو مناسب تربیت کے بعد محدود مدت کے لیے ایس آئی آر جیسے انتظامی فرائض بخوبی انجام دے سکتی ہے۔ اگر حکومت عارضی بنیادوں پر ایسے نوجوانوں کی خدمات حاصل کرے تو ایک طرف انہیں روزگار اور عملی تجربہ حاصل ہوگا، جس سے بے روزگاری میں بھی کسی حد تک کمی آئے گی جبکہ دوسری جانب اساتذہ اپنی اصل ذمہ داری، یعنی تدریس، پر پوری توجہ دے سکیں گے۔
اگرچہ انتخابی فہرستوں کی تیاری اور نظرِ ثانی ایک حساس اور ذمہ دارانہ عمل ہے جس کے لیے مناسب تربیت اور مؤثر نگرانی ناگزیر ہے اور اس مقصد کے لیے عارضی تربیت یافتہ افرادی قوت، ریٹائرڈ سرکاری ملازمین یا دیگر اہلکاروں کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اس سے نہ صرف تعلیمی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رہے گا بلکہ بے روزگار نوجوانوں کو بھی باعزت روزگار کا ایک معقول موقع میسر آئے گا
تعلیم کو اولین ترجیح بنانا ہوگا
وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت، محکمہ تعلیم اور الیکشن کمیشن مل بیٹھ کر ایسی متوازن پالیسی مرتب کریں جس کے ذریعے انتخابی عمل بھی مؤثر انداز میں جاری رہے اور تعلیمی نظام بھی متاثر نہ ہو۔ جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل ریکارڈ، عارضی تربیت یافتہ عملے اور ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی خدمات حاصل کرکے اساتذہ پر انحصار نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔ اگر کسی حد تک اساتذہ کی خدمات لینا ناگزیر ہو تو یہ کام تعطیلات، محدود اوقات یا مرحلہ وار انداز میں انجام دیا جائے تاکہ طلبا کی تعلیم متاثر نہ ہو۔
اساتذہ کو محض سرکاری ملازم نہیں بلکہ قوم کا معمار سمجھا جانا چاہیے۔ ایک دن کی بند کلاس شاید دوبارہ لی جا سکتی ہے لیکن مسلسل تعلیمی تعطل طلبا کے مستقبل پر ایسے منفی اثرات مرتب کرتا ہے جن کا ازالہ آسان نہیں ہوتا۔ مہاراشٹر اور دیگر ریاستوں کی موجودہ صورتِ حال اس حقیقت کی نشان دہی کرتی ہے کہ انتظامی ضرورتوں اور تعلیمی مفادات کے درمیان توازن قائم رکھنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر آج تعلیم کو ثانوی حیثیت دی گئی تو اس کی قیمت آنے والی نسلوں کو ادا کرنا پڑے گی۔
اس لیے ضروری ہے کہ ایس آئی آر جیسے اہم انتظامی کام انجام دیتے ہوئے اساتذہ پر غیر ضروری بوجھ کم کیا جائے، اسکولوں میں تدریسی عمل کا تسلسل برقرار رکھا جائے اور ہر حال میں طلبا کے حقِ تعلیم کو اولین ترجیح دی جائے۔ یہی ایک ذمہ دار، دور اندیش اور تعلیم دوست ریاست کی حقیقی پہچان ہے۔
ایس آئی آر مہم اور مہاراشٹر کا تعلیمی بحران

کیا انتخابی عمل کی قیمت پر تعلیم کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے؟

